মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭৮ টি
হাদীস নং: ৩৩৬৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے اہل ذمہ کی گردن میں مہر لگانے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٦٦٩) حضرت اسلم (رض) جو کہ حضرت عمر (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ذمیوں کی گردن میں مہر لگاتے تھے۔
(۳۳۶۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ کَانَ یَخْتِمُ فِی أَعْنَاقِہِمْ ، یَعْنِی أَہْلَ الذِّمَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے اہل ذمہ کی گردن میں مہر لگانے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٦٧٠) حضرت میمون بن مہران (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت حذیفہ بن یمان (رض) اور حضرت ابن حُنیف ان دونوں کو لشکر دے کر بھیجا۔ پس ان دونوں نے بستی والوں کو جزیہ پر رضامند کرلیا۔ اور دونوں نے فرمایا : بستی والوں میں سے جس شخص نے آکر اپنی گردن میں مہر نہ لگوائی تو اس سے اللہ کا ذمہ بری ہے۔
(۳۳۶۷۰) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَیْمُونُ بْنُ مِہْرَانَ ، قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ ، وَابْنَ حُنَیْفٍ فَفَلَجَا الْجِزْیَۃَ عَلَی أَہْلِ السَّوَادِ فَقَالاَ : مَنْ لَمْ یَجِئْ مِنْ أَہْلِ السَّوَادِ فَیُخْتِمُ فِی عُنُقِہِ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جس نے گھوڑے پر کسی کو سوار کرنا تھا پس اسے اس کی ضرورت پڑ گئی کیا وہ گھوڑے کو فروخت کر دے ؟
(٣٣٦٧١) حضرت ابو المنیہ (رض) فرماتے ہیں کہ اہل یمامہ میں سے ایک آدمی نے اللہ کے راستہ میں گھوڑے کی وصیت کی۔ پس میرا چچا زاد آگیا تو میں نے اس شخص سے کہا اس پر میرے بھائی کو سوار کردو۔ اس لیے کہ میرا بھائی نیک آدمی ہے۔ اس نے کہا : میں حضرت حسن بصری (رض) سے پوچھ لوں۔ اس نے حضرت حسن بصری (رض) سے پوچھا ؟ انھوں نے فرمایا : اس پر اس آدمی کو سوار کردو اور اس بارے میں تم بالکل پچھتاوا مت کرنا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت حسن بصری (رض) سے پوچھا : اگر وہ اس کا ضرورت مند ہو ؟ آپ (رض) نے فرمایا : کہ اس کو لشکر میں سے کسی کے ہاتھ فروخت کردو۔ اور اس کو ان غلاموں میں سے کسی کو مت دو ۔ ان میں سے کوئی اسے اپنے گھر والوں کے خرچ کے لیے چھوڑ دے گا۔
(۳۳۶۷۱) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِی الْمَنِیَّۃِ ، قَالَ : أَوْصَی رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ بِفَرَسٍ فِی سَبِیلِ اللہِ ، فَقَدِمَ ابْنُ عَمٍّ لِی ، فَقُلْتُ : أَحْمِلُ عَلَیْہِ أَخِی ، فَإِنَّ أَخِی رَجُلٌ صَالِحٌ ، قَالَ : حَتَّی أَسْأَلَ الْحَسَنَ ، فَسَأَلَ الْحَسَنَ ، فَقَالَ : احْمِلْ عَلَیْہِ رَجُلاً ، وَلاَ تَحَابی فِیہِ أَحَدًا ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : فَإِنْ أَحْتَاجُ إلَیْہِ ، قَالَ : فَلْیَبِعْہُ مِنَ الْجُنْدِ ، وَلاَ تُعْطِہِ ہَذِہِ الْمَوَالِیَ فَیَتْرُکُہُ أَحَدُہُمْ نَفَقَۃً لأَہْلِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دارالحرب سے آئے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟
(٣٣٦٧٢) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ (رض) نے اس شخص کے بارے میں جو دارالحرب سے آیا ہو یوں ارشاد فرمایا : یا تو اسے برقرار رکھا جائے یا پھر اسے محفوظ جگہ پہنچا دیا جائے۔
(۳۳۶۷۲) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَأْتِی مِنْ أَہْلِ الْحَرْبِ ، قَالَ : إمَّا أَنْ یُقِرَّہُ ، وَإِمَّا أَنْ یُبْلِغَہُ مَأْمَنَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو دارالحرب میں شادی کر لے
(٣٣٦٧٣) حضرت اشعث (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری (رض) مکروہ سمجھتے تھے اس بات کو کہ کوئی آدمی دارالحرب میں شادی کرلے اور پنے بچہ کو ان میں چھوڑ دے۔
(۳۳۶۷۳) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ فِی أَرْضِ الْحَرْبِ وَیَدْعُ وَلَدَہُ فِیہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا اس شخص کے بارے میں جس کو دارالحرب میں قید کر لیا گیا ہو کہ اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
(٣٣٦٧٤) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے پوچھا گیا اس ذمی شخص کے بارے میں جس کو مشرکین کی زمین میں پکڑ لیا گیا اس نے کہا : کہ میرا تمہارے خلاف ان کی مدد کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔۔۔ اور تحقیق ان لوگوں نے اس پر یہ شرط لگا دی کہ وہ مسلمانوں کے پاس نہیں آئے گا ؟ تو آپ (رض) نے اس کے قتل کو مکروہ سمجھا مگر گواہی کے ساتھ۔ راوی کہتے ہیں : کہ اس وقت بعض اہل علم نے حضرت عطائ (رض) سے فرمایا : جو چیز اس پر لازم تھی جب اس میں سے ایک چیز ختم کردی تو تحقیق صلح ختم ہوجائے گی۔
(۳۳۶۷۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَطَائٌ ، عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ یُؤْخَذُ فِی أَہْلِ الشِّرْک ، فَیَقُولُ : لَمْ أُرِدْ عَوْنَہُمْ عَلَیْکُمْ وَقَدِ اشْتَرَطُوا عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَأْتِیَہُمْ فَکَرِہَ قَتْلَہُ إِلاَّ بِبَیِّنَۃٍ ، قَالَ : وَقَالَ حِینَئِذٍ لِعَطَائٍ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ : إذَا نَقَضَ شَیْئًا وَاحِدًا مِمَّا عَلَیْہِ فَقَدْ نَقَضَ الصُّلْحَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا اس شخص کے بارے میں جس کو دارالحرب میں قید کر لیا گیا ہو کہ اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
(٣٣٦٧٥) حضرت ہشام (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری (رض) نے ذمیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا : جب وہ معاہدہ توڑ دیں تو ان کی اولاد پر کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔
(۳۳۶۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی أَہْلِ الذِّمَّۃِ إذَا نَقَضُوا الْعَہْدَ فَلَیْسَ عَلَی الذُّرِّیَّۃِ شَیْئٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مال غنیمت کے بارے میں یوں کہا کہ اس میں کنبہ دار کو کنوارے پر فضیلت دی جائے گی
(٣٣٦٧٦) حضرت عوف بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب مال فئی آتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی دن ہی اس کو تقسیم فرما دیتے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنبہ دار کو دو حصہ عطا فرماتے اور کنوارے کو ایک حصہ عطا فرماتے۔
(۳۳۶۷۶) حَدَّثَنَا یَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا جَائَ الْفَیْئُ قَسَمَہُ مِنْ یَوْمِہِ فَأَعْطَی الآہِلَ حَظَّیْنِ وَأَعْطَی الأَعْزَبَ حَظًّا۔ (ابوداؤد ۲۹۴۶۔ احمد ۲۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمرانوں کے بارے میں یوں کہا کہ وہ قاصد رکھیں پھر اس کے ذریعہ پیغام بھیجیں
(٣٣٦٧٧) حضرت قاسم (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قاصد کے ذریعے پیغام بھیجا کرتے تھے۔
(۳۳۶۷۷) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ صَدَقَۃِ بْنِ یَسَارٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُبْرِدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمرانوں کے بارے میں یوں کہا کہ وہ قاصد رکھیں پھر اس کے ذریعہ پیغام بھیجیں
(٣٣٦٧٨) حضرت طلحہ بن یحییٰ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا کرتے تھے ۔ آپ (رض) کے ایک غلام نے ڈاک کی سواری پر ایک شخص کو آپ کی اجازت کے بغیر سوار کردیا۔ آپ (رض) نے اس کو بلایا اور فرمایا : تو اس سے جدا مت ہو یہاں تک کہ اس کی قیمت ادا کر، پھر اس کی قیمت بیت المال میں ڈال دے۔
(۳۳۶۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَانَ یُبْرِدُ قَالَ : فَحَمَلَ مَوْلًی لَہُ رَجُلاً عَلَی الْبَرِیدِ بِغَیْرِ إذْنِہِ ، قَالَ : فَدَعَاہُ ، فَقَالَ : لاَ تبرح حَتَّی نُقَوِّمَہُ ، ثُمَّ تَجْعَلَہُ فِی بَیْتِ الْمَالِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمرانوں کے بارے میں یوں کہا کہ وہ قاصد رکھیں پھر اس کے ذریعہ پیغام بھیجیں
(٣٣٦٧٩) حضرت یحییٰ بن ابی کثیر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مقرر کردہ امیروں سے ارشاد فرمایا : جب تم میری طرف کسی قاصد کے ذریعہ ڈاک بھیجو تو تم لوگ خوبصورت چہرے والے اور خوبصورت نام والے کو بھیجو۔
(۳۳۶۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لأُمَرَائِہِ : إذَا أَبَرَدْتُمْ إلَیَّ بَرِیدًا فَأَبْرِدُوہُ حَسَنَ الْوَجْہِ حَسَنَ الاِسْمِ۔ (بزار ۱۹۸۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمرانوں کے بارے میں یوں کہا کہ وہ قاصد رکھیں پھر اس کے ذریعہ پیغام بھیجیں
(٣٣٦٨٠) حضرت ابو اسحاق (رض) کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ (رض) نے حضرت عبد الرحمن بن خالد (رض) کو خط لکھا کہ تم جریر کو پیغام دے کر میری طرف بھیجو۔ تو آپ (رض) نے ان کو بھیج دیا۔
(۳۳۶۸۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ کَتَبَ إلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ أَنِ احْمِلْ إلَیَّ جَرِیرًا عَلَی الْبَرِیدِ فَحَمَلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جن میں نیزہ ساز اور اس کے بنانے کا ذکر ہے
(٣٣٦٨١) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً اللہ تعالیٰ نے مجھے تلوار دے کر بھیجا ہے قیامت سے پہلے اور اللہ تعالیٰ نے میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے مقرر کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ذلت اور رسوائی مقدر کی ہے اس شخص کے نصیب میں جو میری مخالفت کرے گا۔ اور جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے تو وہ ان ہی میں سے ہوگا۔
(۳۳۶۸۱) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جَبَلَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّ اللَّہَ بَعَثَنِی بِالسَّیْفِ بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ ، وَجَعَلَ رِزْقِی تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِی ، وَجَعَلَ الذُّلَّ وَالصَّغَارَ عَلَی مَنْ خَالَفَنِی ، وَمَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جن میں نیزہ ساز اور اس کے بنانے کا ذکر ہے
(٣٣٦٨٢) حضرت طاؤس (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۳۳۶۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جَبَلَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جن میں نیزہ ساز اور اس کے بنانے کا ذکر ہے
(٣٣٦٨٣) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ میں جاتے تو اپنے ساتھ ایک نیزہ رکھتے۔ جب واپس لوٹتے تو اس کو پھینک دیتے تاکہ کوئی اسے ان کا سمجھ کر اٹھا لے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں ضرور بالضرور یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کروں گا اس پر انھوں نے فرمایا : تم ایسا مت کرنا۔ اس لیے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو گمشدہ چیز نہیں اٹھائی جائے گی۔
(۳۳۶۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ إذَا غَزَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَمَلَ مَعَہُ رُمْحًا ، فَإِذَا رَجَعَ طَرَحَہُ کَیْ یُحْمَلَ لَہُ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : لأَذْکُرَنَّ ہَذَا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّک إِنْ فَعَلْت لَمْ تُرْفَعْ ضَالَّۃً۔
(ابن ماجہ ۲۸۰۹۔ نسائی ۵۸۰۷)
(ابن ماجہ ۲۸۰۹۔ نسائی ۵۸۰۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جن میں نیزہ ساز اور اس کے بنانے کا ذکر ہے
(٣٣٦٨٤) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے حضرت براء بن مالک (رض) کو امیر بنانے کا ارادہ کیا تو آپ (رض) نے انکار کردیا اور حضرت براء بن مالک (رض) نے ان سے فرمایا : مجھے میری تلوار ، میری ڈھال اور میر انیزہ دے دو ۔
(۳۳۶۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَیْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : إنَّ أَبَا مُوسَی أَرَادَ أَنْ یَسْتَعْمِلَ الْبَرَائَ بْنَ مَالِکٍ فَأَبَی ، فَقَالَ لَہُ الْبَرَائُ بْنُ مَالِکٍ : أَعْطِنِی سَیْفِی وَتِرْسِی وَرُمْحِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جن میں نیزہ ساز اور اس کے بنانے کا ذکر ہے
(٣٣٦٨٥) حضرت اسماعیل بن امیہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نیزہ بھی لے جایا جاتا تھا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو سامنے رکھ کر نماز پڑھیں۔
(۳۳۶۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : إنَّمَا کَانَتِ الْحَرْبَۃُ تُحْمَلُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیُصَلِّیَ إلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جن میں نیزہ ساز اور اس کے بنانے کا ذکر ہے
(٣٣٦٨٦) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کو بصرہ کا امیر بنا کر بھیجا گیا تو ان کے ساتھ حضرت براء بن مالک (رض) کو بھی بھیجا گیا۔ اور یہ ان کے وزیروں میں سے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) ان سے فرمایا کرتے تھے ۔ تم بھی کوئی کام اختیار کرلو۔ اس پر حضرت برائ (رض) نے فرمایا : کیا جو عہدہ میں تم سے مانگوں گا وہ تم مجھے دو گے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جی ہاں ! انھوں نے فرمایا : بلاشبہ میں تم سے شہر کی نگرانی اور خراج کی وصول یابی کا عہدہ نہیں مانگتا لیکن تم مجھے میری کمان، میرا گھوڑا، میرا نیزہ اور میری تلوار دے دو ، اور مجھے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے چھوڑ دو پس آپ (رض) نے ان کو لشکر پر امیر بنا کر بھیج دیا تو یہ شہید ہونے والے سب سے پہلے شخص تھے۔
(۳۳۶۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَیْمٍ الزُّہْرِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ، قَالَ : لَمَّا بُعِثَ أَبُو مُوسَی عَلَی الْبَصْرَۃِ کَانَ مِمَّنْ بُعِثَ الْبَرَائُ بْنُ مَالِکٍ وَکَانَ مِنْ وَزرَائِہِ ، فَکَانَ یَقُولُ لَہُ : اخْتَرْ عَمَلاً ، فَقَالَ : الْبَرَائُ وَمُعْطِیَّ أَنْتَ مَا سَأَلْتُک ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا إنِّی لاَ أَسْأَلُک إمَارَۃَ مِصْرٍ ، وَلاَ جِبَایَۃَ خَرَاجٍ ، وَلَکِنْ أَعْطِنِی قَوْسِی وَفَرَسِی وَرُمْحِی وَسَیْفِی وَذَرْنِی إلَی الْجِہَادِ فِی سَبِیلِ اللہِ ، فَبَعَثَہُ عَلَی جَیْشٍ ، فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ قُتِلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جن میں نیزہ ساز اور اس کے بنانے کا ذکر ہے
(٣٣٦٨٧) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً اللہ رب العزت نے میرا رزق نیزے کے سائے کے نیچے مقرر کیا ہے۔ اور اللہ رب العزت نے ذلت اور رسوائی اس شخص کے مقدر کی ہے۔ جو میرے حکم کی مخالفت کرے گا، اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے تو وہ ان میں سے ہوگا۔
(۳۳۶۸۷) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ ، عَنْ أَبِی مُنِیبٍ الْجُرَشِیِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ اللَّہَ جَعَلَ رِزْقِی تَحْتَ ظل رُمْحِی وَجَعَلَ الذِّلَّۃَ وَالصَّغَارَ عَلَی مَنْ خَالَفَ أَمْرِی ، مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مال غنیمت کے بارے میں یوں کہا : کہ وہ لوگوں میں سے کس کے لیے ہو گا ؟
(٣٣٦٨٨) حضرت اسلم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اس مال فئی کے لیے لوگوں کو جمع کرو یہاں تک کہ میں اس بارے میں غور و فکر کروں بیشک میں نے کتاب اللہ کی چند آیات پڑھی ہیں جنہوں نے مجھے اس معاملہ میں مستغنی کردیا ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ : ترجمہ : جو کچھ پلٹا دے اللہ اپنے رسول کی طرف بستیوں کے لوگوں سے سو وہ ہے اللہ کا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رشتہ داروں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے۔ یہاں تک کہ آپ (رض) نے آیت کے آخر تک تلاوت فرمائی۔ بلاشبہ اللہ بہت سخت ہے سزا دینے میں۔ آپ (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ مال صرف ان اکیلوں کا نہیں ہے پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ : ( نیز وہ مال) ان مفلس مہاجروں کے لیے ہے جو نکال باہر کیے گئے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنی جائیدادوں سے جو فضل تلاش کرتے ہیں اللہ کا اور اس کی خوشنودی ۔۔۔ اور مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی۔ یہی لوگ سچے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ مال صرف ان لوگوں کے لیے بھی نہیں پھر آپ (رض) نے اس آیت کی بھی تلاوت فرمائی : ترجمہ : اور یہ ( مال) ان کے لیے بھی ہے جو آئیں گے ان کے بعد۔ آخر آیت تک آپ (رض) نے تلاوت فرمائی۔
(۳۳۶۸۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : اجْتَمِعُوا لِہَذَا الْفَیْئِ حَتَّی نَنْظُرَ فِیہِ ، فَإِنِّی قَرَأْت آیَاتٍ مِنْ کِتَابِ اللہِ اسْتَغْنَیْت بِہَا ، قَالَ اللَّہُ : {مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُرَی فَلِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ} إلَی قَوْلِہِ : {إنَّ اللَّہَ شَدِیدُ الْعِقَابِ} وَاللہِ مَا ہُوَ لِہَؤُلاَئِ وَحْدَہُمْ ، ثُمَّ قَرَأَ : {لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ} إلَی قَوْلِہِ {ہُمُ الصَّادِقُونَ} وَاللہِ مَا ہُوَ لِہَؤُلاَئِ وَحْدَہُمْ ، ثُمَّ قَرَأَ : {وَالَّذِینَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ} إلَی آخِرِ الآیَۃِ۔
তাহকীক: