মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭৮ টি
হাদীস নং: ৩৩৫২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : ان غلاموں کے بارے میں جو دشمن کے ملک میں بھاگ جائیں
(٣٣٥٢٩) حضرت جریر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب کوئی غلام دشمن کے ملک کی طرف بھاگ جائے تو اس کا ذمہ بری ہوجائے گا۔
(۳۳۵۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شِبْلٍ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إلَی أرض الْعَدُوِّ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ۔
(احمد ۳۵۷۔ حمیدی ۸۰۶)
(احمد ۳۵۷۔ حمیدی ۸۰۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : ان غلاموں کے بارے میں جو دشمن کے ملک میں بھاگ جائیں
(٣٣٥٣٠) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبداللہ (رض) نے ارشاد فرمایا : ہر بھاگنے والا کافر ہے۔
(۳۳۵۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِاللہِ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ جَرِیرٍ، قَالَ: مَعَ کُلِّ أَبْقَۃٍ کَفْرَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : ان غلاموں کے بارے میں جو دشمن کے ملک میں بھاگ جائیں
(٣٣٥٣١) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبداللہ (رض) نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص دشمن کی طرف بھاگ جائے یعنی دار الحرب کی طرف بھاگ جائے تو تحقیق اس کا خون حلال ہوگیا۔
(۳۳۵۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِیرٍ ، قَالَ : إذَا أَبَقَ إلَی الْعَدُوِّ فَقَدْ حَلَّ دَمُہُ ، یَعْنِی إلَی دَارِ الْحَرْبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : ان غلاموں کے بارے میں جو دشمن کے ملک میں بھاگ جائیں
(٣٣٥٣٢) حضرت جریر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو کوئی غلام دشمن کی زمین کی طرف بھاگ جائے تو تحقیق اس کا ذمہ بری ہوگیا۔
(۳۳۵۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِیرٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَیُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ إلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ۔ (طبرانی ۲۳۶۰۔ احمد ۳۶۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے اس کو خرید لیا
(٣٣٥٣٣) حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) سے اس مکاتب غلام کے متعلق پوچھا گیا : جس کو دشمن نے قید کرلیا تھا پھر مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے اس کو خرید لیا اب اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اگر اس کا آقا چاہتا ہے تو وہ اس کو رہن دے کر چھڑا لے پھر یہ غلام اپنے آقا کے پاس اس طور پر رہے گا کہ یہ اپنی باقی بچی ہوئی بدل کتابت ادا کرے گا۔ اور آقا کو اس غلام کی ولاء ملے گی۔ اور اگر وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا تو یہ غلام خریدنے والے کے پاس اسی حالت میں رہے گا۔
(۳۳۵۳۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِیٌّ ، عَنْ مُکَاتَبٍ سَبَاہُ الْعَدُوُّ ، ثُمَّ اشْتَرَاہُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، قَالَ : فَقَالَ : إِنْ أَحَبَّ مَوْلاَہُ أَنْ یَفتکَّہُ فَیَکُونَ عِنْدَہُ عَلَی مَا بَقِیَ مِنْ مُکَاتَبَتِہِ وَیَکُونُ لَہُ الْوَلاَئُ ، وَإِنْ کَرِہَ ذَلِکَ کَانَ عِنْدَ الَّذِی اشْتَرَاہُ عَلَی ہَذِہ الْحَالِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے اس کو خرید لیا
(٣٣٥٣٤) حضرت عباد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول (رض) نے ارشاد فرمایا : اس مکاتب غلام کے بارے میں جس کو دشمن نے قید کرلیا ، کسی تاجر نے اس کو خرید کر پھر مکاتب بنادیا تو اس کا کیا حکم ہوگا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : وہ غلام سب سے پہلے والے آقا کا مال کتابت ادا کرے گا اور پھر دوسرے تاجر کا مال کتابت ادا کرے گا۔
(۳۳۵۳۴) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی مَکْحُولٌ ، قَالَ فِی مُکَاتَبٍ أَسَرَہُ الْعَدُوُّ فَاشْتَرَاہُ رَجُلٌ مِنَ التُّجَّارِ فکَاتَبَہُ ، قَالَ : یُؤَدِّی مُکَاتَبَۃَ الأَوَّلِ ، ثُمَّ یُؤَدِّی مُکَاتَبَۃَ الآخَرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٣٥) حضرت ابو سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ وہ بحرین سے حضرت عمر (رض) کے پاس آئے۔ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ میں آیا اور میں نے حضرت عمر (رض) کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جب انھوں نے مجھے دیکھا تو میں نے ان کو سلام کیا انھوں نے فرمایا : تم کیا چیز ساتھ لائے ہو ؟ میں نے کہا : میں پانچ لاکھ ساتھ لایا ہوں۔ انھوں نے فرمایا : تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ میں نے کہا : میں پانچ لاکھ ساتھ لایا ہوں۔ انھوں نے فرمایا : تم کہہ رہے ہو کہ ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ۔ یہاں تک کہ انھوں نے پانچ مرتبہ شمار کیا۔ اور فرمایا : بیشک تمہیں اونگھ آرہی ہے۔ تم اپنے گھر جاؤ اور سو جاؤ۔ پھر کل میرے پاس آنا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں اگلے دن ان کے پاس آیا ۔ انھوں نے پوچھا : تم کیا لائے ہو ؟ میں نے کہا : پانچ لاکھ۔ انھوں نے پوچھا : واقعی ؟ میں نے کہا : واقعی : اور میں تو صرف یہی جانتا ہوں۔ آپ (رض) نے لوگوں سے کہا : میرے پاس بہت زیادہ مال آیا۔ اگر تم چاہو تو میں مال تمہارے لیے شمار کروں اور اگر چاہو تو میں اس مال کو تمہارے لیے کیل کروں۔ اس پر ایک آدمی نے کہا : اے امیر المؤمنین ! بیشک میں نے ان عجمیوں کو دیکھا ہے کہ وہ دیوان عدل مدون کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر لوگوں کو عطا کرتے ہیں۔ پھر حضرت عمر (رض) نے دیوان عدل مدون کروایا اور مہاجرین کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ اور انصار صحابہ (رض) کے لیے چار چار ہزار مقرر فرمائے۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات (رض) کے لیے بارہ بارہ ہزار مقرر فرمائے۔
(۳۳۵۳۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ مِنَ الْبَحْرَیْنِ ، قَالَ : فَقَدِمْت عَلَیْہِ فَصَلَّیْت مَعَہُ الْعِشَائَ ، فَلَمَّا رَآنِی سَلَّمْت عَلَیْہِ ، فَقَالَ : مَا قَدِمْت بِہِ قُلْتُ : قَدِمْت بِخَمْسِمِئَۃِ أَلْفٍ ، قَالَ : تَدْرِی مَا تَقُولُ ، قَالَ : قَدِمْت بِخَمْسِمِئَۃِ أَلْفٍ ، قَالَ : قُلْتُ : مِئَۃَ أَلْفٍ ومِئَۃَ أَلْفٍ ومِئَۃَ أَلْفٍ ومِئَۃَ أَلْفٍ ومِئَۃَ أَلْفٍ حَتَّی عَدَّ خَمْسًا ، قَالَ : إنَّک نَاعِسٌ ، ارْجِعْ إلَی بَیْتِکَ فَنَمْ ، ثُمَّ اغْدُ عَلَیَّ ، قَالَ : فَغَدَوْت عَلَیْہِ ، فَقَالَ : مَا جِئْت بِہِ قُلْتُ : بِخَمْسِمِئَۃِ أَلْفٍ ، قَالَ : طَیِّبٌ ، قُلْتُ : طَیِّبٌ ، لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ ذَاکَ ، قَالَ : فَقَالَ لِلنَّاسِ : إِنَّہُ قَدِمَ عَلَیَّ مَالٌ کَثِیرٌ فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَعُدَّہُ لَکُمْ عَدًّا ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَکِیلَہُ لَکُمْ کَیْلاً ، فَقَالَ رَجُلٌ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إنِّی رَأَیْت ہَؤُلاَئِ الأَعَاجِمَ یُدَوِّنُونَ دِیوَانًا وَیُعْطُونَ النَّاسَ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَدَوَّنَ الدِّیوان وَفَرَضَ لِلْمُہَاجِرِینَ فِی خَمْسَۃِ آلاَفٍ خَمْسَۃَ آلاَفٍ وَلِلأَنْصَارِ فِی أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لأَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٣٦) حضرت قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے بدری صحابہ (رض) اور ان کے غلاموں میں جو عربی النسل تھے ان کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر کیے اور فرمایا : کہ میں ضرور بالضرور ان کو غیروں پر فضیلت دوں گا۔
(۳۳۵۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : فَرَضَ عُمَرُ لأَہْلِ بَدْرٍ عَرِبیہِمْ وَمَوْلاَہُمْ فِی خَمْسَۃِ آلاَفٍ خَمْسَۃَ آلاَفٍ ، وَقَالَ : لأُفَضِّلَنَّہُمْ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٣٧) حضرت مصعب بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بدری صحابہ (رض) کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور امہات المومنین کے لیے دس دس ہزار ہزار مقرر فرمائے اور حضرت عائشہ (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاص محبت ہونے کی وجہ سے ان کے لیے دو ہزار کا اضافہ فرما دیا۔ سوائے دو بیویوں حضرت صفیہ بنت حیی (رض) اور حضرت جویریہ بنت حارث (رض) کے کہ ان دونوں کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور مسلمانوں کی عورتوں میں سے چند عورتوں کے لیے ہزار ہزار مقرر فرمائے۔ ان عورتوں میں حضرت ام عبد بھی شامل تھیں۔
(۳۳۵۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَرَضَ لأہل بدر فِی سِتَّۃِ آلاَفٍ سِتَّۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لأُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ فِی عَشْرَۃِ آلاَفٍ عَشْرَۃَ آلاَفٍ ، فَفَضَّلَ عَائِشَۃَ بِأَلْفَیْنِ لِحُبِّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إیَّاہَا إِلاَّ السَّبِیَّتَیْنِ صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیٍّ وَجُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَرَضَ لَہما سِتَّۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لِنِسَائٍ مِنْ نِسَائِ الْمُؤْمِنِینَ فِی أَلْفٍ أَلْفٍ مِنْہُمْ أُمُّ عَبْدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٣٨) حضرت قیس (رض) فرماتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے بیٹے کو لے کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں آیا اور میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین : اس کے لیے بھی عطیہ مقرر فرما دیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : چار سو درہم۔ میں نے عرض کیا : بیشک چار سو درہم اس کو کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔ آپ (رض) اس کے لیے دو سو درہم مزید بڑھا دیں۔ جیسا کہ آپ (رض) نے لوگوں کے بڑھائے ہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کے لیے بھی بڑھا دیے۔ راوی کہتے ہیں : کہ آپ (رض) نے لوگوں کے لیے دو سو درہم بڑھا دیے تھے۔
(۳۳۵۳۸) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَلِیًّا بِابْنِ عَمٍّ لِی ، فَقُلْتُ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، افْرِضْ لِہَذَا ، قَالَ : أَرْبَعٌ ، یَعْنِی أَرْبَعَمِئَۃٍ ، قَالَ : قُلْتُ : إنَّ أَرْبَعَمِئَۃٍ لاَ تُغْنِی شَیْئًا ، زِدْہُ الْمِائَتَیْنِ الَّتِی زِدْت النَّاسَ ، قَالَ : فَذَاکَ لَہُ ، قَالَ : وَقَدْ کَانَ زَادَ النَّاسَ مِئَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٣٩) حضرت عمر جو کہ حضرت غفرہ (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو بحرین سے بہت سا مال آیا ۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : جس شخص کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کچھ قرض ہو یا مال ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ کھڑا ہو اور اس مال میں سے لے لے۔ حضرت جابر (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : اگر میرے پاس بحرین سے مال آیا تو میں ضرور تمہیں اتنا اور اتنا مال عطا کروں گا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار فرمایا : اور ہاتھ سے چلو بھرا تھا۔ لہٰذا حضرت ابوبکر (رض) نے ان سے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ اور اپنے ہاتھ سے لے لو۔ پس آپ (رض) نے لے لیا تو وہ پانچ سو درہم تھے۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کو ہزار گن کر دے دو ۔ اور آپ (رض) نے لوگوں کے درمیان دس دس دراہم تقسیم فرما دیے۔ اور فرمایا : یہ وہ وعدے ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے کیے تھے۔
٢۔ یہاں تک کہ جب اگلا سال ہوا تو اس سے کہیں زیادہ مال آیا۔ تو آپ (رض) نے لوگوں کے درمیان بیس بیس دراہم تقسیم فرما دیے اور پھر بھی مال باقی بچ گیا۔ لہٰذا آپ (رض) نے غلاموں میں بھی پانچ پانچ دراہم تقسیم فرمائے اور فرمایا : بیشک تمہارے خادمین تمہاری خدمت کرتے ہیں اور تمہارے معاملات نمٹاتے ہیں اس لیے ہم نے ان کو بھی کچھ مال عطا کردیا لوگوں نے کہا : اگر آپ (رض) مہاجرین اور انصار کو سبقت لے جانے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک بہتر مرتبہ کی وجہ سے فضیلت دیتے تو اچھا ہوتا ! آپ (رض) نے فرمایا : ان لوگوں کا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے۔ بیشک اس مال میں برابری بہتر ہے کسی کو ترجیح دینے سے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (رض) نے اپنے دورخلافت میں اسی طرح عمل کیا یہاں تک کہ ہجرت کے تیرہویں سال جمادی الاخری کی آخری راتوں میں آپ (رض) کی وفات ہوگئی۔
٣۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے خلافت سنبھالی اور بہت سی فتوحات ہوئیں۔ اور بہت سارا مال آیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : بیشک حضرت ابوبکر (رض) نے اس معاملہ میں ایک رائے اختیار کی اور میری اس معاملہ میں دوسری رائے ہے۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قتال کرنے والے کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قتال کرنے والے کے برابر نہیں کروں گا۔ اور آپ (رض) نے مہاجرین اور انصار میں سے جن صحابہ (رض) نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی ان کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ اور وہ مسلمان جو اسلام لانے میں بدریین ہی کی طرح تھے مگر غزوہ بدر میں نہ حاضر ہو سکے ان کے لیے آپ (رض) نے چار چار ہزار مقرر فرمائے۔
٤۔ اور آپ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات (رض) کے لیے بارہ بارہ ہزار مقرر فرمائے سوائے حضرت صفیہ اور حضرت جویریہ (رض) کے۔ ان دونوں کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ ا ن دونوں نے یہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ تو حضرت عمر (رض) نے ان دونوں سے فرمایا : بیشک میں نے ان سب کے لیے ہجرت کی وجہ سے اتنا مال مقرر فرمایا : اس پر ان دونوں نے فرمایا : کہ تم نے ان سب کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک ہونے کی وجہ سے مقرر فرمایا ہے اور ہمارے لیے بھی ان ہی کی طرح ہوگا۔ حضرت عمر (رض) نے یہ سمجھ لیا اور پھر ان دونوں کے لیے بھی بارہ بارہ ہزار مقرر فرما دیے۔
٥۔ اور حضرت عباس (رض) کے لیے بھی بارہ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت اسامہ بن زید (رض) کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے لیے تین ہزار مقرر فرمائے۔ اس پر حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اے ابا جان ! آپ نے اس کے لیے مجھ سے زیادہ ایک ہزار کیوں بڑھائے ؟ حالانکہ اس کے والد کو وہ فضیلت نہیں ہے جو میرے والد کو ہے اور اس کو وہ فضیلت حاصل نہیں ہے جو مجھے ہے۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بیشک اسامہ کا باپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک تیرے باپ سے زیادہ محبوب تھا ، اور خود اسامہ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک تیرے سے زیادہ محبوب تھا۔ اور آپ (رض) نے حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ اور ان دونوں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کی وجہ سے ان کو ان کے والد سے ملا دیا۔
٦۔ اور آپ (رض) نے مہاجرین اور انصار صحابہ (رض) کے بیٹوں کے لیے دو دو ہزار مقرر فرمائے، پس حضرت عمر بن ابی سلمہ (رض) آپ (رض) کے پاس سے گزرے تو آپ (رض) نے فرمایا : اس کے لیے ایک ہزار بڑھا دو ۔ اس پر حضرت محمد بن عبداللہ بن جحش (رض) نے ان سے فرمایا : جو اس کے باپ کو مرتبہ حاصل ہے وہ ہمارے باپ کو نہیں اور جو اس کو مرتبہ حاصل ہے وہ ہمارے لیے نہیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : بیشک میں نے اس کے والد حضرت ابو سلمہ (رض) کی وجہ سے اس کے لیے دو ہزار مقرر فرمائے۔ اور اس کی والدہ حضرت ام سلمہ (رض) کی وجہ سے اس کے لیے اضافہ کردیا پس اگر تیری والدہ بھی اس کی والدہ کی طرح ہوتی تو میں تیرے لیے بھی ایک ہزار کا اضافہ کردیتا۔
٧۔ اور آپ (رض) نے مکہ والوں کے لیے اور دیگر لوگوں کے لیے آٹھ آٹھ سو مقرر فرمائے ۔ پس حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) اپنے بھائی عثمان کو لے کر آئے تو آپ (رض) نے اس کے لیے آٹھ سو مقرر کیے۔ اور حضرت نضر بن انس (رض) آپ (رض) کے پاس سے گزرے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس کے لیے دو ہزار مقرر کردو۔ اس پر حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا : میں آپ (رض) کے پاس اس جیسا شخص لایا تو آپ (رض) نے اس کے لیے آٹھ سو مقرر فرمائے اور اس کے لیے آپ (رض) نے دو ہزار مقرر فرما دیے۔ آپ (رض) نے فرمایا : بیشک اس کے والد مجھے غزوہ احد کے دن ملے اور مجھ سے پوچھا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا ہوا ؟ میں نے کہا : میرے خیال میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کردیا گیا ہے تو انھوں نے اپنی تلوار سونت لی اور تلوار کی میان توڑ ڈالی اور فرمایا : اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کردیا گیا تو بیشک اللہ زندہ ہے وہ نہیں مرے گا۔ پھر انھوں نے قتال کیا یہاں تک کہ ان کو قتل کردیا گیا اور یہ اس وقت فلاں فلاں جگہ میں بکریاں چراتا تھا۔
٨۔ حضرت عمر (رض) نے اپنی خلافت کی ابتداء میں یہ کام کیا یہاں تک کہ ہجرت کا تیئسواں سال (23 ) آیا تو آپ (رض) نے اس سال حج کیا۔ آپ (رض) کو وہاں یہ بات پہنچی کہ لوگ یوں کہہ رہے ہیں : اگر امیر المؤمنین فوت ہوگئے تو ہم فلاں آدمی کے پاس جا کر اس کی بیعت کرلیں گے ۔ اس لیے کہ حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت تو ہم نے بغیر سوچے سمجھے عجلت میں کی تھی ! پس حضرت عمر (رض) نے ایام تشریق کے درمیان میں ہی بات کرنے کا ارادہ فرمایا۔ تو حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے ان سے فرمایا : اے امیر المؤمنین ! بیشک یہ ایسی جگہ ہے کہ یہاں عام لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے یہ لوگ آپ (رض) کی بات کو صحیح معنی پر محمول نہیں کریں گے۔ پس آپ (رض) دارالھجرت اور دارالایمان کی طرف لوٹ جائیں اور وہاں بات کریں پس آپ (رض) کی بات سنی جائے گی۔ آپ (رض) نے جلدی کی اور مدینہ آئے اور لوگوں کو خطاب کیا اور فرمایا :
٩۔ اے لوگو ! حمدو صلوۃ کے بعد، تحقیق مجھے تمہارے میں سے کہنے والوں کی بات پہنچی ہے کہ اگر امیر المؤمنین فوت ہوگئے تو ہم فلاں آدمی کے پاس جا کر اس کی بیعت کرلیں گے۔ اس لیے کہ حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت تو بےسوچے سمجھے عجلت میں ہوئی تھی۔ اللہ کی قسم ! اگر یہ بےسوچے سمجھے عجلت میں ہوئی تھی تو اللہ نے ہمیں اس کے شر سے محفوظ رکھا۔ پس کون شخص ہوسکتا ہے ہمارے میں سے حضرت ابوبکر (رض) کی طرح کہ ہم اس کی طرف اپنی گردنوں کو بڑھا دیں گے جیسا کہ ہم حضرت ابوبکر (رض) کی طرف بڑھاتے تھے ۔ بیشک یہ تو دھوکا دہی ہے تاکہ قتل و قتال کیا جائے۔ جو شخص مسلمانوں کے معاملات بغیر مشورے کے چھین لے تو اس کے لیے بیعت درست نہیں۔
١٠۔ خبردار ! بیشک میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور میں اس کی تعبیر گمان نہیں کرتا مگر یہ کہ میری موت کا وقت قریب ہے۔ میں نے ایک مرغے کو دیکھا کہ اس نے مجھ پر نظر ڈالی اور مجھے تین مرتبہ ٹھونگ ماری۔ حضرت اسماء بنت عمیس (رض) نے مجھے یہ تاویل بیان کی ہے : کہ آپ (رض) کو اہل حمراء میں سے ایک آدمی قتل کرے گا ۔ پس اگر میں مر جاؤں تو تمہارا معاملہ ان چھ لوگوں کے سپرد ہوگا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے راضی تھے۔ اور وہ یہ ہیں : حضرت عثمان (رض) ، حضرت علی (رض) ، حضرت طلحہ (رض) ، حضرت زبیر (رض) ، حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) اور حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) ۔ اگر یہ آپس میں اختلاف کریں تو ان کا معاملہ حضرت علی (رض) کے سپرد ہوگا ۔ اور اگر میں زندہ رہا تو عنقریب وصیت کروں گا۔
١١۔ اور میں نے پھوپھی اور بھتیجی میں غور کیا نہ ان دونوں کو وارث بنایا جائے گا اور نہ یہ دونوں وارث بنیں گی۔ اور اگر میں زندہ رہا تو میں عنقریب تمہارے لیے ایک معاملہ کھولوں گا کہ تم اس کو پکڑو گے ۔ اور اگر میں مرگیا ، تو تم لوگ اپنی رائے اختیار کرلینا۔ اللہ کی قسم ! تم پر میری خلافت کے دوران تحقیق میں نے دیوان مدوّن کروائے۔ اور میں نے تمہارے لیے شہروں کو بسایا۔ اور میں نے تمہارے لیے مسافر خانوں میں کھانا جاری کیا۔ اور میں نے تمہیں بالکل واضح صورت حال میں چھوڑا ، اور بیشک میں تم پر دو آدمیوں سے خوف کھاتا ہوں۔ ایک وہ شخص جو اس قرآن کے معنی پر قتال کرے اس کو قتل کردیا جائے۔ اور دوسرا وہ شخص جس کی یہ رائے ہو کہ وہ اپنے بھائی سے زیادہ اس مال کا حقدار ہے۔ پس وہ اس مال پر قتال کرے یہاں تک کہ اسے قتل کردیا جائے۔
١٢۔ آپ (رض) نے جمعہ کے دن یہ خطبہ ارشاد فرمایا : اور بدھ کے دن آپ (رض) کو نیزے سے مارا گیا۔
٢۔ یہاں تک کہ جب اگلا سال ہوا تو اس سے کہیں زیادہ مال آیا۔ تو آپ (رض) نے لوگوں کے درمیان بیس بیس دراہم تقسیم فرما دیے اور پھر بھی مال باقی بچ گیا۔ لہٰذا آپ (رض) نے غلاموں میں بھی پانچ پانچ دراہم تقسیم فرمائے اور فرمایا : بیشک تمہارے خادمین تمہاری خدمت کرتے ہیں اور تمہارے معاملات نمٹاتے ہیں اس لیے ہم نے ان کو بھی کچھ مال عطا کردیا لوگوں نے کہا : اگر آپ (رض) مہاجرین اور انصار کو سبقت لے جانے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک بہتر مرتبہ کی وجہ سے فضیلت دیتے تو اچھا ہوتا ! آپ (رض) نے فرمایا : ان لوگوں کا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے۔ بیشک اس مال میں برابری بہتر ہے کسی کو ترجیح دینے سے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (رض) نے اپنے دورخلافت میں اسی طرح عمل کیا یہاں تک کہ ہجرت کے تیرہویں سال جمادی الاخری کی آخری راتوں میں آپ (رض) کی وفات ہوگئی۔
٣۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے خلافت سنبھالی اور بہت سی فتوحات ہوئیں۔ اور بہت سارا مال آیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : بیشک حضرت ابوبکر (رض) نے اس معاملہ میں ایک رائے اختیار کی اور میری اس معاملہ میں دوسری رائے ہے۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قتال کرنے والے کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قتال کرنے والے کے برابر نہیں کروں گا۔ اور آپ (رض) نے مہاجرین اور انصار میں سے جن صحابہ (رض) نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی ان کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ اور وہ مسلمان جو اسلام لانے میں بدریین ہی کی طرح تھے مگر غزوہ بدر میں نہ حاضر ہو سکے ان کے لیے آپ (رض) نے چار چار ہزار مقرر فرمائے۔
٤۔ اور آپ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات (رض) کے لیے بارہ بارہ ہزار مقرر فرمائے سوائے حضرت صفیہ اور حضرت جویریہ (رض) کے۔ ان دونوں کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ ا ن دونوں نے یہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ تو حضرت عمر (رض) نے ان دونوں سے فرمایا : بیشک میں نے ان سب کے لیے ہجرت کی وجہ سے اتنا مال مقرر فرمایا : اس پر ان دونوں نے فرمایا : کہ تم نے ان سب کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک ہونے کی وجہ سے مقرر فرمایا ہے اور ہمارے لیے بھی ان ہی کی طرح ہوگا۔ حضرت عمر (رض) نے یہ سمجھ لیا اور پھر ان دونوں کے لیے بھی بارہ بارہ ہزار مقرر فرما دیے۔
٥۔ اور حضرت عباس (رض) کے لیے بھی بارہ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت اسامہ بن زید (رض) کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے لیے تین ہزار مقرر فرمائے۔ اس پر حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اے ابا جان ! آپ نے اس کے لیے مجھ سے زیادہ ایک ہزار کیوں بڑھائے ؟ حالانکہ اس کے والد کو وہ فضیلت نہیں ہے جو میرے والد کو ہے اور اس کو وہ فضیلت حاصل نہیں ہے جو مجھے ہے۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بیشک اسامہ کا باپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک تیرے باپ سے زیادہ محبوب تھا ، اور خود اسامہ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک تیرے سے زیادہ محبوب تھا۔ اور آپ (رض) نے حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ اور ان دونوں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کی وجہ سے ان کو ان کے والد سے ملا دیا۔
٦۔ اور آپ (رض) نے مہاجرین اور انصار صحابہ (رض) کے بیٹوں کے لیے دو دو ہزار مقرر فرمائے، پس حضرت عمر بن ابی سلمہ (رض) آپ (رض) کے پاس سے گزرے تو آپ (رض) نے فرمایا : اس کے لیے ایک ہزار بڑھا دو ۔ اس پر حضرت محمد بن عبداللہ بن جحش (رض) نے ان سے فرمایا : جو اس کے باپ کو مرتبہ حاصل ہے وہ ہمارے باپ کو نہیں اور جو اس کو مرتبہ حاصل ہے وہ ہمارے لیے نہیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : بیشک میں نے اس کے والد حضرت ابو سلمہ (رض) کی وجہ سے اس کے لیے دو ہزار مقرر فرمائے۔ اور اس کی والدہ حضرت ام سلمہ (رض) کی وجہ سے اس کے لیے اضافہ کردیا پس اگر تیری والدہ بھی اس کی والدہ کی طرح ہوتی تو میں تیرے لیے بھی ایک ہزار کا اضافہ کردیتا۔
٧۔ اور آپ (رض) نے مکہ والوں کے لیے اور دیگر لوگوں کے لیے آٹھ آٹھ سو مقرر فرمائے ۔ پس حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) اپنے بھائی عثمان کو لے کر آئے تو آپ (رض) نے اس کے لیے آٹھ سو مقرر کیے۔ اور حضرت نضر بن انس (رض) آپ (رض) کے پاس سے گزرے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس کے لیے دو ہزار مقرر کردو۔ اس پر حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا : میں آپ (رض) کے پاس اس جیسا شخص لایا تو آپ (رض) نے اس کے لیے آٹھ سو مقرر فرمائے اور اس کے لیے آپ (رض) نے دو ہزار مقرر فرما دیے۔ آپ (رض) نے فرمایا : بیشک اس کے والد مجھے غزوہ احد کے دن ملے اور مجھ سے پوچھا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا ہوا ؟ میں نے کہا : میرے خیال میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کردیا گیا ہے تو انھوں نے اپنی تلوار سونت لی اور تلوار کی میان توڑ ڈالی اور فرمایا : اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کردیا گیا تو بیشک اللہ زندہ ہے وہ نہیں مرے گا۔ پھر انھوں نے قتال کیا یہاں تک کہ ان کو قتل کردیا گیا اور یہ اس وقت فلاں فلاں جگہ میں بکریاں چراتا تھا۔
٨۔ حضرت عمر (رض) نے اپنی خلافت کی ابتداء میں یہ کام کیا یہاں تک کہ ہجرت کا تیئسواں سال (23 ) آیا تو آپ (رض) نے اس سال حج کیا۔ آپ (رض) کو وہاں یہ بات پہنچی کہ لوگ یوں کہہ رہے ہیں : اگر امیر المؤمنین فوت ہوگئے تو ہم فلاں آدمی کے پاس جا کر اس کی بیعت کرلیں گے ۔ اس لیے کہ حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت تو ہم نے بغیر سوچے سمجھے عجلت میں کی تھی ! پس حضرت عمر (رض) نے ایام تشریق کے درمیان میں ہی بات کرنے کا ارادہ فرمایا۔ تو حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے ان سے فرمایا : اے امیر المؤمنین ! بیشک یہ ایسی جگہ ہے کہ یہاں عام لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے یہ لوگ آپ (رض) کی بات کو صحیح معنی پر محمول نہیں کریں گے۔ پس آپ (رض) دارالھجرت اور دارالایمان کی طرف لوٹ جائیں اور وہاں بات کریں پس آپ (رض) کی بات سنی جائے گی۔ آپ (رض) نے جلدی کی اور مدینہ آئے اور لوگوں کو خطاب کیا اور فرمایا :
٩۔ اے لوگو ! حمدو صلوۃ کے بعد، تحقیق مجھے تمہارے میں سے کہنے والوں کی بات پہنچی ہے کہ اگر امیر المؤمنین فوت ہوگئے تو ہم فلاں آدمی کے پاس جا کر اس کی بیعت کرلیں گے۔ اس لیے کہ حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت تو بےسوچے سمجھے عجلت میں ہوئی تھی۔ اللہ کی قسم ! اگر یہ بےسوچے سمجھے عجلت میں ہوئی تھی تو اللہ نے ہمیں اس کے شر سے محفوظ رکھا۔ پس کون شخص ہوسکتا ہے ہمارے میں سے حضرت ابوبکر (رض) کی طرح کہ ہم اس کی طرف اپنی گردنوں کو بڑھا دیں گے جیسا کہ ہم حضرت ابوبکر (رض) کی طرف بڑھاتے تھے ۔ بیشک یہ تو دھوکا دہی ہے تاکہ قتل و قتال کیا جائے۔ جو شخص مسلمانوں کے معاملات بغیر مشورے کے چھین لے تو اس کے لیے بیعت درست نہیں۔
١٠۔ خبردار ! بیشک میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور میں اس کی تعبیر گمان نہیں کرتا مگر یہ کہ میری موت کا وقت قریب ہے۔ میں نے ایک مرغے کو دیکھا کہ اس نے مجھ پر نظر ڈالی اور مجھے تین مرتبہ ٹھونگ ماری۔ حضرت اسماء بنت عمیس (رض) نے مجھے یہ تاویل بیان کی ہے : کہ آپ (رض) کو اہل حمراء میں سے ایک آدمی قتل کرے گا ۔ پس اگر میں مر جاؤں تو تمہارا معاملہ ان چھ لوگوں کے سپرد ہوگا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے راضی تھے۔ اور وہ یہ ہیں : حضرت عثمان (رض) ، حضرت علی (رض) ، حضرت طلحہ (رض) ، حضرت زبیر (رض) ، حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) اور حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) ۔ اگر یہ آپس میں اختلاف کریں تو ان کا معاملہ حضرت علی (رض) کے سپرد ہوگا ۔ اور اگر میں زندہ رہا تو عنقریب وصیت کروں گا۔
١١۔ اور میں نے پھوپھی اور بھتیجی میں غور کیا نہ ان دونوں کو وارث بنایا جائے گا اور نہ یہ دونوں وارث بنیں گی۔ اور اگر میں زندہ رہا تو میں عنقریب تمہارے لیے ایک معاملہ کھولوں گا کہ تم اس کو پکڑو گے ۔ اور اگر میں مرگیا ، تو تم لوگ اپنی رائے اختیار کرلینا۔ اللہ کی قسم ! تم پر میری خلافت کے دوران تحقیق میں نے دیوان مدوّن کروائے۔ اور میں نے تمہارے لیے شہروں کو بسایا۔ اور میں نے تمہارے لیے مسافر خانوں میں کھانا جاری کیا۔ اور میں نے تمہیں بالکل واضح صورت حال میں چھوڑا ، اور بیشک میں تم پر دو آدمیوں سے خوف کھاتا ہوں۔ ایک وہ شخص جو اس قرآن کے معنی پر قتال کرے اس کو قتل کردیا جائے۔ اور دوسرا وہ شخص جس کی یہ رائے ہو کہ وہ اپنے بھائی سے زیادہ اس مال کا حقدار ہے۔ پس وہ اس مال پر قتال کرے یہاں تک کہ اسے قتل کردیا جائے۔
١٢۔ آپ (رض) نے جمعہ کے دن یہ خطبہ ارشاد فرمایا : اور بدھ کے دن آپ (رض) کو نیزے سے مارا گیا۔
(۳۳۵۳۹) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عُمَرُ مَوْلَی غُفْرَۃَ وَغَیْرُہُ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَائَہُ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَیْنِ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : مَنْ کَانَ لَہُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئٌ ، أَوْ عِدَّۃٌ فَلْیَقُمْ فَلْیَأْخُذْ ، فَقَامَ جَابِرٌ ، فَقَالَ : إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنْ جَائَنِی مَالٌ مِنَ الْبَحْرَیْنِ لأعْطَیْتُک ہَکَذَا وَہَکَذَا ثَلاَثَ مِرَارٍ وَحَثَی بِیَدِہِ ، فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ : قُمْ فَخُذْ بِیَدِکَ فَأَخَذَ فَإِذَا ہِیَ خَمْسُمِئَۃِ دِرْہَمٍ فَقَالَ : عُدُّوا لَہُ أَلْفًا ، وَقَسَمَ بَیْنَ النَّاسِ عَشَرَۃَ دَرَاہِمَ عَشَرَۃَ دَرَاہِمَ ، وَقَالَ : إنَّمَا ہَذِہِ مَوَاعِیدُ وَعَدَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ
۲۔ حَتَّی إذَا کَانَ عَامٌ مُقْبِلٌ ، جَائَہُ مَالٌ أَکْثَرُ مِنْ ذَلِکَ الْمَالِ ، فَقَسَمَ بَیْنَ النَّاسِ عِشْرِینَ دِرْہَمًا عِشْرِینَ دِرْہَمًا، وَفَضَلَتْ مِنْہُ فَضْلَۃٌ، فَقَسَمَ لِلْخَدَمِ خَمْسَۃَ دَرَاہِمَ خَمْسَۃَ دَرَاہِمَ، وَقَالَ: إنَّ لَکُمْ خُدَّامًا یَخْدُمُونَکُمْ وَیُعَالِجُونَ لَکُمْ، فَرَضَخْنَا لَہُمْ، فَقَالُوا: لَوْ فَضَّلْت الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارَ لِسَابِقَتِہِمْ، وَلِمَکَانِہِمْ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَجْرُ أُولَئِکَ عَلَی اللہِ ، إنَّ ہَذَا الْمَعَاشَ للأُسْوَۃُ فِیہِ خَیْرٌ مِنَ الأَثَرَۃِ ، قَالَ: فَعَمِلَ بِہَذَا وِلاَیَتَہُ حَتَّی إذَا کَانَتْ سَنَۃُ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ فِی جُمَادَی الآخِرَۃِ فی لَیَالٍ بَقِینَ مِنْہُ مَاتَ رضی اللَّہُ عَنْہُ۔
۳۔ فَعَمِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَفَتَحَ الْفُتُوحَ وَجَائَتْہُ الأَمْوَالُ ، فَقَالَ : إنَّ أَبَا بَکْرٍ رَأَی فِی ہَذَا الأَمْرِ رَأْیًا ، وَلِی فِیہِ رَأْیٌ آخَرُ لاَ أَجْعَلُ مَنْ قَاتَلَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَنْ قَاتَلَ مَعَہُ ، فَفَرَضَ لِلْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا خَمْسَۃَ آلاَفٍ خَمْسَۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لِمَنْ کَانَ لَہُ الإِسْلاَمُ کَإِسْلاَمِ أَہْلِ بَدْرٍ وَلَمْ یَشْہَدْ بَدْرًا أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ۔
۴۔ وَفَرَضَ لأَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا إِلاَّ صَفِیَّۃَ وَجُوَیْرِیَۃَ ، فَرَضَ لَہُمَا سِتَّۃَ آلاَفٍ سِتَّۃَ آلاَفٍ ، فَأَبَتَا أَنْ تَقْبَلا فَقَالَ
لَہُمَا : إنَّمَا فَرَضْت لَہُنَّ لِلْہِجْرَۃِ ، فَقَالَتَا : إنَّمَا فَرَضْت لَہُنَّ لِمَکَانِہِنَّ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانَ لَنَا مِثْلُہُ ، فَعَرَفَ ذَلِکَ عُمَرُ فَفَرَضَ لَہُمَا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا۔
۵۔ وَفَرَضَ لِلْعَبَّاسِ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَفَرَضَ لأسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ثَلاَثَۃَ آلاَفٍ ، فَقَالَ : یَا أَبَتِ ، لِمَ زِدْتہ عَلَیَّ أَلْفًا مَا کَانَ لأَبِیہِ مِنَ الْفَضْلِ مَا لَمْ یَکُنْ لأَبِی ، وَمَا کَانَ لَہُ لَمْ یَکُنْ لِی، فَقَالَ : إنَّ أَبَا أُسَامَۃَ کَانَ أَحَبَّ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِیک وَکَانَ أُسَامَۃُ أَحَبَّ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْک وَفَرَضَ لِحَسَنٍ وَحُسَیْنٍ خَمْسَۃَ آلاَفٍ خَمْسَۃَ آلاَفٍ ، أَلْحَقَہُمَا بِأَبِیہِمَا لِمَکَانِہِمَا مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
۶۔ وَفَرَضَ لأَبْنَائِ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ أَلْفَیْنِ أَلْفَیْنِ ، فَمَرَّ بِہِ عُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ ، فَقَالَ : زِیدُوہُ أَلْفًا ، فَقَالَ لَہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَحْشٍ : مَا کَانَ لأَبِیہِ مَا لَمْ یَکُنْ لأبِینا ، وَمَا کَانَ لَہُ مَا لَمْ یَکُنْ لَنَا ، فَقَالَ : إنِّی فَرَضْت لَہُ بِأَبِیہِ أَبِی سَلَمَۃَ أَلْفَیْنِ ، وَزِدْتہ بِأُمِّہِ أُمِّ سَلَمَۃَ أَلْفًا ، فَإِنْ کَانَتْ لَکَ أُمٌّ مِثْلُ أُمِّہِ زِدْتُک الْفًا ۔
۷۔ وَفَرَضَ لأَہْلِ مَکَّۃَ وَلِلنَّاسِ ثَمَانِمِئَۃٍ ثَمَانِمِئَۃٍ ، فَجَائَہُ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ بِأَخِیہِ عُثْمَانَ ، فَفَرَضَ لَہُ ثَمَانِمِئَۃٍ ، فَمَرَّ بِہِ النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : افْرِضُوا لَہُ فِی أَلْفَیْنِ ، فَقَالَ طَلْحَۃُ : جِئْتُک بِمِثْلِہِ فَفَرَضْت لَہُ ، ثَمَانِمِئَۃِ دِرْہَمٍ وَفَرَضْت لِہَذَا أَلْفَیْنِ ، فَقَالَ : إنَّ أَبَا ہَذَا لَقِیَنِی یَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ لِی : مَا فَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : مَا أُرَاہُ إِلاَّ قَدْ قُتِلَ ، فَسَلَّ سَیْفَہُ فَکَسَرَ غِمْدَہُ وَقَالَ : إِنْ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ قُتِلَ فَإِنَّ اللَّہَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ ، فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ، وَہَذَا یَرْعَی الشَّائَ فِی مَکَانِ کَذَا وَکَذَا۔
۸۔ فَعَمِلَ عُمَرُ بَدَء خِلاَفَتِہِ حَتَّی کَانَتْ سَنَۃُ ثَلاَثٍ وَعِشْرِینَ حَجَّ تِلْکَ السَّنَۃَ فَبَلَغَہُ أَنَّ النَّاسَ یَقُولُونَ : لَوْ مَاتَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ قُمْنَا إلَی فُلاَنٍ فَبَایَعْنَاہُ ، وَإِنْ کَانَتْ بَیْعَۃُ أَبِی بَکْرٍ فَلْتَۃً ، فَأَرَادَ أَنْ یَتَکَلَّمَ فِی أَوْسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إنَّ ہَذَا مَکَانٌ یَغْلِبُ عَلَیْہِ غَوْغَائُ النَّاسِ وَدَہْمُہُمْ وَمَنْ لاَ یَحْمِلُ کَلاَمُک مَحْمَلَہُ ، فَارْجِعْ إلَی دَارِ الْہِجْرَۃِ وَالإِیمَانِ ، فَتَکَلَّمْ فَیُسْتَمَعُ کَلاَمُک ، فَأَسْرَعَ فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، وَقَالَ :
۹۔ أَیُّہَا النَّاسُ ، أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِی قَالَۃُ قَائِلُکُمْ : لَوْ مَاتَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ قُمْنَا إلَی فُلاَنٍ فَبَایَعْنَاہُ وَإِنْ کَانَتْ بَیْعَۃُ أَبِی بَکْرٍ فَلْتَۃً ، وَایْمُ اللہِ إِنْ کَانَتْ لَفَلْتَۃً وَقَانَا اللَّہُ شَرَّہَا فَمِنْ أَیْنَ لَنَا مِثْلُ أَبِی بَکْرٍ نَمُدُّ أَعْنَاقَنَا إلَیْہِ کَمَدِّنَا إلَی أَبِی بَکْرٍ ، إنَّمَا ذَاکَ تَغِرَّۃٌ لِیُقْتَلَ ، مَنْ انتزع أُمُورِ الْمُسْلِمِینَ مِنْ غَیْرِ مَشُورَۃٍ فَلاَ بَیْعَۃَ لَہُ۔
۱۰۔ أَلاَ وَإِنِّی رَأَیْت رُؤْیَا ، وَلاَ أَظُنُّ ذَاکَ إِلاَّ عِنْدَ اقْتِرَابِ أَجَلِی ، رَأَیْت دِیکًا تراء ی لِی فَنَقَرَنِی ثَلاَثَ نَقَرَاتٍ ، فَتَأَوَّلَتْ لِی أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَیْسٍ ، قَالَتْ : یَقْتُلُک رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ ہَذِہِ الْحَمْرَائِ ، فَإِنْ أَمُتْ فَأَمْرُکُمْ إلَی ہَؤُلاَئِ السِّتَّۃِ الَّذِینَ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَنْہُمْ رَاضٍ : إلَی عُثْمَانَ وَعَلِیٍّ وَطَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ، فَإِنَ اخْتَلَفُوا فَأَمْرُہُمْ إلَی عَلِی ، وَإِنْ أَعِشْ فَسَأُوصِی۔
۱۱۔ وَنَظَرْت فِی الْعَمَّۃِ وَبِنْتِ الأَخِ مَا لَہُمَا ، تُورِثَانِ ، وَلاَ تَرِثَانِ ، وَإِنْ أَعِشْ فَسَأَفْتَحُ لَکُمْ أَمْرًا تَأْخُذُونَ بِہِ ، وَإِنْ أَمُتْ فَسَتَرَوْنَ رَأْیَکُمْ ، وَاللَّہُ خَلِیفَتِی فِیکُمْ ، وَقَدْ دَوَّنْت لَکُمْ الدَّوَاوِینَ ، وَمَصَّرْت لَکُمُ الأَمْصَارَ ، وَأَجْرَیْت لَکُمُ الطَّعَامَ إِلَی الْخَان وَتَرَکْتُکُمْ عَلَی وَاضِحَۃٍ ، وَإِنَّمَا أَتَخَوَّفُ عَلَیْکُمْ رَجُلَیْنِ رَجُلاً قَاتَلَ عَلَی تَأْوِیلِ ہَذَا الْقُرْآنِ یُقْتَلُ ، وَرَجُلاً رَأَی أَنَّہُ أَحَقُّ بِہَذَا الْمَالِ مِنْ أَخِیہِ فَقَاتَلَ عَلَیْہِ حَتَّی قُتِلَ۔
۱۲۔ فَخَطَبَ نَہَارَ الْجُمُعَۃِ وَطُعِنَ یَوْمَ الأَرْبِعَائِ۔ (بیہقی ۳۵۰۔ بزار ۱۷۳۶)
۲۔ حَتَّی إذَا کَانَ عَامٌ مُقْبِلٌ ، جَائَہُ مَالٌ أَکْثَرُ مِنْ ذَلِکَ الْمَالِ ، فَقَسَمَ بَیْنَ النَّاسِ عِشْرِینَ دِرْہَمًا عِشْرِینَ دِرْہَمًا، وَفَضَلَتْ مِنْہُ فَضْلَۃٌ، فَقَسَمَ لِلْخَدَمِ خَمْسَۃَ دَرَاہِمَ خَمْسَۃَ دَرَاہِمَ، وَقَالَ: إنَّ لَکُمْ خُدَّامًا یَخْدُمُونَکُمْ وَیُعَالِجُونَ لَکُمْ، فَرَضَخْنَا لَہُمْ، فَقَالُوا: لَوْ فَضَّلْت الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارَ لِسَابِقَتِہِمْ، وَلِمَکَانِہِمْ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَجْرُ أُولَئِکَ عَلَی اللہِ ، إنَّ ہَذَا الْمَعَاشَ للأُسْوَۃُ فِیہِ خَیْرٌ مِنَ الأَثَرَۃِ ، قَالَ: فَعَمِلَ بِہَذَا وِلاَیَتَہُ حَتَّی إذَا کَانَتْ سَنَۃُ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ فِی جُمَادَی الآخِرَۃِ فی لَیَالٍ بَقِینَ مِنْہُ مَاتَ رضی اللَّہُ عَنْہُ۔
۳۔ فَعَمِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَفَتَحَ الْفُتُوحَ وَجَائَتْہُ الأَمْوَالُ ، فَقَالَ : إنَّ أَبَا بَکْرٍ رَأَی فِی ہَذَا الأَمْرِ رَأْیًا ، وَلِی فِیہِ رَأْیٌ آخَرُ لاَ أَجْعَلُ مَنْ قَاتَلَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَنْ قَاتَلَ مَعَہُ ، فَفَرَضَ لِلْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا خَمْسَۃَ آلاَفٍ خَمْسَۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لِمَنْ کَانَ لَہُ الإِسْلاَمُ کَإِسْلاَمِ أَہْلِ بَدْرٍ وَلَمْ یَشْہَدْ بَدْرًا أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ۔
۴۔ وَفَرَضَ لأَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا إِلاَّ صَفِیَّۃَ وَجُوَیْرِیَۃَ ، فَرَضَ لَہُمَا سِتَّۃَ آلاَفٍ سِتَّۃَ آلاَفٍ ، فَأَبَتَا أَنْ تَقْبَلا فَقَالَ
لَہُمَا : إنَّمَا فَرَضْت لَہُنَّ لِلْہِجْرَۃِ ، فَقَالَتَا : إنَّمَا فَرَضْت لَہُنَّ لِمَکَانِہِنَّ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانَ لَنَا مِثْلُہُ ، فَعَرَفَ ذَلِکَ عُمَرُ فَفَرَضَ لَہُمَا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا۔
۵۔ وَفَرَضَ لِلْعَبَّاسِ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَفَرَضَ لأسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ثَلاَثَۃَ آلاَفٍ ، فَقَالَ : یَا أَبَتِ ، لِمَ زِدْتہ عَلَیَّ أَلْفًا مَا کَانَ لأَبِیہِ مِنَ الْفَضْلِ مَا لَمْ یَکُنْ لأَبِی ، وَمَا کَانَ لَہُ لَمْ یَکُنْ لِی، فَقَالَ : إنَّ أَبَا أُسَامَۃَ کَانَ أَحَبَّ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِیک وَکَانَ أُسَامَۃُ أَحَبَّ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْک وَفَرَضَ لِحَسَنٍ وَحُسَیْنٍ خَمْسَۃَ آلاَفٍ خَمْسَۃَ آلاَفٍ ، أَلْحَقَہُمَا بِأَبِیہِمَا لِمَکَانِہِمَا مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
۶۔ وَفَرَضَ لأَبْنَائِ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ أَلْفَیْنِ أَلْفَیْنِ ، فَمَرَّ بِہِ عُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ ، فَقَالَ : زِیدُوہُ أَلْفًا ، فَقَالَ لَہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَحْشٍ : مَا کَانَ لأَبِیہِ مَا لَمْ یَکُنْ لأبِینا ، وَمَا کَانَ لَہُ مَا لَمْ یَکُنْ لَنَا ، فَقَالَ : إنِّی فَرَضْت لَہُ بِأَبِیہِ أَبِی سَلَمَۃَ أَلْفَیْنِ ، وَزِدْتہ بِأُمِّہِ أُمِّ سَلَمَۃَ أَلْفًا ، فَإِنْ کَانَتْ لَکَ أُمٌّ مِثْلُ أُمِّہِ زِدْتُک الْفًا ۔
۷۔ وَفَرَضَ لأَہْلِ مَکَّۃَ وَلِلنَّاسِ ثَمَانِمِئَۃٍ ثَمَانِمِئَۃٍ ، فَجَائَہُ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ بِأَخِیہِ عُثْمَانَ ، فَفَرَضَ لَہُ ثَمَانِمِئَۃٍ ، فَمَرَّ بِہِ النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : افْرِضُوا لَہُ فِی أَلْفَیْنِ ، فَقَالَ طَلْحَۃُ : جِئْتُک بِمِثْلِہِ فَفَرَضْت لَہُ ، ثَمَانِمِئَۃِ دِرْہَمٍ وَفَرَضْت لِہَذَا أَلْفَیْنِ ، فَقَالَ : إنَّ أَبَا ہَذَا لَقِیَنِی یَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ لِی : مَا فَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : مَا أُرَاہُ إِلاَّ قَدْ قُتِلَ ، فَسَلَّ سَیْفَہُ فَکَسَرَ غِمْدَہُ وَقَالَ : إِنْ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ قُتِلَ فَإِنَّ اللَّہَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ ، فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ، وَہَذَا یَرْعَی الشَّائَ فِی مَکَانِ کَذَا وَکَذَا۔
۸۔ فَعَمِلَ عُمَرُ بَدَء خِلاَفَتِہِ حَتَّی کَانَتْ سَنَۃُ ثَلاَثٍ وَعِشْرِینَ حَجَّ تِلْکَ السَّنَۃَ فَبَلَغَہُ أَنَّ النَّاسَ یَقُولُونَ : لَوْ مَاتَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ قُمْنَا إلَی فُلاَنٍ فَبَایَعْنَاہُ ، وَإِنْ کَانَتْ بَیْعَۃُ أَبِی بَکْرٍ فَلْتَۃً ، فَأَرَادَ أَنْ یَتَکَلَّمَ فِی أَوْسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إنَّ ہَذَا مَکَانٌ یَغْلِبُ عَلَیْہِ غَوْغَائُ النَّاسِ وَدَہْمُہُمْ وَمَنْ لاَ یَحْمِلُ کَلاَمُک مَحْمَلَہُ ، فَارْجِعْ إلَی دَارِ الْہِجْرَۃِ وَالإِیمَانِ ، فَتَکَلَّمْ فَیُسْتَمَعُ کَلاَمُک ، فَأَسْرَعَ فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، وَقَالَ :
۹۔ أَیُّہَا النَّاسُ ، أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِی قَالَۃُ قَائِلُکُمْ : لَوْ مَاتَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ قُمْنَا إلَی فُلاَنٍ فَبَایَعْنَاہُ وَإِنْ کَانَتْ بَیْعَۃُ أَبِی بَکْرٍ فَلْتَۃً ، وَایْمُ اللہِ إِنْ کَانَتْ لَفَلْتَۃً وَقَانَا اللَّہُ شَرَّہَا فَمِنْ أَیْنَ لَنَا مِثْلُ أَبِی بَکْرٍ نَمُدُّ أَعْنَاقَنَا إلَیْہِ کَمَدِّنَا إلَی أَبِی بَکْرٍ ، إنَّمَا ذَاکَ تَغِرَّۃٌ لِیُقْتَلَ ، مَنْ انتزع أُمُورِ الْمُسْلِمِینَ مِنْ غَیْرِ مَشُورَۃٍ فَلاَ بَیْعَۃَ لَہُ۔
۱۰۔ أَلاَ وَإِنِّی رَأَیْت رُؤْیَا ، وَلاَ أَظُنُّ ذَاکَ إِلاَّ عِنْدَ اقْتِرَابِ أَجَلِی ، رَأَیْت دِیکًا تراء ی لِی فَنَقَرَنِی ثَلاَثَ نَقَرَاتٍ ، فَتَأَوَّلَتْ لِی أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَیْسٍ ، قَالَتْ : یَقْتُلُک رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ ہَذِہِ الْحَمْرَائِ ، فَإِنْ أَمُتْ فَأَمْرُکُمْ إلَی ہَؤُلاَئِ السِّتَّۃِ الَّذِینَ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَنْہُمْ رَاضٍ : إلَی عُثْمَانَ وَعَلِیٍّ وَطَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ، فَإِنَ اخْتَلَفُوا فَأَمْرُہُمْ إلَی عَلِی ، وَإِنْ أَعِشْ فَسَأُوصِی۔
۱۱۔ وَنَظَرْت فِی الْعَمَّۃِ وَبِنْتِ الأَخِ مَا لَہُمَا ، تُورِثَانِ ، وَلاَ تَرِثَانِ ، وَإِنْ أَعِشْ فَسَأَفْتَحُ لَکُمْ أَمْرًا تَأْخُذُونَ بِہِ ، وَإِنْ أَمُتْ فَسَتَرَوْنَ رَأْیَکُمْ ، وَاللَّہُ خَلِیفَتِی فِیکُمْ ، وَقَدْ دَوَّنْت لَکُمْ الدَّوَاوِینَ ، وَمَصَّرْت لَکُمُ الأَمْصَارَ ، وَأَجْرَیْت لَکُمُ الطَّعَامَ إِلَی الْخَان وَتَرَکْتُکُمْ عَلَی وَاضِحَۃٍ ، وَإِنَّمَا أَتَخَوَّفُ عَلَیْکُمْ رَجُلَیْنِ رَجُلاً قَاتَلَ عَلَی تَأْوِیلِ ہَذَا الْقُرْآنِ یُقْتَلُ ، وَرَجُلاً رَأَی أَنَّہُ أَحَقُّ بِہَذَا الْمَالِ مِنْ أَخِیہِ فَقَاتَلَ عَلَیْہِ حَتَّی قُتِلَ۔
۱۲۔ فَخَطَبَ نَہَارَ الْجُمُعَۃِ وَطُعِنَ یَوْمَ الأَرْبِعَائِ۔ (بیہقی ۳۵۰۔ بزار ۱۷۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٤٠) حضرت قاسم بن عبد الرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی سالانہ تنخواہ چھ ہزار تھی۔
(۳۳۵۴۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، عَنِ الْمَسْعُودِیِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، قَالَ: کَانَ عَطَائُ عَبْدِاللہِ سِتَّۃَ آلاَفٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٤١) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے بدری صحابہ (رض) کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کے لیے بھی اتنا اتنا حصہ مقرر فرمایا۔
(۳۳۵۴۱) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : فَرَضَ عُمَرُ لأَہْلِ بَدْرٍ فِی سِتَّۃِ آلاَفٍ سِتَّۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لأَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٤٢) حضرت سالم بن ابی الجعد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت سلمان (رض) کا سالانہ عطیہ چھ ہزار مقرر فرمایا۔
(۳۳۵۴۲) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سُمَیْعٍ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّہْنِیِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ أَنَّ عُمَرَ جَعَلَ عَطَائَ سَلْمَانَ سِتَّۃَ آلاَفٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٤٣) حضرت عبیدہ سلمانی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مجھ سے پوچھا : تمہاری کیا رائے ہے کہ ایک آدمی کے لیے کتنی تنخواہ کافی ہوگی ؟ میں نے کہا : اتنی اور اتنی۔ آپ (رض) نے فرمایا : اگر میں باقی رہا تو میں ضرور بالضرور ایک آدمی کی چار ہزار تنخواہ مقرر کروں گا۔ ایک ہزار اس کے ہتھیار کے لیے۔ ایک ہزار اس کے خرچہ کے لیے ۔ اور ایک ہزار کو وہ گھر میں استعمال کرے ۔ اور ایک ہزار اس اس چیز کے لیے۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ (رض) نے گھوڑے کا ذکر فرمایا۔
(۳۳۵۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ الْہَمْدَانِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عنْ عَبِیْدَۃَ السَّلْمَانِیِّ ، قَالَ : قَالَ لِی عُمَرُ : کَمْ تَرَی الرَّجُلَ یَکْفِیہِ مِنْ عَطَائِہِ ، قَالَ : قُلْتُ : کَذَا وَکَذَا ، قَالَ : لأَنْ بَقِیتُ لأَجْعَلَنَّ عَطَائَ الرَّجُلِ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ : أَلْفًا لِسِلاَحِہِ ، وَأَلْفًا لِنَفَقَتِہِ ، وَأَلْفًا یَجْعَلُہَا فِی بَیْتِہِ وَأَلْفًا لِکَذَا وَکَذَا أَحْسِبُہُ قَالَ لِفَرَسِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٤٤) حضرت اسود بن قیس (رض) اپنے ایک شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا : اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو میں مہاجرین کے کم درجہ کے لوگوں کے لیے ضرور بالضرور دو ہزار دوں گا۔
(۳۳۵۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ شَیْخٍ لَہُمْ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ : لَئِنْ بَقِیت إلَی قَابِلٍ لألْحِقَنَّ سِفْلَۃ الْمُہَاجِرِینَ فِی أَلْفَیْنِ أَلْفَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٤٥) حضرت اسلم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا : کہ اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو میں آخر والے لوگوں کو ضرور بالضرور پہلے والے لوگوں کے تابع کروں گا، اور میں ان سب کو برابر کر دوں گا۔
(۳۳۵۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ، قَالَ سَمِعْت عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ : لَئِنْ بَقِیت إلَی قَابِلٍ لأُلْحِقَنَّ أُخْرَی النَّاسِ بِأُولاَہُمْ وَلأَجْعَلَنہُمْ بَیَانًا وَاحِدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٤٦) حضرت محمد بن قیس (رض) فرماتے ہیں کہ میری والدہ حضرت ام حکم (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ان کے عطیہ میں سو درہم ملا دیے۔
(۳۳۵۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَیْسٍ ، قَالَ حَدَّثَتْنِی وَالِدَتِی أُمُّ الْحَکَمِ أَنَّ عَلِیًّا أَلْحَقَہَا فِی مِئَۃ مِنَ الْعَطَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٤٧) حضرت ابو الحویرث (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عباس (رض) کے لیے سات ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت عائشہ (رض) اور حضرت حفصہ (رض) کے لیے دس دس ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت ام سلمہ (رض) ، حضرت ام حبیبہ (رض) ، حضرت میمونہ (رض) اور حضرت سودہ (رض) کے لیے آٹھ آٹھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت جویریہ (رض) اور حضرت صفیہ (رض) کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت صفیہ بنت عبد الملک (رض) کے لیے ان کے مقرر کردہ حصوں کا آدھا مقرر فرمایا۔ اس پر حضرت ام سلمہ (رض) اور ان کی ساتھیوں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس قاصد بھیجا اور ان سے کہا کہ آپ (رض) حضرت عمر (رض) سے ہمارے بارے میں بات کریں۔ انھوں نے عائشہ (رض) اور حفصہ (رض) کو ہم پر فضیلت دی ہے۔ تو حضرت عثمان (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور فرمایا : یقیناً تیری مائیں تجھ سے کہہ رہی ہیں کہ ہمارے درمیان برابری کرو، اور ہم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت مت دو ۔ آپ (رض) نے فرمایا : اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو آئندہ ان کے لیے مزید دو دو ہزار کا اضافہ کروں گا۔ پس جب اگلا سال آیا تو آپ (رض) نے حضرت عائشہ (رض) اور حضرت حفصہ (رض) کے بارہ بارہ ہزار مقرر فرما دیے اور حضرت ام سلمہ (رض) اور حضرت ام حبیبہ (رض) کے دس دس ہزار مقرر فرما دیے۔ اور حضرت صفیہ (رض) اور حضرت جویریہ (رض) کے آٹھ آٹھ ہزار مقرر فرما دیے۔ جب انھوں نے یہ معاملہ دیکھا تو سب خاموش ہوگئیں۔
(۳۳۵۴۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِی الْحُوَیْرِثِ أَنَّ عُمَرَ فَرَضَ لِلْعَبَّاسِ سَبْعَۃَ آلاَفٍ ، وَلِعَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ عَشْرَۃَ آلاَفٍ ، وَلأمِّ سَلَمَۃَ وَأُمِّ حَبِیبَۃَ وَمَیْمُونَۃَ وَسَوْدَۃَ ، ثَمَانیَۃَ آلاَفٍ ، ثَمَانیَۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لِجُوَیْرِیَۃَ وَصَفِیَّۃَ سِتَّۃَ آلاَفٍ سِتَّۃَ آلاَفٍ ، وَفَرَضَ لِصَفِیَّۃَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ نِصْفَ مَا فَرَضَ لَہُنَ ، فَأَرْسَلَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ وَصَوَاحِبُہَا إلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقُلْنَ لَہُ : کَلِّمْ عُمَرَ فِینَا فَإِنَّہُ قَدْ فَضَّلَ عَلَیْنَا عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ فَجَائَ عُثْمَان إلَی عُمَرَ ، فَقَالَ : إنَّ أُمَّہَاتِکَ یَقُلْنَ لَکَ : سَوِّ بَیْنَنَا ، لاَ تُفَضِّلْ بَعْضَنَا عَلَی بَعْضٍ ، فَقَالَ : إِنْ عِشْت إلَی الْعَامِ الْقَابِلِ زِدْتہنَّ لِقَابِلٍ أَلْفَیْنِ أَلْفَیْنِ فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْقَابِلُ جَعَلَ عَائِشَۃَ وَحَفْصَۃَ فِی اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَجَعَلَ أُمَّ سَلَمَۃَ وَأُمَّ حَبِیبَۃَ فِی عَشْرَۃِ آلاَفٍ ، عَشْرَۃِ آلاَفٍ ، وَجَعَلَ صَفِیَّۃَ وَجُوَیْرِیَۃَ فِی ثَمَانِیَۃِ آلاَفٍ ، ثَمَانِیَۃِ آلاَفٍ ، فَلَمَّا رَأَیْنَ ذَلِکَ سَکَتْنَ عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٤٨) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا : کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت جبیربن مطعم (رض) اور ان کے ہم عمروں کے لیے چا رچار ہزار مقرر فرمائے۔
(۳۳۵۴۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبِی أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَرَضَ لِجُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَضُرَبَائِہِ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ۔
তাহকীক: