মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭৮ টি
হাদীস নং: ৩৩৪৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے اسلام سے مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٤٤٩) حضرت ہشام (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن (رض) نے مرتدہ عورت کے بارے میں ارشاد فرمایا : کہ اس سے توبہ طلب کی جائے گی۔ اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک ورنہ اس کو قتل کردیا جائے گا۔
(۳۳۴۴۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الْمُرْتَدَّۃِ : تُسْتَتَابُ ، فَإِنْ تَابَتْ وَإِلاَّ قُتِلَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے اسلام سے مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٤٥٠) حضرت یحییٰ بن سعید (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں سے ایک شخص کی ام ولد مرتد ہوگئی ۔ تو اس شخص نے اس کو دومۃ الجندل کے مقام پر اس کے دین کے مخالف شخص کو فروخت کردیا۔
(۳۳۴۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّ أُمَّ وَلَدِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ارْتَدَّتْ ، فَبَاعَہَا بِدَوْمَۃِ الْجَنْدَلِ مِنْ غَیْرِ أَہْلِ دِینِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے اسلام سے مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٤٥١) حضرت ابو معشر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (رض) نے اس عورت کے بارے میں جو اسلام سے مرتد ہوجائے یوں ارشاد فرمایا : کہ اس سے توبہ طلب کی جائے گی۔ پس اگر وہ توبہ قبول کرلے تو ٹھیک ورنہ اس کو قتل کردیا جائے گا۔
(۳۳۴۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی الْمَرْأَۃِ تَرْتَدُّ عَنِ الإِسْلاَمِ ، قَالَ : تُسْتَتَابُ ، فَإِنْ تَابَتْ وَإِلاَّ قُتِلَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے اسلام سے مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٤٥٢) حضرت ابو معشر (رض) سے حضرت ابراہیم (رض) کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی مروی ہے۔
(۳۳۴۵۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدٌ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بِنَحْوٍ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : لڑنے والا یا اس کے علاوہ شخص جس کو امان دے دی گئی ہو، کیا حالت جنگ میں ملنے والا مال اس سے لیا جائے گا ؟
(٣٣٤٥٣) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ علماء فرمایا کرتے تھے : کہ جب لڑنے والے کو امان دے دی جائے تو اس سے وہ مال نہیں لیا جائے گا جو اس کو حالت جنگ میں ملا ہو۔ مگر اس سے وہ مال لے لیا جائے گا جو اس کو جنگ سے قبل ملا ہو۔
(۳۳۴۵۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : کَانَ أَہْلُ الْعِلْمِ یَقُولُونَ : إذَا أُمِّنَ الْمُحَارِبُ لَمْ یُؤْخَذْ بِشَیْئٍ کَانَ أَصَابَہُ فِی حَالِ حَرْبِہِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ شَیْئًا أَصَابَہُ قَبْلَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : لڑنے والا یا اس کے علاوہ شخص جس کو امان دے دی گئی ہو، کیا حالت جنگ میں ملنے والا مال اس سے لیا جائے گا ؟
(٣٣٤٥٤) حضرت ہشام (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ (رض) نے اس شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا؛ جو حدود کو پہنچ جائے پھر وہ توبہ کر کے آجائے۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس شخص پر حدود قائم کی جائیں گی۔
(۳۳۴۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ فِی الرَّجُلِ یُصِیبُ الْحُدُودَ ، ثُمَّ یَجِیئُ تَائِبًا ، قَالَ : تُقَامُ عَلَیْہِ الْحُدُودُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : لڑنے والا یا اس کے علاوہ شخص جس کو امان دے دی گئی ہو، کیا حالت جنگ میں ملنے والا مال اس سے لیا جائے گا ؟
(٣٣٤٥٥) حضرت عبیدہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (رض) نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص جرم کرے اور دشمنوں سے جا ملے پھر ان لوگوں کو امان ملی۔ آپ (رض) نے فرمایا : ان کو امان دے دی جائے گی مگر یہ کہ ان کے پاس موجود کسی چیز کو پہچان لیا گیا تو وہ ان سے لے لی جائے گی اور مالکوں پر لوٹا دی جائے گی۔ اور وہ چیز لی جائے گی جو اس نے دشمنوں سے ملنے سے پہلے جنایت کے ذریعہ حاصل کی تھی۔
(۳۳۴۵۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَجْنِی الْجِنَایَۃَ فَیَلْحَقُ بِالْعَدُوِّ فَیُصِیبُہُمْ أَمَانٌ ، قَالَ : یُؤَمَّنُونَ إِلاَّ أَنْ یُعْرَفَ شَیْئٌ بِعَیْنِہِ فَیُؤْخَذُ مِنْہُمْ ، فَیُرَدُّ عَلَی أَصْحَابِہِ ، وَأَمَّا ہُوَ فَیُؤْخَذُ بِمَا کَانَ جَنَی قَبْلَ أَنْ یَلْحَقَ بِہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : لڑنے والا یا اس کے علاوہ شخص جس کو امان دے دی گئی ہو، کیا حالت جنگ میں ملنے والا مال اس سے لیا جائے گا ؟
(٣٣٤٥٦) حضرت حماد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (رض) سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا : جس کو حد پہنچے پھر وہ لڑائی کر کے بھاگ جائے اور پھر امان طلب کرے اور اس کو امان بھی دے دی جائے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اس نے جو کام کیا تھا اس کی وجہ سے اس پر حد قائم کی جائے گی۔
(۳۳۴۵۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی رَجُلٍ أَصَابَ حَدًّا ، ثُمَّ خَرَجَ مُحَارِبًا ، ثُمَّ طَلَبَ أَمَانًا فَأُمِّنَ ، قَالَ : یُقَامُ عَلَیْہِ الْحَدُّ الَّذِی کَانَ أَصَابَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : لڑنے والا یا اس کے علاوہ شخص جس کو امان دے دی گئی ہو، کیا حالت جنگ میں ملنے والا مال اس سے لیا جائے گا ؟
(٣٣٤٥٧) حضرت حماد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (رض) نے اس شخص کے بارے میں جو ڈاکہ مارے اور غارت گری کرے پھر توبہ کر کے لوٹ آئے ، یوں ارشاد فرمایا : اس پر حد قائم کی جائے گی اور اس کی توبہ اس کے اور رب کے درمیان ہوگی۔
(۳۳۴۵۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الرَّجُلِ إذَا قَطَعَ الطَّرِیقَ وَأَغَارَ ، ثُمَّ رَجَعَ تَائِبًا أُقِیمَ عَلَیْہِ الْحَدُ ، وَتَوْبَتُہُ فِیمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ رَبِّہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : لڑنے والا یا اس کے علاوہ شخص جس کو امان دے دی گئی ہو، کیا حالت جنگ میں ملنے والا مال اس سے لیا جائے گا ؟
(٣٣٤٥٨) حضرت قیس بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ (رض) یوں فرمایا کرتے تھے : اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی کسی آدمی کو قتل کر دے پھر کفر اختیار کرلے اور مشرکین سے جا ملے اور ان میں رہے ۔ پھر وہ توبہ کر کے واپس لوٹ آئے۔ شرک سے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اور اس پر حدِّ قصاص قائم کی جائے گی۔ اور اگر کوئی مشرکین سے جا ملے اس حال میں کہ اس نے قتل تو نہیں کیا صرف کفر اختیار کیا پھر مسلمانوں سے قتال کیا اور کچھ مسلمانوں کو شہید بھی کیا پھر وہ توبہ کر کے واپس لوٹ آیا تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔
(۳۳۴۵۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی قَیْسُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ عَطَائً کَانَ یَقُولُ : لَوْ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَتَلَ رَجُلاً ، ثُمَّ کَفَرَ فَلَحِقَ بِالْمُشْرِکِینَ ، فَکَانَ فِیہِمْ ، ثُمَّ رَجَعَ تَائِبًا قُبِلَتْ تَوْبَتُہُ مِنْ شِرْکِہِ ، وَأُقِیمَ عَلَیْہِ الْقِصَاصُ ، وَلَوْ أَنَّہُ لَحِقَ بِالْمُشْرِکِینَ وَلَمْ یُقْتَلْ فَکَفَرَ ، ثُمَّ قَاتَلَ الْمُسْلِمِینَ فَقَتَلَ مِنْہُمْ ، ثُمَّ جَائَ تَائِبًا قُبِلَ مِنْہُ وَلَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ شَیْئٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا اس شخص کے بارے میں جو لڑائی کرے اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرے پھر امان طلب کرے اس بات سے پہلے کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہو
(٣٣٤٥٩) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ حارثہ بن بدر التمیمی اہل بصرہ میں سے تھا اس نے زمین میں فساد پھیلایا اور جنگ کی ۔ پھر اس نے حضرت حسن بن علی (رض) ، حضرت ابن جعفر (رض) ، حضرت ابن عباس (رض) اور قریش کے چند افراد سے امان کے بارے میں بات چیت کی ۔ ان لوگوں نے حضرت علی (رض) سے بات کی تو آپ (رض) نے اس کو امان نہیں دی۔ پس حارثہ بن بدر حضرت سعید بن قیس الھمدانی (رض) کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں بات کی۔ تو حضرت سعید (رض) حضرت علی (رض) کے پاس گئے اور اس کو پیچھے اپنے گھر میں چھوڑ دیا۔ اور فرمایا : اے امیر المؤمنین ! آپ (رض) کیا فرماتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کرے اور زمین میں فساد پھیلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرے ؟ آپ (رض) نے جواب میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : صرف یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچانے میں بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ (رض) نے مکمل آیت تلاوت فرمائی۔ اس پر حضرت سعید نے فرمایا : آپ (رض) کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جو خود پر قابو دینے سے پہلے ہی توبہ کرلے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں وہی کہوں گا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس سے توبہ قبول کی جائے گی۔ آپ (رض) نے فرمایا : بیشک حارثہ بن بدر نے خود پر قابو دینے سے پہلے توبہ کی۔ پھر آپ (رض) نے اس کو بلانے کے لیے قاصد بھیجا ۔ پس اس کو حضرت علی (رض) کے سامنے لایا گیا ۔ آپ (رض) نے اس کو امان دی اور اس کے لیے ایک تحریر لکھ دی۔ اس پر حارثہ نے یہ اشعار کہے : میری طرف سے ہمدان کو سلام پہنچاؤ جب تم وہاں پہنچو، اس کا دشمن سالم نہ رہے۔ یقینی طور پر ہمدان کے لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کا خطیب کتاب اللہ سے فیصلہ کرتا ہے۔ میرا سر سفید ہوگیا اور ہماری عقلیں ماند پڑگئیں۔ ہمارے اردگرد کی کڑک اور چمک سے۔ ہمارے نفوس موت کو شیریں سمجھتے ہیں۔ جبکہ زندگی کو ہم کڑوا سمجھتے ہیں۔
حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت ابن جعفر (رض) کے سامنے ذکر کی تو آپ (رض) نے فرمایا : ہم ھمدان والوں سے ان اشعار کے زیادہ حقدار تھے۔
حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت ابن جعفر (رض) کے سامنے ذکر کی تو آپ (رض) نے فرمایا : ہم ھمدان والوں سے ان اشعار کے زیادہ حقدار تھے۔
(۳۳۴۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : کَانَ حَارِثَۃُ بْنُ بَدْرٍ التَّمِیمِیُّ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ قَدْ أَفْسَدَ فِی الأَرْضِ وَحَارَبَ ، فَکَلَّمَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ ، وَابْنَ جَعْفَرٍ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ وَغَیْرَہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ ، فَکَلَّمُوا عَلِیًّا فَلَمْ یُؤَمِّنْہُ ، فَأَتَی سَعِیدَ بْنَ قَیْسٍ الْہَمْدَانِیَّ فَکَلَّمَہُ ، فَانْطَلَقَ سَعِیدٌ إلَی عَلِیٍّ وَخَلَفَہُ فِی مَنْزِلِہِ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، کَیْفَ تَقُولُ فِیمَنْ حَارَبَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَسَعَی فِی الأَرْضِ فَسَادًا فَقَرَأَ (إنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ) حَتَّی قَرَأَ الآیَۃَ کُلَّہَا ، فَقَالَ سَعِید ، أَفَرَأَیْت مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ نَقْدِرَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : أَقُولُ کَمَا قَالَ وَیُقْبَلُ مِنْہُ ، قَالَ : فَإِنَّ حَارِثَۃَ بْنَ بَدْرٍ قَدْ تَابَ قَبْلَ أَنْ یُقْدِرَ عَلَیْہِ ، فَبَعَثَ إلَیْہِ فَأَدْخَلَہُ عَلَیْہِ فَأَمَّنَہُ وَکَتَبَ لَہُ کِتَابًا ، فَقَالَ حَارِثَۃُ :
أَلاَ أُبَلِّغَنْ ہَمْدَانَ إمَّا لَقِیتہَا
لَعَمْرُ أَبِیک إنَّ ہَمْدَانَ تَتَّقِی
شیب رَأْسِی وَاسْتَخَفَّ حُلُومَنَا
سَلاَمًا فَلاَ یَسْلَمْ عَدُوٌّ یَعِیبُہَا
الإِلَہَ وَیَقْضِی بِالْکِتَابِ خَطِیبُہَا
رُعُودُ الْمَنَایَا حَوْلَنَا وَبُرُوقُہَا
وَإِنَّا لَتَسْتَحْلِی الْمَنَایَا نُفُوسُنَا
وَنَتْرُکُ أُخْرَی مُرَّۃً مَا نَذُوقُہَا
قالَ ابْنُ عَامِرٍ : فَحَدَّثْت بِہَذَا الْحَدِیثِ ابْنُ جَعْفَرٍ ، فَقَالَ : نَحْنُ کُنَّا أَحَقَّ بِہَذِہِ الأَبْیَاتِ مِنْ ہَمْدَانَ۔
أَلاَ أُبَلِّغَنْ ہَمْدَانَ إمَّا لَقِیتہَا
لَعَمْرُ أَبِیک إنَّ ہَمْدَانَ تَتَّقِی
شیب رَأْسِی وَاسْتَخَفَّ حُلُومَنَا
سَلاَمًا فَلاَ یَسْلَمْ عَدُوٌّ یَعِیبُہَا
الإِلَہَ وَیَقْضِی بِالْکِتَابِ خَطِیبُہَا
رُعُودُ الْمَنَایَا حَوْلَنَا وَبُرُوقُہَا
وَإِنَّا لَتَسْتَحْلِی الْمَنَایَا نُفُوسُنَا
وَنَتْرُکُ أُخْرَی مُرَّۃً مَا نَذُوقُہَا
قالَ ابْنُ عَامِرٍ : فَحَدَّثْت بِہَذَا الْحَدِیثِ ابْنُ جَعْفَرٍ ، فَقَالَ : نَحْنُ کُنَّا أَحَقَّ بِہَذِہِ الأَبْیَاتِ مِنْ ہَمْدَانَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا اس شخص کے بارے میں جو لڑائی کرے اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرے پھر امان طلب کرے اس بات سے پہلے کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہو
(٣٣٤٦٠) امام شعبی (رض) سے بھی حضرت علی (رض) کا مذکورہ ارشاد اس سند سے مروی ہے۔ لیکن انھوں نے اس میں شعر کا ذکر نہیں فرمایا :
(۳۳۴۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عَلَیَّ: بنحوہ منہ، ولم یذکر فیہ الشعر۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا اس شخص کے بارے میں جو لڑائی کرے اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرے پھر امان طلب کرے اس بات سے پہلے کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہو
(٣٣٤٦١) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ قبیلہ مراد کے ایک آدمی نے نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں : جب حضرت ابو موسیٰ (رض) نے سلام پھیرا تو وہ شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا : یہ توبہ کرنے والے اور پناہ مانگنے والے کی جگہ ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : ہلاکت ہو تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا : میں فلاں بن فلاں مرادی ہوں۔ اور تحقیق میں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کی اور میں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھاگ دوڑ کی۔ اور تحقیق میں اب آیا ہوں اس حال میں کہ میں نے خود پر قدرت ہوجانے سے پہلے توبہ کی۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ (رض) اس جگہ میں کھڑے ہوئے جہاں وہ کھڑا تھا پھر آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ فلاں بن فلاں مرادی ہے اور اس نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کی اور زمین میں فساد مچانے کی بھاگ دوڑ کی اور بیشک اس نے خود پر قدرت ہوجانے سے پہلے ہی توبہ کرلی۔ پس اگر یہ شخص سچا ہے تو اس کے ساتھ سچوں والا معاملہ ہے۔ اور اگر یہ جھوٹا ہے تو اللہ رب العزت اس کے گناہ کی وجہ سے اس کو پکڑے گا۔ راوی کہتے ہیں : پس وہ شخص لوگوں میں نکلا اور چلا گیا اور نجات پا لی۔ پھر اس نے دوبارہ وہی کام کیا تو اس کو قتل کردیا گیا۔
(۳۳۴۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ زَعَمَ أَنَّ رَجُلاً مِنْ مُرَادٍ صلَّی ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَبُو مُوسَی قَامَ ، فَقَالَ : ہَذَا مَقَامُ التَّائِبِ الْعَائِذِ ، فَقَالَ : وَیْلَک مَا لَکَ ، قَالَ : أَنَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ الْمُرَادِی ، وَإِنِّی کُنْتُ حَارَبْت اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَسَعَیْت فِی الأَرْضِ فَسَادًا ، فَہَذَا حِینَ جِئْت وَقَدْ تُبْت مِنْ قَبْلِ أَنْ یُقْدَرَ عَلَیَّ ، قَالَ : فَقَامَ أَبُو مُوسَی الْمَقَامَ الَّذِی قَامَ فِیہِ ، ثُمَّ قَالَ : إنَّ ہَذَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ الْمُرَادِیُّ : وَإِنَّہُ کَانَ حَارَبَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَسَعَی فِی الأَرْضِ فَسَادًا ، وَإِنَّہُ قَدْ تَابَ مِنْ قَبْلِ أَنْ یُقْدَرَ عَلَیْہِ ، فَإِنْ یَکُ صَادِقًا فَسَبِیلُ مَنْ صَدَقَ ، وَإِنْ کَانَ کَاذِبًا یَأْخُذُہُ اللَّہُ بِذَنْبِہِ ، قَالَ : فَخَرَجَ فِی النَّاسِ فَذَہَبَ ونجا ، ثُمَّ عَادَ فَقُتِلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس لڑنے والے کا بیان جو قتل کر دے اور مال لے لے
(٣٣٤٦٢) حضرت عطیہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے اللہ رب العزت کے اس قول کی تلاوت فرمائی : آیت : ترجمہ : صرف یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچانے کی بھاگ دوڑ کرتے ہیں کہ قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے۔ یہاں تک کہ آپ (رض) نے مکمل آیت پڑھی ۔ اور ارشاد فرمایا : جب آدمی لڑائی کرے اور قتل کر دے اور مال بھی لے لے تو اس کا ایک ہاتھ اور اس کا ایک پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جائے گا اور سولی دی جائے گی۔ اور جب کوئی قتل کر دے اور مال نہ لے تو اس کو قتل کیا جائے گا اور جب مال لے لے اور قتل نہ کرے تو اس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جائے گا۔ اور جب نہ قتل کرے اور نہ ہی مال لے تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔
(۳۳۴۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ : {إنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِی الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ یُقَتَّلُوا أَوْ یُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَیْدِیہِمْ وَأَرْجُلُہُمْ مِنْ خِلاَفٍ} حَتَّی خَتَمَ الآیَۃَ ، فَقَالَ : إذَا حَارَبَ الرَّجُلُ وَقَتَلَ وَأَخَذَ الْمَالَ قُطِعَتْ یَدُہُ وَرِجْلُہُ مِنْ خِلاَفٍ وَصُلِبَ وَإِذَا قَتَلَ وَلَمْ یَأْخُذَ الْمَالَ قُتِلَ ، وَإِذَا أَخَذَ الْمَالَ وَلَمْ یَقْتُلْ قُطِعَتْ یَدُہُ وَرِجْلُہُ مِنْ خِلاَفٍ وَإِذَا لَمْ یَقْتُلْ وَلَمْ یَأْخُذَ الْمَالَ نُفِیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس لڑنے والے کا بیان جو قتل کر دے اور مال لے لے
(٣٣٤٦٣) حضرت عمران بن حدیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز (رض) نے اس آیت کے بارے میں : ترجمہ : صرف یہی جزاء ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کرتے ہیں۔۔۔ آپ (رض) نے یوں ارشاد فرمایا : جب یہ آدمی قتل کرے اور مال بھی لے لے ۔ تو اس کو قتل کردیا جائے گا اور جب مال چھین لے اور راستہ کو پرخطر بنا دے تو اس کو سولی دی جائے گی۔ اور جب قتل کرے اور اس کام کو دوبارہ نہ لوٹائے تو اس کو قتل کردیا جائے گا ۔ اور جب مال چھین لے اور یہ قتل نہ کرے تو اس کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے۔ اور جب فساد پھیلائے تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔
(۳۳۴۶۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : {إنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ} قَالَ : إذَا قَتَلَ وَأَخَذَ الْمَالَ قُتِلَ ، وَإِذَا أَخَذَ الْمَالَ وَأَخَافَ السَّبِیلَ صُلِبَ ، وَإِذَا قَتَلَ وَلَمْ یُعِدْ ذَلِکَ قُتِلَ ، وَإِذَا أَخَذَ الْمَالَ لَمْ یُعِدْ ذَلِکَ قُطِعَ وَإِذَا أَفْسَدَ نُفِیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس لڑنے والے کا بیان جو قتل کر دے اور مال لے لے
(٣٣٤٦٤) حضرت حماد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (رض) نے اس آیت : {إنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ } کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا : جب وہ نکل جائے اور راستہ کو پُر خطر بنا دے اور مال چھین لے ۔ تو اس کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ مخالف سمت سے کاٹ دی جائے گی۔ اور جب وہ راستہ کو پُر خطر بنا دے اور مال نہ چھینے تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ اور جب وہ قتل بھی کر دے تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا اور جب وہ راستہ کو پُر خطر بنا دے اور مال چھین لے ، اور قتل کر دے تو اس کو سولی دی جائے گی۔
(۳۳۴۶۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : {إنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ} قَالَ : إذَا خَرَجَ وَأَخَافَ السَّبِیلَ وَأَخَذَ الْمَالَ قُطِعَتْ یَدُہُ وَرِجْلُہُ مِنْ خِلاَفٍ ، وَإِذَا أَخَافَ السَّبِیلَ وَلَمْ یَأْخُذَ الْمَالَ نُفِی ، وَإِذَا قَتَلَ قُتِلَ ، وَإِذَا أَخَافَ السَّبِیلَ وَأَخَذَ الْمَالَ وَقَتَلَ صُلِبَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس لڑنے والے کا بیان جو قتل کر دے اور مال لے لے
(٣٣٤٦٥) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سعیدبن جبیر (رض) کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : جو لڑائی کرے وہ محارب ہے۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : اگر وہ خون کر دے تو اس کو قتل کیا جائے گا اور اگر وہ خون کر دے اور مال بھی چھین لے تو اس کو صولی دی جائے گی پس بیشک صولی دینا زیادہ سخت ہے ، اور جب وہ مال چھین لے اور خون نہ کرے تو اس کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ کاٹ دی جائے گی اللہ رب العزت کے اس قول کی وجہ سے : ترجمہ : یا ان کے ہاتھ اور ان کی ٹانگیں مخالف سمت سے کاٹ دی جائیں گی۔ پس اگر وہ توبہ کرلے تو اس کی توبہ اس کے اور اللہ کے درمیان ہوگی اور اس پر حد قائم کی جائے گی۔
(۳۳۴۶۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ حُدِّثْت ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : مَنْ حَارَبَ فَہُوَ مُحَارِبٌ ، فقَالَ سَعِیدٌ : وَإِنْ أَصَابَ دَمًا قُتِلَ ، وَإِنْ أَصَابَ دَمًا وَمَالاً صُلِبَ ، فَإِنَّ الصَّلْبَ ہُوَ أَشَدُ ، وَإِذَا أَصَابَ مَالاً وَلَمْ یُصِبْ دَمًا قُطِعَتْ یَدُہُ وَرِجْلُہُ لِقَوْلِہِ {أَوْ تُقَطَّعَ أَیْدِیہِمْ وَأَرْجُلُہُمْ مِنْ خِلاَفٍ} فَإِنْ تاب فَتَوْبَتُہُ فِیمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ اللہِ ، وَیُقَامُ عَلَیْہِ الْحَدُّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس لڑنے والے کا بیان جو قتل کر دے اور مال لے لے
(٣٣٤٦٦) حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مورّق عجلی (رض) نے ارشاد فرمایا : جب لڑائی کرنے والے کو پکڑ لیا جائے تو اس کو امیر کے پاس لے جایا جائے گا، پس اگر اس نے مال چھینا ہو اور قتل نہ کیا ہو تو اس کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں گے اور اس کو قتل نہیں کیا جائے گا اور اگر اس نے مال چھینا تھا اور قتل بھی کردیا تھا تو اس کو قتل کیا جائے گا اور سولی دی جائے گی ، اور اگر اس نے مال نہیں چھینا اور قتل نہیں کیا تو اس کے ہاتھ اور پاؤں بھی نہیں کاٹے جائیں گے اور اگر اس نے مال نہیں چھینا اور نہ قتل کیا صرف مسلمانوں کو تنگ کیا ہو تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔
(۳۳۴۶۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِیّ ، قَالَ : إذَا أَخَذَ الْمُحَارِبُ فَرُفِعَ إلَی الإِمَامِ ، فَإِنْ کَانَ أَخَذَ الْمَالَ وَلَمْ یَقْتُلْ قُطِعَ وَلَمْ یُقْتَلْ ، وَإِنْ کان أَخَذَ الْمَالَ وَقَتَلَ قُتِلَ وَصُلِبَ ، وَإِنْ کَانَ لَمْ یَأْخُذَ الْمَالَ وَلَمْ یَقْتُلْ لَمْ یُقْطَعْ ، وَإِنْ کَانَ لَمْ یَأْخُذَ الْمَالَ وَلَمْ یَقْتُلْ وَشَاقَّ الْمُسْلِمِینَ نُفِیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محاربہ کیا ہے ؟
(٣٣٤٦٧) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ (رض) نے ارشاد فریایا : محاربہ یعنی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ، شرک کرنا ہے۔
(۳۳۴۶۷) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : الْمُحَارَبَۃُ الشِّرْکُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک امام کو محارب کے بارے میں اختیار ہے کہ اس کے بارے میں جو چاہے کرے
(٣٣٤٦٨) حضرت مجاہد (رض) ، حضرت عطائ (رض) ، حضرت حسن (رض) اور حضرت ضحاک (رض) یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ امام کو محارب کے بارے میں اختیار دیا گیا ہے۔
(۳۳۴۶۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِی بَزَّۃَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، وَعَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ، وَعَنْ أَبِی حُرَّۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَجُوَیْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالُوا: الإِمَامُ مُخَیَّرٌ فِی الْمُحَارِبِ۔
তাহকীক: