মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৭৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب تم اذان کی آواز سنو تو قتال سے رک جاؤ
(٣٣٧٤٩) قبیلہ مزینہ کے ایک شخص اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی لشکر کو بھیجتے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے فرماتے تھے : جب تم مسجد دیکھو یا تم مؤذن کی آواز سنو تو تم کسی کو قتل مت کرو۔
(۳۳۷۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا بَعَثَ سَرِیَّۃً ، قَالَ لَہُمْ : إذَا رَأَیْتُمْ مَسْجِدًا ، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلاَ تَقْتُلُوا أَحَدًا۔ (ابوداؤد ۲۶۲۸۔ ترمذی ۱۵۴۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب تم اذان کی آواز سنو تو قتال سے رک جاؤ
(٣٣٧٥٠) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کے وقت کسی قوم کے پاس آتے اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذان سنتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتال سے رک جاتے۔
(۳۳۷۵۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا طَرَقَ قَوْمًا فإنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَکَ۔ (بخاری ۶۱۰۔ احمد ۲۳۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو یوں کہے : جب تم اذان کی آواز سنو تو قتال سے رک جاؤ
(٣٣٧٥١) حضرت ابوالعالیہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) جب کوئی لشکرمرتدین کی طرف بھیجتے تو فرماتے : تم لوگ بستی کے قریب ہو کر بیٹھ جانا، پس اگر سورج طلوع ہونے تک اذان کی آواز سن لو تو ٹھیک ورنہ تم ان پر حملہ کردینا۔
(۳۳۷۵۱) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَیْمَانَ الرَّازِیّ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ، عَنِ الرَّبِیعِ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ إذَا بَعَثَ جَیْشًا إلَی أَہْلِ الرِّدَّۃِ ، قَالَ : اجْلِسُوا قَرِیبًا ، فَإِنْ سَمِعْتُمَ النِّدَائَ إلَی أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَإِلاَّ فَأَغِیرُوا عَلَیْہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے لڑائی کرنے کا بیان کہ کس وقت قتال کرنا مستحب ہے
(٣٣٧٥٢) حضرت ابو حیان (رض) فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے ایک شیخ نے فرمایا : کہ میرے اور حضرت عبید اللہ کے کاتب کے درمیان دوستی اور جان پہچان تھی۔ میں نے اس کی طرف خط لکھا کہ وہ مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کا وہ خط لکھ دے جس میں انھوں نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ تم دشمن سے ملاقات کا سوال مت کرو ۔ اور جب تمہاری دشمن سے ملاقات ہوجائے تو صبر کرو، اور جان لو کہ بیشک جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انتظار فرماتے تھے ۔ جب سورج ڈھل جاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمن پر حملہ فرما دیتے ۔
(۳۳۷۵۲) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو حَیَّانَ ، عَنْ شَیْخٍ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَ کَاتِبِ عُبَیْدِ اللہِ صَدَاقَۃٌ وَمَعْرِفَۃٌ ، فَکَتَبْتُ إلَیْہِ أَنْ یَنْسَخَ لِی رِسَالَۃَ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی أَوْفَی ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَسْأَلُوا لِقَائَ الْعَدُوِّ ، وَإِذَا لَقِیتُمُوہُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّیُوفِ ، وَکَانَ یَنْتَظِرُ ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ نَہَدَ إلَی عَدُوِّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن سے لڑائی کرنے کا بیان کہ کس وقت قتال کرنا مستحب ہے
(٣٣٧٥٣) حضرت نعمان بن مقرن (رض) فرماتے ہیں کہ میں لڑائی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دن کے ابتدائی حصہ میں قتال نہیں فرمایا۔ اور قتال کو سورج کے ڈھل جانے ، ہوا کے چلنے اور مدد کے نازل ہونے تک مؤخر فرمایا۔
(۳۳۷۵۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَزَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالاَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمُزَنِیّ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ : شہدت رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا کَانَ عِنْدَ الْقِتَالِ لَمْ یُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّہَارِ وَآخِرَہُ إلَی أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَہُبَّ الرِّیَاحُ وَیَتَنَزَّلَ النَّصْرُ۔ (ابوداؤد ۲۶۴۸۔ ترمذی ۱۶۱۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٥٤) حضرت سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص قتل کرے تو مقتول کا مال قتل کرنے والے کے لیے ہی ہوگا۔
(۳۳۷۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنِ ابْنِ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ فَلَہُ السَّلَبُ۔ (ابن ماجہ ۲۸۳۸۔ احمد ۱۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٥٥) حضرت سلمہ بن اکوع (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص قتل کرے تو مقتول کا مال قاتل کا ہی ہوگا۔
(۳۳۷۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ ، عَنْ إیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ فَلَہُ السَّلَبُ۔ (بخاری ۳۰۵۱۔ ابوداؤد ۲۶۴۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٥٦) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ حنین والے دن ارشاد فرمایا : جو شخص کسی آدمی کو قتل کرے گا تو مقتول کا مال اسی کو ملے گا، پس حضرت ابو طلحہ (رض) نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کا مال لے لیا۔
(۳۳۷۵۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَوْمَ حُنَیْنٍ : مَنْ قَتَلَ قَتِیلاً فَلَہُ سَلَبُہُ ، فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَۃَ یَوْمَئِذٍ عِشْرِینَ رَجُلاً فَأَخَذَ أَسْلاَبَہُمْ۔ (ابوداؤد ۲۷۱۲۔ احمد ۱۱۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٥٧) حضرت محمد بن عبید اللہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن ابی وقاص (رض) نے ارشاد فرمایا : جب غزوہ بدر کا دن تھا تو میں نے حضرت سعید بن عاصی کو قتل کیا اور میں نے اس کی تلوار لے لی اور اس کی تلوار کا نام ذوالکتیفہ تھا۔ اور آپ (رض) نے فرمایا : کہ میرے بھائی عمیر کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔ پس میں تلوار لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اور اس تلوار کو مقبوضہ مال غنیمت میں ڈال دو ۔ پس میں لوٹا اس حال میں کہ میرے دل میں میرے بھائی کے قتل اور مقتول کا مال لینے سے متعلق جو بات تھی وہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا ۔ میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہ اتنے میں سورة الانفال نازل ہوگئی ۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور فرمایا : جاؤ اپنی تلوار لے لو۔
(۳۳۷۵۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ قَتَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ وَأَخَذْت سَیْفَہُ ، وَکَانَ سَیْفَہُ یُسَمَّی ذَا الْکَتِیفَۃِ ، قَالَ : وَقُتِلَ أَخِی عُمَیْرٌ ، فَجِئْت بِالسَّیْفِ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اذْہَبْ فَاطْرَحْہُ فِی الْقَبَضِ : فَرَجَعْت وَبِی مَا لاَ یَعْلَمُہُ إِلاَّ اللَّہُ مِنْ قَتْلِ أَخِی وَأَخْذِ سَلَبِی ، فَمَا لَبِثْت إِلاَّ قَلِیلاً حَتَّی نَزَلَتْ سُورَۃُ الأَنْفَالِ ، فَدَعَانِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَقَالَ : اذْہَبْ فَخُذْ سَیْفَک۔ (احمد ۱۸۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٥٨) حضرت نافع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) عراق میں جنگ کے لیے تشریف لے گئے۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے انھیں فرمایا : مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے ایک جاگیر دار سے مقابلہ کیا۔ انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! حضرت عمر (رض) کو اس پر تعجب ہوا اور آپ (رض) نے ان کو اس مقتول کا مال بطور زائد دیا۔
(۳۳۷۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : غَزَا ابْنُ عُمَرَ الْعِرَاقَ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : بَلَغَنِی أَنَّک بَارَزْت دِہْقَانًا ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَعْجَبَہُ ذَلِکَ فَنَفَّلَہُ سَلَبَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٥٩) حضرت اسود بن قیس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت شبر بن علقمہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے جنگ قادسیہ کے دن اہل عجم میں سے ایک آدمی کے ساتھ مقابلہ کیا اور میں نے اس کو قتل کردیا اور اس کا مال لے لیا پھر میں حضرت سعد (رض) کے پاس آیا تو حضرت سعد (رض) نے اپنے اصحاب سے خطاب کیا اور فرمایا : یہ شبر کا مال ہے۔ اور یہ بارہ ہزار درہم سے بہتر ہے۔ اور یقیناً ہم نے یہ مال ان کو بطور زائد دے دیا۔
(۳۳۷۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ شَبْرِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : بَارَزْت رَجُلاً یَوْمَ الْقَادِسِیَّۃِ مِنَ الأَعَاجِمِ فَقَتَلْتہ وَأَخَذْت سَلَبَہُ ، فَأَتَیْت سَعْدًا ، فَخَطَبَ سَعْدٌ أَصْحَابَہُ ، ثُمَّ قَالَ : ہَذَا سَلَبُ شَبْرٍ ، لَہُوَ خَیْرٌ مِنَ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْہَمٍ ، وَإِنَّا قَدْ نَفَّلْنَاہُ إیَّاہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٦٠) حضرت عیسیٰ بن یونس (رض) حضرت ابن عون اور حضرت ہشام ان دونوں سے اور حضرت ابن سیرین (رض) حضرت انس بن مالک (رض) سے نقل کرتے ہیں۔ حضرت ابن عون نے یوں فرمایا کہ حضرت براء بن مالک (رض) نے مقابلہ کیا اور حضرت ہشام (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت براء بن مالک (رض) نے جنگ زارہ کے دن مرزبان زارہ پر حملہ کردیا اور آپ (رض) نے اس کو نیزہ مارا جو اس کی زین کے ابھرے ہوئے کنارے میں گھس گیا اور وہ مرگیا اور آپ (رض) نے اس کے کنگن اور کمر بند لے لیے۔ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ جب ہم واپس لوٹے تو حضرت عمر (رض) نے صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ (رض) ہمارے پاس تشریف لائے۔ اور پوچھا کہ کیا ابو طلحہ یہاں ہیں ؟ اتنے میں حضرت ابو طلحہ آپ (رض) کے پاس نکل آئے تو آپ (رض) نے فرمایا : یقیناً ہم مقتول کے مال میں سے خمس نہیں لیتے۔ لیکن براء کے مقتول کا سامان بہت زیادہ مال ہے پس آپ (رض) نے اس میں سے خمس وصول کیا جو چھ ہزار بنا اس لیے کہ اس کی کل قیمت تیس ہزار تھی۔ امام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک (رض) نے مجھ سے بیان کیا : کہ اسلام میں یہ پہلا مقتول سے چھینا ہوا سامان تھا جس میں سے خمس وصول کیا گیا۔
(۳۳۷۶۰) حَدَّثَنَا عیِسیَ بْنُ یُونُسَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ وَہِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : بَارَزَ الْبَرَائُ بْنُ مَالِکٍ ، وَقَالَ ہِشَامٌ : حَمَلَ الْبَرَائُ بْنُ مَالِکٍ عَلَی مَرْزُبَانِ الزَّارَۃِ یَوْمَ الزَّارَۃِ ، وَطَعَنَہُ طَعْنَۃً ، دَقَّ قَرْبُوسَ سَرْجِہِ فَقَتَلَہُ وَسَلَبَہُ سِوَارَیْہِ وَمِنْطَقَتَہُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا صَلَّی عُمَرُ الصُّبْحَ ، ثُمَّ أَتَانَا ، فَقَالَ : أَثَمَّ أَبُو طَلْحَۃَ ؟ فَخَرَجَ إلَیْہِ ، فَقَالَ : إنَّا کُنَّا لاَ نُخَمِّسُ السَّلَبَ ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَائِ مَالٌ فَخُمُسُہُ فَبَلَغَ سِتَّۃَ آلاَفٍ ، بَلَغَ ثَلاَثِینَ أَلْفًا ، قَالَ مُحَمَّدُ : فَحَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّہُ أَوَّلُ سَلَبٍ خُمِّسَ فِی الإِسْلاَمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٦١) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ مقتول سے چھینے ہوئے مال میں سے خمس وصول نہیں کیا جاتا تھا۔ اسلام میں سب سے پہلا خمس جو مقتول کے مال سے لیا گیا وہ حضرت براء بن مالک (رض) کے مقتول کے سامان سے لیا گیا ۔ اس طرح کہ آپ (رض) نے مرزبان زارہ پر حملہ کیا اور آپ (رض) نے اس کو نیزہ مارا جو اس کی زین کے ایک سرے میں گھس گیا۔ پھر آپ (رض) اس کے پاس آئے اور اس کی کمر بند اور اس کے کنگنوں کو کاٹ کر اتار لیا ۔ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ واپس آئے تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ (رض) ہمارے پاس تشریف لائے اور سلام کرنے کے بعد پوچھا : کہ کیا ابو طلحہ یہاں ہیں ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ! میں ہوں۔ اور وہ حضرت عمر (رض) کے پاس نکل آئے ۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہم مقتول سے چھینے ہوئے مال میں سے خمس نہیں لیتے۔ اور یقیناً براء کے مقتول کا سامان بہت بڑا مال ہے۔ یقیناً میں اس کا خمس لوں گا۔ پس آپ (رض) نے قیمت لگانے والوں کو بلایا تو انھوں نے اس کی تیس ہزار قیمت لگائی۔ آپ (رض) نے اس میں سے چھ ہزار وصول کرلیے۔
(۳۳۷۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : کَانَ السَّلَبُ لاَ یُخَمَّسُ ، فَکَانَ أَوَّلُ سَلَبٍ خُمِّسَ فِی الإِسْلاَمِ سَلَبُ الْبَرَائِ بْنِ مَالِکَ ، وَکَانَ حَمَلَ عَلَی مَرْزُبَانِ الزَّارَۃِ فَطَعَنَہُ بِالرُّمْحِ حَتَّی دَقَّ قَرْبُوسَ السَّرْجِ ، ثُمَّ نَزَلَ إلَیْہِ فَقَطَعَ مِنْطَقَتَہُ وَسِوَارَیْہِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ صَلَّی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ صَلاَۃَ الْغَدَاۃِ ، ثُمَّ أَتَانَا ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ أَثَمَّ أَبُو طَلْحَۃَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَخَرَجَ إلَیْہِ ، فَقَالَ عُمَرُ : إنَّا کُنَّا لاَ نُخَمِّسُ السَّلَبَ ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ مَالٌ وَإِنِّی خَامِسُہُ ، فَدَعَا الْمُقَوِّمِینَ فَقُومُوا ثَلاَثِینَ أَلْفًا فَأَخَذَ مِنْہَا سِتَّۃَ آلاَفٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٦٢) حضرت ابو قتادہ انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو اس مقتول کا مال قاتل کا ہوگا۔ آپ (رض) فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! میں نے ایک بہت سامان والے شخص کو قتل کیا تھا پھر لڑائی نے مجھے اس سے مشغول کردیا ۔ میں نہیں جانتا کہ کس نے اس کا سامان اتار لیا ؟ مکہ کا ایک شخص کہنے لگا۔ اے اللہ کے رسول 5! اس نے سچ کہا : تحقیق اس نے ایک شخص کو قتل کیا تھا پس میں نے اس کا سامان اتار لیا اب آپ (رض) اس کو میری طرف سے خوش کردیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : نہیں اللہ کی قسم ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا نہیں کریں گے۔ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کا مال دوسروں میں تقسیم فرما دیں گے ؟ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ابوبکر نے سچ کہا : تم اس کا سامان اسے دے دو ۔
(۳۳۷۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : حدِّثْتُ ، عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیِّ أَنَّہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ قَتِیلاً فَلَہُ سَلَبُہُ قَالَ ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللہِ، قَدْ قَتَلْت قَتِیلاً ذا سلب، ثُمَّ أَجْہَضَتْنِی عَنْہُ الْقِتَالُ فَمَا أَدْرِی مَنْ سَلَبَہُ، قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ: صَدَقَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَدْ قَتَلَ قَتِیلاً فَسَلَبْتُہُ فَأرْضِہِ عَنِّی ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ: لاَ وَاللہِ لاَ تَفْعَلْ ، تَنْطَلِقُ إلَی أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللہِ یُقَاتِلُ عَنْہُ تُقَاسِمُہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ ادْفَعْ إلَیْہِ سَلَبَہُ۔

(بخاری ۲۱۰۰۔ ملم ۱۳۷۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٦٣) حضرت ایاس بن سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے ایک آدمی سے مقابلہ کیا اور میں نے اسے قتل کردیا ۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اس شخص کو کس نے قتل کیا ؟ لوگوں نے کہا : ابن اکوع نے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس مقتول کا مال ابن اکوع کے لیے ہوگا۔
(۳۳۷۶۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : بَارَزْت رَجُلاً فَقَتَلْتہ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ ہَذَا ؟ قَالُوا ابْنُ الأَکْوَعِ ، قَالَ : لَہُ سَلَبُہُ۔ (مسلم ۱۳۷۴۔ ابوداؤد ۲۶۴۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٦٤) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر (رض) نے ایک آدمی سے مقابلہ کیا اور آپ (رض) نے اس کو قتل کردیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مقتول کا مال انھیں بطور زائد کے دیا۔
(۳۳۷۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ أَنَّ الزُّبَیْرَ بَارَزَ رَجُلاً فَقَتَلَہُ ، قَالَ : فَنَفَلَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَلَبَہُ۔ (عبدالرزاق ۹۴۷۷۔ طحاوی ۲۲۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٦٥) حضرت ابو عبیدہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ابو جہل کی تلوار زائد مال کے طور پردے دی۔
(۳۳۷۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أبیہ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : نَفَّلَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَیْفَہُ ، یَعْنِی أَبَا جَہْلٍ۔ (ابوداؤد ۲۷۱۶۔ ابویعلی ۵۲۰۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٦٦) حضرت اسود بن قیس العبدی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت شبر بن علقمہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ جب جنگ قادسیہ کا دن تھا تو اہل فارس میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے مقابلہ کے لیے للکارا اور اپنی بڑائی بیان کی۔ تو ایک چھوٹا سا آدمی جس کو شبر بن علقمہ کہتے ہیں۔ وہ کھڑا ہوا۔ اس پر اس ایرانی نے کہا : یہ آدمی یعنی اس نے غصہ کا اظہار کیا پھر اس نے اس شخص کو زمین پر گرا یا اور پچھاڑ دیا۔ اتنے میں شبر نے خنجر پکڑا جو اس ایرانی کے پاس تھا۔ اور اس کے پیٹ میں اس کو گاڑ دیا اس طرح کر کے اس دوران حضرت شبر (رض) نے اپنے ہاتھ کو حرکت دے کر دکھلایا۔ پھر آپ (رض) اس کے اوپر آگئے اور اس کو قتل کردیا ۔ پھر آپ اس سے چھینا ہوا مال لے کر حضرت سعد (رض) کے پاس آئے انھوں نے اس کی بارہ ہزار قیمت لگائی اور یہ مال آپ (رض) کو بطور زائد کے عطا کردیا۔
(۳۳۷۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ الْعَبْدِیِّ ، عَنْ شَبْرِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْقَادِسِیَّۃِ قَامَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ فَارِسَ فَدَعَا إلی المبارزۃ فذکر من عظمہ فقام إلیہ رجل قصیر یقال لہ شبر بن علقمۃ قَالَ : فقال بہ الفارسی ہَکَذَا ، یَعْنِی احْتَمَلَہُ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِہِ الأَرْضَ فَصَرَعَہُ ، قَالَ : فَأَخَذَ شَبْرٌ خِنْجَرًا کَانَ مَعَ الْفَارِسِیِّ ، فَقَالَ بہ فِی بَطْنِہِ ہکذا ، یَعْنِی فَخَضخَضَہُ ، ثُمَّ انْقَلَبَ عَلَیْہِ فَقَتَلَہُ ، ثُمَّ جَائَ بِسَلَبِہِ إلَی سَعْدٍ فَقُوِّمَ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا فَنَفَّلَہُ إیَّاہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٦٧) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نافع (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ ہم لوگ بچپن سے ہمیشہ یوں ہی سنتے آئے ہیں کہ جب مسلمان اور کفار کا آمنا سامنا ہو پھر مسلمانوں کا ایک آدمی کفار کے ایک آدمی کو قتل کر دے تو اس مقتول کا سامان قتل کرنے والے کا ہوگا ۔ مگر یہ کہ وہ جنگ کی شدت میں ہو اور وہ نہ جانتا ہو کہ اس نے کس کو قتل کیا ہے۔
(۳۳۷۶۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : سَمِعَتْ نَافِعًا یَقُولُ : لَمْ نَزَلْ نَسْمَعُ مُنْذُ قَطُّ إذَا الْتَقَی الْمُسْلِمُونَ وَالْکُفَّارُ فَقَتَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ رَجُلاً مِنَ الْکُفَّارِ فَإِنَّ سَلَبَہُ لَہُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ فِی مَعْمَعَۃِ الْقِتَالِ فَإِنَّہُ لاَ یُدْرَی مَنْ قَتَلَ قَتِیلاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
(٣٣٧٦٨) حضرت قاسم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے مال سلب کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ (رض) نے جواب دیا : سلب کا مال تو زائد عطیہ ہے ، اور زائد عطیہ میں خمس ہوتا ہے۔
(۳۳۷۶۸) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ السَّلَبِ ، قَالَ : لاَ سَلَبَ إِلاَّ مِنَ النَّفْلِ ، وَفِی النَّفْلِ الْخُمُسُ۔
tahqiq

তাহকীক: