মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৭৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٦٩) حضرت جابر (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ پس جب ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا ۔ تو انھوں نے ایسا کرنے سے اپنے مال اور اپنی جانوں کو محفوظ کرلیا اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔
(۳۳۷۶۹) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أُمِرْت أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، فَإذَا قَالَوہا : عَصَمُوا بِہَا أَمْوَالَہُمْ وَدِمَائَہُمْ ، وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٧٠) حضرت طارق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اللہ کی وحدانیت بیان کی اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے ان کو نہ مانا تو اس کا مال اور اس کی جان حرام ہوگئی اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔
(۳۳۷۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ وَحَّدَ اللَّہَ وَکَفَرَ بِمَا یُعْبَدُ مِنْ دُونِہِ حَرُمَ مَالُہُ وَدَمُہُ ، وَحِسَابُہُ عَلَی اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٧١) حضرت اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں قبیلہ جھینہ کی طرف بھیجا۔ پس ہم نے اس قوم کے پاس صبح کی ، اور وہ لوگ ہم سے چوکنا ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے ان لوگوں کا پیچھا کیا تو ان میں سے ایک آدمی کو میں نے پکڑ لیا جیسے ہی میں اس سے ملا اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا میں نے گمان کیا کہ اس نے یہ کلمہ خوف سے پڑھا ہے۔ پس میں نے اس پر حملہ کیا اور اس کو قتل کردیا۔ پھر میرے دل میں اس کا خیال آیا تو میں نے یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کی ۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : اس نے لا الہ الا اللہ پڑھا پھر بھی تم نے اس کو قتل کردیا ؟ ! میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا بلکہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا تھا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا۔ پھر تم نے اس کو قتل کردیا۔ تم نے اس کا دل کیوں نہیں پھاڑ ڈالا۔ یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجاتا کہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا ہے ؟ ! حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل مجھے یہ کہتے رہے کہ اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا پھر بھی تم نے اس کو قتل کردیا ! یہاں تک کہ میری خواہش ہوئی کہ میں اسلام نہ لایا ہوتا مگر آج ہی کے دن !۔
(۳۳۷۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی الْحُرَقَاتِ مِنْ جُہَیْنَۃَ ، قَالَ : فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ وَقَدْ نَُذروا بِنَا ، قَالَ : فَخَرَجْنَا فِی آثَارِہِمْ فَأَدْرَکْت رَجُلاً مِنْہُمْ فَجَعَلْتُ إذَا لَحِقْتہ قَالَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، قَالَ : فَظَنَنْت أنہ إنَّمَا یَقُولُہَا فَرَقًا ، قَالَ : فَحَمَلْت عَلَیْہِ فَقَتَلْتہ فَعَرَضَ فِی نَفْسِی مِنْ أَمْرِہِ ، فَذَکَرْت ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَالَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، ثُمَّ قَتَلْتَہُ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَمْ یَقُلْہَا مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ ، إنَّمَا قَالَہَا فَرَقًا مِنَ السِّلاَحِ ، قَالَ : فَقَالَ : قَالَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، ثُمَّ قَتَلْتَہُ فَہَلاَّ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہِ حَتَّی تَعْلَمَ أَنَّہُ إنَّمَا قَالَہَا فَرَقًا مِنَ السِّلاَحِ ، قَالَ أُسَامَۃُ : فَمَا زَالَ یُکَرِّرُہَا عَلَیَّ : قَالَ : لاَ إلَہ إِلاَّ اللَّہُ ، ثُمَّ قَتَلْتہ حَتَّی وَدِدْت أَنِّی لَمْ أَکُنْ أَسْلَمْت إِلاَّ یَوْمَئِذٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٧٢) حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں لشکر کے ساتھ بھیجا ۔ پھر راوی نے مذکورہ حدیث نقل فرمائی۔
(۳۳۷۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانِ ، عَنْ أُسَامَۃَ ، قَالَ : بَعَثْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَکَر نَحْوَ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٧٣) حضرت اویس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔ کہ اچانک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ پوچھا : اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اور اس کو قتل کردو۔ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بلایا اور پوچھا : کیا تم گواہی دیتے ہو اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اس کا راستہ خالی چھوڑ دو اس لیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ اور جب انھوں نے ایسا کرلیا تو مجھ پر ان کی جانیں اور ان کا مال حرام ہوگیا۔
(۳۳۷۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَہُ ، أن أباہ أوسًا أَخْبَرَہُ قَالَ : إنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَقُصُّ عَلَیْنَا وَیُذَکِّرُنَا إذْ أَتَاہُ رَجُلٌ فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اذْہَبُوا فَاقْتُلُوہُ ، فَلَمَّا وَلَّی الرَّجُلُ دَعَاہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَقَالَ : ہَلْ تَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْہَبُوا فَخَلُّوا سَبِیلَہُ ، وَإِنَّمَا أُمِرْت أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ حَرُمَ عَلَیَّ دِمَائَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٧٤) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں : جب انھوں نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا تو انھوں نے مجھ سے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کرلیا مگر اللہ کے حق کی وجہ سے۔ اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ بس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نصیحت کرنے والے ہیں، اور آپ نہیں ہیں ان پر جبر کرنے والے۔
(۳۳۷۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أُمِرْت أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، فَإذَا قَالُوا : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، عَصَمُوا مِنِّی دِمَائَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّہَا ، وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللہِ ، ثُمَّ قَرَأَ : (إنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُسَیْطِرٍ)۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٧٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ جب انھوں نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا تو مجھ پر ان کی جانیں اور ان کا مال حرام ہوگیا مگر اللہ کے کسی حق کی وجہ سے، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔
(۳۳۷۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَۃِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أُمِرْت أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، فَإذَا قَالُوا : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، حَرُمَتْ عَلَیَّ دِمَائَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّہَا ، وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٧٦) حضرت سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مقداد بن اسود (رض) کسی لشکر میں نکلے۔ یہ لوگ کسی آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنی چند بھیڑ بکریوں کے پاس تھا ان لوگوں نے اس کو قتل کرنا چاہا تو اس شخص نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا۔ پھر بھی حضرت مقداد (رض) نے اسے قتل کردیا۔ آپ (رض) سے پوچھا گیا : کہ آپ (رض) نے اس کو قتل کردیا حالانکہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ رہا تھا ؟ حضرت مقداد (رض) نے جواب دیا کہ وہ چاہتا تھا کہ اپنے گھر والوں اور مال کو لے کر بھاگ جائے۔ جب یہ لوگ واپس آئے تو انھوں نے یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تم نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو تمہیں سلام کرے کہ تو مومن نہیں ہو۔ کیا تم حاصل کرنا چاہتے ہو سازو سامان دنیاوی زندگی کا ؟ ( حیاۃ دنیا سے مراد بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہے ) تو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں۔ ایسے تو تم اسلام سے پہلے تھے ( یعنی تم مشرکین سے اپنا ایمان چھپاتے تھے) پھر اللہ نے تم پر احسان کیا ( یعنی اسلام کو ظاہر کیا ) لہٰذا خوب تحقیق کرلیا کرو۔ (اللہ کی وعید کی ) بیشک اللہ ہر اس بات سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔
(۳۳۷۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : خَرَجَ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ فِی سَرِیَّۃٍ ، قَالَ : فَمَرُّوا بِرَجُلٍ فِی غَنِیمَۃٍ لَہُ فَأَرَادُوا قَتْلَہُ ، فَقَالَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، فَقَتَلَہُ مِقْدَادٌ ، فَقِیلَ لَہُ : قَتَلْتَہُ وَہُوَ یَقُولُ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، فَقَالَ : الْمِقْدَادُ : وَدَّ لَوْ فَرَّ بِأَہْلِہِ وَمَالِہِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمُوا ذَکَرُوا ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللہِ فَتَبَیَّنُوا وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إلَیْکُمَ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا} قَالَ : الْغَنِیمَۃُ {فَعِنْدَ اللہِ مَغَانِمُ کَثِیرَۃٌ کَذَلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ} ، قَالَ : تَکْتُمُونَ إیمَانَکُمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ {فَمَنَّ اللَّہُ عَلَیْکُمْ} فَأَظْہَرُوا الإِسْلاَمَ {فَتَبَیَّنُوا} وَعِیدَ اللہِ {إنَّ اللَّہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرًا}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٧٧) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ قبیلہ بنو سلیم کا ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ اس کے پاس بکریوں کا ریوڑ تھا۔ اس نے ان لوگوں پر سلام کہا : تو کچھ لوگوں نے کہا : کہ اس شخص نے تمہیں سلام نہیں کیا مگر اس وجہ سے کہ وہ خود کو تم سے محفوظ رکھے۔ پس یہ لوگ اس کے پیچھے گئے اور اس شخص کو قتل کردیا اور اس کی بکریاں لے لیں پھر وہ اس مال کو لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تم نکلو اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو تمہیں سلام کرے کہ تم مومن نہیں ہے۔ کیا تم حاصل کرنا چاہتا ہو سازوسامان دنیاوی زندگی کا ؟ تو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں۔ آیت کے آخر تک۔
(۳۳۷۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ عَلَی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ غَنَمٌ لَہُ فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ فَقَالُوا : مَا سَلَّمَ عَلَیْکُمْ إِلاَّ لِیَتَعَوَّذَ مِنْکُمْ فَعَمَدُوا إلَیْہِ فَقَتَلُوہُ وَأَخَذُوا غَنَمَہُ فَأَتَوْا بِہَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللہِ فَتَبَیَّنُوا وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إلَیْکُمَ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللہِ مَغَانِمُ کَثِیرَۃٌ} إلَی آخِرِ الآیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٧٨) حضرت عکرمہ (رض) سے حضرت ابن عباس (رض) کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ مگر راوی نے یہ الفاظ ذکر نہیں کیے۔ فأتوا بھا النبی 5 ۔
(۳۳۷۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِہِ وَلَمْ یَذْکُرْ فَأَتَوْا بِہَا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٧٩) حضرت مقدادد بن اسود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول 5! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کیا رائے ہے اس بارے میں کہ اگر میں کفار کے ایک آدمی سے ملا پھر اس نے مجھ سے لڑائی کی ۔ اور میرے ایک ہاتھ پر تلوار سے وار کیا اور اس کو کاٹ دیا پھر وہ درخت کی آڑ میں مجھ سے پناہ مانگتا ہے اور کہتا ہے۔ میں اللہ کے لیے اسلام لایا۔ اے اللہ کے رسول 5! کیا میں ایسا کہنے کے بعد اس کو قتل کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کو قتل مت کرو۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! اس نے میر اہاتھ کاٹ دیا پھر وہ کاٹنے کے بعد کلمہ پڑھتا ہے کیا میں اس کو قتل نہ کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کو قتل مت کرنا۔ اگر تم نے اس کو قتل کردیا تو وہ شخص تمہارے مرتبہ پر ہوگا۔ جس مرتبہ پر تم اس کو قتل کرنے سے پہلے تھے۔ اور تم اس کے مرتبہ پر ہو گے جس مرتبہ پر وہ یہ کلمہ جو اس نے پڑھا ہے اس کے پڑھنے سے پہلے تھا۔
(۳۳۷۷۹) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِہَابَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ أَرَأَیْت إِنْ لَقِیت رَجُلاً مِنَ الْکُفَّارِ فَقَاتَلَنِی فَضَرَبَ إحْدَی یَدَیَّ بِالسَّیْفِ فَقَطَعَہَا ، ثُمَّ لاَذَ مِنِّی بِشَجَرَۃٍ ، فَقَالَ : أَسْلَمْت لِلَّہِ ، أَقْتُلُہُ یَا رَسُولَ اللہِ بَعْدَ أَنْ قَالَہَا ، فَقَالَ : صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَقْتُلْہُ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ قَطَعَ یَدِی ، ثُمَّ قَالَ ذَلِکَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَہَا أَفَأَقْتُلُہُ ، قَالَ : لاَ تَقْتُلْہُ فَإِنْ قَتَلْتہ فَإِنَّہُ بِمَنْزِلَتِکَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَہُ وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِہِ قَبْلَ أَنْ یَقُولَ الْکَلِمَۃَ الَّتِی قَالَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٨٠) حضرت حمید بن ھلال (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ (رض) میرے پاس اور میرے ایک ساتھی کے پاس تشریف لائے ، اور فرمایا : تم دونوں آؤ اس لیے کہ تم دونوں مجھ سے زیادہ جوان ہو اور مجھ سے زیادہ حدیث کو محفوظ کرنے والے ہو راوی کہتے ہیں : ہم دونوں چلے یہاں تک کہ ہم لوگ حضرت بشر بن عاصم لیثی (رض) کے پاس آئے۔ حضرت ابو العالیہ (رض) نے فرمایا : اپنی بات ان دونوں کو بیان کرو۔ انھوں نے فرمایا؛ کہ حضرت عقبہ بن مالک لیثی (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا تو اس لشکر نے ایک قوم پر حملہ کردیا پس ایک آدمی قوم سے الگ ہوگیا اور لشکر والوں میں سے ایک آدمی نے اس کا پیچھا کیا اس حال میں کہ اس کے پاس سونتی ہوئی تلوار تھی۔ پس قوم سے الگ ہونے والا شخص کہنے لگا : بلاشبہ میں مسلمان ہوں۔ پس اس نے اس کی بات پر غور نہیں کیا اور اس پر حملہ کردیا اور قتل کردیا پھر یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلائی گئی ۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بارے میں سخت بات کہی۔ جب قاتل کو یہ خبر پہنچی تو اس درمیان کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو قاتل نے کہا : اے اللہ کے نبی 5! خد ا کی قسم اس نے ایسا نہیں کہا تھا مگر صرف قتل سے بچنے کے لیے ۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اور اس کے ساتھ جو لوگ ملے ہوئے تھے ان سے اعراض کیا۔ اس شخص نے دو مرتبہ ایسا کہا : ہر مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے اعراض کیا۔ اس نے بھی صبر نہیں کیا تیسری مرتبہ یہ بات کہنے سے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چہرے کے ساتھ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر غصہ کے آثار نمایاں تھے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یقیناً اللہ تعالیٰ نے مجھ پر انکار فرمایا مومن کو قتل کرنے والے کے بارے میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات تین بار دہرائی۔
(۳۳۷۸۰) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ قَالَ : جَائَ أَبُو الْعَالِیَۃِ إلَیَّ وَإِلَی صَاحِبٍ لِی ، فَقَالَ: ہَلُمَّا فَإِنَّکُمَا أَشَبُّ مِنِّی وَأَوْعَی لِلْحَدِیثِ مِنِّی ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّی أَتَیْنَا بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّیْثِیَّ ، فَقَالَ أَبُو الْعَالِیَۃِ : حَدَّثَ ہَذَیْنِ حَدِیثَک ، فقَالَ: حَدَّثَنِی عُقْبَۃُ بْنُ مَالِکٍ اللَّیْثِیُّ قَالَ: بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً فَأَغَارَتْ عَلَی الْقَوْمِ فَشَذَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَاتَّبَعَہُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِیَّۃِ مَعَہُ سَیْفٌ شَاہِرہ، فَقَالَ: الشَّاذُّ مِنَ الْقَوْمِ، إنِّی مُسْلِمٌ فَلَمْ یَنْظُرْ فِیمَا قَالَ، قَالَ: فَضَرَبَہُ فَقَتَلَہُ، فَنُمِیَ الْحَدِیثُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَوْلاً شَدِیدًا فَبَلَغَ الْقَاتِلَ فَبَیْنَمَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ إذْ ، قَالَ الْقَاتِلُ : وَاللہِ یَا نَبِیَّ اللہِ مَا قَالَ الَّذِی ، قَالَ إِلاَّ تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ فَأَعْرَضَ عَنْہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَمَّنْ یَلِیہِ مِنَ النَّاسِ ، فَعَلَ ذَلِکَ مَرَّتَیْنِ کُلُّ ذَلِکَ یُعْرِضُ عَنْہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَۃَ مِثْلَ ذَلِکَ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِوَجْہِہِ تُعْرَفُ الْمَسَائَۃُ فِی وَجْہِہِ ، فَقَالَ : إنَّ اللَّہَ أَبَی عَلَیَّ فِیمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ یَقُولُ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٨١) حضرت جریر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ یمن کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے قتال کروں اور میں ان کو اسلام کی طرف بلاؤں۔ اور جب انھوں نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا۔ تو تم پر ان کے اموال اور ان کی جانیں حرام ہوگئیں۔
(۳۳۷۸۱) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی إبْرَاہِیمُ بْنُ جَرِیرٍ ، عَنْ جَرِیرٍ ، قَالَ : إِنَّ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِی إلَی الْیَمَنِ أُقَاتِلُہُمْ وَأَدْعُوہُمْ ، فَإذَا قَالُوا : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ حَرُمَتْ عَلَیْکُمْ أَمْوَالُہُمْ وَدِمَاؤُہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٨٢) حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب مرتد ہوئے وہ لوگ جو حضرت ابوبکر (رض) صدیق کے زمانے میں مرتد ہوئے تھے تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا آپ (رض) ان لوگوں سے قتال کریں گے حالانکہ تحقیق آپ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یقیناً محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں تو اس کا مال حرام ہوگیا مگر اللہ رب العزت کے ذمہ اس کا حساب ہوگا ؟ ! حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : کیا میں قتال نہ کروں اس شخص سے جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرے ؟ اللہ کی قسم ! میں ضرور اس شخص سے قتال کروں گا جو ان دونوں کے درمیان فرق کرے گا۔ یہاں تک کہ میں ان دونوں کو جمع کر دوں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : پس ہم نے ان کے ساتھ قتال کیا اس حال میں کہ وہ واقعی ہدایت پر تھے۔ پھر جب آپ (رض) ان میں سے جتنے بھی لوگوں پر فتح یاب ہوئے تو آپ (رض) نے فرمایا : تم لوگ میری طرف سے دو باتیں اختیار کرو لو۔ یا تو جلا وطن کرنے والی جنگ یا پھر رسوا کردینے والی زمین ۔ ان لوگوں نے کہا : کہ جلا وطن کردینے والی جنگ تو ہم سمجھ گئے۔ یہ رسوا کردینے والی زمین سے کیا مراد ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : کہ تم ہمارے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ یقیناً جنت میں ہیں اپنے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ یقیناً جہنم میں ہیں پس ان لوگوں نے ایسا کیا۔
(۳۳۷۸۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ : لَمَّا ارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ عَلَی عَہْدِ أَبِی بَکْرٍ أَرَادَ أَبُو بَکْرٍ أَنْ یُجَاہِدَہُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَتُقَاتِلُہُمْ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ شَہِدَ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ حَرُمَ مَالُہُ إِلاَّ بِحَقِّہِ وَحِسَابُہُ عَلَی اللہِ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : لأُقَاتِلَ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلاَۃِ وَالزَّکَاۃِ ، وَاللہِ لأَقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا حَتَّی أَجْمَعَہُمَا قَالَ عُمَرُ : فَقَاتَلْنَا مَعَہُ ، فَکَانَ رُشْدًا ، فَلَمَّا ظَفِرَ بِمَنْ ظَفِرَ بِہِ مِنْہُمْ ، قَالَ : اخْتَارُوا مِنِّی خَصْلَتَیْنِ : إمَّا حَرْبًا مُجَلِّیَۃً وَإِمَّا الْخِطَّۃَ الْمُخْزِیَۃَ ، فَقَالُوا : ہَذِہِ الْحَرْبُ الْمُجَلِّیَۃُ قَدْ عَرَفْنَاہَا فَمَا الْحِطَّۃُ الْمُخْزِیَۃُ ؟ قَالَ : تَشْہَدُونَ عَلَی قَتْلاَنَا أَنَّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ وَعَلَی قَتَلاَکُمْ أَنَّہُمْ فِی النَّارِ فَفَعَلُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں۔ اور وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
(٣٣٧٨٣) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔
(۳۳۷۸۳) حَدَّثَنَا یَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ مُبَارَکٍ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أُمِرْت أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ (بخاری ۳۹۲۔ ابوداؤد ۲۶۳۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٨٤) حضرت نافع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض غزوات میں ایک عورت مردہ حالت میں پائی گئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔
(۳۳۷۸۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، قَالاَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : وُجِدَتِ امْرَأَۃٌ مَقْتُولَۃً فِی بَعْضِ مَغَازِی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ۔ (بخاری ۳۰۱۴۔ مسلم ۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٨٥) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
(۳۳۷۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، وَعَبْدِ الرَّحیم بْنِ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ۔ (احمد ۲۵۶۔ طبرانی ۱۲۰۸۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٨٦) حضرت ایوب (رض) فرماتے ہیں کہ وادی منی میں ایک شخص اپنے والد کے حوالہ سے نقل کررہا تھا کہ اس کے والد نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر روانہ فرمایا : میں بھی اس لشکر میں موجود تھا۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خدمت گاروں اور غلاموں کے قتل کرنے سے منع فرمایا۔
(۳۳۷۸۶) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ سَمِعْت رَجُلاً یُحَدِّثُ بِمنًی ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً کُنْتُ فِیہَا ، قَالَ : فَنَہَانَا أَنْ نَقْتُلَ الْعُسَفَائَ وَالْوُصَفَائَ۔

(احمد ۱۳۔ سعید ۲۶۲۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٨٧) حضرت عبد الرحمن بن کعب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ابن ابی الحقیق کی طرف لشکر روانہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
(۳۳۷۸۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبٍ ، عَنْ عَمِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ إِلَی ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ نَہَاہُ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ۔ (عبدالرزاق ۹۳۸۵۔ مالک ۴۴۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٨٨) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرتے تو ارشاد فرماتے : بچوں کو قتل مت کرنا۔
(۳۳۷۸۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا بَعَثَ سَرِیَّۃً ، أَوْ جَیْشًا ، قَالَ : لاَ تَقْتُلُوا وَلِیَدًا۔
tahqiq

তাহকীক: