মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭৮ টি
হাদীস নং: ৩৩৯২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات دراھم کے ساتھ فدیہ لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٣٣٩٢٩) حضرت حکم (رض) اور حضرت مجاہد (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا اگر مشرکین میں سے تم کسی کا فدیہ لو، اور تمہیں دو مد دینار دیئے جائیں تو فدیہ کو مت وصول کرو۔
(۳۳۹۲۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، وَمُجَاہِدٍ ، قَالاَ : قَالَ أَبُو بَکْرٍ : إِنْ أَخَذْتُمْ أَحَدًا مِنَ الْمُشْرِکِینَ، فَأُعْطِیتُمْ بِہِ مُدَّیْ دَنَانِیرَ ، فَلاَ تُفَادُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات دراھم کے ساتھ فدیہ لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٣٣٩٣٠) حضرت خالد بن زید (رض) سے مروی ہے جن کی آنکھ سوس کے علاقہ میں جہاد میں شھید ہوچکی تھی، فرماتے ہیں کہ ہم نے کفار کے علاقہ کا محاصرہ کیا، ہمیں بڑی مشقت پیش آئی، اس وقت ہمارے امیر حضرت ابو موسیٰ (رض) تھے، ایک دھقان نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی امان طلب کی اور چھٹکارا چاہا۔ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا، ان کو علیحدہ کرو، دھقان نے ان کو علیحدہ کرنا، شروع کردیا، حضرت ابو موسیٰ (رض) نے اپنے ساتھیوں سے کہا : مجھے لگتا ہے کہ یہ دھوکا دے گا۔ پھر جب اس دھقان نے اپنے خاندان والوں کو نکال لیا تو پھر جنگ کے لیے تیار ہوگیا۔ پھر جب وہ گرفتار کر کے لایا گیا تو اس نے بہت سے فدیے کی پیش کش کی۔ لیکن حضرت ابو موسیٰ (رض) نے اس کے قتل کا حکم دیا۔
(۳۳۹۳۰) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ حَبِیبٍ بْن أَبِی یَحْیَی ؛ أَنَّ خَالِدَ بْنَ زَیْدٍ ،وَکَانَتْ عَیْنَہُ أُصِیبَتْ بِالسَّوسِ ، قَالَ : حاصَرْنَا مَدِینَتَہَا ، فَلَقِینَا جَہْدًا ، وَأَمِیرُ الْمُسْلِمِینَ أَبُو مُوسَی ، وَأَخَذَ الدِّہْقَانُ عَہْدَہُ وَعَہْدَ مَنْ مَعَہُ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی : اعْزِلْہُمْ ، فَجَعَلَ یَعْزِلُہُمْ ، وَجَعَلَ أَبُو مُوسَی یَقُولُ لأَصْحَابِہِ : إِنِّی أَرْجُو أَنْ یَخْدَعَہُ اللَّہُ عَنْ نَفْسِہِ ، فَعَزَلَہُمْ وَبَقِیَ عَدُوُّ اللہِ ، فَأَمَرَ بِہِ أَبُو مُوسَی ، فَفَادَی وَبَذَلَ مَالاً کَثِیرًا ، فَأَبَی وَضَرَبَ عُنُقَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات دراھم کے ساتھ فدیہ لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٣٣٩٣١) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ : خندق والے دن کچھ کفار مارے گئے، مسلمان کفار کے لاشوں پر غالب آگئے، مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ ہماری لاشیں ہمارے حوالے کردو، ہم اس کے بدلہ دس ہزار دراہم دیں گے، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمیں تمہاری لاشوں (مردار لاشوں) اور دیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ خبیث دیت اور خبیث لاشیں ہیں۔
(۳۳۹۳۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قُتِلَ قَتِیلٌ یَوْمَ الْخَنْدَقِ ، فَغَلَبَ الْمُسْلِمُونَ الْمُشْرِکِینَ عَلَی جِیفَتِہِ ، فَقَالُوا : ادْفَعُوا إِلَیْنَا جِیفَتَہُ وَنُعْطِیکُمْ عَشَرَۃَ آلاَف دِرْہَم ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لاَ حَاجَۃَ لَنَا فِی جِیفَتِہِ ، وَلاَ دِیَتِہِ ، إِنَّہُ خَبِیثُ الدِّیَۃِ خَبِیثُ الْجِیفَۃِ۔ (احمد ۲۴۸۔ بیہقی ۱۳۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات دراھم کے ساتھ فدیہ لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٣٣٩٣٢) حضرت حکم (رض) سے مروی ہے کہ کچھ مشرکین غزوہ خندق میں مارے گئے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان مردہ لاشوں کے بدلے مال دینے کو کہا گیا یہاں تک کہ وہ دیت کی رقم تک پہنچ گئے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لینے سے انکار کردیا۔
(۳۳۹۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِکِینَ أُصِیبَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ ، فَأَعْطَوُا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِجِیفَتِہِ حَتَّی بَلَغُوا الدِّیَۃَ ، فَأَبَی۔ (احمد ۲۴۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات دراھم کے ساتھ فدیہ لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٣٣٩٣٣) حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی مردی ہے۔
(۳۳۹۳۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ بِنَحْوِہِ۔ (ترمذی ۱۷۱۵۔ احمد ۳۲۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات دراھم کے ساتھ فدیہ لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٣٣٩٣٤) حضرت مجاہد (رض) سے مروی ہے کہ { وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ } منسوخ ہوگئی جو ان سے پہلے فدیہ اور احسان کر کے چھوڑنے کا حکم تھا۔
(۳۳۹۳۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : نَسَخَتْ : {وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ} مَا کَانَ قَبْلَ ذَلِکَ مِنْ فِدَائٍ ، أَوْ مَنٍّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات دراھم کے ساتھ فدیہ لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٣٣٩٣٥) حضرت مجاہد فرماتے ہیں قرآن کی آیت { فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَائً } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اب کوئی احسان اور فدیہ نہیں ہے۔
(۳۳۹۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ؛ فِی قَوْلِہِ: {فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَائً} قَالَ: لاَ مَنٍّ، وَلاَ فِدَائٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات دراھم کے ساتھ فدیہ لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٣٣٩٣٦) حضرت مجاہد (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ طلب کیا، حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آپ کی قوم اور آپ کے رشتہ دار ہیں، ان سے فدیہ لے کر آزاد کردیں، حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا، ان سب کو قتل کردیں، پھر اس کے بارے میں قرآن کریم کی آیت { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ } حضرت مجاہد فرماتے ہیں الا ثخان سے مراد قتل ہے۔
(۳۳۹۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : اسْتَشَارَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الأُسَارَی یَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، قَوْمُک وَعَشِیرَتُک بَنُو عَمِّکَ ، فَخُذْ مِنْہُمَ الْفِدْیَۃَ ، وَقَالَ عُمَرُ : اُقْتُلْہُمْ ، فَنَزَلَتْ : {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ} قَالَ مُجَاہِدٌ : وَالإِثْخَانُ : ہُوَ الْقَتْلُ۔ (ابن جریر ۴۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدیوں کا فدیہ کون ادا کرے گا ؟
(٣٣٩٣٧) حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا جو بھی قیدی کافروں کے قبضہ میں ہو پھر اس کا فدیہ مسلمانوں کا بیت المال ادا کرے گا۔
(۳۳۹۳۷) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْن أَبِی حَفْصَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ مِہْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : کُلَّ أَسِیرٍ کَانَ فِی أَیْدِی الْمُشْرِکِینَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، فَفِکَاکُہُ مِنْ بَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدیوں کا فدیہ کون ادا کرے گا ؟
(٣٣٩٣٨) حضرت بشر بن غالب سے مروی ہے کہ حضرت ابن زبیر (رض) نے حضرت حسن بن علی (رض) سے دریافت کیا کہ ایک مجاہد ذمی جہاد کے دوران اگر گرفتار ہوجائے ؟ فرمایا جن سے وہ لڑا ہے انہی کے خراج میں سے اس کا فدیہ ادا کیا جائے گا۔
(۳۳۹۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَرِیکٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ ، قَالَ : سَأَلَ ابْنُ الزُّبَیْرِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ عَنِ الرَّجُلِ یُقَاتِلُ عَنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ ، فَیُؤْسَرُ ؟ قَالَ : فَفِکَاکُہُ مِنْ خَرَاجِ أُولَئِکَ الْقَوْمِ الَّذِینَ قَاتَلَ عَنْہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدیوں کا فدیہ کون ادا کرے گا ؟
(٣٣٩٣٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اھل العہد (ذمی) کو مشرکین قید کرلیں پھر مسلمان ان پر غالب آجائیں تو وہ غلام نہیں بنائے جائیں گے۔
(۳۳۹۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی أَہْلِ الْعَہْدِ إِذَا سَبَاہُمَ الْمُشْرِکُونَ ، ثُمَّ ظَہَرَ عَلَیْہِمَ الْمُسْلِمُونَ ، قَالَ : لاَ یُسْتَرَقُّونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ان کا فدیہ دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٣٣٩٤٠) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں غلام اور معاھد کا فدیہ نہ دیا جائے گا۔
(۳۳۹۴۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : لاَ یُفَادَی الْعَبْدُ ، وَلاَ الْمُعَاہَدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٤١) حضرت عطاء قیدیوں کے قتل کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۳۳۹۴۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ قَتْلَ الأَسْرَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٤٢) حضرت عطاء فرماتے تھے کہ قیدی کو قتل مت کرو۔
(۳۳۹۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : لاَ یُقْتَلُ الأَسِیرُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٤٣) حضرت حسن (رض) قیدی کے قتل کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۳۳۹۴۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ قَتْلَ الأَسِیرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٤٤) حضرت ابو جعفر (رض) سے مروی ہے کہ جنگ صفین کے دن جب حضرت علی (رض) کی خدمت میں قیدی لایا جاتا تو آپ اس کا سامان اور سواری ضبط فرما لیتے اور اس سے دوبارہ نہ لڑنے کا عہد لے کر اس کو رہا فرما دیتے۔
(۳۳۹۴۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ إِذَا أُتِیَ بِأَسِیرٍ یَوْمَ صِفِّینَ ، أَخَذَ دَابَّتَہُ ، وَأَخَذَ سِلاَحَہُ ، وَأَخَذَ عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَعُودَ ، وَخَلَّی سَبِیلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٤٥) حضرت ابی فاختہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے پڑوسی نے بتایا کہ جنگ صفین کے دن میں قید ہو کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں پیش ہوا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں تجھے قتل نہ کروں گا میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔
(۳۳۹۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی فَاخِتَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی جَارٌ لِی ، قَالَ : أَتَیْتُ علِیًّا بِأَسِیرٍ یَوْمَ صِفِّینَ ، فَقَالَ : لَنْ أَقْتُلَک صَبْرًا ، إِنِّی أَخَافُ اللَّہَ رَبَّ الْعَالَمِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٤٦) حضرت حسن سے مروی ہے کہ حجاج کے پاس قیدی لایا گیا حجاج نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا کھڑے ہوجاؤ اور اس کو قتل کردو، حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : ہمیں کس چیز کا حکم دیا گیا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : { حَتَّی إِذَا أَثْخَنْتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَائً }۔
(۳۳۹۴۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ خُلَیْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّ الْحَجَّاجَ أُتِیَ بِأَسِیرٍ ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ : قُمْ فَاقْتُلْہُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَا بِہَذَا أُمِرْنَا ، یَقُولُ اللَّہُ : {حَتَّی إِذَا أَثْخَنْتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَائً}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٤٧) حضرت حسن سے مروی ہے کہ ابن عامر نے فارس کے قیدی کو حضرت ابن عمر (رض) کے پاس بھیجا تاکہ وہ اس کو قتل کردیں، حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : بہرحال وہ بندھا ہوا قیدی ہے تو پھر قتل نہیں ہوگا۔
(۳۳۹۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : بَعَثَ ابْنُ عَامِرٍ إلَی ابْنِ عُمَرَ بِأَسِیرٍ وَہُوَ بِفَارِسَ ، أَوْ بِإِصْطَخْرَ لِیَقْتُلَہُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَمَّا وَہُوَ مَصْرُورٌ فَلاَ۔
قَالَ وَکِیعٌ : یَعْنِی مَوْثُوقًا۔
قَالَ وَکِیعٌ : یَعْنِی مَوْثُوقًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٤٨) حضرت سفیان سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) بن خطاب کی خدمت میں قیدی لائے گئے تو آپ نے ان سب کو آزاد کردیا۔
(۳۳۹۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ رَجُلٍ لَمْ یُسَمِّہِ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِیَ بِسَبِی فَأَعْتَقَہُمْ۔
তাহকীক: