মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৬৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٤٩) حضرت مالک بن أوس الحدثان (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا : کہ مسلمانوں میں سے ہر شخص کا اس مال غنیمت میں حصہ ہے سوائے غلام کے ، اور اگر میں زندہ رہا تو صنعاء کی پہاڑیوں میں رہنے والے چرواہے کو بھی اس مال غنیمت سے ضرور حصہ پہنچے گا۔
(۳۳۶۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الشُّعَیْثِیُّ ، عَنْ لَیْثٍ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ : مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ إِلاَّ لَہُ فِی ہَذَا الْفَیْئِ نَصِیبٌ إِلاَّ عَبْدٌ مَمْلُوک ، وَلَئِنْ بَقِیت لَیَبْلُغَنَّ الرَّاعِیَ نَصِیبُہُ مِنْ ہَذَا الْفَیْئِ فِی جِبَالِ صَنْعَائَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٥٠) حضرت مالک بن اوس الحدثان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : بنو نضیر کا مال جو اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا فرمایا تھا۔ وہ مسلمانوں کو بغیر قتال کے حاصل ہوا اس میں قتال کی ضرورت نہیں پڑی۔ اور یہ مال نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خاص تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں اپنے سال کا خرچہ روک لیتے تھے۔ اور جو باقی بچتا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو گھوڑے اور اسلحہ کے لیے خاص فرما دیتے ان کو اللہ کے راستہ میں استعمال کرنے کی تیاری کے سلسلہ میں۔
(۳۳۶۵۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : کَانَتْ أَمْوَالُ بَنِی النَّضِیرِ مِمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِمَّا لَمْ یُوجِفْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ بِخَیْلٍ ، وَلاَ رِکَابٍ ، فَکَانَتْ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَاصَّۃً ، فَکَانَ یَحْبِسُ مِنْہَا نَفَقَۃَ سَنَۃٍ ، وَمَا بَقِیَ جَعَلَہُ فِی الْکُرَاعِ وَالسِّلاَحِ عُدَّۃً فِی سَبِیلِ اللہِ۔ (بخاری ۲۹۰۴۔ مسلم ۱۳۷۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٥١) حضرت اسلم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس مقام جلولاء کے غنائم میں سے مال غنیمت لایا گیا جس میں سونا چاندی بھی موجود تھا۔ پس آپ (رض) اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم فرما رہے تھے کہ آپ (رض) کا ایک بیٹا آیا جس کا نام عبد الرحمن تھا۔ اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! مجھے بھی ایک انگوٹھی پہنا دیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : تو اپنی ماں کے پاس جا وہ تجھے ستّو کا شربت پلائے گی ! اور فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس کو کچھ بھی نہیں دوں گا۔
(۳۳۶۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ، قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِغَنَائِمَ مِنْ غَنَائِمِ جَلُولاَئَ فِیہَا ذَہَبٌ وَفِضَّۃٌ ، فَجَعَلَ یَقْسِمُہُمَا بَیْنَ النَّاسِ ، فَجَائَ ابْنٌ لَہُ ، یُقَالَ لَہُ : عَبْدُ الرَّحْمَن ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، اکْسُنِی خَاتَمًا ، قَالَ : اذْہَبْ إلَی أُمِّکَ تَسْقِیک شَرْبَۃً مِنْ سَوِیقٍ ، قَالَ : فَوَاللہِ مَا أَعْطَاہُ شَیْئًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٥٢) حضرت ابو حنظلہ بن نعیم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) نے حضرت عمر (رض) کی طرف خط لکھا کہ ہم نے ایک علاقہ پر بغیر قتال کے قبضہ کرلیا ہے۔ اب ہم کیا کریں ؟ حضرت عمر (رض) نے ان کو خط کا جواب لکھا : اگر تم لوگ اس علاقہ کو اپنے درمیان تقسیم کرنا چاہو تو اس کو تقسیم کرلو اور اگر تم چاہو تو اس علاقہ کو چھوڑ دو اس کے مکین ہی اس کو آباد کرلیں گے۔ اور جو شخص تمہارے میں داخل ہوگا اس علاقہ میں اس کو حصہ مل جانے کے بعد تو مجھے خوف ہے کہ تم لوگ اس معاملہ میں اور پانی کی باری میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے۔ پھر تم میں سے بعض بعض کو قتل کردیں گے۔ حضرت سعد (رض) نے آپ (رض) کو خط لکھا اور فرمایا : بلاشبہ تمام مسلمانوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی رائے آپ (رض) کی رائے کے تابع ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو پھر خط لکھا اور فرمایا : کہ یہ لوگ غلاموں کو ان کی عورتوں کی طرف واپس لوٹا دیں چاہے وہ مسلمانوں میں کسی آدمی سے حاملہ ہوچکی ہو۔
(۳۳۶۵۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَنْظَلَۃَ بْنُ نُعَیم أَنَّ سَعْدًا کَتَبَ إلَی عُمَرَ أَنَّا أَخَذْنَا أَرْضًا لَمْ یُقَاتِلْنَا أَہْلُہَا ، قَالَ : فَکَتَبَ إلَیْہِ عُمَرُ : إِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَقْسِمُوہَا بَیْنَکُمْ فَاقْسِمُوہَا ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَدَعُوہَا فَیَعْمُرُہَا أَہْلُہَا وَمَنْ دَخَلَ فِیکُمْ بَعْدُ کَانَ لَہُ فِیہَا نَصِیبٌ ، فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ تَشَاحُّوا فیہا وَفِی شُرْبِہَا فَیَقْتُلُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا ، فَکَتَبَ إلَیْہِ سَعْدٌ : إِنَّ الْمُسْلِمِینَ قَدْ أَجْمَعُوا عَلَی أَنَّ رَأْیَہُمْ لِرَأْیِکَ تَبَعٌ ، فَکَتَبَ إلَیْہِ أَنْ یَرُدُّوا الرَّقِیقَ إلَی امْرَأَۃٍ حَمَلَتْ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٥٣) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا : کیا عجمیوں کو اختیار ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے شہروں میں کوئی عمارت یاکلیسا بنالیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : رہے وہ شہر جن کو عربوں نے آباد کیا تو عجمیوں کو اختیار نہیں کہ وہ اس شہر میں کوئی عمارت بنائیں یا یوں فرمایا : کہ ان میں کلیسا بنائیں۔ اور نہ ہی وہ اس میں ناقوس بجا سکتے ہیں۔ اور وہ اس میں شراب پییں گے اور نہ ہی وہ اس میں خنزیر رکھ سکتے ہیں یا یوں فرمایا کہ نہ ہی وہ اس میں خنزیر داخل کرسکتے ہیں۔ اور رہا وہ شہر جس کو عجمیوں نے آباد کیا پس اللہ نے اہل عرب کو اس پر غلبہ دے دیا اور وہ شہر میں اترے تو عجمی کو اختیار ہوگا جو ان سے معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق کریں۔ اور عجمیوں کا اہل عرب پر حق ہے کہ وہ ان سے اپنے وعدوں کو پورا کریں۔ اور ان کی طاقت سے زیادہ کا ان کو مکلف مت بنائیں۔
(۳۳۶۵۳) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : قیلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : أَلِلْعَجَمِ أَنْ یُحْدِثُوا فِی أَمْصَارِ الْمُسْلِمِینَ بِنَائً ، أَوْ بِیعَۃً ، فَقَالَ : أَمَّا مِصْرٍ مَصَّرَتْہُ الْعَرَبُ فَلَیْسَ لِلْعَجَمِ أَنْ یَبْنُوا فِیہِ بِنَائً ، أَوَ قَالَ : بِیعَۃً ، وَلاَ یَضْرِبُوا فِیہِ نَاقُوسًا ، وَلاَ یَشْرَبُوا فِیہِ خَمْرًا ، وَلاَ یَتَّخِذُوا فِیہِ خِنْزِیرًا ، أَوْ یُدْخِلُوا فِیہِ ، وَأَمَّا مِصْرٍ مَصَّرَتْہُ الْعَجَمُ یَفْتَحُہُ اللَّہُ عَلَی الْعَرَبِ وَنَزَلُوا ، یَعْنِی عَلَی حُکْمِہِمْ فَلِلْعَجَمِ مَا فِی عَہْدِہِمْ، وَلِلْعَجَمِ عَلَی الْعَرَبِ أَنْ یُوَفُّوا بِعَہْدِہِمْ ، وَلاَ یُکَلِّفُوہُمْ فَوْقَ طَاقَتِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٥٤) حضرت اُبیّ بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) کا خط آیا کہ کلیساؤں یہودی گرجا گھروں اور آتش کدوں کو منہدم نہیں کیا جائے گا اور ان پر مصالحت کی جائے گی۔
(۳۳۶۵۴) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أُبَیِّ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : جَائَنَا کِتَابُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ لاَ تَہْدِمْ بِیعَۃً ، وَلاَ کَنِیسَۃً ، وَلاَ بَیْتَ نَارٍ صُولِحُوا عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٥٥) حضرت عبد الملک (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ (رض) سے یہودی گرجا گھروں سے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا ان کو گرا دیا جائے گا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں سوائے ان کو جو حرم میں واقع ہیں ان کو گرا دیا جائے گا۔
(۳۳۶۵۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الْکَنَائِسِ ، تُہْدَمُ ، قَالَ : لاَ إِلاَّ مَا کَانَ مِنْہَا فِی الحَرَم۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٥٦) حضرت عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری (رض) مسلمانوں کے شہروں میں کلیساؤں کے باقی رکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۳۳۶۵۶) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ تُتْرَکَ الْبِیَعُ فِی أَمْصَارِ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٥٧) حضرت عوف (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری (رض) نے ارشاد فرمایا : غیر مسلموں سے اس بات پر صلح کی جائے گی کہ شہروں کے علاوہ دیگر مقامات میں ان کے درمیان اور ان کی آتش اور بتوں کے درمیان راستہ خالی چھوڑ دیا جائے گا۔
(۳۳۶۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قدْ صُولِحُوا عَلَی أَنْ یُخْلَی بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ النِّیرَانِ وَالأَوْثَانِ فِی غَیْرِ الأَمْصَارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٥٨) حضرت ابن سراقہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح (رض) نے اہل دیر کے پادریوں کو خط لکھا کہ بلاشبہ میں نے تمہیں امن دیا تمہاری جانوں کا، تمہارے مالوں کا اور تمہارے گرجا گھروں کو گرائے جانے سے۔
(۳۳۶۵۸) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، قَالَ : حدَّثَنِی ابْنُ سُرَاقَۃَ أَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ کَتَبَ لأَہْلِ دَیْرِ طَیَایَا إنِّی أَمَّنْتُکُمْ عَلَی دِمَائِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ وَکَنَائِسِکُمْ أَنْ تُہْدَمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٥٩) حضرت حبیب بن شہید (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سیرین (رض) نے ارشاد فرمایا : اہل فارس کے کسی بھی بت کو نہیں چھوڑا جائے گا مگر یہ کہ اس کو توڑ دیا جائے گا۔ اور نہ ہی کسی آگ کو چھوڑا جائے گا مگر یہ کہ اس کو بجھا دیا جائے گا۔
(۳۳۶۵۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شَہِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَتْرُکُ لأَہْلِ فَارِسَ صَنَمًا إِلاَّ کُسِرَ ، وَلاَ نَارًا إِلاَّ أُطْفِئَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے اس کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہوگی
(٣٣٦٦٠) حضرت عوف (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عبید بن معمر (رض) کے پاس حاضر تھا کہ ایک آتش پرست کو لایا گیا جس نے بصرہ میں آتش کدہ بنایا تھا۔ آپ (رض) نے اس کی گردن اڑا دی۔
(۳۳۶۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ عَوْفَ قَالَ : شَہِدْت عَبْدَ اللہِ بْنَ عُبَیْدِ بْنِ مَعْمَرٍ أُتِیَ بِمَجُوسِیٍّ بَنَی بَیْتَ نَارٍ بِالْبَصْرَۃِ فَضَرَبَ عُنُقَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : یہودو نصاریٰ مسلمانوں کے ساتھ ایک شہر میں اکٹھے نہیں رہ سکتے
(٣٣٦٦١) حضرت سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے مرفوعاً حدیث بیان فرمائی کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو ۔
(۳۳۶۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَہُ ، قَالَ : أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِینَ مِنْ جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ۔ (بخاری ۳۰۵۳۔ مسلم ۱۲۵۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : یہودو نصاریٰ مسلمانوں کے ساتھ ایک شہر میں اکٹھے نہیں رہ سکتے
(٣٣٦٦٢) حضرت ابو عیبدہ بن جراح (رض) فرماتے ہیں کہ سب سے آخری کلام جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ یہ تھا کہ یہودیوں کو حجا ز کے علاقہ سے اور نجران کے عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دو ۔
(۳۳۶۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْمُونَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعدِ بْنِ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ : إنَّ آخِرَ کَلاَمُ تَکَلَّمَ بِہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ ، قَالَ : أَخْرِجُوا الْیَہُودَ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَأَہْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ۔ (احمد ۱۹۵۔ دارمی ۲۴۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : یہودو نصاریٰ مسلمانوں کے ساتھ ایک شہر میں اکٹھے نہیں رہ سکتے
(٣٣٦٦٣) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : یہود و نصاریٰ کو مدینہ میں تین دن سے زیادہ مت چھوڑو پس اتنی دیر کہ وہ اپنا سامان فروخت کردیں اور فرمایا : کہ جزیرہ عرب میں دو دین اکٹھے نہیں ہوسکتے۔
(۳۳۶۶۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لاَ تَتْرُکُوا الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی بِالْمَدِینَۃِ فَوْقَ ثَلاَثٍ قَدْرَ مَا یَبِیعُون سِلْعَتَہُمْ ، وَقَالَ : لاَ یَجْتَمِعُ دِینَانِ فِی جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : یہودو نصاریٰ مسلمانوں کے ساتھ ایک شہر میں اکٹھے نہیں رہ سکتے
(٣٣٦٦٤) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہود و نصاریٰ کے ساتھ اکٹھے مت رہو مگر یہ کہ وہ اسلام لے آئیں۔
(۳۳۶۶۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لاَ تُسَاکِنُوا الْیَہُودَ وَلا النَّصَارَی إِلاَّ أَنْ یُسْلِمُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : یہودو نصاریٰ مسلمانوں کے ساتھ ایک شہر میں اکٹھے نہیں رہ سکتے
(٣٣٦٦٥) حضرت ابن ابی ذئب (رض) فرماتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) کے زمانہ خلافت میں ان کے پاس حاضر تھے تو آپ (رض) نے ذمیوں کو مدینہ منورہ سے نکال دیا۔ اور ان کے غلاموں کو مسلمانوں کے ہاتھ فروخت کردیا۔
(۳۳۶۶۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ أَنَّہُ شَہِدَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی خِلاَفَتِہِ أَخْرَجَ أَہْلَ الذِّمَّۃِ مِنَ الْمَدِینَۃِ ، وَبَاعَ أَرِقَّائَہُمْ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : یہودو نصاریٰ مسلمانوں کے ساتھ ایک شہر میں اکٹھے نہیں رہ سکتے
(٣٣٦٦٦) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر میں زندہ رہا تو میں ضرور مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا۔ جب حضرت عمر (رض) کو خلافت ملی تو آپ (رض) نے ان کو جزیرہ عرب سے نکال دیا۔
(۳۳۶۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَئِنْ بَقِیت لأُخْرِجَنَّ الْمُشْرِکِینَ مِنْ جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ ، فَلَمَّا وَلِیَ عُمَرُ أَخْرَجَہُمْ۔

(مسلم ۱۳۸۸۔ ابوداؤد ۳۰۲۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : یہودو نصاریٰ مسلمانوں کے ساتھ ایک شہر میں اکٹھے نہیں رہ سکتے
(٣٣٦٦٧) حضرت ابو الزبیر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے جابر بن عبداللہ (رض) سے پوچھا : کیا آتش پرست حرم کی حدود میں داخل ہوسکتا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ہاں جو ہمارے اہل ذمہ ہیں وہ ہوسکتے ہیں۔
(۳۳۶۶۷) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، قَالَ : قلْنَا لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ : أَیَدْخُلُ الْمَجُوسُ الْحَرَمَ ، قَالَ : أَمَّا أَہْلُ ذِمَّتِنَا فَنَعَمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : یہودو نصاریٰ مسلمانوں کے ساتھ ایک شہر میں اکٹھے نہیں رہ سکتے
(٣٣٦٦٨) حضرت قیس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا پھر ارشاد فرمایا : خبردار میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرک کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
(۳۳۶۶۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَیْشًا ، ثُمَّ قَالَ : أَلاَ إنِّی بَرِیئٌ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ مُقِیمٍ مَعَ مُشْرِکَ ، لاَ تَتَرَاء ی نَارَاہُمَا۔ (ابوداؤد ۲۶۳۸۔ترمذی ۱۶۰۴)
tahqiq

তাহকীক: