মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২২৩৪৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تھنوں میں د ودھ کی بیع کرنا
(٢٢٣٤٧) حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تھنوں میں دودھ کی بیع اور دودھ میں گھی کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
(۲۲۳۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ الْقَتَّابِ ، سَمِعَہُ مِنْ حبِیبِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : نَہَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُبَاعَ لَبَنٌ فِی ضَرْعٍ ، أو سمن فی لبن۔ (ابوداؤد ۱۸۳۔ دارقطنی ۴۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৪৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تھنوں میں د ودھ کی بیع کرنا
(٢٢٣٤٨) حضرت ابراہیم (رض) بکری کے تھنوں میں موجود دودھ کی بیع کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۲۲۳۴۸) حَدَّثَنَا ابن فضیل ، عن مغیرۃ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کان یکرہ أن یشتری اللبن فی ضرع الشَّاۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৪৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تھنوں میں د ودھ کی بیع کرنا
(٢٢٣٤٩) حضرت ابراہیم (رض) ، حضرت طاؤس اور حضرت مجاہد (رض) تھنوں میں دودھ کی بیع کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۲۳۴۹) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ وَمُجَاہِدٍ : أَنَّہُمَا کَرِہَا بَیْعَ اللَّبَنِ فِی الضُّرُوعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৪৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ امام عادل ( عادل بادشاہ) کا بیان
(٢٢٣٥٠) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے جنت میں ایک محل ہے جس کا نام عدن ہے۔ اس کے ارد گرد محل میں ہے اور سبزہ ہے ، اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اس میں نبی ، صدیق، شہید اور عادل بادشاہ کے علاوہ کوئی اور داخل نہیں ہوسکتا۔
(۲۲۳۵۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بن سُلَیْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: فِی الْجَنَّۃِ قَصْرٌ یُدْعَی عَدْنًا حَوْلَہُ الْبُرُوجُ وَالْمُرُوجُ لَہُ خَمْسَۃُ آلاَفِ بَابٍ، لاَ یَسْکُنُہُ، أَوْ لاَ یَدْخُلُہُ إلاَّ نَبِیٌّ، أَوْ صِدِّیقٌ ، أَوْ شَہِیدٌ ، أَوْ إمَامٌ عَادِلٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৫০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ امام عادل ( عادل بادشاہ) کا بیان
(٢٢٣٥١) حضرت عمار (رض) فرماتے ہیں کہ تین قسم کے لوگوں کے حق کی ادائیگی میں استخفاف صرف کھلا منافق ہی کرسکتا ہے۔ ایک امام عادل، دوسرا بھلائی کا درس دینے والا ( استاد) اور تیسرے وہ جو اسلام کی حالت میں بوڑھا ہوگیا ہو۔
(۲۲۳۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَمَّارٌ : ثَلاَثَۃٌ لاَ یَسْتَخِفُّ بِحَقِّہِنَّ إلاَّ مُنَافِقٌ بَیِّنٌ نفاقہ : إمَامٌ مُقْسِطٌ ، وَمُعَلِّمُ الْخَیْرِ ، وَذُو الشَّیْبَۃِ فِی الإِسْلاَمِ۔ (طبرانی ۷۸۱۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৫১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ امام عادل ( عادل بادشاہ) کا بیان
(٢٢٣٥٢) حضرت قیس بن عباد سے مروی ہے عادل بادشاہ کا ایک دن کا عمل تمہارے ساٹھ سال کے عمل سے بہتر ہے۔
(۲۲۳۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : لَعَمَلُ إمَامٍ عَادِلٍ یَوْمًا خَیْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِکُمْ سِتِّینَ سَنَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৫২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ امام عادل ( عادل بادشاہ) کا بیان
(٢٢٣٥٣) حضرت ابو موسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ بیشک اللہ کے احترام اور اکرام میں سے ہے، بوڑھے مسلمان کا احترام کرنا، اور اس حامل قرآن کا احترام جو حد سے تجاوز کرنے والا بھی نہ ہو اور اس کی تلاوت کو ترک کرنے والا بھی نہ ہو اور عادل بادشاہ کا اکرام کرنا۔
(۲۲۳۵۳) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِی کِنَانَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ: إنَّ مِنْ إجْلاَلِ اللہِ إکْرَامُ ذِی الشَّیْبَۃِ الْمُسْلِمِ ، وَحَامِلُ الْقُرْآنِ غَیْرُ الْغَالِی فِیہِ وَلاَ الْجَافِی عَنْہُ ، وَإِکْرَامُ ذِی السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৫৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ امام عادل ( عادل بادشاہ) کا بیان
(٢٢٣٥٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ عادل بادشاہ کی دعا رَدْ نہیں کی جاتی۔
(۲۲۳۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیع ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدَانُ الْجُہَنِیُّ ، عَنْ سَعْدٍ أَبِی مُجَاہِدٍ الطَّائِیِّ ، عَنْ أَبِی مُدِلَّۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الإِمَامُ الْعَادِلُ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُہُ۔

(ابن ماجہ ۱۷۵۲۔ احمد ۲/۳۰۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৫৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اپنے گھر میں کنواں کھود لے
(٢٢٣٥٥) حضرت ابراہیم (رض) ان لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے گھروں میں باغ اور حمام بنانا چاہتے ہوں کہ ” یہ جگہ ان کی ملک ہے وہ اس میں جو چاہے کرسکتے ہیں “۔
(۲۲۳۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی قَوْمٍ أَرَادُوا أَنْ یَحْفِرُوا فِی دَارِہِمْ حُشًّا أَوْ حَمَّامًا ، قَالَ : مِلْکُہُمْ یَصْنَعُونَ فِیہِ مَا شَاؤُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৫৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اپنے گھر میں کنواں کھود لے
(٢٢٣٥٦) حضرت ابن اشوع نے وہ کنواں بند کروا دیا جس کو ان کے پڑوسی نے ان کی دیوار کے پیچھے کھود دیا تھا۔
(۲۲۳۵۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ: أَنَّہُ سَدَّ بِئْرًا حَفَرَہَا جَارُہُ خَلْفَ حَائِطِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৫৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اپنے گھر میں کنواں کھود لے
(٢٢٣٥٧) حضرت حسن (رض) نے ایک قوم کے گھر کی دیوار کے بارے میں فرمایا : ( تمہاری دیوار ہے ) اگر صاحب دار چاہے تو اس میں ایک دروازہ بنا سکتا ہے۔
(۲۲۳۵۷) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ : فِی حَائِطٍ فِی دَارِ قَوْمٍ ، قَالَ : إِنْ شَائَ نَقَبَ فِیہِ بَابًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৫৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اپنے گھر میں کنواں کھود لے
(٢٢٣٥٨) حضرت ابو قلابہ (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کنواں کھود کر ایک دوسرے کو نقصان مت پہنچاؤ۔
(۲۲۳۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَضَارُّوا فِی الْحَفْرِ۔ (ابوداؤد ۴۰۸۔ بیہقی ۱۵۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৫৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اپنے غلام سے یوں کہے : اگر تو میرے قرض خواہ سے علیحدہ ہوا تو، تو آزاد ہے
(٢٢٣٥٩) حضرت عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام سے کہا، فلاں کے ساتھ رہ اور اگر تو اس سے جُدا ہوگیا تو آزاد ہے، غلام نے کہا گواہ رہو میں اس سے جدا ہوگیا تھا۔ معاملہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) کے پاس گیا جو اس وقت مکہ کے امیر تھے۔ آپ نے اس کی آزاد ی کا فیصلہ فرما دیا۔ فرمایا : حضرت حسن (رض) بھی یہی رائے رکھتے تھے۔
(۲۲۳۵۹) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ عَمْرٍو : أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِغُلاَمِہِ : الْزَمْ فُلاَنًا فَإِنْ فَارَقْتہ فَأَنْتَ حُرٌّ ، فَقَالَ : اشْہَدُوا أَنِّی قَدْ فَارَقْتہ ، فَرُفِعَ ذَلِکَ إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَہُوَ أَمِیرُ مَکَّۃَ فَأَجَازَ عِتْقَہُ ، قَالَ : فَکَانَ الْحَسَنُ یَرَی ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৫৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اپنے غلام سے یوں کہے : اگر تو میرے قرض خواہ سے علیحدہ ہوا تو، تو آزاد ہے
(٢٢٣٦٠) حضرت یحییٰ بن سعید (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے تھے وہ غلام آزاد نہ ہوگا۔
(۲۲۳۶۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : لاَ یَعْتِق۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৬০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص ( مدعی یا مدعی علیہ) قاضی سے گواہی دینے کا مطالبہ کریں
(٢٢٣٦١) حضرت ضحاک سے مروی ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑاحضرت عمر (رض) کی خدمت میں لے کر گئے، دونوں نے ان سے گواہی کا مطالبہ کیا۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں گواہی دیتا ہوں مگر پھر میں فیصلہ نہیں کروں گا، اور اگر تم چاہو کہ میں فیصلہ کروں تو پھر میں گواہی نہیں دوں گا۔
(۲۲۳۶۱) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ إبْرَاہِیمَ الأَنْصَارِیِّ ، عَنْ عَمِّہِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : اخْتَصَمَ رَجُلاَنِ إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ادَّعَیَا شَہَادَتَہُ ، فَقَالَ لَہُمَا عُمَرُ : إِنْ شِئْتُمَا شَہِدْت وَلَمْ أَقْضِ بَیْنَکُمَا ، وَإِنْ شِئْتُمَا قَضَیْت وَلَمْ أَشْہَدْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৬১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص ( مدعی یا مدعی علیہ) قاضی سے گواہی دینے کا مطالبہ کریں
(٢٢٣٦٢) حضرت عبد الأعلیٰ سے مروی ہے کہ ایک خاتون حضرت شریح (رض) کے پاس ایک گواہ لے کر حاضر ہوئی، آپ نے فرمایا ایک گواہ اور لاؤ ۔ عورت نے کہا آپ میرے گواہ ہیں۔ آپ نے اس خاتون سے قسم لی اور اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔
(۲۲۳۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، قَالَ : جَائَتِ امْرَأَۃٌ إلَی شُرَیْحٍ فَأَتَتْہُ بِشَاہِدٍ ، قَالَ : ائْتِنِی بِشَاہِدٍ آخَرَ ، قَالَت : أَنْتَ شَاہِدِی ، فَاسْتَحْلَفَہَا وَقَضَی لَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৬২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص ( مدعی یا مدعی علیہ) قاضی سے گواہی دینے کا مطالبہ کریں
(٢٢٣٦٣) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ میں دونوں کو اکٹھا نہیں کرتا کہ میں قاضی بھی بنوں اور گواہ بھی۔
(۲۲۳۶۳) حَدَّثَنَا ابن مہدی ، عن سفیان ، عن إسماعیل بن سالم ، عن الشعبی ، قَالَ : لاَ أجمع أن أکون قاضیًا وشاہدا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৬৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص ( مدعی یا مدعی علیہ) قاضی سے گواہی دینے کا مطالبہ کریں
(٢٢٣٦٤) حضرت شعبی (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کا مال دوسرے کے ذمہ تھا۔ اس نے دو گواہ پیش کر دئیے۔ پھر دو گواہوں میں سے ایک سے فیصلہ کروانا چاہا ؟ پھر دوسرا شخص آیا اس کے ساتھ ایک گواہ تھا، اس نے حضرت شریح (رض) سے کہا : آپ میرے حق میں گواہی دیں، حضرت ت شریح (رض) نے فرمایا : امیر کو بلا کر لاؤ ۔ تاکہ میں گواہی دے سکوں (یعنی پھر میں قاضی یا فیصل نہیں بنوں گا)
(۲۲۳۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَۃَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: سَأَلْتُہ عَنْ رَجُلٍ کَانَ لَہُ عَلَی رَجُلٍ مَالٌ، فَأَشْہَدَ علیہ شَاہِدَیْنِ، فَاسْتَقْضیَ أَحَدَ الشَّاہِدَیْنِ؟ فَقَالَ الشَّعْبِیُّ: جَائَ رَجُلٌ إلَی شُرَیْحٍ یُخَاصِمُ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَہُ، فَجَائَ الآخَرُ عَلَیْہِ بِشَاہِدٍ، ثُمَّ قَالَ لِشُرَیْحٍ: أَنْتَ تَشْہَدُ لِی، فَقَالَ شُرَیْحٌ: ائْتِ الأَمِیرَ حَتَّی أَشْہَدَ لَک۔ (بیہقی ۱۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৬৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زرگروں کی مٹی کی بیع کا بیان
(٢٢٣٦٥) حضرت عطائ (رض) سنار کی مٹی (زرگر کی مٹی ) کی بیع کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(۲۲۳۶۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ تُرَابَ الصَّوَّاغِینَ ، یَعْنِی : شِرَائَ ہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৬৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زرگروں کی مٹی کی بیع کا بیان
(٢٢٣٦٦) حضرت حسن (رض) زرگر کی مٹی کی بیع کو ناپسند سمجھتے تھے۔ مگر یہ کہ سونے کی مٹی کو چاندی کے ساتھ اور چاندی کی مٹی کو سونے کے ساتھ فروخت کیا جائے۔
(۲۲۳۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ شِرَاء تُرَابِ الصَّوَّاغِینَ إلاَّ أَنْ یَشْتَرِیَ تُرَابَ الذَّہَبِ بِالْفِضَّۃِ وَتُرَابَ الْفِضَّۃِ بِالذَّہَبِ۔
tahqiq

তাহকীক: