মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭৮ টি
হাদীস নং: ৩৩৫৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٨٩) حضرت قیس بن ابی حازم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن فرقد السلمی (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس بڑی ٹوکریاں حلوے سے بھری ہوئی لایا۔ میں نے اس سے زیادہ اور مزیدار حلوہ نہیں دیکھا تھا۔ آپ (رض) نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ کھانا میں آپ (رض) کے لیے لایا ہوں۔ اس لیے کہ آپ (رض) ایسے آدمی ہیں جو دن کا ابتدائی حصہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں گزارتے ہیں اور جب آپ (رض) لوٹتے ہیں تو آپ اس وجہ سے تھک جاتے ہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : ٹوکری سے کپڑا ہٹاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ہٹا دیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم جب واپس جاؤ تو مسلمانوں کے تمام آدمیوں کو اس ٹوکری میں سے حصہ دینا۔ میں نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے اے امیرالمؤمنین آپ (رض) کو درست رکھا ! اگر میں بنو قیس کا سارا مال بھی خرچ کر دوں تو وہ اتنی مقدار کو نہیں پہنچے گا ۔ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ہے۔
پھر آپ (رض) نے ایک پیالہ منگوایا جس میں بن چھنے آٹے اور سخت گوشت کی ثرید تھی۔ آپ (رض) میرے ساتھ اسے بہت پسند سے کھا رہے تھے۔ میں نے ایک سفید ٹکڑے کی طرف ہاتھ بڑھایا میں اس کو کوہان کا حصہ سمجھ رہا تھا۔ میں نے اس کو چبایا تو وہ پیٹھے کا حلوہ نکلا۔ میں نے ایک گوشت کا ٹکڑا لیا میں نے اس کو چبایا پس وہ میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رہا تھا۔ جب آپ (رض) مجھ سے تھوڑے سے غافل ہوئے تو میں نے اس ٹکڑے کو پیالہ اور دسترخوان کے درمیان رکھ دیا ۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : اے عتبہ ! یقیناً ہم ہر روز ایک اونٹ نحر کرتے ہیں۔ اس کی چربی اور اچھا حصہ ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو مسلمان دور دراز سے آئے ہوئے ہوتے ہیں اور اس کی گردن عمر کے لیے ہوتی ہے ! ! !
پھر آپ (رض) نے ایک پیالہ منگوایا جس میں بن چھنے آٹے اور سخت گوشت کی ثرید تھی۔ آپ (رض) میرے ساتھ اسے بہت پسند سے کھا رہے تھے۔ میں نے ایک سفید ٹکڑے کی طرف ہاتھ بڑھایا میں اس کو کوہان کا حصہ سمجھ رہا تھا۔ میں نے اس کو چبایا تو وہ پیٹھے کا حلوہ نکلا۔ میں نے ایک گوشت کا ٹکڑا لیا میں نے اس کو چبایا پس وہ میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رہا تھا۔ جب آپ (رض) مجھ سے تھوڑے سے غافل ہوئے تو میں نے اس ٹکڑے کو پیالہ اور دسترخوان کے درمیان رکھ دیا ۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : اے عتبہ ! یقیناً ہم ہر روز ایک اونٹ نحر کرتے ہیں۔ اس کی چربی اور اچھا حصہ ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو مسلمان دور دراز سے آئے ہوئے ہوتے ہیں اور اس کی گردن عمر کے لیے ہوتی ہے ! ! !
(۳۳۵۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِی عُتْبَۃُ بْنُ فَرْقَدٍ السُّلَمِیُّ ، قَالَ : قَدِمْت عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِسِلاَلِ خَبِیصٍ عِظَامٍ مَمْلُوئَۃٍ ، لَمْ أَرَ أَحْسَن مِنْہُ وَأَجیَد ، فَقَالَ : مَا ہَذِہِ فَقُلْت : طَعَامٌ أَتَیْتُک بِہِ ، إنَّک تَقْضِی مِنْ حَاجَاتِ النَّاسِ أَوَّلَ النَّہَارِ ، فَإِذَا رَجَعْت أَصَبْت مِنْہُ قَالَ : اکْشِفْ عَنْ سَلَّۃٍ مِنْہَا ، قَالَ : فَکَشَفْت ، قَالَ : عَزَمْت عَلَیْک إذَا رَجَعْت إِلاَّ رَزَقْت کُلَّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِنْہَا سَلَّۃً ، قَالَ : قُلْتُ : وَالَّذِی یَصْلُحُک یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، لَوْ أَنْفَقْت مَالَ قَیْسٍ کُلَّہُ مَا بَلَغَ ذَلِکَ ، قَالَ : فَلاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ ، ثُمَّ دَعَا بِقَصْعَۃٍ فِیہَا ثَرِیدٌ مِنْ خُبْزٍ خَشِنٍ وَلَحْمٍ غَلِیظٍ وَہُوَ یَأْکُلُ مَعِی أَکْلاً شَہِیًّا ، فَجَعَلْتُ أَہْوِی إلَی الْبِضْعَۃِ الْبَیْضَائِ أَحْسِبُہَا سَنَامًا فَأَلُوکُہَا فَإِذَا ہِیَ عَصَبَۃٌ ، وَآخُذُ الْبِضْعَۃَ مِنَ اللَّحْمِ فَأَمْضُغُہَا فَلاَ أَکَادُ أَسِیغُہَا ، فَإِذَا غَفَلَ عَنِّی جَعَلْتہَا بَیْنَ الْخِوَانِ وَالْقَصْعَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا عُتْبَۃُ ، إنَّا نَنْحَرُ کُلَّ یَوْمٍ جَزُورًا ، فَأَمَّا وَدَکُہَا وَأَطْیابُہَا فَلِمَنْ حَضَرَ مِنْ آفَاقِ الْمُسْلِمِینَ ، وَأَمَّا عُنُقُہَا فَإِلَیَ عُمَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
(٣٣٥٩٠) حضرت زید بن وھب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) نے ارشاد فرمایا : میں گزرا اس حال میں کہ لوگ ثرید اور گوشت کھا رہے تھے ۔ پس حضرت عمر (رض) نے مجھے اپنے کھانے کی دعوت دی۔ آپ (رض) موٹی روٹی اور تیل کھا رہے تھے۔ میں نے کہا : آپ (رض) ہی نے مجھے لوگوں کے ساتھ ثرید کھانے سے منع کیا تھا اور آپ (رض) ہی مجھے اس کی دعوت دے رہے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے تو تمہیں اپنے کھانے کی دعوت دی ہے۔ اور مسلمانوں کا کھانا تو وہ ہے۔
(۳۳۵۹۰) حَدَّثَنَا حُسَین بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : مَرَرْت وَالنَّاسُ یَأْکُلُونَ ثَرِیدًا وَلَحْمًا ، فَدَعَانِی عُمَرُ إلَی طَعَامِہِ ، فَإِذَا ہُوَ یَأْکُلُ خُبْزًا غَلِیظًا وَزَیْتًا ، فَقُلْتُ : مَنَعْتنِی أَنْ آکُلَ مَعَ النَّاسِ الثَّرِیدَ ، وَدَعَوْتنِی إلَی ہَذَا قَالَ : إنَّمَا دَعَوْتُک لِطَعَامِی ، وَذَاکَ لِلْمُسْلِمِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام جب گورنروں کو بھیجے تو اس بات کی وصیت کرے
(٣٣٥٩١) حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کے بیٹے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) جب کسی کو گورنر بناتے تو انصار اور دوسرے مسلمانوں کی ایک جماعت کو اس پر گواہ بناتے اور فرماتے : میں نے تجھے مسلمانوں کی جانوں اور عزتوں پر امیر نہیں بنایا لیکن میں نے تجھے ان پر امیر بنایا ہے تاکہ تو ان کے درمیان انصاف سے تقسیم کرے، اور ان میں نماز کو قائم کروائے۔ اور آپ (رض) اس پر شرط لگاتے کہ وہ چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا اور نہ ہی باریک کپڑا پہنے گا اور نہ ہی اچھی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوگا۔ اور لوگوں کی ضروریات کے وقت اپنے دروازے کو بند نہیں کرے گا۔
(۳۳۵۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْوَلِیدِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ ، عَنِ ابْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: کَانَ عُمَرُ إذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلاً أَشْہَدَ عَلَیْہِ رَہْطًا مِنَ الأَنْصَارِ وَغَیْرِہِمْ ، قَالَ : یَقُولُ : إنِّی لَمْ أَسْتَعْمِلْک عَلَی دِمَائِ الْمُسْلِمِینَ، وَلاَ عَلَی أَعْرَاضِہِمْ، وَلَکِنِّی اسْتَعْمَلْتُک عَلَیْہِمْ لِتَقْسِمَ بَیْنَہُمْ بِالْعَدْلِ وَتُقِیمَ فِیہِمَ الصَّلاَۃَ، وَاشْتَرَطَ عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَأْکُلَ نَقِیًّا ، وَلاَ یَلْبَسَ رَقِیقًا ، وَلاَ یَرْکَبَ بِرْذَوْنًا ، وَلاَ یَغْلِقَ بَابَہُ دُونَ حَوَائِجِ النَّاسِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام جب گورنروں کو بھیجے تو اس بات کی وصیت کرے
(٣٣٥٩٢) حضرت ابو فراس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا : خبردار ! اللہ کی قسم ! میں نے تمہاری طرف گورنروں کو اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ تمہیں مارنے لگیں اور تمہارے مال چھین لیں۔ بلکہ میں نے ان کو تمہاری طرف اس لیے بھیجا ہے۔ کہ وہ تمہیں تمہارا دین اور تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سکھلائیں جس شخص کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی دوسرا معاملہ کیا جائے تو وہ اس مسئلہ کو میرے سامنے پیش کرے ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے میں ضرور بالضرور اس کی طرف سے بدلہ لوں گا ۔ اس پر حضرت عمرو بن العاص (رض) اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے امیر المؤمنین ! آپ (رض) کی کیا رائے ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی کسی جماعت پر امیر ہو اور وہ اپنی رعایا کے کسی شخص کو ادب سکھلائے تو کیا آپ (رض) اس کی طرف سے بھی بدلہ لیں گے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ہاں ! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں عمر کی جان ہے۔ ضرور بالضرور اس کی طرف سے بھی بدلہ لیا جائے گا۔ اور میں نے کہا اس کی طرف سے بدلہ لے سکتا ہوں حالانکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ وہ اپنی طرف سے بدلہ لیتے تھے ؟ خبردار ! تم مسلمانوں کو مت مارو اس طرح کہ تم ان کو ذلیل کرنے لگو۔ اور تم ان کو ان کے حقوق سے مت روکو کہ تم ان کو اپنے سامنے جھکانے لگو۔ اور تم ان کو سرحدوں پر بھیج کر گھر واپسی سے مت روکو کہ کہیں تم ان کو فتنہ میں ڈال دو ۔ اور تم ان کو گھنے باغات والی جگہ میں مت اتارو کہ وہ منتشر ہوجائیں اور اس طرح تم ان کو ضائع کردو۔
(۳۳۵۹۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ أَبِی فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: أَلاَ إنِّی وَاللہِ مَا أَبْعَثُ إلَیْکُمْ عُمَّالاً لِیَضْرِبُوا أَبْشَارَکُمْ، وَلاَ لِیَأْخُذُوا أَمْوَالَکُمْ، وَلَکِنْ أَبْعَثُہُمْ إلَیْکُمْ لِیُعَلِّمُوکُمْ دِینَکُمْ وَسُنَّتَکُمْ ، فَمَنْ فُعِلَ بِہِ سِوَی ذَلِکَ فَلْیَرْفَعْہُ إِلَیَّ ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لاَقِصَّنَّہُ مِنْہُ ، فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، أَرَأَیْتُک إِنْ کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی رَعِیَّۃٍ فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِیَّتِہِ إنَّک لَمُقِصُّہُ مِنْہُ ؟ قَالَ : إِیْ وَالَّذِی نَفْسُ عُمَرَ بِیَدِہِ لأَقِصَّنَّہُ مِنْہُ ، أَنَّی لاَ أُقِصُّہُ مِنْہُ وَقَدْ رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقِصُّ مِنْ نَفْسِہِ أَلاَ لاَ تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِینَ فَتُذِلُّوہُمْ ، وَلاَ تَمْنَعُوہُمْ مِنْ حُقُوقِہِمْ فَتُکَفِّرُوہُمْ ، وَلاَ تَجْمُرُوہُمْ فَتَفْتِنُوہُمْ ، وَلاَ تُنْزِلُوہُمَ الْغِیَاضَ فَتُضَیِّعُوہُمْ۔ (ابوداؤد ۴۵۲۵۔ طیالسی ۵۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام جب گورنروں کو بھیجے تو اس بات کی وصیت کرے
(٣٣٥٩٣) حضرت ابو عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کو خط لکھا اور فرمایا : تم لوگ اونٹوں سے خود کو جدا کرلو اور گھوڑوں پر سوار ہو ۔ اور تم موزے اتار دو اور چپل پہنو۔ شلوار چھوڑ دو اور ازار باندھو۔ اور سلوٹوں کو چھوڑ دو ، تم قبیلہ معد کا لباس لازم پکڑ لو۔ اور خود کو عجمیوں کے طور طریقوں سے بچاؤ اس لیے کہ بدترین طور طریقے عجمیوں کے ہیں۔
(۳۳۵۹۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ، قَالَ: کَتَبَ عُمَرُ إلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ أَنَ اقْطَعُوا الرُّکُب، وَانْزُوا عَلَی الْخَیْلِ نَزْوًا وَأَلْقَوُا الْخِفَافَ، واحتزوا النِّعَالَ، وَأَلْقَوُا السَّرَاوِیلاَتِ، وَاتَّزَرُوا وَارْمُوا الأَغْرَاضَ، وَعَلَیْکُمْ بِلِبْسِ الْمُعَدِّیَۃِ ، وَإِیَّاکُمْ وَہَدْیِ الْعَجَمِ ، فَإِنَّ شَرَّ الْہَدْیِ ہَدْیُ الْعَجَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام جب گورنروں کو بھیجے تو اس بات کی وصیت کرے
(٣٣٥٩٤) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی شخص کو کسی جماعت یا لشکر پر امیر بنا کر بھیجتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو خاص طور پر اللہ کے تقوی کی وصیت فرماتے۔ اور اس کے ساتھ جو مسلمان ہیں ان سے بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے۔ اور فرماتے : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا، ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنا جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، جاؤ اور خیانت مت کرنا نہ ہی غداری کرنا۔ اور لوگوں کے ہاتھ، پاؤں کاٹ کر مثلہ مت بنانا۔ اور نہ ہی بچوں کو قتل کرنا۔
(۳۳۵۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی سَرِیَّۃٍ ، أَوْ جَیْشٍ أَوْصَاہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ بِتَقْوَی اللہِ وَبِمَنْ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا ، قَالَ : اغْزُوا فِی سَبِیلِ اللہِ ، قَاتِلُوا مَنْ کَفَرَ بِاللہِ ، اغْزُوا ، وَلاَ تَغُلُّوا ، وَلاَ تَغْدِرُوا ، وَلاَ تُمَثِّلُوا ، وَلاَ تَقْتُلُوا وَلِیْدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام جب گورنروں کو بھیجے تو اس بات کی وصیت کرے
(٣٣٥٩٥) حضرت اسلم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے اپنے آزاد کردہ غلام ھُنیّ کو چراگاہ پر امیر بنایا۔ راوی کہتے ہیں : کہ میں نے آپ (رض) کو اسے یوں فرماتے ہوئے سنا : ہلاکت ہو اے ھنیی ! لوگوں کے ساتھ نرمی برتو ، اور مظلوم کی بددعا سے بچو۔ اس لیے کہ مظلوم کی بددعا قبول کی جاتی ہے۔ تم درختوں اور مال غنیمت کے منتظم بن کر داخل ہو۔ اور تم مجھے چھوڑ دو ابن عفان اور ابن عوف کے جانوروں کے بارے میں کہ اگر ابن عوف اور ابن عفان ان دونوں کے مویشی ہلاک بھی ہوگئے تو یہ دونوں مدینہ میں اپنے کھجور کے درختوں اور کھیتی کی طرف لوٹ جائیں گے ۔ اور اگر ان مسکینوں کے مویشی ہلاک ہوگئے تو یہ میرے پاس آئیں گے چیختے ہوئے۔ اے امیر المؤمنین ! اے امیر المؤمنین ! اور پانی اور چارہ مجھ پر آسان ہے اس بات سے کہ میں ان کو سونا اور چاندی بدلہ میں دوں ، اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم !۔
(۳۳۵۹۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ أَسْلَمَ یَذْکُرُ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَعْمَلَ مَوْلاَہُ ہُنَیَّا عَلَی الْحِمَی ، قَالَ : فَرَأَیْتہ یَقُولُ ہَکَذَا : وَیْحُک یَا ہُنَی، ضُمَّ جَنَاحَک عَنِ النَّاسِ ، وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ ، فَإِنَّ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ مُجَابَۃٌ أَدْخِلْ رَبَّ الصَّرِیمَۃِ وَالْغَنِیمَۃِ، وَدَعْنِی مِنْ نَعَمِ ابْنِ عَفَّانَ ، وَابْنِ عَوْفٍ ، فَإِنَّ ابْنَ عَوْفٍ ، وَابْنَ عَفَّانَ إِنْ ہَلَکَتْ مَاشِیَتُہُمَا رَجَعَا إلَی الْمَدِینَۃِ إلَی نَخْلٍ وَزَرْعٍ ، وَإِنَّ ہَذَا الْمِسْکِینَ إِنْ ہَلَکَتْ مَاشِیَتُہُ جَائَنِی یَصِیحُ ، یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَالْمَائُ وَالْکَلأُ أَہْوَنُ عَلَیَّ مِنْ أَنْ أَغْرَمَ ذَہَبًا وَوَرِقًا ، وَاللہِ وَاللہِ وَاللہِ إِنَّہَا لَبِلاَدِہُمْ فِی سَبِیلِ اللہِ قَاتَلُوا عَلَیْہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَسْلَمُوا عَلَیْہَا فِی الإِسْلاَمِ ، وَلَوْلاَ ہَذَا النَّعَمُ الَّذِی یُحْمَلُ عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللہِ مَا حَمَیْت عَلَی النَّاسِ مِنْ بِلاَدِہِمْ شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو دشمن سے لڑائی کے وقت روزہ کشائی کو مستحب سمجھتا ہے
(٣٣٥٩٦) حضرت براء بن قیس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مجھے حضرت سلمان بن ربیعہ (رض) کے پاس بھیجا کہ میں ان کو حکم دوں کہ وہ افطار کریں اس حال میں کہ انھوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا۔
(۳۳۵۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ إیَادِ بْنِ لَقِیطٍ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إلَی سَلْمَانَ بْنِ رَبِیعَۃَ آمُرُہُ أَنْ یُفْطِرَ وَہُوَ مُحَاصَرٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو دشمن سے لڑائی کے وقت روزہ کشائی کو مستحب سمجھتا ہے
(٣٣٥٩٧) حضرت قزعہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید (رض) سے سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا ؟ تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر کیا پس ہم نے بھی روزہ رکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی روزہ رکھا یہاں تک کہ ہم ایک جگہ اترے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ تم اب اپنے دشمن کے قریب آگئے ہو تو تمہارے لیے روزہ کشائی زیادہ فائدہ مند ہے۔
(۳۳۵۹۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ یَزِیدَ الدِّمَشْقِیِّ ، عَنْ قَزَعَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِیدٍ ، عَنِ الصَّوْمِ فِی السَّفَرِ ، فَقَالَ : سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَصُومُ وَنَصُومُ حَتَّی نَزَلْنَا مَنْزِلاً ، فَقَالَ : إنَّکُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَی لَکُمْ۔
(مسلم ۱۰۲۔ ابوداؤد ۲۳۹۸)
(مسلم ۱۰۲۔ ابوداؤد ۲۳۹۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سالانہ تنخواہ کا بیان اور کون اس کا وارث بنے گا ؟
(٣٣٥٩٨) حضرت قیس بن ابی حازم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی وفات کے بعد حضرت زبیر (رض) حضرت عمار (رض) یا حضرت عثمان (رض) کے پاس آئے اور فرمایا : حضرت عبداللہ کی سالانہ تنخواہ مجھے دو ۔ اس لیے کہ حضرت عبداللہ کے اہل خانہ بیت المال سے زیادہ اس کے حقدار ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس انھوں نے ان کو پندرہ ہزار درہم عطا کردیے۔
(۳۳۵۹۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : دَخَلَ الزُّبَیْرُ عَلَی عَمَّارٍ ، أَوْ عُثْمَانَ بَعْدَ وَفَاۃِ عَبْدِ اللہِ ، فَقَالَ : أَعْطِنِی عَطَائَ عَبْدِ اللہِ فَعِیَالُ عَبْدِ اللہِ أَحَقُّ بِہِ مِنْ بَیْتِ الْمَالِ ، قَالَ : فَأَعْطَاہُ خَمْسَۃَ عَشَرَ أَلْفًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سالانہ تنخواہ کا بیان اور کون اس کا وارث بنے گا ؟
(٣٣٥٩٩) حضرت سماک بن حرب حضرت الحی (رض) کے شیوخ سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا : ایک آدمی مرگیا اس حال میں کہ سال کا تہائی حصہ گزر چکا تھا تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اس کے لیے سالانہ تنخواہ کے دو تہائی حصہ کی ادائیگی کا حکم دیا۔
(۳۳۵۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَشْیَاخِ الْحَیِّ ، قَالُوا : مَاتَ رَجُلٌ وَقَدْ مَضَی لَہُ ثُلُثَا السَّنَۃِ فَأَمَرَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِثُلُثِی عَطَائِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سالانہ تنخواہ کا بیان اور کون اس کا وارث بنے گا ؟
(٣٣٦٠٠) حضرت مطلب بن عبداللہ بن قیس بن مخرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ (رض) سے اپنی ضرورت کی شکایت کی تو آپ (رض) نے فرمایا : تجھے کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگی : ہم لوگ ایک مردہ انسان کی سالانہ تنخواہ لیتے تھے پس اب ہم نے اس کو ختم کردیا۔ اس پر حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تم نے اللہ کے مال سے وہ حصہ نکال دیا جو تم پر داخل ہوتا تھا اور تم نے اس کو اپنے گھر سے نکال دیا ! اور یہ واقعہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے زمانہ خلافت کا ہے۔
(۳۳۶۰۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَبَّاسٌ أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّ امْرَأَۃً شکت إلی عَائِشَۃَ الْحَاجَۃَ ، قَالَتْ : وَمَا لَکَ ؟ قَالَتْ : کُنَّا نَأْخُذُ عَطَائَ إنْسَانٍ مَیِّتٍ فَرَفَعْنَاہُ ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : لِمَ فَعَلْتُمْ ، أَخَرَجتم سَہمًا مِنْ فَیْئِ اللہِ کَانَ یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ أَخْرَجْتُمُوہُ مِنْ بَیْنِکُمْ، وذَلِکَ فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سالانہ تنخواہ کا بیان اور کون اس کا وارث بنے گا ؟
(٣٣٦٠١) حضرت ابو المقدام ہشام بن زیاد جو حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) سالانہ تنخواہ کا وارث بناتے تھے۔
(۳۳۶۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبُو الْمِقْدَامِ ہِشَامُ بْنُ زِیَادٍ مَوْلَی لِعُثْمَانَ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُثْمَانَ کَانَ یُوَرِّثُ الْعَطَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سالانہ تنخواہ کا بیان اور کون اس کا وارث بنے گا ؟
(٣٣٦٠٢) حضرت ابو حیان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عامر (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میت کے سالانہ عطیہ کے لینے میں کوئی حرج نہیں۔
(۳۳۶۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: لاَ بَأْسَ أَنْ یُؤْخَذَ لِلْمَیِّتِ عَطَاؤُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سالانہ تنخواہ کا بیان اور کون اس کا وارث بنے گا ؟
(٣٣٦٠٣) حضرت علی بن حسین (رض) کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ حضرت علی بن حسین (رض) نے ارشاد فرمایا : میت کے سالانہ عطیہ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
(۳۳۶۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا قَیْسٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مَوْلَی لِعَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُؤْخَذَ لِلْمَیِّتِ عَطَاؤُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سالانہ تنخواہ کا بیان اور کون اس کا وارث بنے گا ؟
(٣٣٦٠٤) حضرت معقل (رض) فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی مرجاتا اس حال میں کہ سال مکمل ہوچکا ہوتا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) اس کے ورثہ کو اس کا سالانہ عطیہ عطا فرما دیتے تھے۔
(۳۳۶۰۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ مَعْقِلٍ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ إذَا مَاتَ الرَّجُلُ وَقَدِ اسْتَکْمَلَ السَّنَۃَ أَعْطَی وَرَثَتَہُ عَطَائَہُ کُلَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر میں چلتے ہوئے آہستگی اور تیزی چھوڑنے کا بیان اور جو شخص فوج کے پچھلے حصہ میں رہنے کو محبوب رکھتا ہو
(٣٣٦٠٥) امام اوزاعی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) نے لشکر پر مقرر امیر کو وصیت فرمائی کہ وہ کسی جانور پر سوار نہیں ہوگا۔ مگر ایسے جانور پر کہ جس کی چال لشکر میں موجود تمام جانوروں سے سست ہو۔
(۳۳۶۰۵) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَوْصَی عَامِلَہُ فِی الْغَزْوِ أَنْ لاَ یَرْکَبَ دَابَّۃً إِلاَّ دَابَّۃً یکون سَیْرَہَا أَضْعَفَ دَابَّۃٍ فِی الْجَیْشِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر میں چلتے ہوئے آہستگی اور تیزی چھوڑنے کا بیان اور جو شخص فوج کے پچھلے حصہ میں رہنے کو محبوب رکھتا ہو
(٣٣٦٠٦) حضرت امیۃ الشامی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول اور حضرت رجاء بن حیوہ (رض) لشکر کے پچھلے حصہ کو پسند کرتے تھے اور یہ دونوں اس حصہ سے جدا نہیں ہوتے تھے۔
(۳۳۶۰۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ، عَنْ أُمَیَّۃَ الشَّامِیَّ، قَالَ: کَانَ مَکْحُولٌ وَرَجَائُ بْنُ حَیْوَۃَ یَخْتَارَانِ السَّاقَۃَ لاَ یُفَارِقَانِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر میں چلتے ہوئے آہستگی اور تیزی چھوڑنے کا بیان اور جو شخص فوج کے پچھلے حصہ میں رہنے کو محبوب رکھتا ہو
(٣٣٦٠٧) حضرت جُمیع بن عبداللہ المقری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) نے اس بات سے منع فرمایا : کہ قاصد کوڑے کے آخر میں لوہا لگائے تاکہ اس کے ذریعہ سے وہ جانور کو تیز دوڑائے۔ اور آپ (رض) نے لگاموں سے بھی منع فرمایا۔
(۳۳۶۰۷) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ جُمَیْعِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمُقْرِی أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ نَہَی الْبَرِیدَ أَنْ یَجْعَلَ فِی طَرَفِ السَّوْطِ حَدِیدَۃً أَنْ یَنْخُسَ بِہَا الدَّابَّۃَ ، قَالَ : وَنَہَی عَنِ اللُّجُمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے اولادزنا کے بارے میں یوں کہا کہ ان کے لیے بھی عطیہ مقرر کیا جائے گا
(٣٣٦٠٨) حضرت ذھل بن اوس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم بن مسیح (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میں گھر سے نکلا اس حال میں کہ میرا کوئی بچہ نہیں تھا پس مجھے راستہ میں ایک نومولود بچہ ملا جس کا باپ معلوم نہیں تھا۔ میں نے حضرت عمر (رض) کو اس کی خبر دی تو آپ (رض) نے اس کے لیے میرے عطیہ میں سو درہم کا اضافہ فرما دیا۔
(۳۳۶۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ زُہَیْرِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ ذُہْلِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ تَمِیمِ بْنِ مُسَیْحٍ ، قَالَ : خَرَجْت مِنَ الدَّارِ وَلَیْسَ لِی وَلَدٌ فَأَصَبْت لَقِیطًا فَأَخْبَرْت بِہِ عُمَرَ ، فَأَلْحَقَہُ فِی مِئَۃٍ۔
তাহকীক: