মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৮০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے میں رخصت دی
(٣٣٨٠٩) حضرت صعب بن جثّامہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : مشرکین کے گھروں سے اس گھر کے بارے میں جن میں سازشیں کی جاتی ہیں اس حال میں کہ ان میں عورتیں اور بچے بھی ہوتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ ان ہی میں سے ہیں۔
(۳۳۸۰۹) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الدَّارِ مِنْ دُورِ الْمُشْرِکِینَ یُبَیَّتُونَ وَفِیہِمُ النِّسَائُ وَالْوِلْدَانُ ، فَقَالَ : ہُمْ مِنْہُمْ۔ (بخاری ۳۰۱۲۔ مسلم ۱۳۶۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے میں رخصت دی
(٣٣٨١٠) حضرت سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مشرکین کے بوڑھوں کو قتل کرو۔ اور جو بچے آغاز جوانی کو پہنچ چکے ہیں ان کو زندہ چھوڑ دو ۔
(۳۳۸۱۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اقْتُلُوا الشُّیُوخَ الْمُشْرِکِینَ وَاسْتَحْیُوا شَرْخَہُمْ۔

(ابوداؤد ۲۶۶۳۔ احمد ۱۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے میں رخصت دی
(٣٣٨١١) حضرت حسن بصری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) ان عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کرتے تھے جو ان کے خلاف مدد فراہم کرتے تھے۔
(۳۳۸۱۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْتُلُونَ مِنَ النِّسَائِ وَالصِّبْیَانُ مَا أَعَانَ عَلَیْہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے میں رخصت دی
(٣٣٨١٢) حضرت اوزاعی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے امام زہری (رض) سے دشمن کے بارے میں سوال کیا کہ جب ان پر غلبہ ہوجائے تو کیا ان کے پیامبر کو بھی قتل کردیا جائے گا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : کہ حضرت عمر (رض) پیامبر کو قتل کردیتے تھے جب ان پر فتح حاصل ہوجاتی ۔ اور ان کو قیدی بنا لیتے تھے اس کے ساتھ۔
(۳۳۸۱۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ الزُّہْرِیَّ ، عَنِ الْعَدُوِّ إذَا ظُہِرَ عَلَیْہِمْ أَیَقْتُلُ عُلُوجَہُمْ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ یَقْتُلُ الْعُلُوجَ إذَا ظُہِرَ عَلَیْہِمْ وَیُسْبَوْنَ مَعَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے میں رخصت دی
(٣٣٨١٣) حضرت ہشام (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری (رض) نے ارشاد فرمایا : جب مشرکین میں سے کوئی عورت نکل کر قتال کرے تو تم اس کو قتل کردو۔
(۳۳۸۱۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا خَرَجَتِ الْمَرْأَۃُ مِنَ الْمُشْرِکِینَ تُقَاتِلُ فَلْتُقْتَلْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آگ کے ساتھ جلانے سے روکے
(٣٣٨١٤) حضرت ابوہریرہ دوسی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا : اگر تمہیں فلاں اور فلاں شخص پر فتحیابی ملے تو ان دونوں آدمیوں کو جلا دینا۔ یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف قاصد بھیجا کہ میں نے تمہیں ان دو آدمیوں کے جلانے کا حکم دیا تھا۔ اور میری رائے یہ ہوئی کہ آگ کا عذاب دینا اللہ کے سوا کسی کے لیے مناسب نہیں۔ پس اگر تمہیں ان دونوں پر فتحیابی نصیب ہو تو تم ان دونوں کو قتل کردینا۔
(۳۳۸۱۴) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ إبْرَاہِیمَ الدَّوْسِیِّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ الدَّوْسِیِّ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَرِیَّۃٍ ، وَقَالَ : إِنْ ظَفِرْتُمْ بِفُلاَنٍ وَفُلاَنٍ فَأَحْرِقُوہُمَا بِالنَّارِ ، حَتَّی إذَا کَانَ الْغَدُ بَعَثَ إلَیْنَا ، إنِّی کُنْتُ أَمَرْتُکُمْ بِتَحْرِیقِ ہَذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ وَرَأَیْت أَنَّہُ لاَ یَنْبَغِی أَنْ یُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلاَّ اللَّہُ فَإِنْ ظَفِرْتُمْ بِہِمَا فَاقْتُلُوہُمَا۔ (بخاری ۳۰۱۶۔ دارمی ۲۴۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آگ کے ساتھ جلانے سے روکے
(٣٣٨١٥) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہیں حضرت علی (رض) نے جلا دیا تھا پھر فرمایا : اگر میں ہوتا تو میں کبھی ان لوگوں کو آگ میں نہ جلاتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ تم اللہ کے عذاب کے طریقہ پر عذاب مت دو ۔ اور اگر میں ہوتا تو میں ان کو قتل کردیتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد گرامی کی وجہ سے کہ جو شخص اپنا دین تبدیل کرلے تو تم اس کو قتل کردو۔
(۳۳۸۱۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ ذَکَرَ نَاسًا أَحْرَقَہُمْ عَلِیٌّ ، فَقَالَ : لَوْ کُنْتُ أَنَا لَمْ أَحْرِقْہُمْ بِالنَّارِ لِقَوْلِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللہِ ، وَلَوْ کُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُہُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِینَہُ فَاقْتُلُوہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آگ کے ساتھ جلانے سے روکے
(٣٣٨١٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگ آگ کا عذاب مت دو ۔ اس لیے کہ بندے کے پروردگار کے سوا کوئی آگ کا عذاب نہیں دے سکتا۔
(۳۳۸۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تُعَذِّبُوا بِالنَّارِ فَإِنَّہُ لاَ یُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلاَّ رَبُّہَا۔ (ابوداؤد ۲۶۶۸۔ حاکم ۲۳۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آگ کے ساتھ جلانے سے روکے
(٣٣٨١٧) حضرت قاسم بن عبد الرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر روانہ فرمایا : پس انھوں نے کسی آدمی کو تلاش کیا تو وہ درخت پر چڑھ گیا پس انھوں نے اس درخت کو آگ سے جلا ڈالا جب یہ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آئے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کی خبر دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک مجھے اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ میں اللہ کے عذاب کے طریقے پر عذاب دوں۔ بیشک مجھے بھیجا گیا ہے گردنیں مارنے کے لیے اور مضبوطی سے باندھنے کے لیے۔
(۳۳۸۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً فَطَلَبُوا رَجُلاً فَصَعِدَ شَجَرَۃً فَأَحْرَقُوہَا بِالنَّارِ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوہُ بِذَلِکَ ، فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : إنِّی لَمْ أُبْعَثْ لأُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللہِ ، إنَّمَا بُعِثْت بِضَرْبِ الرِّقَابِ وَشَدِّ الْوَثَاقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آگ کے ساتھ جلانے سے روکے
(٣٣٨١٨) حضرت عثمان بن حیان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ام الدردائ (رض) نے کسی شخص کو دیکھا کہ اس نے جوں یا پسّو کو پکڑا اور اس کو آگ میں ڈال دیا۔ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : بیشک کسی کے لیے بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب دے۔
(۳۳۸۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ، عَنْ سَعِیدٍ البزَّازِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حِیَّانَ، عنْ أُمّ الدَّرْدَائِ أَنَّہَا أَبْصَرَتْ إنْسَانًا أَخَذَ قملۃ، أَوْ بُرْغُوثًا فَأَلْقَاہُ فِی النَّارِ، فَقَالَتْ: إِنَّہُ لاَ یَنْبَغِی لأَحَدٍ أَنْ یُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آگ کے ساتھ جلانے سے روکے
(٣٣٨١٩) حضرت منصور (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ صحابہ (رض) بچھو کے آگ میں جلانے کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ عبرتناک سزا ہے۔
(۳۳۸۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ تُحْرَقَ الْعَقْرَبُ بِالنَّارِ ، وَیَقُولُونَ : مُثْلَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آگ کے ساتھ جلانے سے روکے
(٣٣٨٢٠) حضرت حریث (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن عباد ابو ھبیرہ نے بچھو کے آگ میں جلا ڈالنے کو مکروہ سمجھا۔
(۳۳۸۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حُرَیث ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ أَبِی ہُبَیْرَۃَ أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ تُحْرَقَ الْعَقْرَبُ بِالنَّارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
(٣٣٨٢١) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درختوں کو کاٹا اور جلا ڈالا۔
(۳۳۸۲۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ وَعُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِی النَّضِیرِ وَحَرَّقَ۔ (احمد ۸۔ بخاری ۳۰۲۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
(٣٣٨٢٢) حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی علاقہ میں بھیجا جس کا نام ابنی تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم وہاں صبح پہنچنا پھر اس کو جلا دینا۔
(۳۳۸۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِی الأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ أُسَامَۃَ ، قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی أَرْضٍ یُقَالَ لَہَا أُبْنَی ، فَقَالَ : ائْتِہَا صَبَاحًا ، ثُمَّ حَرِّقْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
(٣٣٨٢٣) حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے جلانے کا حکم دیا یا یوں فرمایا : کہ انھیں جلا دیا۔
(۳۳۸۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانَ قَالَ : بَلَغَنِی عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّہُ أَمَرَ بِالتَّحْرِیقِ ، أَوْ حَرَّقَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
(٣٣٨٢٤) حضرت سوید بن غفلہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے زنادقہ کو بازار میں جلا ڈالا جب ان پر آگ پھینکی گئی تو آپ (رض) نے فرمایا : کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا۔ پھر آپ (رض) واپس لوٹ گئے میں بھی آپ (رض) کے پیچھے ہو لیا۔ آپ (رض) میری طرف متوجہ ہوئے۔ اور پوچھا : کہ سوید ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! میں نے سنا کہ آپ (رض) کچھ فرما رہے تھے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اے سوید ! بیشک میں جاہل لوگوں کے ساتھ ہوں۔ جب تم سنو کہ میں کچھ کہہ رہا ہوں تو وہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمائی ہے اور وہ بالکل حق ہے۔
(۳۳۸۲۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ أَنَّ عَلِیًّا حَرَّقَ زَنَادِقَۃً بِالسُّوقِ ، فَلَمَّا رَمَی عَلَیْہِمْ بِالنَّارِ ، قَالَ : صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَاتَّبَعْتہ ، فَالْتَفَتَ إلَیَّ ، قَالَ سُوَیْد قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ سَمِعْتُک تَقُولُ شَیْئًا ، فَقَالَ : یَا سُوَیْد ، إنِّی مع قَوْمٍ جُہَّالٍ ، فَإِذَا سَمِعْتَنِی أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَہُوَ حَقٌّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
(٣٣٨٢٥) حضرت عبد الرحمن بن عبید (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عبید (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ کچھ لوگ تھے جو عطیات اور تنخواہیں لیتے تھے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور پوشیدگی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ان لوگوں کو حضرت علی (رض) بن ابی طالب کے پاس لایا گیا تو آپ (رض) نے ان کو مسجد میں یا جیل خانہ میں قید کردیا۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تمہاری کیا رائے ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں جو تمہارے ساتھ عطیات اور تنخواہیں لیتے ہیں اور ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : آپ (رض) ان کو قتل کردیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں ان کے ساتھ وہی معاملہ کروں گا جو انھوں نے ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا۔ پس آپ (رض) نے ان کو آگ میں جلا دیا۔
(۳۳۸۲۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ أُنَاسٌ یَأْخُذُونَ الْعَطَائَ وَالرِّزْقَ وَیُصَلُّونَ مَعَ النَّاسِ ، وَکَانُوا یَعْبُدُونَ الأَصْنَامَ فِی السِّرِ ، فَأَتَی بِہِمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَوَضَعَہُمْ فِی الْمَسْجِدِ ، أَوَ قَالَ فِی السِّجْنِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، مَا تَرَوْنَ فِی قَوْمٍ کَانُوا یَأْخُذُونَ مَعَکُمَ الْعَطَائَ وَالرِّزْقَ وَیَعْبُدُونَ ہَذِہِ الأَصْنَامَ ، قَالَ النَّاسُ : اقْتُلْہُمْ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنْ أَصْنَعُ بِہِمْ کَمَا صَنَعُوا بِأَبِینَا إبْرَاہِیمَ ، فَحَرَّقَہُمْ بِالنَّارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
(٣٣٨٢٦) حضرت جریر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت نہیں پہنچاؤ گے ؟ یہ خثعم کا گھر تھا جس کی زمانہ جاہلیت میں عبادت کی جاتی تھی اور اس کا نام کعبہ یمانیہ تھا۔ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ میں ڈیڑھ سو سواروں کو لے کر نکلا اور ہم نے اس کو جلا دیا یہاں تک کہ ہم نے اسے خارش زدہ اونٹ کی مانند بنادیا پھر حضرت جریر (رض) نے ایک آدمی کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اس بات کی خوشخبری سنانے کے لیے ، جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا ، میں نے آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہاں تک کہ ہم نے اس جگہ کو خارش زدہ اونٹ کی مانند چھوڑا۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ مرتبہ احمس کو ، اس کے گھوڑے کو اور اس کے آدمیوں کو برکت کی دعا دی۔
(۳۳۸۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ جَرِیرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلاَ تُرِیحُنِی مِنْ ذِی الْخَلَصَۃِ بَیْتٍ کَانَ لِخَثْعَمَ کَانَتْ تَعْبُدُہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، یُسَمَّی الْکَعْبَۃَ الْیَمَانِیَّۃَ ، قَالَ : فَخَرَجْت فِی خَمْسِینَ وَمِئَۃِ رَاکِبٍ ، قَالَ : فَحَرَقْنَاہَا حَتَّی جَعَلْنَاہَا مِثْلَ الْجَمَلِ الأَجْرَبِ ، قَالَ : بَعَثَ جَرِیرٌ رَجُلاً إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُبَشِّرہ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَیْہِ ، قَالَ : وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِ ، مَا أَتَیْتُک حَتَّی تَرَکْنَاہَا مِثْلَ الْجَمَلِ الأَجْرَبِ ، قَالَ : فَبَرَّکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی أَحْمَسَ خَیْلِہَا وَرِجَالِہَا خَمْسَ مَرَّاتٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
(٣٣٨٢٧) حضرت ابن عبداللہ بن حسن (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن حسن (رض) جلا دینے اور دشمن کی زمین میں درخت کاٹ دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۳۳۸۲۷) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنِ ابن عَبْدِ اللہِ بن الحسن ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بِالتَّحْرِیقِ وَقَطْعِ الشَّجَرِ فِی أَرْضِ الْعَدُوِّ بَأْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
(٣٣٨٢٨) حضرت داؤد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ (رض) نے اس آیت مبارکہ { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ } ترجمہ : کاٹ ڈالا تم نے جو درخت۔ اس کے بارے میں آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ کھجور کا درخت مراد ہے۔
(۳۳۸۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ} قَالَ : ہِیَ النَّخْلَۃُ دُونَ الْعَجْوَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক: