মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৭৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٨٩) حضرت حنظلہ کاتب (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ غزوہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ ہمارا گزر ایک مقتولہ عورت پر ہوا اس حال میں کہ لوگ اس کے گرد جمع تھے۔ لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جگہ کشادہ کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تو لڑائی کرنے والوں میں لڑائی نہیں کر رہی تھی ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو کہا : کہ خالد بن ولید کے پاس جاؤ اور ان سے کہو : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم بچوں اور خدمت گاروں کو ہرگز قتل مت کرو۔
(۳۳۷۸۹)حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْمُرَقِّعِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ صَیْفِیٍّ، عَنْ حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْنَا بِامْرَأَۃٍ مَقْتُولَۃٍ ، وَقَدِ اجْتَمَعَ عَلَیْہَا النَّاسُ، قَالَ فَأَفْرَجُوا لَہُ ، فَقَالَ : مَا کَانَتْ ہَذِہِ تُقَاتِلُ فِیمَنْ یُقَاتِلُ ، ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ : انْطَلِقْ إلَی خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ فَقُلْ لَہُ : إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْمُرُک یَقُولُ : لاَ تَقْتُلَنَّ ذُرِّیَّۃً ، وَلاَ عَسِیفًا۔ (ابوداؤد ۲۶۶۲۔ احمد ۴۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٩٠) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کا توشہ دان اٹھاتا تھا اور جب ہمیں اللہ کے راستہ میں بھیجا جاتا تھا تو ہم لوگ مدینہ کے قریب قیام کرتے تھے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لاتے۔ اور فرماتے : اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ کے راستہ میں چلو۔۔۔ اللہ کے راستہ میں اللہ کے دشمنوں سے قتال کرنا۔ بہت زیادہ بوڑھے کو قتل مت کرنا۔ نہ ہی چھوٹے بچوں کو ، اور نہ ہی عورت کو، اور نہ ہی خیانت کرنا۔
(۳۳۷۹۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفَِرْزِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَحْمِلُ سَفْرَۃَ أَصْحَابِی ، وَکُنَّا إذَا اسْتُنفِرْنَا نَزَلْنَا بِظَہْرِ الْمَدِینَۃِ ، حَتَّی یَخْرُجَ إلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَقُولَ : انْطَلِقُوا بِسْمِ اللہِ ، وَفِی سَبِیلِ اللہِ تُقَاتِلُونَ أَعْدَائَ اللہِ فِی سَبِیلِ اللہِ ، لاَ تَقْتُلُوا شَیْخًا فَانِیًا ، وَلاَ طِفْلاً صَغِیرًا ، وَلاَ امْرَأَۃً ، وَلاَ تَغُلُّوا۔ (ابوداؤد ۲۶۰۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٩١) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اجناد کے امیروں کی طرف خط لکھا کہ وہ عورت اور بچہ کو قتل مت کریں۔ اور جس پر استرا چلتا ہو یعنی بالغ کو قتل کردیں۔
(۳۳۷۹۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ إلَی أُمَرَائِ الأَجْنَادِ أَنْ لاَ تَقْتُلُوا امْرَأَۃً ، وَلاَ صَبِیًّا ، وَأَنْ تَقْتُلُوا مَنْ جَرَتْ عَلَیْہِ الْمَواسِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٩٢) حضرت زید بن وھب (رض) فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا : کہ تم خیانت مت کرنا، اور نہ ہی غداری کرنا، اور بچوں کو قتل مت کرنا، اور کسانوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا۔
(۳۳۷۹۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : أَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ : لاَ تَغُلُّوا، وَلاَ تَغْدِرُوا ، وَلاَ تَقْتُلُوا وَلَیَدًا وَاتَّقُوا اللَّہَ فِی الْفَلاَّحِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٩٣) حضرت یحییٰ بن سعید (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے بیان کیا گیا کہ حضرت ابوبکر (رض) نے شام کی طرف لشکر بھیجے۔ آپ (رض) نکلے اور یزید بن ابو سفیان کے پیچھے چل رہے تھے۔ آپ (رض) نے فرمایا : یقیناً میں تمہیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں : تم بچوں کو ہرگز قتل مت کرنا، بچوں کو نہ ہی عورتوں کو اور نہ بہت ہی بوڑھیوں کو، اور تم پھلدار درخت مت کاٹنا۔ اور ہرگز آباد زمین کو برباد مت کرنا۔ اور ہرگز بکری اور گائے کو ذبح مت کرنا مگر صرف کھانے کے لیے۔ اور ہرگز کھجور کے درخت کو اوپر سری سے مت کاٹنا اور نہ ہی اس کو جلانا، اور نہ ہی خیانت کرنا، اور نہ ہی بزدلی دکھانا۔
(۳۳۷۹۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : حدِّثْتُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ بَعَثَ جُیُوشًا إلَی الشَّامِ فَخَرَجَ یَتْبَعُ یَزِیدَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ ، فَقَالَ : إنِّی أُوصِیک بِعَشْرٍ : لاَ تَقْتُلَنَّ صَبِیًّا ، وَلاَ امْرَأَۃً ، وَلاَ کَبِیرًا ہَرِمًا ، وَلاَ تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا ، وَلاَ تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا ، وَلاَ تَعْقِرَنَّ شَاۃً ، وَلاَ بقرۃ إِلاَّ لِمَأْکَلَۃٍ ، وَلاَ تُغْرِقَنَّ نَخْلاً ، وَلاَ تَحْرِقَنَّہُ وَلاَ تَغُلّ ، وَلاَ تَجْبُنْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٩٤) حضرت لیث (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ نہیں قتل کیا جائے گا جنگ میں بچوں کو نہ ہی عورتوں کو اور نہ ہی بہت بوڑھے کو ۔ نہ ہی کھانا جلایا جائے گا اور نہ ہی کھجور کے درخت کو، اور گھروں کو برباد بھی نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی پھلدار درخت کو کاٹا جائے گا۔
(۳۳۷۹۴) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لاَ یُقْتَلُ فِی الْحَرْبِ الصَّبِیُّ ، وَلاَ الْمَرْأَۃٌ، وَلاَ الشَّیْخُ الْفَانِی ، وَلاَ یُحْرَقُ الطَّعَامُ ، وَلاَ النَّخْلُ ، وَلاَ تُخَرَّبُ الْبُیُوتُ ، وَلاَ یُقْطَعُ الشَّجَرُ الْمُثْمِرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٩٥) حضرت اشعث (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری (رض) دارالحرب میں بہت بوڑھے کو، اور بچوں کو اور عورت کے قتل کیے جانے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ اور آپ (رض) اس بات کو بھی مکروہ سمجھتے تھے کہ کوئی آدمی اپنے ساتھ ان میں سے کسی کو اٹھائے پس پھر ان کا اٹھانا اس پر بھاری ہوجائے تو ان کو راستہ میں پھینک دے۔
(۳۳۷۹۵) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُقْتَلَ فِی دَارِ الْحَرْبِ الشَّیْخُ الْکَبِیرُ وَالصَّغِیرُ وَالْمَرْأَۃُ وَکَانَ یَکْرَہُ لِلرَّجُلِ إِنْ حَمَلَ مِنْ ہَؤُلاَئِ شَیْئًا مَعَہُ فَثَقُلَ عَلَیْہِ أَنْ یُلْقِیَہُ فِی الطَّرِیقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٩٦) حضرت عبد الملک بن عمیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطیہ قرظی (رض) نے فرمایا کہ غزوہ بنو قریظہ کے دن ہم لوگوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پیش کیا گیا پس جس کے زیر ناف بال اگے ہوئے تھے اس کو قتل کردیا گیا اور جس کے زیر ناف بال نہیں اگے تھے اس کا راستہ خالی چھوڑ دیا گیا۔
(۳۳۷۹۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطِیَّۃَ الْقُرَظِیَّ یَقُولُ : عُرِضْنَا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ قُرَیْظَۃَ ، فَکَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ ، وَمَنْ لَمْ یُنْبِتْ خَلِّیَ سَبِیلَہُ۔

(ابن ماجہ ۲۵۴۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٩٧) حضرت عبد الرحمن بن ابو عمرہ انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک مقتولہ عورت پر گزر ہوا پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو کس نے قتل کیا ؟ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول 5! میں نے۔ اس کو میں نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھایا تو اس نے مجھے مارنا چاہا پس میں نے اس کو مار دیا۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو دفنانے کا حکم دیا۔
(۳۳۷۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی فَزَارَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ الأَنْصَارِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی امْرَأَۃٍ مَقْتُولَۃٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ ہَذِہِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا یَا رَسُولَ اللہِ ، أَرْدَفْتہَا خَلْفِی فَأَرَادَتْ قَتْلِی فَقَتَلْتہَا ، فَأَمَرَ بِہَا فَدُفِنَتْ۔ (ابوداؤد ۳۳۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٩٨) حضرت یحییٰ بن یحییٰ غسانی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) کو خط لکھ کر اس آیت کے بارے میں سوال کیا : ترجمہ : اور لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو تم سے لڑتے ہیں ، اور تم زیادتی نہ کرو ، بیشک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ؟ آپ (رض) نے میری طرف خط لکھ کر جواب دیا اور فرمایا : بیشک یہ آیت عورتوں اور بچوں اور ا ن لوگوں کے بارے میں ہے جو ان میں سے جنگ نہیں چھیڑتے۔
(۳۳۷۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا صَدَقَۃُ الدِّمَشْقِیُّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی الْغَسَّانِیِّ ، قَالَ : کَتَبْت إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَسْأَلُہُ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ : {وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُّوا إنَّ اللَّہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ} قَالَ : فَکَتَبَ إلَیَّ إِنَّ ذَلِکَ فِی النِّسَائِ وَالذُّرِّیَّۃِ وَمَنْ لَمْ یَنْصِبِ الْحَرْبَ مِنْہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٧٩٩) حضرت ثابت بن حجاج کلابی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) لوگوں میں کھڑے ہوئے آپ (رض) نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر ارشاد فرمایا : خبردار ! وہ راہب جو اپنے عبادت خانے میں ہو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
(۳۳۷۹۹) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْکِلاَبِیُّ ، قَالَ : قَامَ أَبُو بَکْرٍ فِی النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : أَلاَ لاَ یُقْتَلُ الرَّاہِبُ فِی الصَّوْمَعَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٨٠٠) حضرت یزید بن ھرمز (رض) فرماتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس (رض) کو خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے متعلق سوال کیا اور اس نے اپنے خط میں لکھا کہ بلاشبہ ایک جاننے والے نے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی تھے۔ انھوں نے بچہ کو قتل کیا تھا ؟ ! یزید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے حضرت ابن عباس (رض) کا خط نجدہ کی طرف لکھا : کہ تو نے خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے متعلق پوچھا اور اپنے خط میں تو نے کہا کہ بلاشبہ ایک جاننے والے نے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی تھے تحقیق انھوں نے بچہ کو قتل کیا تھا ؟ ! اگر تم بھی بچوں کے بارے میں وہ بات جانتے ہوتے تو تم بھی اس کو قتل کردیتے۔ لیکن تم نہیں جانتے۔ تحقیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ پس تم ان سے الگ تھلگ رہو۔
(۳۳۸۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ ، قَالَ : کَتَبَ نَجْدَۃُ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَیَقُولُ فِی کِتَابِہِ : إِنَّ الْعَالِمَ صَاحِبَ مُوسَی قَدْ قَتَلَ الْوَلِیدَ ، قَالَ : فَقَالَ یَزِیدُ : أَنَا کَتَبْت کِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِیَدِی إلَی نَجْدَۃَ : إنَّک کَتَبْت تَسْأَلُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَتَقُولُ فِی کِتَابِکَ : إنَّ الْعَالِمَ صَاحِبَ مُوسَی قَدْ قَتَلَ الْوَلِیدَ ، وَلَوْ کُنْتَ تَعْلَمُ مِنَ الْوِلْدَانِ مَا عَلِمَ ذَلِکَ الْعَالِمُ مِنْ ذَلِکَ الْوَلِیدِ قَتَلْتَہُ ، وَلَکِنَّک لاَ تَعْلَمُ ، قَدْ نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِہِمْ فَاعْتَزَلَہُمْ۔ (ترمذی ۱۵۵۶۔ مسلم ۱۴۴۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٨٠١) حضرت اسلم (رض) جو حضرت عمر (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے گورنروں کو خط لکھ کر انھیں عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے سے منع کیا۔ اور ان کو حکم دیا کہ وہ بالغوں کو قتل کردیں۔
(۳۳۸۰۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ کَتَبَ إلَی عُمَّالِہِ یَنْہَاہُمْ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ وَأَمَرَہُمْ بِقَتْلِ مَنْ جَرَتْ عَلَیْہِ الْمَوَاسِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٨٠٢) حضرت زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ صحابہ (رض) مشرکین کے تاجروں کو قتل نہیں کرتے تھے۔
(۳۳۸۰۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کَانُوا لاَ یَقْتُلُونَ تُجَّارَ الْمُشْرِکِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٨٠٣) حضرت اسود بن سریع (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہوا کہ انھوں نے قتل میں مبالغہ کیا یہاں تک کہ انھوں نے بچوں کو بھی قتل کردیا ؟ ! اس پر قوم میں سے ایک شخص بولا : وہ تو مشرکین کے بچے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہارے میں جو بہترین لوگ ہیں کیا وہ مشرکین کی اولاد میں سے نہیں ہیں ؟ ! بیشک کوئی بھی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر فطرت اسلام پر یہاں تک کہ جب وہ بالغ ہوتا ہے تو اظہار ما فی الضمیر کرتا ہے، یا اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔
(۳۳۸۰۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِیعٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ بَلَغُوا فِی الْقَتْلِ ، حَتَّی قَتَلُوا الْوِلْدَانَ ؟ ! قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إنَّمَا ہُمْ أَوْلاَدُ الْمُشْرِکِینَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَوَلَیْسَ أَخْیَارُکُمْ إنَّمَا ہُمْ أَوْلاَدُ الْمُشْرِکِینَ ؟! إِنَّہُ لَیْسَ مَوْلُودٌ یُولَدُ ، إِلاَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ ، حَتَّی یَبْلُغَ فَیُعَبِّرَ عَنْ نَفْسِہِ ، أَوْ یُہَوِّدَہُ أَبَوَاہُ ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ۔ (احمد ۴۳۵۔ دارمی ۲۴۶۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٨٠٤) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب لشکروں کو بھیجتے تو فرماتے کہ عبادت گاہوں میں موجود لوگوں کو قتل مت کرنا۔
(۳۳۸۰۴) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شَیْخٍ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ مَوْلَی لِبَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إذَا بَعَثَ جُیُوشَہُ ، قَالَ : لاَ تَقْتُلُوا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ۔ (احمد ۳۰۰۔ بزار ۱۶۷۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٨٠٥) حضرت جویبر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ عورت اور بہت بوڑھے کو قتل کرنے سے روکا جاتا تھا۔
(۳۳۸۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : کَانَ یُنْہَی عَنْ قَتْلِ الْمَرْأَۃِ وَالشَّیْخِ الْکَبِیرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٨٠٦) حضرت ابوبکر (رض) نے ایک لشکر روانہ کیا اور اسے فرمایا کہ اللہ کے نام کے ساتھ جہاد کرو۔ اے اللہ ! ان کی موت کو اپنے راستے کی شہادت بنا دے پھر فرمایا تم جن لوگوں کو عبادت گاہوں میں عبادت کرتا پاؤ، انھیں کچھ نہ کہو اور جو لوگ تمہارے خلاف جنگ کریں ان کے سر کے درمیان میں مارو۔
(۳۳۸۰۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی مُطِیعٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ بَعَثَ جَیْشًا ، فَقَالَ : اغْزُوا بِسْمِ اللہِ اللَّہُمَّ اجْعَلْ وَفَاتَہُمْ شَہَادَۃً فِی سَبِیلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : إنَّکُمْ تَأْتُونَ قَوْمًا فِی صَوَامِعَ لَہُمْ فَدَعَوْہُمْ ، وَمَا أَعْمَلُوا أَنْفُسَہُمْ لَہُ ، وَتَأْتُونَ إلَی قَوْمٍ قَدْ فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُؤُوسِہِمْ أَمْثَالَ الْعَصْبِ فَاضْرِبُوا مَا فَحَصُوا عَنْہُ مِنْ أَوْسَاطِ رُؤُوسِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٨٠٧) حضرت راشدبن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں ، بچوں اور اس بڑے بوڑھے کو جس میں بالکل دم نہ ہو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
(۳۳۸۰۷) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَحْوَصِ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالذُّرِّیَّۃِ وَالشَّیْخِ الْکَبِیرِ الَّذِی لاَ حَرَاکَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
(٣٣٨٠٨) حضرت صفوان بن عسال (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب لشکر روانہ کرتے تو فرماتے کسی بچہ کو قتل مت کرنا۔
(۳۳۸۰۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ عَطِیَّۃُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الغَرِیفِ عُبَیْدُ اللہِ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إذَا بَعَثَ سَرِیَّۃً ، قَالَ : لاَ تَقْتُلُوا وَلِیَدًا۔ (ابن ماجہ ۲۸۵۷۔ احمد ۲۴۰)
tahqiq

তাহকীক: