মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৫৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس کو عطیہ سب سے پہلے دیا جائے گا
(٣٣٥٦٩) حضرت جعفر (رض) کے والد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) نے دیوان بنانے کا فیصلہ فرمایا : تو آپ (رض) نے لوگوں سے مشورہ طلب کیا اور پوچھا : کہ میں کس سے ابتدا کروں ؟ کسی نے کہا : آپ خود سے ابتدا کریں۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! لیکن میں ابتدا کروں گا ان لوگوں سے جو رشتہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ قریب تھے اور پھر جو ان کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب تھے۔ پس آپ (رض) نے ان سے ابتدا فرمائی۔
(۳۳۵۶۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ: لَمَّا وَضَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الدَّوَاوِینَ، اسْتَشَارَ النَّاسَ ، فَقَالَ : بِمِنْ أَبْدَأُ ؟ قَالَ: ابْدَأْ بِنَفْسِکَ ، قَالَ: لاَ ، وَلَکِنِّی أَبْدَأُ بِالأَقْرَبِ فَالأَقْرَبِ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ بِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس کو عطیہ سب سے پہلے دیا جائے گا
(٣٣٥٧٠) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس حلولاء مقام سے چھ لاکھ آئے ۔ تو آپ (رض) نے عطیات مقرر کرنا چاہے۔ تو اس بارے میں مشورہ مانگا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : آپ (رض) خود سے ابتدا کریں۔ آپ (رض) اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں ابتدا کروں گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان قریبی رشتہ داروں سے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ مجھ تک پہنچ جائے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (رض) نے حضرت علی (رض) سے ابتدا فرمائی اور ان کے لیے پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ پھر بنو ہاشم میں سے جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا۔ پھر ان کے غلاموں کے لیے پھر ان کے حلیفوں کے لیے۔ پھر اقرب فالاقرب کے اعتبار سے۔ یہاں تک کہ یہ معاملہ آپ (رض) تک پہنچ گیا۔
(۳۳۵۷۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَیَّانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ عُمَرَ أُتِیَ مِنْ جَلُولاَئَ بِسِتَّۃِ آلاَفِ أَلْفٍ فَفَرَضَ الْعَطَائَ فَاسْتَشَارَ فِی ذَلِکَ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ : ابْدَأْ بِنَفْسِکَ ، فَأَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِکَ قَالَ : لاَ ، بَلْ أَبْدَأُ بِالأَقْرَبِ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا حَتَّی یَنْتَہِیَ ذَلِکَ إلَیَّ ، قَالَ : فَبَدَأَ فَفَرَضَ لِعَلِیٍّ فِی خَمْسَۃِ آلاَفٍ ، ثُمَّ لِبَنِی ہَاشِمٍ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا ، ثُمَّ لِمَوَالِیہِمْ، ثُمَّ لِحُلَفَائِہِمْ ، ثُمَّ الأَقْرَبِ فَالأَقْرَبِ حَتَّی یَنْتَہِی ذَلِکَ إلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٧١) حضرت عنترہ (رض) فرماتے ہیں کہ میرے والد قنبر کے دوست تھے۔ وہ فرماتے ہیں میں قنبر کے ساتھ حضرت علی (رض) کے پاس گیا۔ اس نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! اُٹھیئے ! میرے ساتھ چلیے۔ تحقیق میں نے آپ (رض) کے لیے کچھ مال پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ آپ (رض) اس کے ساتھ اس کے گھر چلے گئے۔ تو وہاں ایک ٹوکری سونے اور چاندی سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! بیشک آپ (رض) کوئی چیز نہیں چھوڑتے مگر یہ کہ اس کو تقسیم کردیتے ہیں یا اس کو خرچ کردیتے ہیں۔ اس پر آپ (رض) نے اپنی تلوار سونت لی۔ اور فرمایا : ہلاکت ہو۔ تو چاہتا ہے کہ تو میرے گھر میں اتنی بڑی آگ داخل کر دے ! پھر آپ (رض) نے بےدھیانی میں اپنی تلوار سیدھی کی اور اس ٹوکری پر ماری تو اس کا آدھا اور ایک تہائی کٹے ہوئے برتن کے درمیان بکھر گیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : نگرانوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پس وہ لوگ آگئے۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس مال کو حصوں میں تقسیم کرو۔ انھوں نے ایسا کردیا اور آپ (رض) یوں کہہ رہے تھے : اے سونا چاندی ! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکا میں ڈالنا۔ اور آپ (رض) یہ شعر بھی پڑھ رہے تھے۔

ہَذَا جَنَایَ وَخِیَارُہُ فِیہِ إذْ کُلُّ جَانٍ یَدُہُ إِلَی فِیہِ ۔

راوی کہتے ہیں : بیت المال میں چھوٹی اور بڑی سوئیاں تھیں۔ جو آپ (رض) لوگوں سے بطور خراج کے وصول کرتے تھے ان کے ہاتھوں کی محنت کے بقدر، آپ (رض) نے نگرانوں سے کہا : ان کو تقسیم کرلو۔ انھوں نے کہا : ہمیں اس کو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ ہم ضرور تقسیم کریں گے اس مال کو اس کی برائی کے ساتھ ہی۔
(۳۳۵۷۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَنْتَرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ أَبِی صِدِّیقًا لِقَنْبَرٍ ، قَالَ : انْطَلَقْت مَعَ قَنْبَرٍ إلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قُمْ مَعِی ، قَدْ خَبَّأْت لَکَ خَبِیئَۃً ، فَانْطَلَقَ مَعَہُ إلَی بَیْتِہِ، فَإِذَا أَنَا بِسِلَّۃٍ مَمْلُوئَۃٍ جَامَاتٍ مِنْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إنَّک لاَ تَتْرُکُ شَیْئًا إِلاَّ قَسَمْتہ ، أَوْ أَنْفَقْتہ ، فَسَلَّ سَیْفَہُ ، فَقَالَ : وَیْلَک ، لَقَدْ أَحْبَبْت أَنْ تُدْخِلَ بَیْتِی نَارًا کَبِیرَۃً ، ثُمَّ اسْتَعْرَضَہَا بِسَیْفِہِ فَضَرَبَہَا فَانْتَثَرَتْ بَیْنَ إنَائٍ مَقْطُوعٍ نِصْفُہُ وَثُلُثُہُ ، قَالَ : عَلَیَّ بِالْعُرَفَائِ فَجَاؤُوا ، فَقَالَ : اقْسِمُوا ہَذِہِ بِالْحِصَصِ ، قَالَ فَفَعَلُوا وَہُوَ یَقُولُ : یَا صَفْرَائُ یَا بَیْضَائُ غُرِّی غَیْرِی ، قَالَ : وَجَعَلَ یَقُولُ :

ہَذَا جَنَایَ وَخِیَارُہُ فِیہِ إذْ کُلُّ جَانٍ یَدُہُ إِلَی فِیہِ۔

قالَ : فِی بَیْتِ الْمَالِ مَسَال وَإِبَرٌ ، وَکَانَ یَأْخُذُ مِنْ کُلِّ قَوْمٍ خَرَاجَہُمْ مِنْ عَمَلِ أَیْدِیہِمْ ، قَالَ : وَقَالَ لِلْعُرَفَائِ: اقْسِمُوا ہَذَا ، قَالُوا : لاَ حَاجَۃَ لَنَا فِیہِ ، قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لنَقْسِمُنَّہُ خَیْرَہُ مَعَ شَرِّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٧٢) حضرت ام عفان (رض) فرماتی ہیں جو حضرت علی (رض) کی ام ولد ہیں۔ کہ میں حضرت علی (رض) کے پاس آئی اس حال میں کہ ان کے سامنے صحن میں لونگ کے رنگ کا ہار پڑا ہوا تھا۔ میں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! یہ لونگ کے رنگ کا ہار میری بیٹی کو ہبہ کردیں۔ آپ (رض) نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا : یہ والا۔ میں درہم کے قریب ہوگئی۔ آپ (رض) نے فرمایا : یہ مسلمانوں کا مال ہے مگر تو صبر کر یہاں تک کہ اس میں سے ہمارا حصہ بھی آجائے تو ہم یہ ہار تیری بیٹی کو ہبہ کردیں گے۔
(۳۳۵۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَکَمِ النَّخَعِیِّ ، قَالَ : حدَّثَتْنِی أُمِّی ، عَنْ أُمِّ عَفَّانَ أُمِّ وَلَدٍ لِعَلِیٍّ ، قَالَتْ : جِئْت عَلِیًّا وَبَیْنَ یَدَیْہِ قُرُنْفُلٌ مَکْبُوبٌ فِی الرَّحْبَۃِ ، فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، ہَبْ لاِبْنَتِی مِنْ ہَذَا الْقُرُنْفُلِ قِلاَدَۃً ، فَقَالَ ہَکَذَا ، وَنَقَرَ بِیَدِہِ ارْمِی دِرْہَمًا ، فَإِنَّمَا ہَذَا مَالُ الْمُسْلِمِینَ ، وَإِلاَّ فَاصْبِرِی حَتَّی یَأْتِیَ حَظُّنَا مِنْہُ لِنَہَبَ لابْنَتِکَ قِلاَدَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٧٣) حضرت ابو صالح (رض) جو حضرت ام کلثوم بنت علی (رض) کی خدمت کیا کرتے تھے فرماتے ہیں کہ حضرت ام کلثوم (رض) نے ارشاد فرمایا : اے ابو صالح ! تیرا کیا حال ہوتا اگر تو امیر المؤمنین کو دیکھ لیتا اس حال میں کہ ان کے پاس مالٹے لائے گئے اتنے میں حضرت حسن (رض) یا حضرت حسین (رض) گئے اور ان میں سے ایک مالٹا لے لیا۔ تو آپ (رض) نے ان کے ہاتھ سے وہ مالٹا چھین لیا۔ اور آپ (رض) نے حکم دیا اور ان مالٹوں کو فوراً لوگوں میں تقسیم کردیا گیا ؟ !
(۳۳۵۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ الَّذِی کَانَ یَخْدُمُ أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِیٍّ ، قَالَ : قَالَتْ : یَا أَبَا صَالِحٍ ، کَیْفَ لَوْ رَأَیْت أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَأُتِیَ بِأُتْرُجٍّ ، فَذَہَبَ حَسَنُ أَوْ حُسَیْنُ یَتَنَاوَلُ مِنْہُ أُتْرُجَّۃً ، فَانْتَزَعَہَا مِنْ یَدِہِ ، وَأَمَرَ بِہِ فَقَسَمَ بَیْنَ النَّاسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٧٤) حضرت حسن بصری (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مال غنیمت میں موجود بالوں سے بنی ہوئی لگام مانگی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ مجھ سے آگ کی لگام مانگ رہا ہے۔ اور تیرے لیے مناسب نہیں ہے کہ تو اس کا مجھ سے سوال کرے۔ اور نہ میرے لیے مناسب ہے کہ یہ میں تجھے عطا کردوں۔
(۳۳۵۷۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ العمی ، عَنْ مَالِکِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زِمَامَ شَعْرٍ مِنَ الْفَیْئِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَسْأَلُنِی زِمَامًا مِنَ النَّارِ ، مَا کَانَ یَنْبَغِی لَکَ أَنْ تَسْأَلَنِیہِ ، وَمَا یَنْبَغِی لِی أَنْ أُعْطِیَکَہُ۔ (ابو اسحاق ۴۷۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٧٥) حضرت قیس بن ابی حازم احمس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مال غنیمت میں سے ایک بالوں کا بنا ہو اکپڑا لایا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول 5! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے یہ ہدیہ کردیں پس میں گھر بار والا ہوں اس کے ذریعہ بالوں کا علاج کروں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں سے جو میرا حصہ ہوگا وہ تیرا ہوگا۔
(۳۳۵۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَرِیکٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ الأَحْمَسِیِّ ، قَالَ : أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ بِکُبَّۃٍ مِنْ شَعْرٍ مِنَ الْغَنِیمَۃِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَبْہَا لِی فَإِنَّا أَہْلُ بَیْتٍ یُعَالِجُ الشَّعَرَ ، قَالَ نَصِیبِی مِنْہَا لَک۔ (سعید بن منصور ۲۷۲۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٧٦) حضرت عبید اللہ بن ابی رافع (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت رافع (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میں حضرت علی (رض) کا خزانچی تھا۔ میں نے مال میں سے ایک موتی کا ہار آپ (رض) کی بیٹی کو پہنا دیا جسے آپ (رض) نے پہچان لیا۔ جب آپ (رض) نے یہ ہار اس پر دیکھا تو فرمایا : اس کے پاس یہ کہاں سے آیا ؟ یقیناً اللہ رب العزت نے مجھ پر یہ بات لازم کردی ہے کہ میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں۔ راوی فرماتے ہیں : کہ میں نے جب یہ معاملہ دیکھا تو میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! یہ ہار میں نے اپنی بھتیجی کو پہنایا تھا ورنہ یہ کہاں اس پر قدرت رکھ سکتی ہے ؟ جب آپ (رض) نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ (رض) خاموش ہوگئے۔
(۳۳۵۷۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ فُضَیْلٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ ، عَنْ جَدِّہِ أَبِی رَافِعٍ ، قَالَ : کُنْتُ خَازِنًا لِعَلِیٍّ ، قَالَ : زَیَّنْتُ ابْنَتَہُ بِلُؤْلُؤَۃٍ مِنَ الْمَالِ قَدْ عَرَفَہَا ، فَرَآہَا عَلَیْہَا ، فَقَالَ : مِنْ أَیْنَ لَہَا ہَذِہِ ؟ إنَّ لِلَّہِ عَلَیَّ أَنْ أَقْطَعَ یَدَہَا ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَیْت ذَلِکَ قُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، زَیَّنْت بِہَا بِنْتَ أَخِی ، وَمِنْ أَیْنَ کَانَتْ تَقْدِرُ عَلَیْہَا ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ سَکَتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٧٧) حضرت عبد الرحمن بن عجلان البرجمی (رض) فرماتے ہیں کہ ان کی دادی نے فرمایا : کہ حضرت علی (رض) ہمارے درمیان مصالحہ خوشوں سمیت تقسیم فرماتے تھے۔ زیرہ کے خوشے اور رائی کے دانوں کے خوشے اتنی اور اتنی مقدار میں۔
(۳۳۵۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَجْلاَنَ الْبُرْجُمِیُّ ، عَنْ جَدَّتِہِ ، قَالَتْ : کَانَ عَلِیٌّ یَقْسِمُ فِینَا الإِبزار بِصُرَرِہ : صُرَر الْکَمُّونِ والحُرف وَکَذَا وَکَذَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٧٨) حضرت ربیع بن حسان (رض) فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے فرمایا : کہ حضرت علی (رض) ہمارے درمیان ہلدی اور زعفران تقسیم فرماتے تھے۔ اور ایک مرتبہ حضرت علی (رض) حجرہ میں داخل ہوئے تو انھوں نے بکھرے ہوئے دانوں کو دیکھا تو آپ (رض) نے ان کو جمع کرنا شروع کردیا اور یوں فرما رہے تھے۔ اے آل علی ! تم سیر ہوگئے !
(۳۳۵۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا رَبِیعُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ أُمِّہِ ، قَالَتْ : کَانَ عَلِیٌّ یَقْسِمُ فِینَا الْوَرْسَ وَالزَّعْفَرَانَ، قَالَ : فَدَخَلَ عَلِیَّ الْحُجْرَۃَ مَرَّۃً فَرَأَی حَبًّا مَنْثُورًا ، فَجَعَلَ یَلْتَقِطُ وَیَقُولُ : شَبِعْتُمْ یَا آلَ عَلِیٍّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٧٩) حضرت سفیان بن سعید بن عبید (رض) اپنے ایک شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس انار لائے گئے ۔ تو آپ (رض) نے ان کو لوگوں کے درمیان تقسیم فرما دیا تو ہماری مسجد والوں کو سات یا آٹھ انار ملے۔
(۳۳۵۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ بن سَعِیدِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ شَیْخٍ لَہُمْ أَنَّ عَلِیًّا أُتِیَ بِرُمَّانٍ فَقَسَمَہُ بَیْنَ النَّاسِ ، فَأَصَابَ مَسْجِدَنَا سَبْعُ رُمَّانَاتٍ ، أَوْ ثَمَانُ رُمَّانَاتٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٨٠) حضرت اسماعیل بن ابی خالد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس دو مشکیزے جنگل میں سے دودھ کے بھر کر لائے گئے تو آپ (رض) نے ان کو لوگوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
(۳۳۵۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أُتِیَ عَلِیٌّ بِدِنَانِ طِلاَئٍ مِنْ غَابَاتٍ فَقَسَمَہَا بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٨١) حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ہمارے بیت المال میں کسی چیز کی کمی نہیں کی سوائے اونی جبہ اور دل اور دی کرتے کے یہاں تک کہ آپ (رض) ہم سے جدا ہوگئے۔
(۳۳۵۸۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُیَیْنَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، قَالَ : مَا رَزَأَ عَلِیٌّ مِنْ بَیْتِ مَالِنَا حَتَّی فَارَقَنَا إِلاَّ جُبَّۃً مَحْشُوَّۃً وَخَمِیصَۃَ دَرَابِْجِرْدِیَّۃٍ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٨٢) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ارشاد فرمایا : جب حضرت ابوبکر (رض) بیمار ہوئے جس بیماری میں آپ (رض) کی وفات ہوگئی تو آپ (رض) نے فرمایا : تم لوگ دیکھنا کہ میرے خلیفہ بننے کے بعد جو میرے مال میں اضافہ ہوا ہے تم اس مال کو میرے بعد بننے والے خلیفہ کے پاس بھیج دینا۔ تحقیق میں نے اس مال کو اپنے لیے جائز اور حلال سمجھا تھا۔ اور تحقیق مال ودک سے مجھے اتنا ہی نفع ہوا تھا جتنا مجھے تجارت میں ہوتا تھا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ہم نے دیکھا تو آپ (رض) کے مال میں ایک مصری غلام کا اضافہ تھا جو بچوں کو سنبھالتا تھا اور ایک پانی لانے والا جو کنویں سے آپ (رض) کے لیے پانی لاتا تھا۔ ان دونوں کو حضرت عمر (رض) کے پاس بھیج دیا گیا۔ آپ (رض) فرماتی ہیں کہ مجھے میرے وکیل نے خبر دی کہ حضرت عمر (رض) رو پڑے اور فرمایا : ابوبکر (رض) پر اللہ کی رحمت ہو۔ تحقیق انھوں نے اپنے بعد والوں کو بہت زیادہ مشقت میں ڈال دیا۔
(۳۳۵۸۲) حَدَّثَنَا وکیع قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : لَمَّا مَرِضَ أَبُو بَکْرٍ مَرَضَہُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ ، قَالَ : انْظُرُوا مَا زَادَ فِی مَالِی مُنْذُ دَخَلْت الإِمَارَۃَ فَابْعَثُوا بِہِ إلَی الْخَلِیفَۃِ مِنْ بَعْدِی ، فَإِنِّی قَدْ کُنْتُ أَسْتَحِلُّہُ ، وَقَدْ کُنْتُ أُصِیبُ مِنَ الْوَدَکِ نَحْوًا مِمَّا کُنْتُ أُصِیبُ فِی التِّجَارَۃِ ، قَالَتْ : فَلَمَّا مَاتَ نَظَرْنَا فَإِذَا عَبْدٌ نُوبِیٌّ کَانَ یَحْمِلُ الصِّبْیَانَ ، وَإِذَا نَاضِحٌ کَانَ یستقی عَلَیْہِ ، فَبُعِثَ بِہِمَا إلَی عُمَرَ، قَالَتْ : فَأَخْبَرَنِی جَرِیّی تَعْنِی : وَکِیلِی أَنَّ عُمَرَ بَکَی ، وَقَالَ : رَحْمَۃُ اللہِ عَلَی أَبِی بَکْرٍ ، لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَہُ تَعَبًا شَدِیدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٨٣) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ حضرت عمر (رض) کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک باندی نکلی ہم نے اسے کہا : عمر کی باندی، تو وہ کہنے لگی کہ میں عمر کی باندی نہیں ہوں اور نہ میں عمر کے لیے حلال ہوں۔ میں تو اللہ کا مال ہوں۔ راوی فرماتے ہیں : پھر ہم لوگ آپس میں اس بات کا تذکرہ کرنے لگے کہ اللہ کے مال میں سے حضرت عمر (رض) کے لیے کیا حلال ہیْ اس کی آواز حضرت عمر (رض) تک پہنچ گئی تو آپ (رض) نے ہمیں قاصد بھیج کر بلایا اور پوچھا : تم لوگ کیا باتیں کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : ہمارے پاس ایک باندی آئی تو ہم نے اسے کہا : عمر کی باندی ، اس پر وہ کہنے لگی کہ وہ عمر کی باندی نہیں ہے، نہ ہی وہ عمر (رض) کے لیے حلال ہے، بیشک وہ تو اللہ کا مال ہے۔ ادھر ہم نے اس بات کا تذکرہ شروع کردیا کہ اللہ کے مال میں سے کتنی مقدار آپ (رض) کے لیے حلال ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ میں نے اللہ کے مال میں کتنی مقدار کو حلال سمجھا ہے۔ گرمی اور سردی کا ایک جوڑا اور جس سواری پر میں حج کرتا ہوں اور جس پر میں عمرہ کرتا ہوں۔ اور میرے گھرو الوں کا راشن جو قریش کے عام آدمی کے برابر ہے۔ نہ قریش کے مالداروں کی طرح ہے نہ ان کے فقراء کی طرح۔ اور میں بھی مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں جو ضروریات ان کی ہیں وہی ضروریات مجھے بھی لاحق ہیں۔
(۳۳۵۸۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا بِبَابِ عُمَرَ فَخَرَجَتْ جَارِیَۃٌ فَقُلْنَا : سُرِّیَّۃُ عُمَرَ ، فَقَالَتْ : إِنَّہَا لَیْسَتْ سُرِّیَّۃً لِعُمَرَ ، إنِّی لاَ أَحِلُّ لِعُمَرَ، إنِّی مِنْ مَالِ اللہِ فَتَذَاکَرْنَا بَیْنَنَا مَا یَحِلُّ لَہُ مِنْ مَالِ اللہِ ، قَالَ : فَرَقَی ذَلِکَ إلَیْہِ ، فَأَرْسَلَ إلَیْنَا ، فَقَالَ : مَا کُنْتُمْ تُذَاکِرُونَ فَقُلْنَا : خَرَجَتْ عَلَیْنَا جَارِیَۃٌ ، فَقُلْنَا : سُرِّیَّۃُ عُمَرَ ، فَقَالَتْ : إِنَّہَا لَیسْت سُرِّیَّۃِ عُمَرَ ، إِنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِعُمَرَ ، إِنَّہَا مِنْ مَالِ اللہِ ، فَتَذَاکَرْنَا مَا بَیْنَنَا مَا یَحِلُّ لَکَ مِنْ مَالِ اللہِ ؟ فَقَالَ : أَنَا أُخْبِرُکُمْ بِمَا أَسْتَحِلُّ مِنْ مَالِ اللہِ : حُلَّۃُ الشِّتَائِ وَالْقَیْظِ ، وَمَا أَحُجُّ عَلَیْہِ ، وَمَا أَعْتَمِرُ مِنَ الظَّہْرِ ، وَقُوتُ أَہْلِی کَرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ ، لَیْسَ بِأَغْنَاہُمْ ، وَلاَ بِأَفْقَرِہِمْ ، أَنَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یُصِیبُنِی مَا أَصَابَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٨٤) حضرت محارب بن دثار (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ حضرت عمر (رض) کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ہمارے پاس ایک باندی نکل کر آئی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے اس سے پوچھا : کیا امیر المؤمنین نے تجھ سے وطی کی ہے ؟ وہ کہنے لگی : بلاشبہ میں ان کے لیے حلال نہیں ہوں۔ اس باندی کا مطلب یہ تھا کہ وہ مال خمس میں سے ہے اتنے میں حضرت عمر (رض) بھی نکل آئے اور فرمانے لگے۔ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اس مال فئی میں سے اپنے لیے کتنی مقدار حلال سمجھی ہے ؟ ایک سواری جس پر میں حج کرتا ہوں اور عمرہ کرتا ہوں۔ اور دو کپڑوں کے جوڑے، سردیوں کا جوڑا اور گرمیوں کا جوڑا اور عمر کے اہل خانہ کا راشن جو قریش میں سے ایک آدمی کے اہل خانہ کے راشن کے برابر ہے جو نہ زیادہ مالدار ہو اور نہ ہی زیادہ غریب ہو۔
(۳۳۵۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ أَنَّہُمْ کَانُوا جُلُوسًا بِبَابِ عُمَرَ ، فَخَرَجَتْ عَلَیْہِمْ جَارِیَۃٌ ، فَقَالَ لَہَا بَعْضُ الْقَوْمِ : أیطأکِ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَتْ : إنِّی لاَ أَحِلُّ لَہُ ، یَعْنِی أَنَّہَا مِنَ الْخُمُسِ ، فَخَرَجَ عُمَرُ ، فَقَالَ : تَدْرُونَ مَا أَسْتَحِلُّ مِنْ ہَذَا الْفَیْئِ ظَہْرًا أَحُجُّ عَلَیْہِ وَأَعْتَمِرُ ، وَحُلَّتَیْنِ : حُلَّۃُ الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ ، وَقُوتُ آلِ عُمَرَ قُوتُ أَہْلِ بَیْتِ رَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ لَیْسُوا بِأَرْفَعِہِمْ ، وَلاَ بِأَخَسِّہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٨٥) حضرت حارثہ بن مضرب العبدی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : یقیناً میں نے اپنے نفس کو اللہ کے مال میں ایک یتیم کے مال کے درجہ میں اتارا ہے۔ اگر میں اس سے بےنیاز ہوتا ہوں تو میں برائی سے بچتا ہوں۔ اور اگر میں اس کا محتاج ہوا تو میں نے عطیہ کو کھایا۔
(۳۳۵۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ الْعَبْدِیِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: إنِّی أَنْزَلَتْ نَفْسِی مِنْ مَالِ اللہِ مَنْزِلَۃَ مَالِ الْیَتِیمِ، إنِ اسْتَغْنَیْت عنہ اسْتَعْفَفْت، وَإِنِ افْتَقَرْت أَکَلْتُ بِالْمَعْرُوفِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٨٦) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے صدقہ کے اونٹوں میں سے چند اونٹ لے کر گزرا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اونٹ کی پشت سے تھوڑی سی اون لی اور فرمایا : میرے لیے تمہارے مال غنیمت سے اتنے وزن کے برابر بھی حلال نہیں ہے سوائے خمس کے۔ اور وہ بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے۔
(۳۳۵۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْبَجَلِیُّ ، قَالَ : حدَّثنِی عَمْرو بْنُ أَخِی عِلْبَائُ عن عِلْبَائَ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : مَرَرْت عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِإِبِلٍ مِنْ إبِلِ الصَّدَقَۃِ ، فَأَخَذَ وَبَرَۃً مِنْ ظَہْرِ بَعِیرٍ ، فَقَالَ : مَا یَحِلُّ لِی مِنْ غَنَائِمِکُمْ مَا یَزِنُ ہَذِہِ ، إِلاَّ الْخُمُسُ ، وَہُوَ مَرْدُودٌ عَلَیْکُمْ۔ (احمد ۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٨٧) حضرت نبی ح (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے دو اونٹ خریدے اور ان کو صدقہ کے اونٹوں میں چھوڑ دیا پس وہ دونوں خوب صحت مند اور بڑے ہوگئے۔ اور ان دونوں کی حالت بہت اچھی ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے ان اونٹوں کو دیکھا تو ان کی حالت کو عجیب سمجھا اور پوچھا : یہ دونوں کس کے اونٹ ہیں ؟ لوگوں نے جواب دیا : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے۔ آپ (رض) نے فرمایا : ان دونوں کو فروخت کرو اور تم اپنی اصل رقم لے لو۔ اور جو زائد رقم ہے وہ بیت المال میں لوٹا دو ۔
(۳۳۵۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ نُبَیْحٍ ، قَالَ : اشْتَرَی ابْنُ عُمَرَ بَعِیرَیْنِ فَأَلْقَاہُمَا فِی إبِلِ الصَّدَقَۃِ فَسَمِنَا وَعَظُمَا ، وَحَسُنَتْ ہَیْئَتُہُمَا قَالَ : فَرَآہُمَا عُمَرُ فَأَنْکَرَ ہَیْئَتَہُمَا ، فَقَالَ : لِمَنْ ہَذَانِ ، قَالُوا : لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : بِعْہُمَا وَخُذْ رَأْسَ مَالِکَ ، وَرُدَّ الْفَضْلَ فِی بَیْتِ الْمَالِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٨٨) حضرت ابو عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ (رض) جب آذر بائیجان آئے تو ان کے پاس حلوہ لایا گیا انھوں نے اس کو چکھا تو اس کو میٹھا پایا۔ آپ (رض) نے فرمایا : اگر تم لوگ اس میں سے کچھ امیر المؤمنین کے لیے بناؤ تو بہت اچھا ہوگا پس انھوں نے دو بڑی ٹوکریاں آپ (رض) کے لیے تیار کردیں پھر ان دونوں کو ایک اونٹ پر لاد کردو آدمیوں کے ساتھ ان کو حضرت عمر (رض) کے پاس بھیج دیا پس جب وہ دونوں حضرت عمر (رض) کے پاس آئے۔ تو آپ (رض) نے پوچھا : یہ کیا چیز ہے ؟ انھوں نے کہا : یہ حلوہ ہے۔ آپ (رض) نے اس کو چکھا : تو آپ (رض) نے بھی اس کو میٹھا اور مزیدارپایا۔ آپ (رض) نے پوچھا : کیا ان کے قافلہ میں تمام مسلمان اس سے سیر ہوئے ؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں ! آپ (رض) نے یہ دونوں ٹوکریاں واپس لوٹا دیں پھر ان کی طرف خط لکھا : حمدو صلوۃ کے بعد، بلاشبہ نہ یہ تمہارے باپ کی کوشش سے ہے اور نہ تمہاری ماں کی کوشش سے ہے۔ جس چیز سے تم سیر ہوتے ہو اسی چیز سے اپنے قافلے میں موجود مسلمانوں کو سیر کرو۔
(۳۳۵۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عُتْبَۃُ أَذْرَبِیجَانَ بِالْخَبِیصِ فَذَاقَہُ فَوَجَدَہُ حُلْوًا ، فَقَالَ : لَوْ صَنَعْتُمْ لأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ ہَذَا ، قَالَ : فَجَعَلَ لَہُ سَفَطَیْنِ عَظِیمَیْنِ ، ثُمَّ حَمَلَہُمَا عَلَی بَعِیرٍ مَعَ رَجُلَیْنِ فَبَعَثَ بِہِمَا إلَیْہِ ، فَلَمَّا قَدِمَا عَلَی عُمَرَ ، قَالَ : أَیَّ شَیْئٍ ہَذَا ، قَالَ : ہَذَا خَبِیصٌ ، فَذَاقَہُ فَإِذَا ہُوَ حُلْوٌ ، فَقَالَ : أَکُلَّ الْمُسْلِمِینَ یُشْبِعُ مَنْ ہَذَا فِی رَحْلِہِ ؟ قَالُوا : لاَ قَالَ : فَرُدَّہُمَا ، ثُمَّ کَتَبَ إلَیْہِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ کَدِّکَ ، وَلاَ مِنْ کَدِّ أَبِیک ، وَلاَ مِنْ کَدِّ أُمِّکَ أَشْبِعِ الْمُسْلِمِینَ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْہُ فِی رَحْلِک۔
tahqiq

তাহকীক: