মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭৮ টি
হাদীস নং: ৩৩৭০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧٠٩) حضرت طارق بن شھاب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان (رض) نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور ایک آدمی مکھی ہی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگیا۔ اس طرح کہ دو آدمی ایک قوم کے پاس سے گزرے جو اپنے بتوں کی عبادت میں مشغول تھی انھوں نے کہا آج ہم پر کوئی نہیں گزرے گا مگر یہ کہ وہ کچھ نہ کچھ پیش کرے گا ، تو انھوں نے ان دونوں میں سے ایک سے کہا : کوئی چیز پیش کرو۔ اس نے انکار کردیا تو اسے قتل کردیا گیا۔ انھوں نے دوسرے سے کہا : کوئی چیز پیش کرو، وہ کہنے لگا، میرے پاس تو کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ انھوں نے کہا پیش کرو اگرچہ مکھی ہی ہو۔ اس آدمی نے دل میں کہا : کہ صرف مکھی پیش کروں ؟ اور اس نے مکھی پیش کردی پس یہ شخص جہنم میں داخل ہوگیا۔ اس پر حضرت سلمان (رض) نے فرمایا : یہ شخص مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور یہ شخص مکھی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگیا۔
(۳۳۷۰۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ خَلِیفَۃَ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّۃَ فِی ذُبَابٍ وَدَخَلَ رَجُلٌ النَّارَ فِی ذُبَابٍ ، مَرَّ رَجُلاَنِ عَلَی قَوْمٍ قَدْ عَکَفُوا عَلَی صَنَمٍ لَہُمْ وَقَالُوا : لاَ یَمُرُّ عَلَیْنَا الْیَوْمَ أَحَدٌ إِلاَّ قَدَّمَ شَیْئًا ، فَقَالُوا لأَحَدِہِمَا : قَدِّمْ شَیْئًا ، فَأَبَی فَقُتِلَ ، وَقَالُوا : لِلآخَرِ : قَدِّمْ شَیْئًا ، فَقَالُوا : قَدِّمْ وَلَوْ ذُبَابًا ، فَقَالَ : وَأَیْشٍ ذُبَابٌ ، فَقَدَّمَ ذُبَابًا فَدَخَلَ النَّارَ ، فَقَالَ سَلْمَانُ : فَہَذَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ فِی ذُبَابٍ ، وَدَخَلَ ہَذَا النَّارَ فِی ذُبَابٍ۔ (بیہقی ۷۳۴۳۔ ابو نعیم ۲۰۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧١٠) حضرت قیس بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء (رض) نے ارشاد فرمایا اس شخص کے بارے میں جس کو دشمن نے پکڑ لیا اور اس کو شراب پینے اور خنزیر کھانے پر مجبور کیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : اگر وہ خنزیر کھاتا ہے اور شراب پی لیتا ہے۔ تو یہ رخصت ہے۔ اور اگر اسے قتل کردیا جاتا ہے تو اس نے بھلائی کو پا لیا۔
(۳۳۷۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَائٍ فِی رَجُلٍ أَخَذَہُ الْعَدُوُّ فَأَکْرَہُوہُ عَلَی شُرْبِ الْخَمْرِ وَأَکْلِ الْخِنْزِیرِ ، قَالَ : إِنْ أَکَلَ وَشَرِبَ فَرُخْصَۃٌ ، وَإِنْ قُتِلَ أَصَابَ خَیْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧١١) حضرت برد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول (رض) نے ارشاد فرمایا : شراب پینے میں رخصت نہیں ہے اس لیے کہ یہ کبھی سیراب نہیں کرتی۔
(۳۳۷۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ مَکْحُولٍ، قَالَ: لَیْسَ فِی الْخَمْرِ رُخْصَۃٌ لأَنَّہَا لاَ تَرْوِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧١٢) حضرت عمر بن عطیہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ تقیہ حلال نہیں ہے مگر اس طرح جیسا کہ مردار مجبور کے لیے حلال ہے۔
(۳۳۷۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطِیَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ یَقُولُ : التَّقِیَّۃُ لاَ تَحِلُّ إِلاَّ کَمَا تَحِلُّ الْمَیْتَۃُ لِلْمُضْطَرِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧١٣) حضرت عوف (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری (رض) نے ارشاد فرمایا : تقیہ کرنا مومن کے لیے قیامت کے دن تک جائز ہے مگر یہ کہ وہ کسی کو قتل کرنے میں تقیہ نہیں کرسکتا۔
(۳۳۷۱۳) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : التَّقِیَّۃُ جَائِزَۃٌ لِلْمُؤْمِنِ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَجْعَلُ فِی الْقَتْلِ تَقِیَّۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧١٤) حضرت ابن جریج (رض) ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا : تقیہ کرنا زبان سے ہوتا ہے ہاتھ سے نہیں۔
(۳۳۷۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : التَّقِیَّۃُ إنَّمَا ہِیَ بِاللِّسَانِ لَیْسَتْ بِالْیَدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧١٥) حضرت ربیع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا : ترجمہ : مگر یہ کہ تم بچنا چاہو ان کے شر سے کسی قسم کا بچنا۔ کہ تقیہ کرنا زبان سے ہوتا ہے عمل سے نہیں۔
(۳۳۷۱۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ (إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْہُمْ تُقَاۃً) ، قَالَ : التَّقِیَّۃُ بِاللِّسَانِ وَلَیْسَ بِالْعَمَلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧١٦) حضرت عبد الاعلیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن حنفیہ (رض) نے ارشاد فرمایا : جو تقیہ نہیں کرتا اس کا ایمان کامل نہیں۔
(۳۳۷۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : سَمِعْتہ یَقُولُ : لاَ إیمَانَ لِمَنْ لاَ تَقِیَّۃَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧١٧) حضرت حارث بن سوید (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کوئی کلام ایسا نہیں ے جو میں کسی بادشاہ کے سامنے کروں اور وہ مجھے اس کے ایک دو کوڑوں سے بچا سکتا تو میں ضرور وہ کلام کروں گا۔
(۳۳۷۱۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْد ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : مَا مِنْ کَلاَمٍ أَتَکَلَّمُ بِہِ بَیْنَ یَدَیْ سُلْطَانٍ یَدْرَأُ عَنِّی بِہِ مَا بَیْنَ سَوْطٍ إلَی سَوْطَیْنِ إِلاَّ کُنْتُ مُتَکَلِّمًا بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧١٨) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر (رض) نے ارشاد فرمایا : تقیہ تو آسمان اور زمین کے مابین خلاجتنی وسعت رکھتا ہے۔
(۳۳۷۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : التَّقِیَّۃُ أَوْسَعُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ إلَی الأَرْضِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧١٩) حضرت فضیل بن مرزوق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت الحسن بن الحسن (رض) نے ارشاد فرمایا : یقیناً تقیہ کرنا تو رخصت ہے۔ افضل تو اللہ کے حکم پر قائم رہنا ہے۔
(۳۳۷۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ ، قَالَ : إنَّمَا التَّقِیَّۃُ رُخْصَۃٌ ، وَالْفَضْلُ الْقِیَامُ بِأَمْرِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧٢٠) حضرت ابو قلابہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ یقیناً میں نے اپنے دین کے بعض حصہ کو بعض حصہ کے عوض خرید لیا اس خوف سے کہ دین سارا ہی نہ چلا جائے۔
(۳۳۷۲۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : إنِّی أَشْتَرِی دِینِی بَعْضَہُ بِبَعْضٍ مَخَافَۃَ أَنْ یَذْہَبَ کُلُّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان مشرکین کا بیان جو مسلمانوں کو ناجائز بات کی طرف بلاتے ہیں۔ کیا وہ اس کا جواب دیں اس حال میں کہ ان کو مجبور کیا جا رہا ہو ؟
(٣٣٧٢١) حضرت نزال بن سبرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) اور حضرت حذیفہ (رض) ددونوں حضرات حضرت عثمان (رض) کے پاس داخل ہوئے۔ حضرت عثمان (رض) نے حضرت حذیفہ (رض) سے پوچھا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے اس طرح اور اس طرح کہا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں اللہ کی قسم ! میں نے ایسا نہیں کہا : جب حضرت عثمان (رض) چلے گئے تو حضرت عبداللہ نے ان سے کہا : انھوں نے آپ (رض) سے سوال کیا اور میں نے جو آپ کو بات کرتے ہوئے سنا تھا آپ (رض) نے اس کا اقرار ہی نہیں کیا ؟ انھوں نے فرمایا : یقیناً میں نے اپنے دین کے بعض حصہ کو بعض حصے کے ساتھ خرید لیا اس خوف سے کہ دین سارا ہی نہ چلا جائے۔
(۳۳۷۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَحُذَیْفَۃُ عَلَی عُثْمَانَ ، فَقَالَ عُثْمَان لِحُذَیْفَۃَ : بَلَغَنِی أَنَّک قُلْتَ کَذَا وَکَذَا ، قَالَ : لاَ وَاللہِ مَا قُلْتہ ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ : سألک فَلَمْ تقر لہ ما سَمِعَتُکَ تَقُولُ ، فقَالَ : إنِّی أَشْتَرِی دِینِی بَعْضَہُ بِبَعْضٍ مَخَافَۃَ أَنْ یَذْہَبَ کُلُّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کنوارے کے بارے میں یوں کہا کہ اسے جہاد کے لیے بھیجا جائے گا اور شادی شدہ کو چھوڑ دیا جائے گا
(٣٣٧٢٢) حضرت ابو مجلز (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کنوارے کو جہاد پر بھیجتے تھے اور مقیم سے گھوڑا لے کر مسافر کو دے دیا کرتے تھے۔
(۳۳۷۲۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ یُغْزِی الْعَزَبَ وَیَأْخُذُ فَرَسَ الْمُقِیمِ فَیُعْطِیہ الْمُسَافِرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے جانوروں پر نشان لگانے کا بیان
(٣٣٧٢٣) حضرت محمد بن عبید اللہ ثقفی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس کوفہ میں مویشی باندھنے کی جگہ میں چار ہزار گھوڑے تھے۔ سب کی رانوں پر اللہ کے راستہ میں وقف ہونے کا نشان لگا ہوا تھا۔ اگر کسی آدمی کی سالانہ تنخواہ کا کوئی حق ہوتا یا کوئی ضرورت مند ہوتا تو آپ (رض) اس کو گھوڑا دے دیتے۔ پھر فرماتے : اگر تو نے اس کو بھگا بھگا کر عاجز کردیا یا تو نے اس کے چارہ کی وجہ سے ضائع کردیا تو تم اس کے ضامن ہو گے۔ اور اگر تم نے اس پر قتال کیا پس یہ مرگیا یا تم مرگئے۔ تو تم پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔
(۳۳۷۲۳) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ أَبِی سَعد ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ الثَّقَفِیِّ ، قَالَ : کَانَ لِعُمَرَ أَرْبَعَۃُ آلاَفِ فَرَسٍ عَلَی آرِیّ بِالْکُوفَۃِ مَوْسُومَۃً عَلَی أَفْخَاذِہَا فِی سَبِیلِ اللہِ فَإِنْ کَانَ فِی عَطَائِ الرَّجُلِ حَقُّہُ ، أَوْ کَانَ مُحْتَاجًا أَعْطَاہُ الْفَرَسَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ أَجْرَیْتہ فَأَعْیَیْتہ ، أَوْ ضَیَّعْتہ مِنْ عَلَفٍ فَأَنْتَ ضَامِنٌ ، وَإِنْ قَاتَلْت عَلَیْہِ فَأُصِیبَ ، أَوْ أُصِبْت فَلَیْسَ عَلَیْک شَیْئٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتال کرنے سے قبل مشرکین کو دعوت دینے کا بیان
(٣٣٧٢٤) حضرت ابو البختری (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت سلمان (رض) فارسی اہل فارس کے مشرکین سے جنگ کرنے کے لیے نکلے تو آپ (رض) نے فرمایا : تم رک جاؤ یہاں تک کہ میں ان کو دعوت دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت دیتے ہوئے سنا ہے۔ آپ (رض) ان کے پاس آئے اور فرمایا : بلاشبہ میں تم ہی میں سے ایک آدمی ہوں اور تحقیق تم لوگوں نے اس قوم میں میرے رتبہ کو دیکھ لیا ہے۔ یقیناً ہم تمہیں اسلام کی طرف بلاتے ہیں اگر تم نے اسلام قبول کرلیا تو تمہارے لیے بھی وہی حقوق ہوں گے جو ہمیں حاصل ہیں اور تم پر وہی کچھ لازم ہوگا جو ہم پر لازم ہے۔ اور اگر تم اسلام قبول کرنے سے انکار کرتے ہو تو پھر تم ذلیل اور سرنگوں ہو کر جزیہ ادا کرو۔ اور اگر تم نے جزیہ ادا کرنے سے بھی انکار کردیا تو ہم تم سے قتال کریں گے۔ ان لوگوں نے جواب دیا۔ بہرحال اسلام تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ اور جزیہ بھی ہم ادا نہیں کریں گے ۔ رہا قتال تو ہم یقیناً تمہارے ساتھ قتال و لڑائی کریں گے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (رض) نے اسی طرح تین دن تک انھیں دعوت دی۔ اور انھوں نے قبول کرنے سے انکار کیا۔ تو آپ (رض) نے لوگوں سے کہا : ان پر حملہ کردو۔
حدثنا أبو عبد الرحمن بقی بن مخلد قَالَ حدثنا عبد اللہ بن محمد بن أبی شیبۃ قَالَ :
(۳۳۷۲۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، قَالَ : لَمَّا غَزَا سَلْمَانُ الْمُشْرِکِینَ مِنْ أَہْلِ فَارِسَ ، قَالَ : کُفُّوا حَتَّی أَدْعُوَہُمْ کَمَا کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُوہُمْ فَأَتَاہُمْ ، فَقَالَ : إنِّی رَجُلٌ مِنْکُمْ وَقَدْ تَرَوْنَ مَنْزِلَتِی مِنْ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ وَإِنَّا نَدْعُوکُمْ إلَی الإِسْلاَمِ ، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ فَلَکُمْ مِثْلُ مَا لَنَا وَعَلَیْکُمْ مِثْلُ مَا عَلَیْنَا ، وَإِنْ أَبَیْتُمْ فَأَعْطُوا الْجِزْیَۃَ ، عَنْ یَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ ، وَإِنْ أَبَیْتُمْ قَاتَلْنَاکُمْ ، قَالُوا : أَمَّا الإِسْلاَمُ فَلاَ نُسْلِمُ ، وَأَمَّا الْجِزْیَۃُ فَلاَ نُعْطِیہَا ، وَأَمَّا الْقِتَالُ فَإِنَّا نُقَاتِلُکُمْ ، قَالَ: فَدَعَاہُمْ کذَلِکَ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَأَبَوْا عَلَیْہِ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : انْہَدُوا إلَیْہِمْ۔
(۳۳۷۲۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، قَالَ : لَمَّا غَزَا سَلْمَانُ الْمُشْرِکِینَ مِنْ أَہْلِ فَارِسَ ، قَالَ : کُفُّوا حَتَّی أَدْعُوَہُمْ کَمَا کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُوہُمْ فَأَتَاہُمْ ، فَقَالَ : إنِّی رَجُلٌ مِنْکُمْ وَقَدْ تَرَوْنَ مَنْزِلَتِی مِنْ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ وَإِنَّا نَدْعُوکُمْ إلَی الإِسْلاَمِ ، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ فَلَکُمْ مِثْلُ مَا لَنَا وَعَلَیْکُمْ مِثْلُ مَا عَلَیْنَا ، وَإِنْ أَبَیْتُمْ فَأَعْطُوا الْجِزْیَۃَ ، عَنْ یَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ ، وَإِنْ أَبَیْتُمْ قَاتَلْنَاکُمْ ، قَالُوا : أَمَّا الإِسْلاَمُ فَلاَ نُسْلِمُ ، وَأَمَّا الْجِزْیَۃُ فَلاَ نُعْطِیہَا ، وَأَمَّا الْقِتَالُ فَإِنَّا نُقَاتِلُکُمْ ، قَالَ: فَدَعَاہُمْ کذَلِکَ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَأَبَوْا عَلَیْہِ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : انْہَدُوا إلَیْہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتال کرنے سے قبل مشرکین کو دعوت دینے کا بیان
(٣٣٧٢٥) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی شخص کو جماعت یا لشکر پر امیر مقرر فرماتے تو اس شخص کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاص طور پر اللہ کے تقویٰ کی وصیت فرماتے۔ اور اس کے ساتھ جو مسلمان ہوتے ان سے بھلائی کا معاملہ کرنے کی وصیت کرتے۔ اور فرماتے : اللہ کے راستہ میں اللہ کا نام لے کر جہاد کرنا۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تم ان کے ساتھ قتال کرنا۔ تم جہاد کرنا پس نہ تو خیانت کرنا اور نہ غداری کا معاملہ کرنا۔ نہ ہی ہاتھ پاؤں کاٹ کر مثلہ بنانا اور نہ ہی بچوں کو قتل کرنا۔ اور جب تم اپنے دشمن مشرکین سے ملو تو ان کو تین باتوں میں سے کسی ایک کی طرف یا یوں فرمایا کہ ان کو تین باتوں کی طرف دعوت دینا ۔ ان میں سے جو بھی وہ مان لیں اس کو ان کی جانب سے قبول کرلینا ، اور ان سے قتال کرنے سے رک جانا۔ پھر ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا۔ اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو اس کو ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان سے قتال کرنے سے رک جانا۔ پھر ان کو اپنا علاقہ چھوڑ کر مہاجرین کے علاقہ میں منتقل ہونے کی دعوت دینا اور ان کو بتلا دینا کہ بیشک جب وہ ایسا کرلیں گے تو ان کو بھی وہی حقوق ملیں گے جو مہاجرین کو حاصل ہیں ، اور ان پر وہی چیزیں لازم ہیں جو مہاجرین پر لازم ہیں۔ پس اگر وہ انکار کریں اور اپنے ہی شہر کا انتخاب کریں تو ان کو بتلا دینا کہ وہ لوگ مسلمان دیہاتیوں کی طرح ہوں گے ۔ ان پر اللہ کے وہی احکام جاری ہوں گے جو مومنین پر جاری ہوتے ہیں اور ان کا مال فئی اور مال غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں اگر وہ اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو ان کو جزیہ ادا کرنے کی طرف بلانا۔ اگر وہ اس بات کو مان لیں تو تم اس کو ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان کے ساتھ قتال کرنے سے رک جانا۔ اور اگر وہ اس کا بھی انکار کردیں تو تم اللہ رب العزت سے مدد طلب کرنا پھر ان سے قتال کرنا۔
(۳۳۷۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَان رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی سَرِیَّۃٍ ، أَوْ جَیْشٍ أَوْصَاہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ بِتَقْوَی اللہِ وَمَنْ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا ، وَقَالَ : اغْزُوا بِاسْمِ اللہِ فِی سَبِیلِ اللہِ تُقَاتِلُونَ مَنْ کَفَرَ بِاللہِ ، اغْزُوا فَلاَ تَغُلُّوا ، وَلاَ تَغْدِرُوا ، وَلاَ تُمَثِّلُوا ، وَلاَ تَقْتُلُوا وَلِیَدًا ، وَإِذَا لَقِیتَ عَدُوَّک مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَادْعُہُمْ إلَی إحْدَی ثَلاَثِ خِصَالٍ ، أَوْ خِلاَلٍ ، فَأَیَّتُہُنَّ مَا أَجَابُوک فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ، ثُمَّ ادْعُہُمْ إلَی الإِسْلاَمِ فَإِنْ أَجَابُوک فَاقْبَلْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ، ثُمَّ ادْعُہُمْ إلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ إلَی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ وَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ إذَا فَعَلُوا ذَلِکَ أَنَّ لَہُمْ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ ، وَأَنَّ عَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِینَ ، فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دِیَارَہُمْ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ یَکُونُونَ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ ، یَجْرِی عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللہِ الَّذِی یَجْرِی عَلَی الْمُؤْمِنِینَ ، وَلاَ یَکُونُ لَہُمْ فِی الْفَیْئِ وَالْغَنِیمَۃِ نَصِیبٌ إِلاَّ أَنْ یَغْزُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ ، فَإِنْ أَبَوْا فَادْعُہُمْ إلَی إعْطَائِ الْجِزْیَۃِ فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ، وَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللہِ ، ثُمَّ قَاتِلْہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتال کرنے سے قبل مشرکین کو دعوت دینے کا بیان
(٣٣٧٢٦) حضرت فروہ بن مُسَیک المرادی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم کسی قوم کے پاس آؤ تو ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دو ۔ جو تمہاری بات مان لے تو قبول کرلو۔ اور جو قبول کرنے سے انکار کر دے تو تم جلدی مت کرو۔ یہاں تک کہ اس کے بارے میں مجھ اطلاع کردو۔
(۳۳۷۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَکَمِ النَّخَعِیِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَبْرَۃَ النَّخَعِیُّ ، عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ مُسَیْکٍ الْمُرَادِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا أَتَیْتَ الْقَوْمَ فَادْعُہُمْ ، فَمَنْ أَجَابَک فَاقْبَلْ ، وَمَنْ أَبَی فَلاَ تعجل حَتَّی تحدث إِلَیَّ بِہِ۔ (ابوداؤد ۳۹۸۴۔ طبرانی ۸۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتال کرنے سے قبل مشرکین کو دعوت دینے کا بیان
(٣٣٧٢٧) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک لشکر میں بھیجا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاس موجود ایک آدمی سے کہا : اس سے مل جاؤ اور تم اس کو پیچھے م سے مت پکارنا۔ اور یوں کہنا۔ بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں انتظار کرنے کا حکم دیا ہے۔ آپ (رض) نے انتظار کیا یہاں تک کہ وہ شخص آگیا اور کہا : تم اس قوم سے قتال مت کرنا یہاں تک کہ تم ان کو دعوت دو ۔
(۳۳۷۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ، عَنْ عَلِیٍّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَہُ فِی سَرِیَّۃٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَہُ: الْحَقْہُ وَلاَ تَدْعُہُ مِنْ خَلْفِہِ فَقُلْ: إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْمُرُک أَنْ تَنْتَظِرَہُ، قَالَ: فَانْتَظَرَہُ حَتَّی جَائَ، فَقَالَ: لاَ تُقَاتِلِ الْقَوْمَ حَتَّی تَدْعُوَہُمْ۔ (طبرانی ۸۲۶۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتال کرنے سے قبل مشرکین کو دعوت دینے کا بیان
(٣٣٧٢٨) قبیلہ بنو نمیر کے ایک شخص اپنے والد کے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے ارشاد فرمایا : تم کسی بھی قوم سے قتال مت کرنا یہاں تک کہ ان کو دعوت دینا۔
(۳۳۷۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ غَالِبٍ الْعَبْدِیِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی نُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، أَوْ جَدِّ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لہ : لاَ تُقَاتِلَ الْقَوْمَ حَتَّی تَدْعُوَہُمْ۔
তাহকীক: