মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৯৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا تقسیم غنیمت سے قبل کچھ عطیہ اور بخشش دینا
(٣٣٩٦٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ عطیہ خمس کے بعد دیا جائے گا۔
(۳۳۹۶۹) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : النَّفَلُ بَعْدَ الْخُمُسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا تقسیم غنیمت سے قبل کچھ عطیہ اور بخشش دینا
(٣٣٩٧٠) حضرت سعید بن المسیب (رض) فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام (رض) خمس کے بعد عطیہ وغیرہ نکالا کرتے تھے۔
(۳۳۹۷۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : مَا کَانُوا یُنَفِّلُونَ إِلاَّ مِنَ الْخُمُسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا تقسیم غنیمت سے قبل کچھ عطیہ اور بخشش دینا
(٣٣٩٧١) حضرت ابن سیرین (رض) سے مروی ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) حضرت عبید اللہ بن زیاد کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے، راوی فرماتے ہیں کہ حضرت انس (رض) کو تیس قیدی عطا کیے گئے حضرت انس (رض) نے دریافت کیا کہ ان کو خمس میں سے بناؤ۔ حضرت انس (رض) نے اس کو قبول کرنے سے انکار فرما دیا۔
(۳۳۹۷۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ کَہْمَسٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : غَزَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ مَعَ عبیدِ اللہِ بْنِ زِیَادٍ ، قَالَ : فَأَعْطَاہُ ثَلاَثِینَ رَأْسًا مِنْ سَبْیِ الْجَاہِلِیَّۃِ ، قَالَ : فَسَأَلَہُ أَنَسٌ أَنْ یَجْعَلَہَا مِنَ الْخُمُسِ ، فَأَبَی أَنَسٌ أَنْ یَقْبَلَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر ان کو سامان (لوٹنے کا) اجازت دے گا کہ نہیں ؟
(٣٣٩٧٢) حضرت زھری (رض) سے دریافت کیا گیا کہ غنیمت میں لوٹی ہوئی چیز کے متعلق جب کہ ان کا امیر ان کو اجازت دے دے ؟ حضرت زھری نے اس کو ناپسند فرمایا۔
(۳۳۹۷۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ النُّہْبَۃِ فِی الْغَنِیمَۃِ ، إِذَا أَذِنَ لَہُمْ أَمِیرُہُمْ ؟ فَکَرِہَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٧٣) حضرت ابو العالیہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب مال غنیمت آتا تو اس کے پانچ حصے فرماتے، چار حصے ان میں تقسیم فرماتے جو جہاد میں شریک تھے، اور خمس نکالتے، اور پھر اپنا ہاتھ اس پر رکھتے، اس میں جو بھی آجاتا اس کو کعبہ کے لیے وقف کردیتے جو کہ اللہ تعالیٰ کا حق ہوتا۔ پھر باقی کے پانچ حصے فرماتے، ایک حصہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا، ایک حصہ قریبی رشتہ داروں کا، ایک حصہ یتیموں کا، ایک حصہ مسکینوں کا اور ایک حصہ مسافروں کا۔
(۳۳۹۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُؤْتَی بِالْغَنِیمَۃِ فَیَقْسِمُہَا عَلَی خَمْسَۃٍ ، فَیَکُونُ أَرْبَعَۃٌ لِمَنْ شَہِدَہَا ، وَیَأْخُذُ الْخُمُسَ ، فَیَضْرِبُ بِیَدِہِ فِیہِ ، فَمَا أَخَذَ مِنْ شَیْئٍ جَعَلَہُ لِلْکَعْبَۃِ ، وَہُوَ سَہْمُ اللہِ الَّذِی سَمَّی ، ثُمَّ یَقْسِمُ مَا بَقِیَ عَلَی خَمْسَۃٍ ، فَیَکُونُ سَہْمٌ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَہْمٌ لِذَوِی الْقُرْبَی ، وَسَہْمٌ لِلْیَتَامَی ، وَسَہْمٌ لِلْمَسَاکِینِ ، وَسَہْمٌ لاِبْنِ السَّبِیلِ۔ (ابوداؤد ۳۷۲۔ طبری ۱۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٧٤) حضرت مالک بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا : اھل شام میں سے یہاں کون ہے ؟ پس میں کھڑا ہوگیا، حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : حضرت معاویہ (رض) کو بتادو کہ : جب مال غنیمت حاصل ہو تو اس کے پانچ حصے کرو، ان میں ایک حصہ پر یوں لکھو اللہ کے لیے ہے، پھر قرعہ ڈالو، جو نکلتا رہے وہ وصول کرتے رہو۔
(۳۳۹۷۴) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِی الأَخْضَرِ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ ہِشَامٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْخَثْعَمِیِّ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ : مَنْ ہَاہُنَا مِنْ أَہْلِ الشَّامِ ؟ فَقُمْتُ ، فَقَالَ : أَبْلِغْ مُعَاوِیَۃَ ، إِذَا غَنِمَ غَنِیمَۃً أَنْ یَأْخُذَ خَمْسَۃَ أَسْہُمٍ، فَیَکْتُبُ عَلَی سَہْمٍ مِنْہَا: لِلَّہِ، ثُمَّ لِیُقْرعْ، فَحَیْثُمَا خَرَجَ مِنْہَا فَلْیَأْخُذْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٧٥) حضرت یحییٰ بن جزار سے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصہ کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا وہ خمس کا خمس ہے۔
(۳۳۹۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ یَحْیَی بْنَ الْجَزَّارِ عَنْ سَہْمِ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : خُمُسُ الْخُمُسِ۔ (نسائی ۴۴۴۶۔ عبدالرزاق ۹۴۸۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٧٦) حضرت یحییٰ بن جزار سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
(۳۳۹۷۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ ؛ بِنَحْوٍ مِنْہُ۔ (ابوعبید ۳۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٧٧) حضرت عبداللہ بن شقیق العقیلی سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھڑا ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے غنیمت کے متعلق بتائیے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک حصہ اللہ کے لیے اور چار حصے ان کیلئے۔ میں نے عرض کیا : کیا کوئی شخص کسی سے زیادہ حقدار بھی ہے ؟ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تیرے پہلو میں تیر بھی مارا گیا پھر بھی تو اپنے بھائی سے زیادہ حقدار نہیں ہے۔
(۳۳۹۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا کَہْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ الْعُقَیْلِیِّ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَخْبِرْنِی عَنِ الْغَنِیمَۃِ ؟ فَقَالَ : لِلَّہِ سَہْمٌ ، وَلِہَؤُلاَئِ أَرْبَعَۃٌ ، قَالَ : قُلْتُ: فَہَلْ أَحَدٌ أَحَقُّ بِہَا مِنْ أَحَدٍ ؟ قَالَ : فَقَالَ : إِنْ رُمِیتَ بِسَہْمٍ فِی جَنْبِکَ فَلَسْت بِأَحَقَّ بِہِ مِنْ أَخِیک۔

(طحاوی ۳۰۱۔ بیہقی ۳۳۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٧٨) حضرت ابراہیم (رض) قرآن کریم کی آیت { فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ہر چیز اللہ کے لیے ہی ہے۔
(۳۳۹۷۸) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی قَوْلِہِ : {فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ} ، قَالَ: لِلَّہِ کُلُّ شَیْئٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٧٩) حضرت عطاء سے مروی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ خمس میں ایک ہی ہے، اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خمس کو جہاں پسند فرماتے رکھتے، جو چاہتے اس میں سے رکھ دیتے اور جو چاہتے اٹھا لیتے۔
(۳۳۹۷۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : خُمُسُ اللہِ ،وَخُمُسُ الرَّسُولِ وَاحِدٌ ، کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَضَعُ ذَلِکَ الْخُمُسَ حَیْثُ أَحَبَّ ، وَیَصْنَعُ فِیہِ مَا شَائَ ، وَیَحْمِلُ فِیہِ مَنْ شَائَ۔ (ابوعبید ۸۳۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٨٠) حضرت شعبی قرآن کریم کی آیت { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ خمس میں ایک ہی ہے۔
(۳۳۹۸۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ} ، قَالَ : سَہْمُ اللہِ ، وَسَہْمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاحِدٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٨١) حضرت حسن بن محمد بن علی (رض) قرآن کریم کی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ کلام کا آغاز ہے، اللہ کے لیے غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہے، دنیا اور آخرت ساری ہی اللہ کی ملکیت ہے۔
(۳۳۹۸۱) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ، قَالَ: سَأَلْتُہُ عَنْ قَوْلِہِ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ} ، قَالَ : ہَذَا مِفْتَاحُ کَلاَمُ ، لَیْسَ لِلَّہِ نَصِیبٌ ، لِلَّہِ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٨٢) حضرت محمد غنیمت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ غنیمت میں خمس اللہ کے لیے ہے، اور اللہ کے نبی کا حصہ ہے اور غنیمت میں اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے صفی ہے۔ (صفی وہ خاص حصہ جس کو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تقسیم غنیمت سے قبل ہی اپنے لیے الگ فرما لیں) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی کے لیے غنیمت میں بہترین قیدی کو الگ کیا گیا، پھر خمس نکالا گیا، پھر لوگوں کے حصہ میں سے خواہ وہ حاضر ہو یا غائب حصہ نکالا گیا۔

حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت صفیہ بنت حیی کو بطور صفی الگ فرما لیا تھا۔

اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ خیبر والے دن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت صفیہ بنت حیی کو الگ فرما لیا تھا پھر ان سے نکاح فرما لیا۔
(۳۳۹۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : فِی الْمَغْنَمِ ؛ خُمُسٌ لِلَّہِ ،وَسَہْمٌ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِیِّ۔ وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ : یُؤْخَذُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْرُ رَأْسٍ فِی السَّبْیِ ، ثُمَّ یُخْرَجُ الْخُمُسُ ، ثُمَّ یُضْرَبُ لَہُ بِسَہْمِہِ مَعَ النَّاسِ غَابَ ، أَوْ شَہِدَ۔

وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ : کَانَ الصَّفِیُّ یَوْمَ خَیْبَرَ صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیِّ۔

وَقَالَ الشَّعْبِیُّ : کَانَ الصَّفِیُّ یَوْمَ خَیْبَرَ صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیِّ ، اسْتَنْکَحَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔

(ابوداؤد ۲۹۸۵۔ سعید بن منصور ۲۶۷۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٨٣) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تقریبا اسی طرح مروی ہے اس میں حضرت اشعث کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ حضور اقدس نے غزوہ بدر کے دن بطور صفی ذوالفقار تلوار کو الگ فرمایا۔
(۳۳۹۸۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : خُمُسُ اللہِ ، وَسَہْمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِیُّ ، کَانَ یُصْطَفَی لَہُ مِنَ الْمَغْنَمِ خَیْرُ رَأْسٍ مِنَ السَّبْیِ ، إِنْ کَانَ سَبْیٌ ، وَإِلاَّ غَیْرُہُ بَعْدَ الْخُمُسِ ، ثُمَّ یُضْرَبُ لَہُ بِسَہْمِہِ شَہِدَ ، أَوْ غَابَ مَعَ الْمُسْلِمِینَ بَعْدَ الصَّفِیِّ ، قَالَ : وَاصْطَفَی صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیِّ یَوْمَ خَیْبَرَ۔

قَالَ أَشْعَثُ : وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ، وَعَمْرُو بْنُ دِینَارٍ ، وَالزُّہْرِیُّ : اصْطَفَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَیْفَہُ ذَا الْفِقَارِ یَوْمَ بَدْرٍ۔ (ترمذی ۱۵۶۱۔ حاکم ۱۲۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٨٤) حضرت ابو الزناد سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ بدر کے دن بطور صفی کے عاص بن منبہ بن الحجاج کی تلوار کو چنا۔
(۳۳۹۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، قَالَ : کَانَ الصَّفِیُّ یَوْمَ بَدْرٍ سَیْفَ العَاصِ بْنِ مُنَبِّہِ بْنِ الْحَجَّاجِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٨٥) حضرت شعبی سے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصہ غنیمت اور صفی کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ حضرت شعبی (رض) نے فرمایا : جس طرح ایک عام مسلمان کا غنیمت میں حصہ تھا اسی طرح حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ تھا اور بہرحال صفی سے مراد وہ حصہ ہے جس کو اللہ کے نبی مسلمانوں کے غنیمت میں سے الگ فرما لیتے خواہ وہ باندی ہو، گھوڑا ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہو۔
(۳۳۹۸۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ سَہْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِیِّ ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا سَہْمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلُ سَہْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، وَأَمَّا الصَّفِیُّ فَکَانَتْ لَہُ غُرَّۃٌ یَخْتَارُہَا مِنْ غَنِیمَۃِ الْمُسْلِمِینَ ، إِنْ شَائَ جَارِیَۃً ، وَإِنْ شَائَ فَرَسًا ، أَیَّ ذَلِکَ شَائَ۔

(ابوداؤد ۲۹۸۴۔ نسائی ۴۴۴۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٨٦) حضرت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء بن السائب سے اللہ کے ارشاد { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } اور دوسری آیت { مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ } کے متعلق دریافت کیا کہ فیٔ اور غنیمت سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عطاء نے فرمایا : جب مسلمان مشرکین اور ان کی زمینوں پر بزور جنگ غالب ہوجائیں اور اس وقت جو مال ہاتھ آئے وہ غنیمت ہے، اور ان کی زمین فیٔ ہے اور یہ ہمارا مال و دولت فیٔ ہے۔
(۳۳۹۸۶) حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَائَ بْنَ السَّائِبِ عَنْ قَوْلِ اللہِ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ} ، وَعَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ : {مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ} ؟ قَالَ : قُلْتُ : مَا الْفَیْئُ ؟ وَمَا الْغَنِیمَۃُ ؟ قَالَ : إِذَا ظَہَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ وَعَلَی أَرْضِہِمْ ، فَأَخَذُوہُمْ عَنْوَۃً ، فَمَا أُخِذَ مِنْ مَالٍ ظَہَرُوا عَلَیْہِ فَہُوَ غَنِیمَۃٌ ، وَأَمَّا الأَرْضُ فَہِیَ فَیْئٌ ، وَسَوَادُنَا ہَذَا فَیْئٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٨٧) حضرت سفیان غنیمت کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو مال مسلمان بزور جہاد لیں وہ ان کے لیے ہے جس کو اللہ نے نام لے کر متعین کیا ہے، اور چار خمس مجاہدین کے لیے ہیں۔
(۳۳۹۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْیَانَ یَقُولُ : الْغَنِیمَۃُ مَا أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ عَنْوَۃً ، فَہُوَ لِمَنْ سَمَّی اللَّہُ ، وَأَرْبَعَۃُ أَخْمَاسٍ لِمَنْ شَہِدَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
(٣٣٩٨٨) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے الصفی سے متعلق ایک کتاب میں پڑھا پھر میں نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے الصفی کے متعلق دریافت کیا ؟ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر چیز سے قبل جو مال حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے الگ کیا جاتا وہ مراد ہے، پھر بعد میں لوگوں کے ساتھ بھی ایک حصہ نکالا جاتا۔
(۳۳۹۸۸) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : قرَأْتُ کِتَابَ ذِکْرِ الصَّفِیِّ ، فَقُلْتُ لِمُحَمَّدٍ : مَا الصَّفِیُّ ؟ قَالَ : رَأْسٌ کَانَ یُصْطَفَی لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ ، ثُمَّ یُضْرَبْ لَہُ بَعْدُ بِسَہْمِہِ مَعَ النَّاس۔ (ابوداؤد ۲۹۸۵)
tahqiq

তাহকীক: