মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৫০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس قیدی کے بارے میں جس کو قید کر لیا گیا تو اس نے وہاں بات بیان کر دی پھر وہ آیا تو اس کو پکڑا جائے گا ؟
(٣٣٥٠٩) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ (رض) نے ارشاد فرمایا : اس کی پکڑ نہیں کی جائے گی وہاں راز بیان کرنے کی وجہ سے یعنی کسی کو قیدی بنا لیا تو اس نے دشمن کے سامنے راز بیان کردیا۔
(۳۳۵۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ یُؤْخَذُ بِمَا أحْدَثَ ہُنَاکَ ، یَعْنِی الأَسِیرَ یُؤْسَرُ فَیُحْدِثُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥١٠) حضرت زید بن اسلم (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت اسلم (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عمر (رض) کو فتح کی خوشخبری سنائی گئی تو آپ (رض) نے سجدہ شکر ادا کیا۔
(۳۳۵۱۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عْن أَبِیہِ، قَالَ: بُشِّرَ عُمَرُ بِفَتْحٍ فَسَجَدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥١١) حضرت مسعر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن عبید اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس فتح کی خبر آئی تو آپ (رض) نے سجدہ شکر ادا کیا۔
(۳۳۵۱۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ أَتَاہُ فَتْحٌ فَسَجَدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥١٢) حضرت ابو عون محمد بن عبید اللہ الثقفی (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص ۔۔۔ جس کا انھوں نے نام نہیں بیان کیا ۔۔۔ نے فرمایا : جب حضرت ابوبکر (رض) کے پا سی یمامہ کی فتح کی خبر آئی تو آپ (رض) نے سجدہ شکر ادا کیا۔
(۳۳۵۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ الثَّقَفِیِّ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ رَجُلٍ لَمْ یُسَمِّہِ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ لَمَّا أَتَاہُ فَتْحُ الْیَمَامَۃِ سَجَدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥١٣) حضرت ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) کو دیکھا کہ جب ان کے پاس مخدّج کی خبر لائی گئی تو آپ (رض) نے سجدہ ٔ شکر ادا کیا۔
(۳۳۵۱۳) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : رَأَیْتُ عَلِیًّا حِینَ أُتِیَ بِالْمُخَدَّجِ سَجَدَ سَجْدَۃَ شُکْرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥١٤) حضرت ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی (رض) کے پاس حاضر تھا جب ان کے پاس مخدّج کی خبر لائی گئی تھی تو آپ (رض) نے سجدہ شکر ادا کیا۔
(۳۳۵۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ الْہَمْدَانِیِّ ، عَنْ شَیْخٍ لَہُمْ یُکْنَی أَبَا مُوسَی ، قَالَ : شَہِدْت عَلِیًّا لَمَّا أُتِیَ بِالْمُخَدَّجِ سَجَدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥١٥) حضرت ابو مومن الواثلی (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی (رض) کے پاس حاضر تھا جب مخدّج کی خبر لائی گئی تو آپ (رض) نے سجدہ شکر ادا کیا ۔
(۳۳۵۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عُبَیْدٍ الْعِجْلِیّ ، عَنْ أَبِی مؤمن الواثلی، قَالَ : شَہِدْت عَلِیًّا أُتِیَ بِالْمُخَدَّجِ فَسَجَدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥١٦) حضرت یحییٰ بن جزار (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس کو دائمی بیماری لاحق تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ شکر ادا کیا اور حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) نے بھی سجدہ شکر ادا کیا۔
(۳۳۵۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِہِ رَجُلٌ وَبِہِ زَمَانَۃٌ فَسَجَدَ ، وَأَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥١٧) حضرت ابو جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک چھوٹا سا آدمی گزرا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ شکر ادا کیا اور فرمایا : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے چھوٹے سے کان کی طرح نہیں بنایا۔
(۳۳۵۱۷) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : مَرَّ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَصِیرٌ ، قَالَ : فَسَجَدَ سَجْدَۃَ الشُّکْرِ ، وَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَجْعَلْنِی مَثَل زُنَیم۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥١٨) حضرت ابو جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک پست قد آدمی کے پاس سے گزرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ سے عافیت طلب کرو۔
(۳۳۵۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنُغَاشٍ فَسَجَدَ ، وَقَالَ : سَلُوا اللَّہَ الْعَافِیَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥١٩) حضرت منصور (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے سجدہ شکر ادا کیا اور حضرت ابراہیم (رض) اس کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۳۳۵۱۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثْت أَنَّ أَبَا بَکْرٍ سَجَدَ سَجْدَۃَ الشُّکْرِ ، وَکَانَ إبْرَاہِیمُ یَکْرَہُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥٢٠) حضرت مغیرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (رض) نے ارشاد فرمایا : سجدہ شکر ادا کرنا بدعت ہے۔
(۳۳۵۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمِ ، قَالَ : سَجْدَۃُ الشُّکْرِ بِدْعَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥٢١) حضرت ابو صالح (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا : جب حضرت زینب (رض) کا نکاح ختم ہوگیا اور حضرت زید بن ثابت (رض) چلے گئے یہاں تک کہ انھوں نے حضرت زینب (رض) سے اجازت طلب کی تو حضرت زینب (رض) نے فرمایا : اب زید کو مجھ سے کیا کام ؟ راوی فرماتے ہیں : کہ حضرت زید (رض) نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قاصد بن کر آیا ہوں تو حضرت زینب (رض) نے ان کو اجازت مرحمت فرما دی۔ پھر آپ (رض) نے ان کو خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا نکاح اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کردیا یہ سن کر حضرت زینب (رض) شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ میں گرپڑیں۔
(۳۳۵۲۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْکَلْبِیُّ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ نِکَاحُ زَیْنَبَ انْطَلَقَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ حَتَّی اسْتَأْذَنَ عَلَی زَیْنَبَ ، قَالَ : فَقَالَتْ زَیْنَبُ : مَا لِی وَلِزَیْدٍ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إلَیْہَا إِنِّی رَسُولُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَذِنَتْ لَہُ فَبَشَّرَہَا أَنَّ اللَّہَ زَوَّجَہَا مِنْ نَبِیِّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَخَرَّتْ سَاجِدَۃً شُکْرًا لِلَّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥٢٢) حضرت مغیرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (رض) فرحت و خوشی کے سجدے کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے نہ تو اس میں رکوع ہے اور نہ سجدہ۔
(۳۳۵۲۲) حَدَّثَنَا ہُشَیمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ سَجْدَۃَ الْفَرَحِ وَیَقُولُ : لَیْسَ فِیہَا رُکُوعٌ ، وَلاَ سُجُودٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥٢٣) حضرت اسماعیل بن زر بی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ریان بن صبرہ حنفی (رض) جنگ نہروان میں موجود تھے۔ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ذوثدیہ کو نکالا تھا۔ اس کے حضرت علی (رض) کے پاس پہنچنے سے پہلے حضرت علی (رض) کو اس کے آنے کی خبر ہوگئی تھی۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ خوشی کی وجہ سے سجدہ میں تھے۔ تو حضرت علی (رض) کو ان کے جانے سے پہلے اس بات کی خوشخبری سنائی تھی۔ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ جب ہم حضرت علی (رض) کے پاس آئے تو آپ (رض) فرط خوشی میں سجدہ ادا کر رہے تھے۔
(۳۳۵۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ زَرْبِیٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنا الرَّیَّانُ بْنُ صَبِرَۃَ الْحَنَفِیُّ أَنَّہُ شَہِدَ یَوْمَ النَّہْرَوَانِ ، قَالَ : وَکُنْت فِیمَنَ اسْتَخْرَجَ ذَا الثُّدَیَّۃِ فَبُشِّرَ بِہِ عَلِیٌّ قَبْلَ أَنْ یَنْتَہِیَ إلَیْہِ ، قَالَ : فَانْتَہَینا إلَیْہِ وَہُوَ سَاجِدٌ فَرَحًا بہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدہ شکر ادا کرے گا
(٣٣٥٢٤) حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ کر رہے تھے۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارغ ہوئے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول 5! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبا سجدہ کیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ کیا کہ اس نے میری امت کے بارے میں عذر قبول فرمایا۔
(۳۳۵۲۴) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبی صَعْصَعَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلِیٍّ ، عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : انْتَہَیْت إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ سَاجِدٌ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ : أَطَلْتَ السُّجُودَ ، قَالَ : إنِّی سَجَدْتُ شُکْرًا لِلَّہِ فِیمَا أَبْلاَنِی فی أُمَّتِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مشرکین سے کیا ہوا عہد پورا کیا جائے گا
(٣٣٥٢٥) حضرت محمد بن سوقہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عطائ (رض) سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جس کو دیلمی لوگوں نے قیدی بنا لیا تھا۔ اور اس سے اللہ کا عہد و پیمان لے کر چھوڑ دیا کہ اگر وہ ان کی طرف فدیہ بھیج دے گا تو وہ بری ہوگا۔ اور ان لوگوں نے فدیہ مقرر کردیا تھا۔ اور اگر اس نے فدیہ نہ بھیجا تو وہ عہد و پیمان کے مطابق ان کی طرف واپس لوٹ جائے گا۔ پس اس شخص کو فدیہ کی رقم نہ مل سکی اس لیے کہ وہ تنگدست تھا۔ اب وہ کیا کرے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : وہ وعدہ پورا کرے گا۔ اس آدمی نے کہا : حضرت وہ مشرکین ہیں ! حضرت عطائ (رض) نے انکار کیا اور فرمایا : کہ ہر صورت میں وعدہ کی وفاء ضروری ہوگی۔
(۳۳۵۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَۃَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَطَائً ، عَنْ رَجُلٍ أَسَرَتْہُ الدَّیْلَمُ فَأَخَذُوا مِنْہُ عَہْدَ اللہِ وَمِیثَاقَہُ عَلَی أَنْ یُرْسِلُوہُ ، فَإِنْ بُعِثَ إلَیْہِمْ بفداء قد سموہ فَہُوَ بَرِیئٌ ، وَإِنْ لَمْ یُبْعَثْ إلَیْہِمْ کَانَ عَلَیْہِ الْعَہْدُ وَالْمِیثَاقُ أَنْ یَرْجِعَ إلَیْہِمْ فَلَمْ یَجِد ، وَکَانَ مُعْسِرًا ، قَالَ یفی بِالْعَہْدِ ، فَقَالَ : إنَّہُمْ أَہْلُ شِرْک ، فَأَبَی عَطَائٌ إِلاَّ أَنْ یَفِیَ بِالْعَہْدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مشرکین سے کیا ہوا عہد پورا کیا جائے گا
(٣٣٥٢٦) حضرت جامع بن ابی راشد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت میمون بن مہران (رض) نے ارشاد فرمایا : تین چیزیں نیکو کاروں اور بدکار دونوں کو ادا کی جائیں گی۔ صلہ رحمی کی جائے گی چاہے نیکو کار ہو یا بدکار۔ اور امانت نیکو کار اور بدکار دونوں کو ادا کی جائے گی۔ اور نیکو کار اور بدکار دونوں سے وعدہ کی وفاء کی جائے گی۔
(۳۳۵۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِی رَاشِدٍ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، قَالَ : ثَلاَثٌ یُؤَدَّیْنَ إلَی الْبَرِّ وَالْفَاجِرِ : الرَّحِمُ یُوصَلُ بَرَّۃً کَانَتْ ، أَوْ فَاجِرَۃً ، وَالأَمَانَۃُ تُؤَدِّیہَا إلَی الْبَرِّ وَالْفَاجِرِ ، وَالْعَہْدُ یُوَفَّی بِہِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مشرکین سے کیا ہوا عہد پورا کیا جائے گا
(٣٣٥٢٧) حضرت ابوالطفیل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن الیمان (رض) نے ارشاد فرمایا : مجھے غزوہ بدر میں شرکت سے نہیں روکا تھا مگر اس بات نے کہ میں اور میرے والد حسیل (رض) نکلے ہوئے تھے کہ ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے۔ تم لوگ محمد کے پاس جا رہے ہو۔ تو ہم نے کہا : ہم ان کے پاس نہیں جا رہے ، ہمارا تو صرف مدینہ جانے کا ارادہ ہے۔ تو انھوں نے ہم سے عہد و پیمان لیا کہ ہم مدینہ لوٹ جائیں گے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں قتال نہیں کریں گے ۔ تو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس واقعہ کی خبر دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں واپس لوٹ جاؤ ہم ان سے بھی عہد کی وفا کریں گے۔ اور ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔
(۳۳۵۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الطُّفَیْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ ، قَالَ : مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلاَّ أَنِّی خَرَجْت أَنَا ، وَأَبِی حُسَیْلٍ ، قَالَ : فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ فَقَالُوا : إنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا : مَا نُرِیدُہُ ، مَا نُرِیدُ إِلاَّ الْمَدِینَۃَ ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَہْدَ اللہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إلَی الْمَدِینَۃِ، وَلاَ نُقَاتِلُ مَعَہُ ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : انْصَرِفَا ، نَفِی لَہُمْ وَنَسْتَعِینُ اللَّہَ عَلَیْہِمْ۔ (مسلم ۱۴۱۴۔ احمد ۳۹۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : ان غلاموں کے بارے میں جو دشمن کے ملک میں بھاگ جائیں
(٣٣٥٢٨) امام اوزاعی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبدہ بن ابی لبابہ (رض) نے اس غلام کے بارے میں جو دشمن کے ملک کی طرف بھاگ جائے یوں ارشاد فرمایا : کہ اس کا کوئی عمل قبول نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ کسی محفوظ مقام پر پناہ لے اور اپنے آقا کی طرف لوٹ آئے۔
(۳۳۵۲۸) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ عَبْدَۃُ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ أَنَّہُ قَالَ فِی الْعَبْدِ إذَا أَبَقَ إلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ : لاَ یقبل حَتَّی یَأْوِیَ إلَی حِرْزٍ ، وَیُرَدُّ إلَی مَوْلاَہُ۔
tahqiq

তাহকীক: