মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৪০০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کو تقسیم کرنے سے قبل بیع کرنا
(٣٤٠٠٩) حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی مروی ہے۔
(۳۴۰۰۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ أَنَّہُ نَہَی عَنْ بَیْعِ الْمَغْنَمِ حَتَّی یُقْسَمَ۔ (نسائی ۶۲۴۱۔ ابویعلی ۲۴۱۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت کو تقسیم کرنے سے قبل بیع کرنا
(٣٤٠١٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے بھی یہ مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا ہے۔
(۳۴۰۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُمَیْرٍ ، عَنْ مَوْلَی لِقُرَیْشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَیْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّی تُقْسَمَ ۔ قَالَ شُعْبَۃُ مَرَّۃً أُخْرَی : وَتُعْلَمَ مَا ہِیَ۔ (ابوداؤد ۳۳۶۲۔ احمد ۳۸۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠١١) حضرت ھانی بن کلثوم الکنانی فرماتے ہیں کہ جس لشکر نے ملک شام فتح کیا میں اس لشکر کا امیر تھا، میں نے حضرت عمر (رض) کو لکھ کر بھیجا کہ ہم نے ایک ملک فتح کیا ہے اس میں کھانے پینے اور چارہ کی کثرت ہے، میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ آپ کی اجازت اور حکم کے بغیر کسی چیز کی طرف پہل کروں، تو آپ اپنی رائے لکھ کر ہمیں آگاہ کردیں، حضرت عمر (رض) نے مجھے لکھ کر ارسال کیا کہ لوگوں کو اجازت دے دو کہ وہ کھائیں اور جانوروں کو چارہ کھلائیں، اور جو شخص سونے یا چاندی کے بدلے کچھ فروخت کرے تو اس پر خمس اور مسلمانوں کا حصہ بھی ہے۔
(۳۴۰۱۱) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أُسَید بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِیِّ ، عَنْ مُقْبِلِ بْنِ عبْدِ اللہِ ، عَنْ ہَانِئِ بْنِ کُلْثُومٍ الْکِنَانِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ صَاحِبَ الْجَیْشِ الَّذِی فَتَحَ الشَّامَ ، فَکَتَبْتُ إِلَی عُمَرَ : إِنَّا فَتَحْنَا أَرْضًا کَثِیرَۃَ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ ، فَکَرِہْتُ أَنْ أَتَقَدَّمَ إِلَی شَیْئٍ مِنْ ذَلِکَ إِلاَّ بِأَمْرِکَ وَإِذْنِکَ ، فَاکْتُبْ إِلَیَّ بِأَمْرِکَ فِی ذَلِکَ ، فَکَتَبَ إِلَیَّ عُمَرُ : أَنْ دَعَ النَّاسَ یَأْکُلُونَ وَیَعْلِفُونَ ، فَمَنْ بَاعَ شَیْئًا بِذَہَبٍ ، أَوْ فِضَّۃٍ فَقَدْ وَجَبَ فِیہِ خُمُسُ اللہِ وَسِہَامُ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠١٢) حضرت فضالہ بن عبید (رض) جو کہ صحابی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ان سے روم کی زمین پر موجود دشمن کے کھانے اور چارہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ حضرت فضالہ نے فرمایا : بیشک یہ لوگ ہمیں ہمارے دین سے ہٹانا چاہتے تھے، اور خدا کی قسم میں امید کرتا ہوں اس طرح نہیں ہوگا یہاں تک کہ ہم شہید ہو کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کرلیں، جو شخص کھانے کو سونے یا چاندی کے بدلے فروخت کرے تو اس میں خمس واجب ہے اور مسلمانوں کا حصہ بھی ضروری ہے۔
(۳۴۰۱۲) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أُسَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَیْکِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَیْرِیزٍ ، قَالَ : سُئِلَ فَضَالَۃُ بْنُ عُبَیْدٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَیْعِ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ فِی أَرْضِ الرُّومِ ؟ فَقَالَ فَضَالَۃَ : إِنَّ أَقْوَامًا یُرِیدُونَ أَنْ یَسْتَزِلُّونِی عَنْ دِینِی ، وَاللہِ إِنِّی لأَرْجُوَ أَنْ لاَ یَکُونَ ذَلِکَ حَتَّی أَلْقَی مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَاعَ طَعَامًا بِذَہَبٍ ، أَوْ فِضَّۃٍ فَقَدْ وَجَبَ فِیہِ خُمُسُ اللہِ وَسِہَامُ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠١٣) حضرت فضالہ بن عبید انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ بیشک یہ قوم ہمیں ہمارے دین سے ہٹانا چاہتی ہے خدا کی قسم میری خواہش ہے کہ میری موت اس حال میں آئے کہ میں اسی دین پر قائم رہوں جو بھی اس میں سے سونے یا چاندی کے بدلے فروخت کرے اس پر خمس اور مسلمانوں کا حصہ لازم ہے۔
(۳۴۰۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الدَّرَیْکِ ، عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ ، عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ ، قَالَ : إِنَّ قَوْمًا یُرِیدُونَ أَنْ یَسْتَنْزِلُونِی عَنْ دِینِی ، أَمَا وَاللہِ إِنِّی لأَرْجُو أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا عَلَیْہِ ، مَا کَانَ مِنْ شَیْئٍ بِیْعَ بِذَہَبٍ ، أَوْ فِضَّۃٍ فَفِیہِ خُمُسُ اللہِ وَسِہَامُ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠١٤) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مال غنیمت میں اونٹ اور گائیں پاتے تو اس میں سے کھاتے، اور ان کے جانور چارہ کھاتے، اور اس کی بیع نہ کرتے، اگر بیع کرچکے ہوتے تو اس کو تقسیم کی جگہ کی طرف لوٹا دیتے۔
(۳۴۰۱۴) حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْکُلُونَ مِنَ الْغَنَائِمِ إِذَا أَصَابُوہَا مِنَ الْجَزَائِرِ وَالْبَقَرِ ، وَیَعْلِفُونَ دَوَابَّہُمْ ، وَلاَ یَبِیعُونَ ، فَإِنْ بِیْعَ رَدَّوہُ إِلَی الْمَقَاسِمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠١٥) حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن مجھے ایک تھیلہ دیا گیا جس میں چربی تھی، میں نے یہ کہتے ہوئے اس کو پکڑ لیا کہ میں اس میں سے کسی کو کچھ نہ دوں گا، میں جب پیچھے کی طرف مڑا تو حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے میری بات سن کر مسکرا رہے تھے، مجھے یہ منظر دیکھ کر بہت حیا آئی۔
(۳۴۰۱۵) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : دُلِّیَ لِی جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ یَوْمَ خَیْبَرَ ، قَالَ : فَالْتَزَمْتُہُ ، وَقُلْتُ : ہَذَا لِی ، لاَ أُعْطِی أَحَدًا مِنْہُ شَیْئًا ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَبَسَّمُ ، فَاسْتَحْیَیْتُ۔ (بخاری ۳۱۵۳۔ مسلم ۱۳۹۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠١٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جہاد میں شریک ہوئے، کھانے، پھلوں، چارے اور شہد میں بغیر تقسیم کے ہی حصہ تھا۔
(۳۴۰۱۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کُنَّا نَغْزُو فَنُصِیبُ الطَّعَامَ ، وَالثِّمَارَ ،وَالْعَسَلَ ، وَالْعَلَفَ ، فَنُصِیبُ مِنْہُ مِنْ غَیْرِ قِسْمَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠١٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام (رض) جنگی زمین سے کھانا وغیرہ کھاتے اور خمس نکالنے سے قبل ہی جانوروں کو چارہ کھلاتے۔
(۳۴۰۱۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَأْکُلُونَ مِنَ الطَّعَامِ فِی أَرْضِ الْحَرْبِ، وَیَعْتَلِفُونَ قَبْلَ أَنْ یُخَمِّسُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠١٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی شہر یا قلعہ فتح فرماتے تو وہاں سے آٹا، ستّو، گھی اور شہد تناول فرماتے۔
(۳۴۰۱۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحُوا الْمَدِینَۃَ ، أَوِ الْقَصْرَ أَکَلُوا مِنَ السَّوِیقِ ، وَالدَّقِیقِ ، وَالسَّمْنِ ، وَالْعَسَلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠١٩) حضرت عطائ (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک قوم جنگ میں شریک ہوئی، اور وہ ایک سریہ میں شریک ہوئی ہے اور وہاں گھی، شہد اور کھانے کے برتن (تھیلے) ان کو ملتے ہیں تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا : وہ اس میں سے کھائیں گے اور جو باقی بچ جائے وہ اپنے امام کے سپرد کردیں گے۔
(۳۴۰۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الْقَوْمِ یَکُونُونَ غُزَاۃً، فَیَکُونُونَ فِی السَّرِیَّۃِ، فَیُصِیبُونَ أَنْحَائَ السَّمْنِ، وَالْعَسَلِ، وَالطَّعَامِ؟ قَالَ: یَأْکُلُونَ، وَمَا بَقِیَ رَدَّوہُ إِلَی إِمَامِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠٢٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام (رض) مال غنیمت کو جمع کرنے سے قبل کھانے اور چارے کو استعمال کرنے کی اجازت دیتے تھے۔ جب تک کہ لوگ مال کے طور پر جمع نہ کرتے۔
(۳۴۰۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یُرَخِّصُونَ فِی الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ ، مَا لَمْ یَعْتَقِدُوا مَالاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠٢١) حضرت ابو العالیہ حضرت سوید سے روایت کرتے ہیں جو کہ حضرت سلمان کے غلام ہیں اور ان کا اچھے الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے، فرماتے ہیں کہ جب مجاہدین نے مدائن کو فتح کیا، اور دشمن کی تلاش میں نکلے تو مجھے ایک ٹوکری ملی، مجھ سے حضرت سلمان نے کہا : کیا آپ کے پاس کھانے کو کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے ایک ٹوکری ملی ہے، فرمایا لے آؤ، اگر اس میں مال ہوا تو واپس کردیں گے اور اگر کھانے کی چیز ہوئی تو کھا لیں گے۔
(۳۴۰۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِیّ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، عَنْ غُلاَمٍ لِسَلْمَانَ ، یُقَالَ لَہُ : سُوَیْد ، وَأَثْنَی عَلَیْہِ خَیْرًا ، قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ النَّاسُ الْمَدَائِنَ ، وَخَرَجُوا فِی طَلَبِ الْعَدُوِّ ، أَصَبْتُ سَلَّۃً ، فَقَالَ لِی سَلْمَانُ : ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ طَعَامٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ : سَلَّۃً أَصَبْتہَا ، قَالَ : ہَاتِہَا ، فَإِنْ کَانَ مَالاً دَفَعْنَاہُ إِلَی ہَؤُلاَئِ ، وَإِنْ کَانَ طَعَامًا أَکَلْنَاہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠٢٢) حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) سے دریافت کیا گیا کہ دشمن کی سر زمین سے جو کھانا وغیرہ ملے اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : اگر اسے درہم کے بدلے فروخت کیا ہے تو واپس کردیا جائے وگرنہ وہ خیانت شمار ہوگا۔
(۳۴۰۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُقْبَۃُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ بُرَیْدَۃَ ؛ سُئِلَ عَنِ الطَّعَامِ یُصَابُ فِی أَرْضِ الْعَدُوِّ ؟ فَقَالَ : إِنْ کَانَ بَاعَ مِنْہُ بِدِرْہَمٍ رَدَّہُ ، وَإِلاَّ کَانَ غُلُولاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠٢٣) حضرت عبداللہ بن محیریز (رض) اور حضرت خالد (رض) وغیرہ نے اس شخص کے متعلق فرمایا جس کو روم کی زمین سے کھانا اور چارہ ملا۔ فرمایا : وہ کھانا کھائے اور چارہ استعمال کرے، اور اگر اس میں سے کچھ سونا یا چاندی کے بدلے فروخت کیا تو اس کو مسلمانوں کی غنیمت میں شامل کر دے۔
(۳۴۰۲۳) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَیْرِیزٍ ، وَخَالِدِ بْنِ الدَّرَیْکِ ، وَغَیْرِہِمْ ؛ أَنَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ فِی الرَّجُلِ یُصِیبُ الطَّعَامَ وَالْعَلَفَ فِی أَرْضِ الرُّومِ ، فَقَالُوا : یَأْکُلُ وَیُطْعَمُ وَیَعْلِفُ ، فَإِنْ بَاعَ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ بِذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ رَدَّہُ إِلَی غَنَائِمِ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠٢٤) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ دشمن کی زمین سے جو کھانا اور چارہ ملے اس کو کھانے اور چارہ جانوروں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور جو اس میں سے فروخت کیا وہ مسلمانوں کے درمیان مشترک ہوگا۔
(۳۴۰۲۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالطَّعَامِ وَالْعَلَفِ یُوجَدُ فِی أَرْضِ الْعَدُوِّ ، أَنْ یَأْکُلُوا مِنْہُ ، وَأَنْ یَعْلِفُوا دَوَابَّہُمْ ، فَمَا بِیعَ مِنْہُ فَہُوَ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠٢٥) حضرت ضحاک (رض) فرماتے ہیں کہ جب سریہ جہاد کیلئے نکلے، اور ان کو گائے یا بکری وغیرہ غنیمت میں ملے، تو وہ ضرورت کی بقدر کھا لیں لیکن ضائع مت کریں اور اگر وہ لشکر کی طرف بھیج دیئے جائیں تو پھر وہ سب کے درمیان مشترک ہوگا۔
(۳۴۰۲۵) حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبَیْبٍ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : إِذَا خَرَجَتِ السَّرِیَّۃُ ،فَأَصَابُوا غَنِیمَۃً مِنْ بَقَرٍ، أَوْ غَنَمٍ فَلَہُمْ أَنْ یَأْکُلُوا بِقَدْرٍ ، وَلاَ یُسْرِفُوا ، فَإِذَا انْتُہِیَ بِہِ إِلَی الْعَسْکَرِ کَانَ بَیْنَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
(٣٤٠٢٦) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں جہاد کے دوران پھل اور شہد ملتے تو ہم اس کو کھالیا کرتے اس کو تقسیم غنیمت کی جگہ پر لے کر نہ جاتے۔
(۳۴۰۲۶) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کُنَّا نُصِیبُ فِی مَغَازِینَا الْفَاکِہَۃَ وَالْعَسَلَ ، فَنَأْکُلُہُ وَلاَ نَرْفَعُہُ۔ (بخاری ۳۱۵۴۔ بیہقی ۵۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا کھانے میں بھی خمس نکالا جائے گا ؟
(٣٤٠٢٧) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ طعام میں خمس نہیں ہے، خمس تو صرف سونے اور چاندی پر ہے۔
(۳۴۰۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: لَیْسَ فِی الطَّعَامِ خُمُسٌ، إِنَّمَا الْخُمُسُ فِی الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا کھانے میں بھی خمس نکالا جائے گا ؟
(٣٤٠٢٨) حضرت ابن عون (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن (رض) سے عرض کیا کہ ہمیں دشمن کی زمین سے شہد، گھی اور پنیر وغیرہ ملتا ہے تو کیا ہم اس میں بھی خمس نکالیں ؟ حضرت حسن (رض) نے فرمایا : ہمیں بھی یہ سب ملتا تھا ہم تو اس کو کھالیتے تھے۔
(۳۴۰۲۸) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : إِنَّا نُصِیبُ فِی بِلاَدِ الْعَدُوِّ الْعَسَلَ وَالسَّمْنَ وَالْجُبْنَ ، أَفَنُخَمِّسُ ؟ قَالَ : قَدْ کُنَّا نُصِیبُہُ فَنَأْکُلُہُ۔
tahqiq

তাহকীক: