মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২২৩৮৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٨٧) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں رشوت کا حکم یہ ہے کہ وہ حرام ہے۔
(۲۲۳۸۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یُقَالُ : الرِّشْوَۃُ فِی الْحُکْمِ سُحْتٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٨٨) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حرام کے دو دروازے ہیں جن سے لوگ کھاتے ہیں ، ایک رشوت اور زانیہ کے مہر کی کمائی۔
(۲۲۳۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ خَیْثَمَۃَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : بَابَانِ مِنَ السُّحْتِ یَأْکُلُہُمَا النَّاسُ : الرِّشَا ، وَمَہْرُ الزَّانِیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٨٩) حضرت عبداللہ بن عمرو بن مرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر (رض) سے حرام کے متعلق دریافت کیا۔ آپ (رض) نے فرمایا وہ رشوت ہے۔
(۲۲۳۸۹) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عن أبیہ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ ، عَنِ السُّحْتِ ؟ فَقَالَ : الرِّشَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٩٠) حضرت ابو سعید (رض) فرماتے ہیں امراء کے ہدایا خیانت ہیں۔
(۲۲۳۹۰) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ أَبِی قَزَعَۃَ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ، قَالَ: ہَدَایَا الأُمَرَائِ غُلُولٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٩١) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے امراء کے ہدایا کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : یہ میرے خیال میں خیانت ہے۔
(۲۲۳۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ قَزَعَۃَ ، عَنْ أَبِی یَزِیدَ الْمَدِینِیِّ ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ عَنْ ہَدَایَا الأُمَرَائِ؟ فَقَالَ: ہِیَ فِی نَفْسِی غُلُولٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٩٢) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ یہ حرام ہے۔
(۲۲۳۹۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی مُعَاذٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : ہِیَ سُحْتٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٩٣) حضرت شقیق سے مروی ہے کہ حضرت معاذ (رض) حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے دور خلافت میں یمن سے غلاموں کو لائے۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے فرمایا : یہ غلام کو دے دو ، حضرت معاذ (رض) نے فرمایا میں اپنے غلام ان کو کیوں دے دوں ؟ پھر حضرت معاذ (رض) اپنے گھر تشریف لے گئے۔ اور غلاموں کو صدیق اکبر (رض) کے پاس نہیں لے کر گئے۔ انھوں نے رات گذاری پھر جب اگلی صبح ہوئی تو انھوں نے غلام ابوبکر (رض) کو دے دئیے۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے دریافت فرمایا : آپ (رض) پر کیا ظاہر ہوئی جو آپ نے ایسا کیا ؟ حضرت معاذ نے فرمایا کہ میں نے خود کو خواب میں دیکھا کہ آگ میرے قریب ہے اور میں اس میں دھکیلا جا رہا ہوں۔ پھر آپ نے مجھے ازار بند کی جگہ سے پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچا لیا۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب ان غلاموں کی وجہ سے ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ سب غلام تمہارے ہیں۔ پھر جب حضرت معاذ گھر تشریف لائے تو نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، غلاموں کو دیکھا کہ وہ بھی ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضرت معاذ (رض) نے پوچھا تم کس کے لیے نماز پڑھ رہے ہو ؟ انھوں نے کہا اللہ کے لئے، حضرت معاذ نے فرمایا : جاؤ تم اللہ کے لیے آزاد ہو۔
(۲۲۳۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ شَقِیقٍ ، قَالَ : قدِمَ مُعَاذٌ مِنَ الْیَمَنِ بِرَقِیقٍ فِی زَمَنِ أَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : ادْفَعْہُمْ إلَی أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : وَلِمَ أَدْفَعُ إلَیْہِ رَقِیقِی ؟ قَالَ : فَانْصَرَفَ إلَی مَنْزِلِہِ وَلَمْ یَدْفَعْہُمْ ، فَبَاتَ لَیْلَتَہُ ثُمَّ أَصْبَحَ مِنَ الْغَدِ ، فَدَفَعَہُمْ إلَی أَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : مَا بَدَا لَکَ ؟ قَالَ : رَأَیْتُنِی فِیمَا یَرَی النَّائِمُ کَأَنِّی إلَی نَارٍ أہْوی إلَیْہَا ، فَأَخَذْتَ بِحُجْزَتِی فَمَنَعْتنِی مِنْ دُخُولِہَا ، فَظَنَنْت أَنَّہُمْ ہَؤُلاَئِ الرَّقِیقُ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : ہُمْ لَکَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَی مَنْزِلِہِ قَامَ یُصَلِّی فَرَآہُمْ یُصَلُّونَ خَلْفَہُ فَقَالَ : لِمَنْ تُصَلُّونَ ؟ فَقَالُوا : لِلَّہِ ، فَقَالَ : اذْہَبُوا أَنْتُمْ لِلَّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٩٤) حضرت ابو حمید الساعدی (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن اللتبیہ کو بنی سلیم کے صدقات پر عامل بنایا۔ جب وہ آئے تو کہا یہ تمہارے لیے ہے اور یہ میرے لیئے ہدیہ ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء فرمائی اور پھر فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ان کو کسی کام کا والی (نگران) بنایا جاتا ہے ان امور میں سے جن کا اللہ نے ہمیں بنایا ہے۔ پھر ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہوا آتا ہے کہ : یہ تمہارے لیے ہے اور یہ میرے لیے ہدیہ ہے۔ اگر وہ سچا ہے تو اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہیں بیٹھ جاتا تاکہ یہ ہدیہ اس کے پاس وہیں آجائے ؟
(۲۲۳۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ ابْنَ اللُّتْبِیَّۃِ عَلَی صَدَقَاتِ بَنِی سُلَیْمٍ ، فَلَمَّا جَائَ قَالَ : ہَذَا لَکُمْ وَہَذَا أُہْدِیَ لِی ، فَقَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ نُوَلِّیہِمْ أُمُورًا مِمَّا وَلاَّنَاہا اللَّہُ ، فَیَجِیئُ أَحَدُکُمْ فَیَقُولُ : ہَذَا لَکُمْ ، وَہَذَا أُہْدِیَ إلَیَّ ، أَفَلاَ یَجْلِسُ فِی بَیْتِ أَبِیہِ ، أَوْ بَیْتِ أُمِّہِ حَتَّی تَأْتِیَہُ ہَدِیَّۃٌ إِنْ کَانَ صَادِقًا۔ (بخاری ۱۵۰۰۔ مسلم ۱۴۶۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٩٥) حضرت عدی بن عمیرہ الکندی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے کسی کو کسی کام پر عامل مقرر کیا جائے پھر وہ اس میں سے سوئی یا اس سے زائد کچھ چھپالے۔ تو یہ خیانت ہے جو بروز قیامت سامنے لائی جائے گی۔ انصار میں سے ایک سیاہ شخص اس حال میں کھڑا ہوا گویا کہ میں اس کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! آپ نے جو کام مجھے سونپا تھا اس کو واپس لے لیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا میں نے آپ کو سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے اس طرح اس طرح۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اب اس کو پھر کہتا ہوں۔ تم میں سے کسی کو کسی کام پر عامل مقرر کردیا جائے اس کو چاہیے کہ اس کے تھوڑے اور زائد کو ہمارے پاس لائے۔ جو اس میں سے دیا جائے اس کو لے لے اور جس سے روکا جائے اس سے منع ہوجائے۔
(۲۲۳۹۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسٍ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَمِیرَۃَ الْکِنْدِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ مِنْکُمْ عَلَی عَمَلٍ فَکَتَمَنَا مِخْیَطًا فَمَا فَوْقَہُ کَانَ غُلُولاً یَأْتِی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، فَقَامَ إلَیْہِ رَجُلٌ أسود مِنَ الأَنْصَارِ کَأَنِّی أَنْظُرُ إلَیْہِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اقْبَلْ عَنِّی عَمَلَک، قَالَ: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: سَمِعْتُک تقول کَذَا وَکَذَا، قَالَ: فَأَنَا أَقُولُہُ الآنَ: مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ مِنْکُمْ عَلَی عَمَلٍ فَلْیَأْتِنَا بِقَلِیلِہِ وَکَثِیرِہِ، فَمَا أُوتِیَ مِنْہُ أَخَذَ، وَمَا نُہِیَ عَنْہُ انْتَہَی۔ (مسلم ۳۰۔ ابوداؤد ۳۵۷۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٩٦) حضرت علی ابن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے بنو اسد میں سے ایک شخص کو عامل بنایا۔ جس کا نام ضبیعہ بن زہیر یا زہیر بن ضبیعہ تھا، جب وہ واپس آیا تو کہا : اے امیر المؤمنین ! مجھے کافی ہدیے دئیے گئے۔ میں وہ سب آپ کے پاس لے کر حاضر ہوا ہوں۔ اگر تو وہ میرے لیے حلال ہیں تو میں اس سے کھا لوں ۔ وگرنہ میں وہ آپ کو دے دیتا ہوں۔ حضرت علی (رض) نے اس سے لے لیے اور فرمایا : اگر تو ان کو اپنے پاس رکھتا تو یہ خیانت ہوتی۔
(۲۲۳۹۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّائِیِّ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبِیعَۃَ : أَنَّ عَلِیًّا اسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنْ بَنِی أَسَدٍ یُقَالُ لَہُ : ضُبَیْعَۃُ بْنُ زُہَیْرٍ ، أَوْ زُہَیْرُ بْنُ ضُبَیْعَۃَ ، فَلَمَّا جَائَ قَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إنِّی أُہْدِیَ إلَیَّ فِی عَمَلِی أَشْیَائُ وَقَدْ أَتَیْتُک بِہَا ، فَإِنْ کَانَتْ حَلاَلاً أَکَلْتہَا ، وَإِلأَفَقَدْ أَتَیْتُک بِہَا ، فَقَبَضَہَا عَلِیٌّ وَقَالَ : لَوْ حَبَسْتہَا کَانَ غُلُولاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٩٧) حضرت ثوبان (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشوت دینے والے ، رشوت لینے والے اور ان کے مابین جو معاونت کا ذریعہ بنے ان سب پر لعنت فرمائی ہے۔
(۲۲۳۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَبِی الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ ، عَنْ أَبِی إدْرِیسَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : لَعَنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّاشِیَ وَالْمُرْتَشِیَ وَالرَّائِشَ ، یَعْنِی الَّذِی یَمْشِی بَیْنَہُمَا۔

(احمد ۵/۲۷۹۔ بزار ۱۳۵۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٩٨) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
(۲۲۳۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِہِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّاشِیَ وَالْمُرْتَشِیَ۔

(ترمذی ۱۳۳۷۔ ابوداؤد ۳۵۷۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٣٩٩) حضرت یحییٰ بن سعید (رض) فرماتے ہیں کہ جب اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن رواحہ (رض) کو خیبر بھیجا تو انھوں نے ان کو ہدیے دئیے۔ آپ (رض) وہ واپس کر دئیے اور فرمایا یہ حرام ہے۔
(۲۲۳۹۹) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ابْنَ رَوَاحَۃَ إلَی أَہْلِ خَیْبَرَ أَہْدَوْا لَہُ فَرَدَّہُ وَقَالَ : ہُوَ سُحْتٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٤٠٠) حضرت عمر (رض) نے عراق والوں کو لکھا : ہمارے چوہدریوں اور زمینداروں کے ہدایا ہمارے لیے ہیں (یعنی ہمیں بھیجو اور خود اپنے پاس مت رکھو) ۔
(۲۲۴۰۰) حَدَّثَنَا یَعْلَی ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ إلَی أَہْلِ الْعِرَاقِ : إنَّ لَنَا ہَدَایَا دَہَاقِینَنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪০০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
(٢٢٤٠١) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت کی گئی ہے۔
(۲۲۴۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : لُعِنَ الرَّاشِیَ وَالْمُرْتَشِیَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪০১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو ہدیہ دے یا اُس کی طرف ہدیہ بھیجے
(٢٢٤٠٢) حضرت عبد الرحمن بن علقمہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ثقیف کا وفد حاضر ہوا۔ انھوں نے کچھ ہدیہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ؟ انھوں نے عرض کیا ہدیہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک ہدیہ سے اللہ کے رسول کی خوشنودی طلب کی جاتی ہے اور حاجت پوری کی جاتی ہے۔ اور صدقہ سے اللہ کی خوشنودی طلب کی جاتی ہے۔ انھوں نے عرض کیا نہیں یہ ہدیہ ہی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے قبول فرما لیا۔ اور انھوں نے حضور کو ظہر کے تمام وقت مشغول رکھا (یعنی پاس بیٹھے رہے) یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کو عصر کے ساتھ پڑھا۔
(۲۲۴۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ ہَانِیئٍ ، قَالَ: أخْبَرَنِی أَبُو حُذَیْفَۃَ ، عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفْدُ ثَقِیفٍ ، فَأَہْدَوْا إلَیْہِ ہَدِیَّۃً ، فَقَالَ: ہَدِیَّۃٌ أَمْ صَدَقَۃٌ؟ قَالُوا: ہَدِیَّۃٌ ، قَالَ: إنَّ الْہَدِیَّۃَ یُطْلَبُ بِہَا وَجْہُ الرَّسُولِ وَقَضَائُ الْحَاجَۃِ ، وَإِنَّ الصَّدَقَۃَ یُبْتَغَی بِہَا وَجْہُ اللہِ ، قَالُوا : لاَ ، بَلْ ہَدِیَّۃٌ ، فَقَبِلَہَا مِنْہُمْ ، وَشَغَلُوہُ عَنِ الظُّہْرِ حَتَّی صَلاَّہَا مَعَ الْعَصْرِ۔

(نسائی ۶۵۹۳۔ ابو عبید ۱۷۷۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪০২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو ہدیہ دے یا اُس کی طرف ہدیہ بھیجے
(٢٢٤٠٣) حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہدیہ قبول فرماتے اور اس سے بدلہ میں دیتے۔
(۲۲۴۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْبَلُ الْہَدِیَّۃَ وَیُثِیبُ مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْہَا۔ (بخاری ۲۵۸۵۔ ابوداؤد ۳۵۳۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪০৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو ہدیہ دے یا اُس کی طرف ہدیہ بھیجے
(٢٢٤٠٤) حضرت ایوب بن میسرہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس شخص کو ہدیہ دو جو تمہیں ہدیہ نہیں دیتا۔ اور اس کی عیادت کرو جو تمہاری عیادت نہیں کرتا۔
(۲۲۴۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیع ، قَالَ : حَدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اہْدِ لِمَنْ لاَ یُہْدِی لَکَ ، وَعُدْ مَنْ لاَ یَعُودُک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪০৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو ہدیہ دے یا اُس کی طرف ہدیہ بھیجے
(٢٢٤٠٥) حضرت بریدہ سے مروی ہے کہ حضرت سلمان فارسی (رض) جب مدینہ حاضر ہوئے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک پلیٹ میں ہدیہ لے کر حاضر ہوئے، اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ حضرت سلمان نے فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب پر صدقہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں صدقہ نہیں کھاتا۔ انھوں نے وہ ہدیہ اٹھوا دیا (یعنی واپس کردیا) پھر اگلے دن اسی طرح لے کر آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ حضرت سلمان نے فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہدیہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے فرمایا کھاؤ۔
(۲۲۴۰۵) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ حُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ سَلْمَانَ لَمَّا أَتَی الْمَدِینَۃَ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِہَدِیَّۃٍ عَلَی طَبَقٍ فَوَضَعَہَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ : مَا ہَذَا ؟ قَالَ : صَدَقَۃٌ عَلَیْک وَعَلَی أَصْحَابِکَ ، قَالَ: إنِّی لاَ آکُلُ الصَّدَقَۃَ ، فَرَفَعَہَا ، ثُمَّ أَتَاہُ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِہَا فَقَالَ: مَا ہَذَا؟ فَقَالَ : ہَدِیَّۃٌ لَکَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِہِ : کُلُوا۔ (ترمذی ۲۱۔ حاکم ۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪০৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو ہدیہ دے یا اُس کی طرف ہدیہ بھیجے
(٢٢٤٠٦) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کچھ عطا فرمایا : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہے اس کو عطاء فرما دیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لے لو، یا تم اس کو جمع کرتے جاؤ یا پھر اس کو صدقہ کردو۔ جو مال تم کو بغیر سوال کیے اور بنا طلب مل جائے تو اس کو لے لیا کر اور جو بنا مانگے نہ ملے تو اس کے پیچھے مت پڑا کرو۔
(۲۲۴۰۶) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْطِینِی الْعَطَاء ، فَأَقُولُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَعْطِہِ مَنْ ہُوَ أَحْوَجُ إلَیْہِ مِنِّی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خُذْہُ فَإِمَّا أَنْ تَمَوَّلَہُ ، وَإِمَّا أَنْ تَصَدَّقَ بِہِ ، وَمَا جَائَکَ مِنْ ہَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَیْرُ سَائِلٍ وَلاَ مُشْرِفٍ فَخُذْہُ ، وَمَا لاَ ، فَلاَ تُتْبِعْہُ نَفْسَک۔ (بخاری ۱۴۷۳۔ مسلم ۷۲۳)
tahqiq

তাহকীক: