মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭৮ টি
হাদীস নং: ৩৩৯৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٤٩) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ امام کو قیدیوں کے متعلق مکمل اختیار ہے، اگر چاہے تو فدیہ لے کر آزاد کر دے، یا احسان کرتے ہوئے آزاد کر دے یا پھر قتل کر دے۔
(۳۳۹۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَصْحَابُنَا ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : الإِمَامُ فِی الأُسَارَی بِالْخِیَارِ ، إِنْ شَائَ فَادَی ، وَإِنْ شَائَ مَنَّ ، وَإِنْ شَائَ قَتَلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٥٠) حضرت جعفر (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے بصرہ کے دن منادی کو اعلان کرنے کا حکم فرمایا کہ : قیدی قتل نہیں کیا جائے گا۔
(۳۳۹۵۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: أَمَرَ عَلِیٌّ مُنَادِیَہُ، فَنَادَی یَوْمَ الْبَصْرَۃِ: لاَ یُقْتَلُ أَسِیرٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی کو قتل نہیں کیا جائے گا اور بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٥١) حضرت حصین سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن اعلان فرمایا : خبردار پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور زخمی کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور جس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کردیا وہ مامون ہے۔
(۳۳۹۵۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : أَلاَ لاَ یُقْتَلُ مُدْبِرٌ ، وَلاَ یُجْہَزُ عَلَی جَرِیحٍ ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ۔ (ابوعبید ۱۵۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی کو قتل نہیں کیا جائے گا اور بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٥٢) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے بصرہ کے دن منادی کو یہ اعلان کرنے کو فرمایا کہ خبردار ! بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے، زخمی کو قتل نہ کیا جائے گا، قیدی کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور جس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کردیا وہ مامون ہے اور جس نے اپنا ہتھیار ڈال دیا وہ بھی مامون ہے اور ان کے سامان کو نہیں لوٹا جائے گا۔
(۳۳۹۵۲) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ عَلِیًّا أَمَرَ مُنَادِیَہُ فَنَادَی یَوْمَ الْبَصْرَۃِ : أَلاَ لاَ یُتْبَعُ مُدْبِرٌ ، وَلاَ یُذْفَفُ عَلَی جَرِیحٍ ، وَلاَ یُقْتَلُ أَسِیرٌ ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَلْقَی السِّلاَحَ فَہُوَ آمِنٌ ، وَلاَ یَؤْخُذُ مِنْ مَتَاعِہِمْ شَیئٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی کو قتل نہیں کیا جائے گا اور بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٥٣) حضرت ابو امامہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں جنگ صفین میں حاضر تھا، زخمیوں قتل نہیں کیا جا رہا تھا، اور بھاگنے والوں کا پیچھا بھی نہیں کیا جا رہا تھا اور مقتولوں کا سامان بھی نہیں چھینا جا رہا تھا۔
(۳۳۹۵۳) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَیْمُونٌ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ، قَالَ : شَہِدْتُ صِفِّینَ ، فَکَانُوا لاَ یُجْہِزُونَ عَلَی جَرِیحٍ ، وَلاَ یَطْلُبُونَ مُوَلِّیًا ، وَلاَ یَسْلُبُونَ قَتِیلاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی کو قتل نہیں کیا جائے گا اور بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٥٤) حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ یمامہ والے دن حضرت زبیر (رض) زخمیوں کو تلاش کر رہے تھے، جب کسی شخص کو دیکھتے کہ اس کا خون بہہ رہا ہے تو زبیر حملہ آور ہوجاتے۔
(۳۳۹۵۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ الزُّبَیْرُ یَتَتَبَّعُ الْقَتْلَی یَوْمَ الْیَمَامَۃِ ، فَإِذَا رَأَی رَجُلاً بِہِ رَمَقٌ أَجْہَزَ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی کو قتل نہیں کیا جائے گا اور بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا
(٣٣٩٥٥) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جنگ احد کے دن عورتیں زخمیوں پر حملہ آور ہو رہی تھیں۔
(۳۳۹۵۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنَّ النِّسَائُ یُجْہِزْنَ عَلَی الْجَرْحَی یَوْمَ أُحُدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت (بخشش) جنگ سے قبل ہو گا یا جنگ کے بعد ؟
(٣٣٩٥٦) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ عطیہ اور بخشش اس وقت تک ہے جب تک کہ لشکر آمنے سامنے نہ آئے ہوں۔ اگر آمنے سامنے آجائیں تو پھر مال غنیمت ہے۔
(۳۳۹۵۶) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : النَّفَلُ مَا لَمْ یَلْتَقِ الصَّفَّانِ ، أَوِ الزَّحْفَانِ ، فَإِذَا الْتَقَی الزَّحْفَانِ ، أَوِ الصَّفَّانِ ، فَالْمَغْنَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت (بخشش) جنگ سے قبل ہو گا یا جنگ کے بعد ؟
(٣٣٩٥٧) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ جب دونوں لشکر آمنے سامنے آجائیں تو پھر بخشش اور عطیہ نہیں ہے، وہ تو غنیمت ہے، بخشش اور عطیہ تو اسے پہلے یا اس کے بعد ہے۔
(۳۳۹۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الْعُمَیْسِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : إِذَا الْتَقَی الزَّحْفَانِ ، أَوِ الصَّفَّانِ فَلاَ نَفْلُ ، إِنَّمَا ہِیَ الْغَنِیمَۃُ ، إِنَّمَا النَّفَلُ قَبْلُ وَبَعْدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت (بخشش) جنگ سے قبل ہو گا یا جنگ کے بعد ؟
(٣٣٩٥٨) حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ غنیمت سے پہلے اور غنیمت کے بعد بخشش اور عطیہ نہیں ہے۔
(۳۳۹۵۸) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لاَ نَفْلَ فِی أَوَّلِ غَنِیمَۃٍ ، وَلاَ نَفْلَ بَعْدَ الْغَنِیمَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشاد خداوندی (یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ ) کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٣٣٩٥٩) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ غنیمت میں خمس کا حکم نازل ہونے سے قبل حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عطیہ (کچھ حصہ) الگ فرما لیتے پھر جب قرآن کریم کی آیت { مَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } نازل ہوئی زائد دیا جانے والا حصہ ختم کردیا گیا اور وہ خمس کے خمس میں ہوگیا۔ وہ اللہ اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ ہے۔
(۳۳۹۵۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُنَفِّلُ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ فَرِیضَۃُ الْخُمُسِ فِی الْمَغْنَمِ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ : {مَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ} تَرَکَ النَّفَلَ الَّذِی کَانَ یُنْفَلُ ، وَصَارَ فِی ذَلِکَ خُمُسُ الْخُمُسِ ، وَہُوَ سَہْمُ اللہِ ، وَسَہْمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (بیہقی ۳۱۴۔ ابن زنجویہ ۱۱۳۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشاد خداوندی (یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ ) کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٣٣٩٦٠) حضرت عبدہ قرآن کریم کی آیت { یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ مشرکین میں سے مسلمانوں کے دشمن میدان جنگ میں جو غلام، سامان اور سواری چھوڑ کر بھاگ جائیں وہ انفال میں سے ہے اس کے متعلق امیر جو پسند کرے فیصلہ کرے گا۔
(۳۳۹۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَبْدَۃَ ؛ الآیَۃَ : {یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ} قَالَ : مَا شَذَّ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مِنَ الْعَدُوِّ إِلَی الْمُسْلِمِینَ مِنْ عَبْدٍ ، أَوْ مَتَاعٍ ، أَوْ دَابَّۃٍ فَہِیَ الأَنْفَالُ الَّتِی یَقْضِی فِیہَا مَا أَحَبَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشاد خداوندی (یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ ) کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٣٣٩٦١) حضرت مکحول اور حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیت { یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ قُلَ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } نازل ہوئی تو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہوتا تھا یہاں تک قرآن کریم کی دوسری آیت { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } نے اس کو منسوخ کردیا۔
(۳۳۹۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، وَعِکْرِمَۃَ ؛ {یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ قُلَ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ} قَالاَ : کَانَتِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَرَسُولِہِ حَتَّی نَسَخَتْہَا : {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ}۔ (طبری ۱۷۵۔ ابن جریر ۱۷۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشاد خداوندی (یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ ) کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٣٣٩٦٢) حضرت قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس (رض) سے قرآن کریم کی آیت { یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ } کے متعلق دریافت کیا ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا : الانفال سے مراد گھوڑے اور وہ سامان ہے جس کو کفار سے چھین لیں۔
(۳۳۹۶۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِہِ : {یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ} ؟ قَالَ : السَّلَبُ وَالْفَرَسُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشاد خداوندی (یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ ) کے متعلق جو وارد ہوا ہے
(٣٣٩٦٣) حضرت شعبی (رض) قرآن کریم کی آیت { یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو کچھ سرایا کو ملے وہ سب اس میں داخل ہے۔
(۳۳۹۶۳) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ {یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ} قَالَ : مَا أَصَابَتِ السَّرَایَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا تقسیم غنیمت سے قبل کچھ عطیہ اور بخشش دینا
(٣٣٩٦٤) حضرت شہاب فرماتے ہیں کہ تستر کے دروازہ پر میں پہلا شخص تھا جس نے آگ جلائی تھی، حضرت اشعری اپنے گھوڑے سے گرپڑے، پھر جب ہم نے اس کو فتح کیا تو میرے قوم کے دس آدمیوں پر مجھے حکم بنایا، اور تقسیم غنیمت سے قبل میرے اور میرے گھوڑے کے حصہ کے علاوہ مجھے ایک حصہ بطور عطیہ دیا۔
(۳۳۹۶۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شِہَابٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ أَوَّلَ مَنْ أَوقَدَ فِی بَابِ تُسْتَرَ ، قَالَ : وَصُرِعَ الأَشْعَرِیُّ عَنْ فَرَسِہِ ، فَلَمَّا فَتَحْنَاہَا أَمَّرَنِی عَلَی عَشَرَۃٍ مِنْ قَوْمِی ، وَنَفَّلَنِی سَہْمًا سِوَی سَہْمِی ، وَسَہْمِ فَرَسِی قَبْلَ الْغَنِیمَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا تقسیم غنیمت سے قبل کچھ عطیہ اور بخشش دینا
(٣٣٩٦٥) حضرت خالد بن ولید کے بھتیجے سے مروی ہے کہ حضرت حارث نے ان سے فرمایا کہ مجھے کچھ دو ، انھوں نے غنیمت تقسیم ہونے سے قبل ان کو خمس دے دیا انھوں نے اس کو ناپسند کیا۔ اور فرمایا جب خمس نکال لو تو پھر مجھے دینا۔
(۳۳۹۶۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَخِی خَالِدِ بنِ الْوَلِیدِ ؛ أَنَّ الْحَارِثَ ، قَالَ لَہُ : أَعْطِنِی ، فَأَعْطَاہُ مِنَ الْخُمُسِ قَبْلَ أَنْ یَقْسِمَ ، فَکَرِہَ ذَلِکَ ، وَقَالَ : إِذَا خَمَّسْت فَأَعْطِنِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا تقسیم غنیمت سے قبل کچھ عطیہ اور بخشش دینا
(٣٣٩٦٦) حضرت عمر بن خطاب (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ غنیمت تقسیم ہونے سے قبل کسی کو کچھ نہیں دیا جائے گا، سوائے چرواہے، چوکیدار اور جانوروں کے ہانکے والے کے۔
(۳۳۹۶۶) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لاَ یُعْطَی مِنَ الْمَغْنَمِ شَیْئٌ حَتَّی یُقْسَمَ ، إِلاَّ لِرَاعٍ ، أَوْ حَارِسٍ ، أَوْ سَائِقٍ غَیْرِ مُوَلَّہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا تقسیم غنیمت سے قبل کچھ عطیہ اور بخشش دینا
(٣٣٩٦٧) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ غنیمت تقسیم ہونے سے پہلے حضرت انس (رض) کے لیے کچھ بھیجا گیا تو انھوں نے انکار کردیا فرمایا کہ جب تک غنیمت تقسیم نہ ہوجائے میں نہ لوں گا۔
(۳۳۹۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : بُعِثَ إِلَی أَنَسٍ بِشَیْئٍ قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ الْغَنَائِمُ ، فَقَالَ : لاَ ، وَأَبَی حَتَّی تُقْسَمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا تقسیم غنیمت سے قبل کچھ عطیہ اور بخشش دینا
(٣٣٩٦٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ خمس نکال نے سے پہلے کسی کو عطیہ نہ دیا جائے گا۔
(۳۳۹۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ یُنَفَّلُ حَتَّی یُخَمَّسَ۔
তাহকীক: