মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৬৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مال غنیمت کے بارے میں یوں کہا : کہ وہ لوگوں میں سے کس کے لیے ہو گا ؟
(٣٣٦٨٩) حضرت سدی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے مال پایا تو ان تین قسم کے لوگوں کے درمیان وہ تقسیم کردیا جائے گا، مہاجرین ، انصار، اور جو لوگ ان کے بعد آئیں گے۔
(۳۳۶۸۹) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ السُّدِّیِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : وَجَدْت الْمَالَ قُسِمَ بَیْنَ ہَذِہِ الثَّلاَثَۃِ الأَصْنَافِ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَالَّذِینَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مال غنیمت کے بارے میں یوں کہا : کہ وہ لوگوں میں سے کس کے لیے ہو گا ؟
(٣٣٦٩٠) حضرت حسن بصری (رض) سے بھی مذکورہ ارشاد اس سند سے منقول ہے۔
(۳۳۶۹۰) حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنِ السُّدِّیِّ ، عَنِ الْحَسَنِ مِثْلَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب کوئی قلعہ فتح ہو جائے تو وہ اس میں اقامت اختیار کرے
(٣٣٦٩١) حضرت ابو طلحہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی قوم پر فتح حاصل کرلیتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی کشادہ جگہ میں تین دن ٹھہرنے کو پسند کرتے تھے۔
(۳۳۶۹۱) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ یُقِیمَ بِعَرْصَتِہِمْ ثَلاَثًا۔(احمد ۲۹۔ دارمی ۲۴۵۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب کوئی قلعہ فتح ہو جائے تو وہ اس میں اقامت اختیار کرے
(٣٣٦٩٢) حضرت ابو طلحہ (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۳۳۶۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِہِ۔ (مسلم ۲۲۰۴۔ ابن ابی عاصم ۱۸۹۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس آدمی کے بارے میں جو دشمن کے علاقہ میں کوئی کام کرتا ہو
(٣٣٦٩٣) حضرت خالد بن أبی عمران (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد (رض) اور حضرت سالم بن عبداللہ ان دونوں حضرات سے پوچھا : کہ ہمارا ایک غلام ہے جو دشمن کے علاقہ میں کمہار کا کام کرتا ہے۔ پھر ان برتنوں کو فروخت کرتا ہے اور اس کے پاس کافی مال جمع ہوجاتا ہے تو وہ ہم پر بھی اس میں سے خرچ کرتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(۳۳۶۹۳) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی عِمْرَانَ ، قَالَ : قلْت لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ : إنَّ لَنَا غُلاَمًا یَعْمَلُ الْفَخَّارَ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ ، ثُمَّ یَبِیعُ فَتَجْتَمِعُ لہ النَّفَقَۃُ وَیُنْفِقُ عَلَیْنَا ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس آدمی کے بارے میں جو دشمن کے علاقہ میں کوئی کام کرتا ہو
(٣٣٦٩٤) حضرت خالد بن ابی عمران (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد (رض) اور حضرت سالم بن عبداللہ (رض) ان دونوں حضرات سے پوچھا : ہم میں سے ایک آدمی جو دشمن کے علاقہ میں ہوتا ہے پس وہ مچھلیاں شکار کرتا ہے اور ان کو فروخت کرتا ہے۔ پھر اس کے پاس بہت درہم جمع ہوجاتے ہیں۔ ان کا کیا حکم ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
(۳۳۶۹۴) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی عِمْرَانَ ، قَالَ : قلْت لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ : الرَّجُلُ یَکُونُ مِنَّا فِی أَرْضِ الْعَدُوِّ فَیَصِیدُ الْحِیتَانَ وَیَبِیعُ فَتَجْتَمِعُ لَہُ الدَّرَاہِمُ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٦٩٥) حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر سے حاصل ہونے والی زمینوں میں سے ایک ٹکڑا جس میں کھجور کے درخت اور دوسرے درخت تھے بانٹ دی اور حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) نے بھی بانٹ دی۔
(۳۳۶۹۵) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَقْطَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ بَنِی النَّضِیرِ فِیہَا نَخْلٌ وَشُجَیْرٌ ، وَأَقْطَعَ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٦٩٦) حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کی زمینوں میں سے ایک زمین کا حضرت زبیر (رض) کو مالک بنادیا ۔ اس زمین میں کھجور کے درخت بھی تھے ۔ اور حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت زبیر (رض) کو دریا کے کنارے زمین کا مالک بنایا۔ اور حضرت عمر (رض) نے ان کو ایک پوری وادی کا مالک بنایا۔
(۳۳۶۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ نُمَیْرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَیْرَ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ بَنِی النَّضِیرِ فِیہَا نَخْلٌ ، وَأَنَّ أَبَا بَکْرٍ أَقْطَعَ الزُّبَیْرَ الْجَرْفَ ، وَأَنَّ عُمَرَ أَقْطَعَہُ الْعَقِیقَ أَجْمَعَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٦٩٧) حضرت عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر (رض) کو کھجور کے درختوں والی زمین کا مالک بنایا۔
(۳۳۶۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَیْرَ أَرْضًا فِیہَا نَخْلٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٦٩٨) حضرت ابراہیم بن مہاجر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت موسیٰ بن طلحہ (رض) سے پوچھا تو آپ (رض) نے مجھے بیان فرمایا کہ حضرت عثمان (رض) نے حضرت خباب (رض) کو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو حضرت سعد (رض) کو اور حضرت صہیب (رض) کو الگ الگ زمینوں کا مالک بنایا۔
(۳۳۶۹۸) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُوسَی بْنَ طَلْحَۃَ فَحَدَّثَنِی أَنَّ عُثْمَانَ أَقْطَعَ خَبَّابًا أَرْضًا وَعَبد اللہ أَرْضًا وَسَعْدًا أَرْضًا وَصُہَیْبًا أَرْضًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٦٩٩) حضرت موسیٰ بن طلحہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) میں سے پانچ اشخاص کو زمین دی ان میں حضرت ابن مسعود (رض) ، حضرت سعد (رض) ، حضرت زبیر (رض) ، حضرت خباب (رض) اور حضرت اسامہ بن زید (رض) شامل ہیں۔
(۳۳۶۹۹) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَۃَ أَنَّ عُثْمَانَ أَقْطَعَ خَمْسَۃً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ابْنَ مَسْعُودٍ وَسَعْدًا وَالزُّبَیْرَ وَخَبَّابًا وَأُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٧٠٠) حضرت جعفر (رض) کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) کو ایک چشمہ کا مالک بنایا اور اس کے علاوہ مزید اضافہ بھی فرما دیا۔
(۳۳۷۰۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ أَقْطَعَ عَلِیًّا یَنْبُعَ وَأَضَافَ إلَیْہَا غَیْرَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٧٠١) حضرت محمد بن عبید اللہ الثقفی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک شخص آیا جس کا نام نافع ابو عبداللہ تھا ۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے بصرہ کی بےآب وگیاہ وادی کو چراگاہ بنایا۔ اس نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! ہماری طرف بصرہ میں ایک زمین ہے جو خراج کی زمین نہیں ہے اور نہ وہ مسلمانوں میں کسی کو نقصان پہنچائے گی اگر آپ مناسب سمجھیں تو وہ میرے نام کردیں میں اس میں اپنے گھوڑوں کے لیے گھاس اُگاؤں گا۔ آپ (رض) ایسا کردیں۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو موسیٰ (رض) کو خط لکھا۔ اگر بات ایسے ہی ہے جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ تو تم وہ زمین اس کے نام کردو۔
(۳۳۷۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ الثَّقَفِیِّ، قَالَ: أَتَی عُمَرَ رَجُلٌ مِنْ ثَقِیفٍ، یُقَالَ لَہُ : نَافِعٌ أَبُو عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : فَکَانَ أَوَّلَ مِنَ افْتَلَی الْفَلاَ بِالْبَصْرَۃِ ، قَالَ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنْ قِبَلَنَا أَرْضًا بِالْبَصْرَۃِ لَیْسَتْ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ ، وَلاَ تَضُرُّ بِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَإِنْ رَأَیْت أَنْ تُقْطِعَنِیہَا أَتَّخِذُہَا قَضْبًا لِخَیْلِی فَافْعَلْ ، قَالَ : فَکَتَبَ عُمَرُ إلَی أَبِی مُوسَی : إِنْ کَانَ کَمَا قَالَ فَأَقْطِعْہَا إیَّاہُ۔ (ابوعبید ۶۸۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٧٠٢) حضرت ابن عون (رض) فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو زریق کے ایک شخص نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت طلحہ (رض) کے نام ایک زمین کردی اور ان کے لیے اس بارے میں ایک تحریر بھی لکھ دی اور اس پر گواہ بھی بنا دیے جن میں حضرت عمر بھی شامل تھے۔ حضرت طلحہ (رض) تحریر لے کر حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور کہا : اس پر مہر لگا دو ۔ آپ (رض) نے فرمایا : میں اس پر مہر نہیں لگاؤں گا ۔ کیا یہ لوگوں کو چھوڑ کر صرف تیرے لیے ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت طلحہ (رض) چلے گئے اس حال میں کہ وہ بہت غصہ میں تھے ۔ پس وہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ تم خلیفہ ہو یا عمر ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! بلکہ عمر (رض) نے تو صرف انکار کیا ہے !
(۳۳۷۰۲) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی زُرَیْقٍ ، قَالَ : أَقْطَعَ أَبُو بَکْرٍ طَلْحَۃَ أَرْضًا وَکَتَبَ لَہُ بِہَا کِتَابًا وَأَشْہَدَ بِہِ شُہُودًا فیہم عُمَرُ ، فَأَتَی طَلْحَۃَ عُمَرُ بِالْکِتَابِ ، فَقَالَ : اخْتِمْ عَلَی ہَذَا ، قَالَ : لاَ أَخْتِمُ عَلَیْہِ ، ہَذَا لَکَ دُونَ النَّاسِ قَالَ : فَانْطَلَقَ طَلْحَۃُ وَہُوَ مُغْضَبٌ ، فَأَتَی أَبَا بَکْرٍ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا أَدْرِی أَنْتَ الْخَلِیفَۃُ ، أَوْ عُمَرُ ، قَالَ : لاَ بَلْ عُمَرُ لَکِنَّہُ أَبَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٧٠٣) حضرت جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو فقیرین مقام پر زمین اور قیس کا کنواں اور درخت کا مالک بنایا۔
(۳۳۷۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ عَلِیًّا الفقیرین ، وبئر قَیْسٌ ، وَالشَّجَرَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٧٠٤) حضرت یحییٰ بن قیس (رض) ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ ابیض بن حمّال نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مارب کے مقام میں ایک کھارا کنواں مانگا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ کنواں ان کو دینے کا ارادہ فرما لیا۔ اتنے میں ایک صحابی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ وہ تو جاری پانی کی طرح ہے جو مسلسل چلتا ہے۔ تو آپ (رض) نے وہ جگہ دینے سے انکار فرما دیا۔
(۳۳۷۰۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ قَیْسٍ الْمَأْرِبِیِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبْیَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّہُ اسْتَقْطَعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمِلْحَ الَّذِی بِمَأْرِبَ ، فَأَرَادَ أَنْ یُقْطِعَہُ ، فَقَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّہُ کَالْمَائِ الْعِدِّ فَأَبَی أَنْ یُقْطِعَہُ۔ (بخاری ۱۶۸۲۔ ابوداؤد ۳۰۵۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٧٠٥) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عامر (رض) نے ارشاد فرمایا : نہ ابوبکر (رض) نے زمینیں دیں نہ حضرت عمر (رض) نے اور نہ ہی حضرت علی (رض) نے، سب سے پہلے جس نے زمینوں کا مالک بنایا وہ حضرت عثمان تھے۔ حضرت عثمان (رض) کے زمانہ خلافت میں زمینیں فروخت کی گئیں۔
(۳۳۷۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : لَمْ یُقْطِعْ أَبُو بَکْرٍ ، وَلاَ عُمَرُ ، وَلاَ عَلِی ، وَأَوَّلُ مَنْ أَقْطَعَ الْقَطَائِعَ عُثْمَان ، وَبِیعَتْ أَرَضُونَ فِی إمَارَۃِ عُثْمَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے حکمران کے بارے میں یوں کہا : کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا ؟
(٣٣٧٠٦) حضرت عبیدہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن ان دونوں کو زمین دی۔ اور ان دونوں کے لیے ایک تحریر بھی لکھ دی۔
(۳۳۷۰۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عَبِیْدَۃَ ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ أَقْطَعَ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ وَعُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنٍ أرضا ، وَکَتَبَ لہما عَلَیْہَا کِتَابًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو زمین کو منتخب کرنے کے بارے میں ذکر کی گئیں اور جس شخص نے یہ کام کیا
(٣٣٧٠٧) حضرت ابو حرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سواد کی زمینوں میں سے دس زمینیں چن لیں اور فرمایا : میں نے سات کو تو شمار کرلیا اور تین کو میں بھول گیا : قلعیں، وہ زمینیں جہاں پانی کی کمی ہے۔ کسریٰ کی زمین، آلِ کسریٰ کی زمین ، ڈاک کی عمارت ، ان لوگوں کی زمین ، جو معرکہ میں شہید ہوگئے، اور جنگ میں بھاگنے والوں کی زمین۔۔۔

راوی کہتے ہیں : اسی طرح مرنے کے بعد یہ دیوان مسلسل چلتا رہا یہاں تک کہ حجاج نے دیوان کو جلا دیا۔ اور ہر شخص نے اپنے قریب کی جگہ لے لی۔
(۳۳۷۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْوَلِیدِ الْمُزَنِیّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی رَجُلٌ کَانَ أَبُوہُ أَخْبَرَ النَّاسَ بِہَذَا السَّوَادِ ، یُقَالَ لَہُ : عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی حَرَّۃَ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اصْطَفَی عَشْرَ أَرَضِینَ مِنْ أَرْضِ السَّوَادِ ، قَالَ : أَحْصَیْت سَبْعًا وَنَسِیت ثَلاَثًا : الآجَامُ ، ومَغِیضُ الْمَائِ ، وَأَرْضُ آل کِسْرَی ، وَدَیْرُ الْبَرِید ، وَأَرْضُ مَنْ قُتِلَ فِی الْمَعْرَکَۃِ ، وَأَرْضُ مَنْ ہَرَبَ ، قَالَ : فَلَمْ تَزَلْ فِی الدِّیوَانِ کَذَلِکَ صافیۃ حَتَّی أَحْرَقَ الدِّیوَانَ الْحَجَّاجُ ، فَأَخَذَ کُلُّ قَوْمٍ مَا یَلِیہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧٠٨) حضرت حسن بصری (رض) فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب کے جاسوسوں نے مسلمانوں کے دو آدمیوں کو پکڑ لیا اور وہ ان دونوں کو مسیلمہ کذاب کے پاس لے گئے۔ اس نے ان دونوں میں سے ایک کو کہا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! اس نے پھر پوچھا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! اس نے پوچھا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ان صحابی نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ میں تو بہرا ہوں۔ مسیلمہ کذاب نے کہا : تجھے کیا مصیبت ہے جب میں تجھ سے پوچھتا ہوں کہ تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو تو کہتا ہے کہ میں بہرا ہوں ؟ پس اس نے حکم دیا اور ان صحابی کو قتل کردیا گیا۔ مسیلمہ کذاب نے دوسرے شخص سے کہا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! اس نے پھر پوچھا : کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! پس اس نے اس ان کو چھوڑ دیا : یہ شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! میں ہلاک ہوگیا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا ہوا ؟ انھوں نے اپنا اور اپنے ساتھی کا واقعہ بیان کیا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہرحال تیرا ساتھی تو ایمان کی حالت میں مرا ، اور رہے تم تو تم نے رخصت پر عمل کیا۔
(۳۳۷۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُیُونًا لِمُسَیْلِمَۃَ أَخَذُوا رَجُلَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَأَتَوْہُ بِہِمَا ، فَقَالَ لأَحَدِہِمَا : أَتَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : أَتَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ؟ قَالَ : فَأَہْوَی إلَی أُذُنَیْہِ ، فَقَالَ : إنِّی أَصَمُّ ، قَالَ : مَا لَکَ إذَا قُلْتُ لَکَ : تَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ، قُلْتُ إنِّی أَصَمُ ، فَأَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ ، وَقَالَ لِلآخَرِ : أَتَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَرْسَلَہُ ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ : ہَلَکْت ، قَالَ : وَمَا شَأْنُک فَأَخْبَرُوہُ بِقِصَّتِہِ وَقِصَّۃِ صَاحِبِہِ ، فَقَالَ : أَمَّا صَاحِبُک فَمَضَی عَلَی إیمَانِہِ ، وَأَمَّا أَنْتَ فَأَخَذْتَ بِالرُّخْصَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক: