মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭৮ টি
হাদীস নং: ৩৪০২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ کھانے کو کھا لے، اور اس کو اٹھائے مت اور جنہوں نے اس کو اٹھانے میں رخصت دی ہے
(٣٤٠٢٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ کوئی شخص مشرکین کی سر زمین میں موجود کھانے میں سے کھالے، یہاں تک کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلا جائے۔
(۳۴۰۲۹) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ ، شَیْخٍ مِنْ أَہْلِ وَاسِطَ ؛ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَبَّاسٍ لَمْ یَرَ بَأْسًا أَنْ یَأْکُل الرَّجُلِ الطَّعَامَ فِی أَرْضِ الشِّرْکِ ، حَتَّی یَدْخُلَ أَہْلُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ کھانے کو کھا لے، اور اس کو اٹھائے مت اور جنہوں نے اس کو اٹھانے میں رخصت دی ہے
(٣٤٠٣٠) حضرت حسن (رض) بن ابی الحسن اور حضرت ابو اسحاق (رض) ان لوگوں کے متعلق فرماتے ہیں جن کو مال غنیمت حاصل ہو وہ اسے کھا لیں اور اٹھائیں مت۔
(۳۴۰۳۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ ، وَأَبِی إِسْحَاقَ ؛أَنَّہُمَا قَالاَ فِی الْقَوْمِ یُصِیبُونَ الْغَنِیمَۃَ : یَأْکُلُونَ ، وَلاَ یَحْمِلُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ کھانے کو کھا لے، اور اس کو اٹھائے مت اور جنہوں نے اس کو اٹھانے میں رخصت دی ہے
(٣٤٠٣١) حضرت خالد بن ابو عمران فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم (رض) اور حضرت سالم (رض) سے دریافت کیا کہ ایک شخص کو دشمن کی زمین سے کھانا ملے وہ اس کو استعمال کرسکتا ہے اور اس کو دراہم کے بدلے فروخت کرسکتا ہے ؟ فرمایا : کھانا تو کھالے، لیکن اس کو مال کے بدلے فروخت نہ کرے۔
(۳۴۰۳۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ الإِفْرِیقِیِّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی عِمْرَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ ، وَسَالِمًا عَنِ الرَّجُلِ یُصِیبُ الطَّعَامَ فِی أَرْضِ الْعَدُوِّ ، فَیُصِیبُ مِنْہُ ، وَیَکْسِبُ مِنْہُ الدَّرَاہِمَ ؟ فَقَالاَ : یَجْعَلُہُ فِی طَعَامٍ یَأْکُلُہُ ، وَلاَ یَکْسِبُ مِنْہُ عُقْدَۃَ مَالٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٣٢) حضرت ابو عبیدہ (رض) نے حضرت عمر (رض) کو لکھ کر بھیجا کہ، غلام کو مشرکین نے قیدی بنا لیا ہو پھر دوبارہ مسلمان اس پر غلبہ حاصل کرلیں تو کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تقسیم غنیمت سے پہلے اس کا مالک زیادہ حقدار ہے، اور اگر تقسیم ہوجائے تو پھر اس کا حق ختم ہوگیا۔
(۳۴۰۳۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ؛ أَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ کَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِی عَبْدٍ أَسَرَہُ الْمُشْرِکُونَ، ثُمَّ ظَہَرَ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِکَ؟ قَالَ: صَاحِبُہُ أَحَقُّ بِہِ مَا لَمْ یُقْسَمْ ، فَإِذَا قُسِمَ حَقَّہ مَضَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٣٣) حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا مشرکین مسلمان کے مال پر قبضہ کرلیں پھر مسلمان جہاد کر کے ان پر غلبہ حاصل کرلیں اور وہ شخص اپنا مال جوں کا توں تقسیم سے پہلے پالے تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہے، اور اگر غنیمت تقسیم ہوگئی تو پھر اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔
(۳۴۰۳۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ ، عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : مَا أَحْرَزَ الْمُشْرِکُونَ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِینَ فَغَزَوْہُمْ بَعْدُ وَظَہَرُوا عَلَیْہِمْ ، فَوَجَدَ رَجُلٌ مَالَہُ بِعَیْنِہِ قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ السِّہَامُ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ ، وَإِنْ کَانَ قُسِمَ فَلاَ شَیْئَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٣٤) حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : وہ تمام مسلمانوں کیلئے ہے، کیونکہ وہ ان ہی کا مال تھا۔
(۳۴۰۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ سَعِیدٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: ہُوَ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً، لأَنَّہُ کَانَ لَہُمْ مَالاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٣٥) حضرت سلمان (رض) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) فرماتے تھے کہ جو مسلمان کا مال کفار کے قبضہ میں چلا جائے، تو وہ ان کے مال کے مرتبہ میں ہے۔ اور حضرت حسن (رض) بھی یہی فیصلہ کرتے تھے۔
(۳۴۰۳۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَقُولُ فِیمَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِینَ ، إِنَّہُ بِمَنْزِلَۃِ أَمْوَالِہِمْ ، قَالَ : وَکَانَ الْحَسَنُ یَقْضِی بِذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٣٦) حضرت زھرہ ابن یزید المرادی سے مروی ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص کی لونڈی تھی، وہ بھاگ کر دشمن کے ساتھ مل گئی (پھر کچھ عرصہ بعد) مسلمانوں کے ہاتھ مال غنیمت آیا تو باندی کے مالک نے اس کو پہچان لیا۔ حضرت ابو عبیدہ (رض) نے حضرت عمر (رض) کو خط لکھ کر دریافت فرمایا۔ حضرت عمر (رض) نے تحریر فرمایا : اگر باندی کا خمس نہیں نکالا گیا اور اس کو تقسیم نہیں کیا گیا، تو پھر وہ مالک کو واپس کردی جائے گی، اور اگر خمس نکال لیا گیا ہے اور غنیمت تقسیم ہوچکی ہے تو پھر اس کو اسی راستہ پر برقرار رکھو۔ (جس کو مل گئی ہے اس کے پاس رہے گی) ۔
(۳۴۰۳۶) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ ، عَنْ زُہْرَۃَ بْنِ یَزِیدَ الْمُرَادِیِّ ؛ أَنَّ أَمَۃً لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ أَبْقَتْ ، وَلَحِقَتْ بِالْعَدُوِّ ، فَغَنِمَہَا الْمُسْلِمُونَ ، فَعَرَفَہَا أَہْلُہَا ، فَکَتَبَ فِیہَا أَبُو عُبَیْدَۃَ إِلَی عُمَرَ ، فَکَتَبَ عُمَرُ : إِنْ کَانَتِ الأَمَۃَ لَمْ تُخَمَّسْ وَلَمْ تُقْسَمْ فَہِیَ رَدٌّ عَلَی أَہْلِہَا ، وَإِنْ کَانَتْ قَدْ خُمِّسَتْ وَقُسِمَتْ فَأَمْضِہَا لِسَبِیلِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٣٧) حضرت نافع (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) کا ایک غلام ان سے بھاگ گیا اور گھوڑا لے کر فرار ہوگیا، اور دشمن کی سر زمین میں چلا گیا، حضرت خالد بن ولید (رض) نے ان پر فتح حاصل کرلی۔ ان میں سے ایک چیز حضرت ابن عمر (رض) کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں ہی واپس کردی گئی اور دوسری چیز آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد واپس کردی گئی۔
(۳۴۰۳۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ عَبْدًا لَہُ أَبَقَ ، وَذَہَبَ لَہُ بِفَرَسٍ ، فَدَخَلَ أَرْضَ الْعَدُوِّ ، فَظَہَرَ عَلَیْہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَرُدَّ أَحَدُہُمَا عَلَیْہِ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَرُدَّ الآخَرُ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (بخاری ۳۰۶۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٣٨) حضرت سلمان بن ربیعہ (رض) اس چیز کے متعلق فرماتے ہیں جس کو دشمن اٹھا لے، فرمایا غنیمت کی تقسیم سے قبل اس کا مالک ہی زیادہ حقدار ہے، اور اگر غنیمت میں تقسیم ہوجائے تو پھر اس کے مالک کیلئے کچھ نہیں ہے۔
(۳۴۰۳۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِیعَۃَ ؛ فِیمَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ ، قَالَ : صَاحِبُہُ أَحَقُّ بِہِ مَا لَمْ یُقْسَمْ ، فَإِذَا قُسِمَ فَلاَ شَیْئَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٣٩) حضرت رکین اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میرا گھوڑا کہیں چلا گیا۔ پس دشمنوں نے اسے پکڑ لیا۔ پھر مسلمان ان پر غالب آگئے۔ آپ (رض) نے فرمایا کہ میں نے اس گھوڑے کو حضرت سعد (رض) کے باڑے میں پایا۔ میں نے کہا : یہ تو میرا گھوڑا ہے۔ انھوں نے فرمایا : تمہارے گواہ کہاں ہیں ؟ میں نے کہا : میں اس کو پکاروں گا تو یہ ہنہنائے گا حضرت سعد (رض) نے فرمایا : اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے دے میں تم سے گواہ کا مطالبہ نہیں کروں گا۔
(۳۴۰۳۹) حَدَّثَنَا شَرِیک ، عَنِ الرُّکَیْنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَوْ عَنْ عَمِّہِ ، قَالَ : حَسَرَ لِی فَرَسٌ فَأَخَذَہُ الْعَدُوُّ ، قَالَ : فَظَہَرَ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ ، قَالَ : فَوَجَدْتُہُ فِی مَرْبِطِ سَعْدٍ ، قَالَ : فَقُلْتُ : فَرَسِی ، قَالَ : فَقَالَ : بَیِّنَتُک ، قُلْتُ : أَنَا أَدْعُوہُ فَیُحَمْحِمُ ، قَالَ : إِنْ أَجَابَک فَلاَ أُرِیدُ مِنْک بَیِّنَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٤٠) حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ ایک شخص کی باندی کو دشمن پکڑ کرلے گئے، اس کو ایک شخص نے خرید لیا۔ اس کا آقا جھگڑا لے کر حضرت شریح کے پاس آگیا، حضرت شریح نے فرمایا : مسلمان اس کا زیادہ حقدار ہے جو اس کے بھائی کو ثمن کے ساتھ واپس کیا جائے، کہا گیا کہ اس نے اپنے آقا سے بچہ جنا ہے۔ حضرت شریح نے فرمایا : اس کو آزاد کردو یہ امیر کا فیصلہ ہے، اگر وہ تھی اتنے اتنے کی، اگر وہ تھی اتنے اتنے کی اس شخص نے کیا یہ زید بن خلدہ سے زیادہ قضاء کو جانتے ہیں۔
(۳۴۰۴۰) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّ أَمَۃً أَحْرَزَہَا الْعَدُوُّ ،فَاشْتَرَاہَا رَجُلٌ ، فَخَاصَمَہُ سَیِّدُہَا إِلَی شُرَیْحٍ ، فَقَالَ: الْمُسْلِمُ أَحَقُّ مَنْ رَدَّ عَلَی أَخِیہِ بِالثَّمَنِ ، فَقَالَ : إِنَّہَا وَلَدَتْ مِنْ سَیِّدِہَا، قَالَ : أَعْتَقَہَا ، قَضَائُ الأَمِیرِ ، فَإِنْ کَانَتْ کَذَا وَکَذَا ، وَإِنْ کَانَتْ کَذَا وَکَذَا ، قَالَ : یَقُولُ رَجُلٌ : لَہُو أَعْلَمَ بِالْقَضَائِ مِنْ زَیْدِ بْنِ خَلْدَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٤١) حضرت ابراہیم اور حضرت حسن فرماتے ہیں کہ دشمن مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرے پھر مسلمان اس کو غنیمت میں حاصل کرلیں اور اس مال کا مالک مال کو پہچان لے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، اور اگر غنیمت تقسیم کردی گئی تو پھر فیصلہ گزر چکا ہے۔ (اب اس کو نہیں ملے گا) ۔
(۳۴۰۴۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ (ح) وَعَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالاَ : مَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ مِنْ مَالِ الْمُسْلِمِینَ فَعَرَفَہُ صَاحِبُہُ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ ، وَإِنْ قُسِمَ فَقَدْ مَضَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٤٢) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس کو کفار نے قبضہ میں لے لیا تھا اگر اس پر دوبارہ مسلمان قبضہ کرلیں اور واپس حاصل کرلیں تو تقسیم غنیمت سے قبل اس چیز کا مالک اس کا زیادہ حقدار ہے، اور اگر تقسیم ہوگئی تو ثمن کے ساتھ زیادہ حقدار ہے۔
(۳۴۰۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : مَا أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ مِمَّا أَصَابَہُ الْعَدُوُّ قَبْلَ ذَلِکَ ، فَإِنْ أَصَابَہُ صَاحِبُہُ قَبْلَ أَنْ یُقْسَمَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ ، وَإِنْ قُسِمَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ بِالثَّمَنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٤٣) حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ جس پر دشمن قبضہ کرلیں (اور اس کو مسلمان واپس چھڑا لیں تو) وہ مالک کے لیے جائز ہے۔
(۳۴۰۴۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ خِلاَسٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : مَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ فَہُوَ جَائِزٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٤٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے مال پر اگر کفار غلبہ کر کے قبضہ کرلیں پھر مسلمان دوبارہ ان پر غالب آجائیں۔ تو اگر غنیمت تقسیم ہوگئی تو اس چیز کا مالک ثمن دے کرلینے کا زیادہ حقدار ہوگا اور اگر تقسیم نہ ہوا ہو تو پھر اس کو واپس مالک کی طرف لٹا دیا جائے گا۔
(۳۴۰۴۴) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مَا ظَہَرَ عَلَیْہِ الْمُشْرِکُونَ مِنْ مَتَاعِ الْمُسْلِمِینَ ، ثُمَّ ظَہَرَ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ ، إِنْ قُسِمَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ بِالثَّمَنِ ، وَإِنْ کَانَ لَمْ یُقْسَمْ رُدَّ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
(٣٤٠٤٥) حضرت تمیم بن طرفہ سے مروی ہے کہ : مسلمانوں میں سے ایک شخص کی اونٹنی کو کفار لے گئے ایک شخص نے وہ اونٹنی کفار سے خرید لی اس اونٹنی کا مالک جھگڑا لے کر حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات پر گواہ پیش کر دئیے کہ اونٹنی اس کی ہے، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ فرمایا کہ : جتنے کی اس نے دشمن سے خریدی ہے اتنے پیسے دے کرلے لو وگرنہ ان کے راستہ سے ہٹ جاؤ۔
(۳۴۰۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ تَمِیمِ بْنِ طَرَفَۃَ ، قَالَ : أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ نَاقَۃً لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، فَاشْتَرَاہَا رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ ، فَخَاصَمَہُ صَاحِبُہَا إِلَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَقَامَ الْبَیِّنَۃَ ، فَقَضَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنْ یَدْفَعَ إِلَیْہِ الثَّمَنَ الَّذِی اشْتَرَی بِہِ مِنَ الْعَدُوِّ ، وَإِلاَّ خُلِّیَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا۔ (ابوداؤد ۳۳۹۔ بیہقی ۱۱۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین کی طرف کوئی چیز فروخت کرنا جس سے وہ مسلمانوں کے خلاف قوت حاصل کریں
(٣٤٠٤٦) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ : مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ دشمنوں کو کھانا یا اسلحہ بھیجے (فروخت کرے) جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے خلاف قوت حاصل کریں : جو ایسا کرے وہ فاسق ہے۔
(۳۴۰۴۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ یَحْمِلَ إِلَی عَدُوِّ الْمُسْلِمِینَ طَعَامًا ، وَلاَ سِلاَحًا یُقَوِّیہِمْ بِہِ عَلَی الْمُسْلِمِینَ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَہُوَ فَاسِقٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین کی طرف کوئی چیز فروخت کرنا جس سے وہ مسلمانوں کے خلاف قوت حاصل کریں
(٣٤٠٤٧) حضرت عطاء (رض) دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کو ناپسند کرتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : گھوڑے فروخت کرنا کیسا ہے ؟ انھوں نے اس کا بھی انکار کیا، اور فرمایا : جس چیز سے وہ جنگ میں قوت حاصل کریں وہ نہ فروخت کرے، اس کے علاوہ چیزوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۳۴۰۴۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنْ ابْنُ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ حَمْلَ السِّلاَحِ إِلَی الْعَدُوِّ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : تُحْمَلُ الْخَیْلُ إِلَیْہِمْ ؟ قَالَ : فَأَبَی ذَلِکَ ، وَقَالَ : أَمَّا مَا یُقَوِّیہِمْ لِلْقِتَالِ فَلاَ ، وَأَمَّا غَیْرُہُ فَلاَ بَأْسَ۔
وَقَالَہُ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ۔
وَقَالَہُ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی سر زمین کی طرف کوئی چیز فروخت کرنا جس سے وہ مسلمانوں کے خلاف قوت حاصل کریں
(٣٤٠٤٨) حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) نے ارض ھند کی طرف گھوڑوں کی فروخت سے منع فرمایا۔
(۳۴۰۴۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: نَہَی عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ أَنْ تُحْمَلَ الْخَیْلُ إِلَی أَرْضِ الْہِنْدِ۔
তাহকীক: