মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৫৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٤٩) حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت اسامہ بن زید (رض) کے لیے ساڑھے تین ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے لیے تین ہزارمقرر فرمائے۔ اس پر حضرت عبداللہ نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا : آپ (رض) نے اسامہ بن زید کے لیے ساڑھے تین ہزار مقرر فرما دیے حالانکہ وہ اسلام میں مجھ سے مقدم نہیں اور نہ وہ حاضر ہوئے ان غزوات میں جن میں میں حاضر ہوا ؟ ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس لیے کہ زید بن حارثہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھے۔ اور اسامہ بن زید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے سے زیادہ محبوب تھے۔ اس وجہ سے میں نے ان کے لیے تمہارے سے پانچ سو زیادہ مقرر کیے۔
(۳۳۵۴۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ عن ابْنَ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُوبَکْرٍ: أُرَاہُ قَدْ ذَکَرَ لَہُ إسْنَادًا: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَرَضَ لأسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ثَلاَثَۃَ آلاَفٍ وَخَمْسَمِئَۃٍ وَلِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ثَلاَثَۃَ آلاَفٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ لِعُمَرَ : فَرَضْت لأسَامَۃَ ثَلاَثَۃَ آلاَفٍ وَخَمْسَمِئَۃٍ ، وَمَا ہُوَ بِأَقْدَمَ مِنِّی إسْلاَمًا ، وَلاَ شَہِدَ مَا لَمْ أَشْہَدْ ، قَالَ : فَقَالَ : عُمَرُ : لأَنَّ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ کَانَ أَحَبَّ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِیک وَکَانَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَحَبَّ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْک فَلِذَلِکَ زِدْتہ عَلَیْک خَمْسَمِئَۃٍ۔ (بزار ۱۵۰۔ ابویعلی ۱۵۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٥٠) حضرت ابو الزناد (رض) فرماتے ہیں کہ کہ حضرت عمر (رض) نے ہمیں ایک ایک درہم عطا کیا۔ پھر آپ (رض) نے ہمیں دو دو درہم عطا کیے۔ یعنی آپ (رض) نے ان کے درمیان تقسیم فرمائے۔
(۳۳۵۵۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، قَالَ : أَعْطَانَا عُمَرُ دِرْہَمًا دِرْہَمًا ، ثُمَّ أَعْطَانَا دِرْہَمَیْنِ دِرْہَمَیْنِ ، یَعْنِی قَسَمَ بَیْنَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٥١) حضرت انس بن مالک (رض) اور حضرت سعید بن المسیب (رض) دونوں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مہاجرین کے لیے پانچ ہزار مقرر فرمائے اور انصار کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے ۔ اور مہاجرین کی اولاد میں سے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ان کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے۔ ان میں اسامہ بن زید، محمد بن عبداللہ بن جحش ، عمر بن ابی سلمہ اور عبداللہ بن عمر شامل تھے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : یقیناً عبداللہ بن عمر (رض) ان کی طرح نہیں ہیں۔ بیشک عبداللہ تو ان کے امیر ہیں۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا : اگر یہ میرا حق ہے تو آپ (رض) مجھے ضرور دیں ورنہ آپ (رض) مجھے ہرگز مت دیں۔ تو حضرت عمر (رض) نے حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) سے فرمایا : تم میرے چار ہزار مقرر کردو۔ اور عبداللہ کے پانچ ہزار مقرر کردو۔ اللہ کی قسم میں اور تو پانچ ہزار پر جمع نہیں ہوسکتے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : اگر میرا حق ہے تو مجھے دے دیجئے ورنہ آپ (رض) مجھے ہرگز مت دیجئے۔
(۳۳۵۵۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ الْمُہَاجِرِینَ عَلَی خَمْسَۃِ آلاَفٍ وَالأَنْصَارَ عَلَی أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ ، وَمَنْ لَمْ یَشْہَدْ بَدْرًا مِنْ أَوْلاَدِ الْمُہَاجِرِینَ عَلَی أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ ، وَکَانَ مِنْہُمْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَحْشٍ ، وَعُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ : إنَّ عَبْدَ اللہِ لَیْسَ مِثْلَ ہَؤُلاَئِ ، إنَّ عَبْدَ اللہِ مَنْ أَمْرِہ مَنْ أَمْرِہ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ لِعُمَرَ : إِنْ کَانَ حَقًّا لِی فَأَعْطِنِیہِ ، وَإِلاَّ فَلاَ تُعْطِنِیہِ فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : فَاکْتُبْنِی عَلَی أَرْبَعَۃِ آلاَفٍ ، وَعَبْدَ اللہِ عَلَی خَمْسَۃِ آلاَفٍ ، وَاللہِ لاَ یَجْتَمِعُ أَنَا وَأَنْتَ عَلَی خَمْسَۃِ آلاَفٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ : إِنْ کَانَ حَقًّا فَأَعْطِنِیہِ وَإِلاَّ فَلاَ تُعْطِنِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٥٥٢) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کو خلافت ملی تو آپ (رض) نے حصے مقرر فرمائے۔ اور دیوان مدوّن کروائے۔ اور نگران مقرر کیے ۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں۔ آپ (رض) نے مجھے میرے ساتھیوں پر نگران بنایا۔
(۳۳۵۵۲) حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا وَلِیَ عُمَرُ الْخِلاَفَۃَ فَرَضَ الْفَرَائِضَ وَدَوَّنَ الدَّوَاوِینَ وَعَرَّفَ الْعُرَفَائَ ، قَالَ جَابِرٌ : فَعَرَّفَنِی عَلَی أَصْحَابِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان غلاموں کا بیان جن کو حصہ دیا گیا یا ان کو تنخواہ دی گئی
(٣٣٥٥٣) حضرت مخلد الغفاری (رض) فرماتے ہیں کہ تین غلام غزوہ بدر میں شریک ہوئے پس حضرت عمر (رض) ان میں سے ہر ایک کو ہر سال تین تین ہزار عطا کرتے تھے۔
(۳۳۵۵۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مَخْلَدٍ الْغِفَارِی أَنَّ ثَلاَثَۃً مَمْلُوکِینَ شَہِدُوا بَدْرًا ، فَکَانَ عُمَرُ یُعْطِی کُلَّ رَجُلٍ مِنْہُمْ کُلَّ سَنَۃٍ ثَلاَثَۃَ آلاَفٍ ثَلاَثَۃَ آلاَفٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان غلاموں کا بیان جن کو حصہ دیا گیا یا ان کو تنخواہ دی گئی
(٣٣٥٥٤) حضرت عنترہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان (رض) اور حضرت علی (رض) کے پاس حاضر ہوا اس حال میں کہ یہ دونوں حضرات لوگوں کے غلاموں کو ماہانہ تنخواہ دے رہے تھے۔
(۳۳۵۵۴) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَنْتَرَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: شَہِدْتُ عُثْمَانَ وَعَلِیًّا یَرْزُقَانِ أَرِقَّائَ النَّاسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان غلاموں کا بیان جن کو حصہ دیا گیا یا ان کو تنخواہ دی گئی
(٣٣٥٥٥) حضرت وھیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت (رض) ، حضرت عثمان (رض) کے زمانہ خلافت میں بیت المال کے نگران مقرر تھے۔ ایک دن حضرت عثمان (رض) آئے ، انھوں نے دیکھا کہ وھیب ان کی مدد کر رہے ہیں۔ آپ (رض) نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ حضرت زید (رض) نے فرمایا : میرا غلام ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ یہ ان لوگوں کی مدد کررہا تھا تم اس کے لیے دو ہزار مقرر کردو۔ تو آپ (رض) نے ان کے لیے ایک ہزار مقرر کردیا۔
(۳۳۵۵۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ وُہَیْبٍ أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ کَانَ فِی إمَارَۃِ عُثْمَانَ عَلَی بَیْتِ الْمَالِ ، قَالَ : فَدَخَلَ عُثْمَان وَأَبْصَرَ وُہَیْبًا یُعِینُہُمْ ، قَالَ : مَنْ ہَذَا ؟ فَقَالَ : مَمْلُوکٌ لِی ، فَقَالَ : أَرَاہُ یُعِینُہُمْ ، افْرِضْ لَہُ أَلْفَیْنِ ، قَالَ : فَفَرَضَ لَہُ أَلْفًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان غلاموں کا بیان جن کو حصہ دیا گیا یا ان کو تنخواہ دی گئی
(٣٣٥٥٦) حضرت عیاض اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) غلاموں ، باندیوں اور گھوڑوں کی ماہانہ تنخواہ دیا کرتے تھے۔
(۳۳۵۵۶) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِیَاضٍ الأَشْعَرِیِّ أَنَّ عُمَرَ کَانَ یَرْزُقُ الْعَبِیدَ وَالإِمَائَ وَالْخَیْلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قرآن پڑھنے والے کے لیے عطیہ مقرر کرے
(٣٣٥٥٧) حضرت فضیل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) عطیہ مقرر نہیں فرماتے تھے مگر قرآن پڑھنے والے شخص کے لیے۔ راوی کہتے ہیں : کہ میرے والد بھی ان لوگوں میں سے تھے جو قرآن پڑھتے تھے۔ تو آپ (رض) نے ان کے لیے عطیہ مقرر فرمایا۔
(۳۳۵۵۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ لاَ یَفْرِضُ إِلاَّ لِمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : فَکَانَ أَبِی مِمَّنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَفَرَضَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قرآن پڑھنے والے کے لیے عطیہ مقرر کرے
(٣٣٥٥٨) حضرت یسیر بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن مالک (رض) نے قرآن پڑھنے والوں کے لیے دو دو ہزار کا عطیہ مقرر فرمایا۔ یہ خبر حضرت عمر (رض) کو پہنچی تو آپ (رض) نے ان کی طرف خط لکھا : کہ وہ قرآن پڑھنے پر اجرت مت عطا کریں۔
(۳۳۵۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ یُسَیْرِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ فَرَضَ لِمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِی أَلْفَیْنِ أَلْفَیْنِ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ فَکَتَبَ إلَیْہِ أَنْ لاَ یُعْطِیَ عَلَی الْقُرْآنِ أَجْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کا بیان، کیا ان کے لیے عطیہ مقرر کیا جائے گا ؟ اور کب ان کے لیے عطیہ مقرر ہو گا ؟
(٣٣٥٥٩) حضرت سعید بن المسیب (رض) فرماتے ہیں کہ جب بچہ رونے لگتا تو حضرت عمر (رض) اس کا عطیہ مقرر فرما دیتے۔
(۳۳۵۵۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ کَانَ یَفْرِضُ لِلصَّبِیِّ إذَا اسْتَہَلَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کا بیان، کیا ان کے لیے عطیہ مقرر کیا جائے گا ؟ اور کب ان کے لیے عطیہ مقرر ہو گا ؟
(٣٣٥٦٠) حضرت عنترہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان کے پاس حاضر تھا آپ (رض) لوگوں کے عطیات میں توقف کرتے تھے۔ اگر آپ (رض) سے کہا جاتا : کہ فلاں عورت نے رات کو بچہ پیدا کیا تو آپ (رض) فرماتے : ذرا ٹھہرو، اس نے بچے کو جنم دیا ہے یا بچی کو، اس کا پتہ جلد چل جائے گا اور خبر معروف ہوجائے گی۔
(۳۳۵۶۰) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَنْتَرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : شَہِدْت عُثْمَانَ یَتَأَنَّی بِأَعْطِیَاتِ النَّاسِ ، إِنْ قِیلَ لَہُ : إنَّ فُلاَنَۃَ تَلِدُ اللَّیْلَۃَ فَیَقُولُ : کَمْ أَنْتُمَ انْظُرُوا فَإِنْ وَلَدَتْ غُلاَمًا ، أَوْ جَارِیَۃً أَخْرِجْہَا مَعَ النَّاسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کا بیان، کیا ان کے لیے عطیہ مقرر کیا جائے گا ؟ اور کب ان کے لیے عطیہ مقرر ہو گا ؟
(٣٣٥٦١) حضرت محمد بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت زید (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ جب کسی کے بچہ پیدا ہوتا تو حضرت عمر (رض) اس کے عطیہ میں سو درہم کا اضافہ فرما دیتے۔
(۳۳۵۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ لَمَّا وُلِدَ أَلْحَقَہُ عُمَرُ فِی مِئَۃٍ مِنَ الْعَطَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کا بیان، کیا ان کے لیے عطیہ مقرر کیا جائے گا ؟ اور کب ان کے لیے عطیہ مقرر ہو گا ؟
(٣٣٥٦٢) حضرت ابو الجحاف داؤد بن ابی عوف (رض) فرماتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کے ایک آدمی نے بیان کیا : کہ رات کو میرے گھر بچہ پیدا ہوا۔ پس جب صبح ہوئی تو میں حضرت علی (رض) کے پاس آیا ، آپ (رض) نے اس کے لیے سو درہم کا اضافہ فرما دیا۔
(۳۳۵۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی الْجَحَّافِ دَاوُد بْنِ أَبِی عَوْفٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ خَثْعَمَ ، قَالَ: وُلِدَ لِی مِنَ اللَّیْلِ مَوْلُود ، فَأَتَیْت عَلِیًّا حِینَ أَصْبَحَ فَأَلْحَقَہُ فِی مِئَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کا بیان، کیا ان کے لیے عطیہ مقرر کیا جائے گا ؟ اور کب ان کے لیے عطیہ مقرر ہو گا ؟
(٣٣٥٦٣) حضرت بشر بن غالب (رض) فرماتے ہیں : حضرت ابن زبیر (رض) نے حضرت حسن بن علی (رض) سے بچہ کے متعلق سوال کیا ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا : جب بچہ رونے یا چلانے لگے تو اس کا ماہانہ عطیہ واجب ہوجائے گا۔
(۳۳۵۶۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَرِیکٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ ، قَالَ : سَأَلَ ابْنُ الزُّبَیْرِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ ، عَنِ الْمَوْلُودِ ، فَقَالَ : إذَا اسْتَہَلَّ وَجَبَ عَطَاؤُہُ وَرَزْقُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کا بیان، کیا ان کے لیے عطیہ مقرر کیا جائے گا ؟ اور کب ان کے لیے عطیہ مقرر ہو گا ؟
(٣٣٥٦٤) حضرت فطر (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت زید بن علی (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا میں نے پوچھا : اس بندے عمر بن عبدالعزیز کا تمہارے ساتھ برتاؤ کیسا ہے ؟ تو ان کا ایک چھوٹا بیٹا گزرا۔ انھوں نے فرمایا : اللہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ تحقیق انھوں نے اس کے لیے میرے عطیہ میں دو ہزار کا اضافہ فرما دیا۔
(۳۳۵۶۴) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، قَالَ: حدَّثَنَا فِطْرٌ، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ زَیْدِ بْنِ عَلِی، قُلْتُ: کَیْفَ صَنِیعُ ہَذَا الرَّجُلُ إلَیْکُمْ ، عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَمَرَّ ابْنٌ لَہُ صَغِیرٌ ، فَقَالَ : جَزَاہُ اللَّہُ خَیْرًا ، فَقَدْ أَلْحَقَ ہَذَا فِی أَلْفَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کا بیان، کیا ان کے لیے عطیہ مقرر کیا جائے گا ؟ اور کب ان کے لیے عطیہ مقرر ہو گا ؟
(٣٣٥٦٥) حضرت اسماعیل بن شعیب سمان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ام العلاء (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میرے والد مجھے حضرت علی (رض) کے پاس لے کر گئے ، تو آپ (رض) نے میرے لیے عطیہ میں حصہ مقرر فرما دیا حالانکہ میں چھوٹی بچی تھی۔ اور آپ (رض) نے فرمایا : وہ بچہ جو کھانا کھاتا ہو اور روٹی کے ٹکڑے کو چباتا ہو وہ اس عطیہ کا زیادہ حقدار ہے اس نومولود سے جو پستان چوستا ہے۔
(۳۳۵۶۵) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ شُعَیْبٍ السَّمَّانُ ، عَنْ أُمِّ الْعَلاَئِ أَنَّ أَبَاہَا انْطَلَقَ بِہَا إلَی عَلِیٍّ فَفَرَضَ لَہَا فِی الْعَطَائِ وَہِیَ صَغِیرَۃٌ ، قَالَ : وَقَالَ عَلِیٌّ : مَا الصَّبِیُّ الَّذِی أَکَلَ الطَّعَامَ وَعَضَّ عَلَی الْکِسْرَۃِ بِأَحَقِّ بِہَذَا الْعَطَائِ مِنَ الْمَوْلُودِ الَّذِی یَمُصُّ الثَّدْیَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس کو عطیہ سب سے پہلے دیا جائے گا
(٣٣٥٦٦) حضرت جعفر کے والد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کے لیے عطیہ مقرر کرنے کا ارادہ فرمایا : اور آپ (رض) کی رائے ان سب لوگوں کی رائے سے بہتر تھی۔ لوگوں نے کہا : آپ (رض) اپنے آپ سے ابتدا کریں۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! پھر آپ (رض) نے ابتدا کی ان لوگوں سے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رشتہ میں قریب تھے اور پھر جو ان کے بعد قریب تھے۔ آپ (رض) نے حضرت عباس (رض) کا حصہ مقرر فرمایا۔ پھر حضرت علی (رض) کا یہاں تک کہ آپ (رض) نے پانچ قبیلوں کے درمیان لگا تار حصہ مقرر فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ (رض) قبیلہ بنو عدی تک پہنچے۔
(۳۳۵۶۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ أَرَادَ أَنْ یَفْرِضَ لِلنَّاسِ ، وَکَانَ رَأْیُہُ خَیْرًا مِنْ رَأْیِہِمْ ، فَقَالُوا : ابْدَأْ بِنَفْسِکَ ، فَقَالَ : لاَ ، فَبَدَأَ بِالأَقْرَبِ فَالأَقْرَبِ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَفَرَضَ لِلْعَبَّاسِ ، ثُمَّ عَلِیٍّ حَتَّی وَالَی بَیْنَ خَمْسِ قَبَائِلَ حَتَّی انْتَہَی إلَی بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس کو عطیہ سب سے پہلے دیا جائے گا
(٣٣٥٦٧) حضرت عُلَی بن رباح (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے جابیہ کے مقام پر لوگوں سے خطاب فرمایا : پس آپ (رض) نے اللہ کی حمدو ثنا بیان کی پھر ارشاد فرمایا : جو شخص چاہتا ہے کہ وہ قرآن کے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت ابیّ بن کعب (رض) کی خدمت میں آئے ۔ اور جو چاہتا ہے کہ وہ وراثت کے حصوں کے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت زید بن ثابت (رض) کی خدمت میں آئے۔ اور جو شخص چاہتا ہے کہ وہ فقہ سے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی خدمت میں آئے اور جو شخص چاہتا ہے وہ مال سے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ میرے پاس آئے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے خزانچی اور تقسیم کرنے والا بنایا ہے۔ خبردار میں سب سے پہلے مہاجرین اولین سے ابتدا کروں گا۔ میں اور میرے اصحاب ان کو عطایا دیں گے۔ پھر میں انصار سے ابتدا کروں گا جنہوں نے ایمان کو جگہ فراہم کی اور ایمان پر قائم رہے۔ پس میں اور میرے اصحاب ان کو عطایا دیں گے۔ پھر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات سے ابتدا کروں گا اور ان کو عطایا دوں گا۔ اور جس نے ہجرت میں جلدی کی تو عطیہ بھی اس کی طرف جلدی کرے گا ۔ اور جو ہجرت میں سست ہوا تو عطیہ میں بھی سستی ہوگی۔ تم میں کوئی ہرگز ملامت نہیں کرے گا مگر اپنی سواری کے بیٹھنے کی جگہ پر۔
(۳۳۵۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ فِی الْجَابِیَۃِ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ عَنِ الْقُرْآنِ فَلْیَأْتِ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ ، عَنِ الْفَرَائِضِ فَلْیَأْتِ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ ، عَنِ الْفِقْہِ فَلْیَأْتِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ ، عَنِ الْمَالِ فَلْیَأْتِنِی فَإِنَّ اللَّہَ جَعَلَنِی خَازِنًا وَقَاسِمًا أَلاَ وَإِنِّی بَادِئٌ بِالْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ أَنَا وَأَصْحَابِی فَنُعْطِیہِمْ ، ثُمَّ بَادِئٌ بِالأَنْصَارِ الَّذِینَ تَبُوؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ فَنُعْطِیہِمْ ، ثُمَّ بَادِئٌ بِأَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنُعْطِیہِنَ ، فَمَنْ أَسْرَعَتْ بِہِ الْہِجْرَۃُ أَسْرَعَ بِہِ الْعَطَائُ ، وَمِنْ أَبْطَأَ عَنِ الْہِجْرَۃِ أَبْطَأَ بِہِ الْعَطَائُ ، فَلاَ یَلُومَن أَحَدُکُمْ إِلاَّ مُنَاخَ رَاحِلَتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس کو عطیہ سب سے پہلے دیا جائے گا
(٣٣٥٦٨) حضرت محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی (رض) جن کے دادا مہاجرین میں سے تھے یہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میں بحرین کے حاکم کی خدمت میں وفد لے کر گیا تو اس نے میرے ساتھ آٹھ لاکھ درہم حضرت عمر (رض) بن خطاب (رض) کی خدمت میں بھیجے۔ میں ان کو لے کر حضرت عمر (رض) کے پاس آیا۔ آپ (رض) نے پوچھا : اے ابوہریرہ : تم کیا چیز لائے ہو ؟ میں نے عرض کیا : آٹھ لاکھ درہم لایا ہوں ۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ یقیناً تم تو دیہاتی ہو۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اس مال کو شمار کیا، یہاں تک کہ میں نے اس کو پورا کیا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے مہاجرین کو بلایا اور ان سے مال کے بارے میں مشورہ طلب کیا ۔ ان سب نے مختلف آراء دیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم لوگ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت آیا تو آپ (رض) نے ان لوگوں کو قاصد بھیج کر بلایا۔ اور فرمایا : کہ میں اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی سے ملا تو اس کی رائے میں کوئی انتشار نہیں تھا۔ اس نے یہ آیت پڑھی : ترجمہ : جو کچھ پلٹا دے اللہ اپنے رسول کی طرف بستیوں کے لوگوں سے وہ مال اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ اور رسول کے رشتہ داروں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا ہے۔ لہٰذا حضرت عمر (رض) نے قرآن مجید کے مطابق اس مال کو تقسیم فرما دیا۔
(۳۳۵۶۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِی ، وَکَانَ جَدُّہُ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ وَفَدَ إلَی صَاحِبِ الْبَحْرَیْنِ ، قَالَ : فَبَعَثَ مَعِی بِثَمَانِمِئَۃِ أَلْفِ دِرْہَمٍ إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَدِمْت عَلَیْہِ ، فَقَالَ : مَا جِئْتنَا بِہِ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، فَقُلْتُ : بِثَمَانِمِئَۃِ أَلْفِ دِرْہَمٍ ، فَقَالَ : أَتَدْرِی مَا تَقُولُ إنَّک أَعْرَابِیٌّ ، قَالَ : فَعَدَدْتہَا عَلَیْہِ بِیَدِی حَتَّی وَفَیْتُ قَالَ : فَدَعَا الْمُہَاجِرِینَ فَاسْتَشَارَہُمْ فِی الْمَالِ فَاخْتَلَفُوا عَلَیْہِ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّی حَتَّی إذَا کَانَ عِنْدَ الظَّہِیرَۃِ أَرْسَلَ إلَیْہِمْ ، فَقَالَ : إنِّی لَقِیَتْ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِی فَاسْتَشَرْتہ ، فَلَمْ یَنْتَشِرْ عَلَیْہِ رَأْیُہُ ، فَقَالَ : (مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُرَی فَلِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ) فَقَسَمَہُ عُمَرُ عَلَی کِتَابِ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক: