মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২২৪২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے آپ کو بچانے کے لیے رشوت وغیرہ دینا
(٢٢٤٢٧) حضرت حسن سے اسی طرح مروی ہے۔
(۲۲۴۲۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے آپ کو بچانے کے لیے رشوت وغیرہ دینا
(٢٢٤٢٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی عزت کو بچانے کے لیے اگر اپنے مال میں سے کچھ دے دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۲۴۲۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ یُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بأسًا أَنْ یُعْطِیَ الرَّجُلُ مِنْ مَالِہِ مَا یَصُونُ بِہِ عِرْضَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٢٩) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں سود کھانے والا اور کھلانے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔
(۲۲۴۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : آکِلُ الرِّبَا وَمُؤْکِلُہُ سَوَائٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٣٠) حضرت کعب احبار (رض) فرماتے ہیں کہ میں تینتیس بار زنا کروں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں سود کا ایک درہم کھاؤں۔ جب میں وہ سود کھاتا ہوں تو میرا اللہ جانتا ہے کہ میں سود کھا رہا ہوں۔
(۲۲۴۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ بْنِ الرَّاہِبِ ، عَنْ کَعْبِ الأَحْبَارِ ، قَالَ : لأَنْ أَزْنِیَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ زَنْیَۃً أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَکْلِ دِرْہَمٍ رِبًا یَعْلَمُ اللَّہُ أَنِّی أَکَلْتہ حِینَ أَکَلْتہ وَہُوَ رِبًا۔ (احمد ۵/۲۲۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٣١) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں سود خور اور سود کھلانے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔ اور سودی معاملات لکھنے والا اور اس پر گواہ بننے والا جب وہ اس کے بارے میں جانتے ہوں، اور خوبصورتی کے لیے گودنے والی اور گودوانے والی خاتون اور صدقہ کو غلط استعمال کرنے والا۔ اور اعرابیوں میں سے جو ہجرت کے بعد مرتد ہوا اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے لعنت کی گئی ہے۔
(۲۲۴۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : آکِلُ الرِّبَا وَمُؤْکِلُہُ سواء ، وَکَاتِبُہُ وَشَاہِدُہُ إذَا عَلِمُوا بِہِ ، وَالْوَاشِمَۃُ وَالْمُسْتَوْشِمَۃ لِلْحُسْنِ ، وَلاَوِی الصَّدَقَۃِ ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِیًّا بَعْدَ ہِجْرَتِہِ مَلْعُونُونَ عَلَی لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٣٢) حضرت ابن عباس (رض) ارشاد فرماتے ہیں تم پر سود کے تمام دروازے بند کر دئیے گئے ہیں۔ پس تم لوگ اس کی حرمت کو چاہتے ہو۔ ( طلب کرتے ہو۔ )
(۲۲۴۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : غُلِّقَتْ عَلَیْکُمْ أَبْوَابُ الرِّبَا فَأَنْتُمْ تَلْتمسُونَ مَحَارِمَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٣٣) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سود کھانے والے پر ، کھلانے والے پر، اس کے معاملات لکھنے والے پر اور گواہوں پر لعنت کی گئی ہے۔
(۲۲۴۳۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ جَابِر بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لُعِنَ آکِلُ الرِّبَا وَمُؤْکِلُہُ وَکَاتِبُہُ وَشَاہِدَاہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٣٤) حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ تین چیزوں کو اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے لیے بیان فرما دیتے تو یہ دنیا و مافیھا سے زیادہ میرے لیے پسندیدہ ہوتا، ایک خلافت دوسری کلالہ (یعنی ایسی میت کہ جس کی نہ اولاد ہو اور نہ ہی والدین) اور تیسری چیز ہے سود۔
(۲۲۴۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ مُرَّۃَ الْہَمْدَانِیِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ: ثَلاَثٌ لأَنْ یَکُونَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیَّنَہُنَّ لَنَا أَحَبُّ إلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا : الْخِلاَفَۃُ وَالْکَلاَلَۃُ وَالرِّبَا۔

(ابن ماجہ ۲۷۲۷۔ حاکم ۳۰۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٣٥) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر (رض) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا اس حال میں کہ انھوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں داخل کی ہوئیں تھیں، فرمایا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ( ان کانوں سے خود ) سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جو شخص مشتبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو صاف اور بری کردیا۔ اور جو شخص مشتبہات میں پڑا وہ حرام میں پڑا، جیسے چرواہا اگر چراگاہ کے ارد گرد جانوروں کو چرائے تو وہ کبھی نہ کبھی چراگاہ میں داخل ہوجائیں گے۔ خبردار ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، خبردار جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے، سنو وہ انسان کا دل ہے۔
(۲۲۴۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیع ، حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ یَخْطُبُ وَأَہْوَی بِإِصْبَعَیْہِ إلَی أُذُنَیْہِ ، یَقُولُ : سَمِعْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : الْحَلاَلُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ ، وَبَیْنَہُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِہَاتٌ ، فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُہَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِینِہِ وَعِرْضِہِ ، وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُہَاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ ، کَالرَّاعِی یَرْعَی حَوْلَ الْحِمَی یُوشِکُ أَنْ یَرْتَعَ فِیہِ ، أَلاَ وَإنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی وَإِنَّ حِمَی اللہِ مَحَارِمُہُ ، أَلاَ وَإِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً إذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ ، أَلاَ وَہِیَ الْقَلْبُ۔

(بخاری ۵۲۔ مسلم ۱۲۲۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٣٦) حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ سود کا ایک درہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی بدتر ہے۔
(۲۲۴۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : لَدِرْہَمُ رِبًا أَشَدُّ عِنْدَ اللہِ تَعَالَی مِنْ سِتٍّ وَثَلاَثِینَ زَنْیَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٣٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا؛ سود کے ستر گناہ ہیں، ان میں سب سے کم درجہ ہے کہ آدمی اپنی ماں کے ساتھ زنا ( نکاح) کرے اور بڑا سود یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی آبرو میں دست درازی کرے۔
(۲۲۴۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الرِّبَا سَبْعُونَ حَوْبًا أَیْسَرُہَا نِکَاحُ الرَّجُلِ أُمَّہُ ، وَأَرْبَی الرِّبَا اسْتِطَالَۃُ الرَّجُلِ فِی عِرْضِ أَخِیہِ۔ (بخاری ۲۳۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٣٨) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ میں نے اہل نجران کے مکتوب میں پڑھا اس میں لکھا تھا، اگر تم لوگ سود کھاؤ گے تو تمہارے اور ہمارے درمیان کوئی صلح نہیں ، اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سود خوروں کے ساتھ صلح نہیں فرماتے تھے۔
(۲۲۴۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبِی ہَانِیئٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قرَأْت کِتَابَ أَہْلِ نَجْرَانَ فَوَجَدْت فِیہِ إِنْ أَکَلْتُمُ الرِّبَا فَلاَ صُلْحَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یُصَالِحُ مَنْ یَأْکُلُ الرِّبَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٣٩) حضرت سعید بن جبیر (رض) قرآن پاک کی آیت { الَّذِینَ یَأْکُلُونَ الرِّبَا لاَ یَقُومُونَ إلاَّ کَمَا یَقُومُ الَّذِی یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطَانُ مِنَ الْمَسِّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن مجنون اٹھایا جائے گا اور ان کا گلا گھونٹا جائے گا۔
(۲۲۴۳۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ {الَّذِینَ یَأْکُلُونَ الرِّبَا لاَ یَقُومُونَ إلاَّ کَمَا یَقُومُ الَّذِی یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطَانُ مِنَ الْمَسِّ} قَالَ : یُبْعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَجْنُونًا یُخْنَقُ۔ (ابن جریر ۱۰۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٤٠) حضرت ابو جحیفہ (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سود خود اور سود کھلانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
(۲۲۴۴۰) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَعَنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَہُ۔ (بخاری ۲۰۸۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٤١) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی پھر فرمایا : بیشک میں تمہیں کچھ چیزوں کا حکم دیتا ہوں شاید کہ وہ تمہارے لیے فائدہ مند نہیں ہیں اور تمہیں کچھ چیزوں سے روکتا ہوں شاید کہ وہ تمہارے لیے فائدہ مند ہیں، بیشک آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو آخری عہد ہم سے لیا وہ آیت ربا پر تھا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دنیا سے پردہ فرما گئے اور ہمیں اس کی تفصیل بیان نہیں فرمائیں۔ بیشک یہ سود بھی ہے اور مشکوک بھی۔ لہٰذا مشکوک شے کو چھوڑ کر غیر مشکوک کو اختیار کرو۔ حضرت شعبی کسی چیز کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ سود اور مشکوک بھی ہے، لہٰذا سود اور مشک میں میں ڈالنے والی اشیاء کو چھوڑ دو ۔
(۲۲۴۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَشْعَثَ وَدَاوُد ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : إنَّا نَأْمُرُکُمْ بِأَشْیَائَ لَعَلَّہَا لاَ تَصْلُحُ لَکُمْ ، وَنَنْہَاکُمْ عَنْ أَشْیَائَ لَعَلَّہَا تَصْلُحُ لَکُمْ ، وَإِنَّ آخِرَ مَا عَہِدَ إلَیْنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آیَاتُ الرِّبَا ، فَقُبِضَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَمْ یُبَیِّنْہُنَّ لَنَا ، إنَّمَا ہُوَ الرِّبَا وَالرِّیبَۃُ ، فَدَعُوا مَا یَرِیبُکُم إلی مَا لَا یَرِیبُکُم۔

فکان الشعبی إذا سُئلَ عَنِ الشَّیء قَالَ : إنَّمَا ہُوَ الرِّبَا وَالرِّیبَۃُ ، فَدَعُوا الرِّبَا وَالمُرِیبَاتِ۔ (احمد ۱/۳۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٤٢) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ ہم کہیں سود سے بچتے بچتے اس میں مزید دس گناہ آگے نہ نکل جائیں۔
(۲۲۴۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عِیسَی بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لَقَدْ خِفْت أَنْ نَکُونَ قَدْ زِدْنَا فِی الرِّبَا عَشَرَۃَ أَضْعَافِہِ مَخَافَتَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٤٣) حضرت عبداللہ بن یزید انصاری نے اپنے غلام کو چار ہزار درہم دے کر بھیجا، وہ اصبھان گیا اور اس نے تجارت کی یہاں تک کہ اس کے پاس بیس ہزار درہم ہوگئے، پھر وہ غلام فوت ہوگیا، حضرت عبداللہ (رض) سے کہا گیا کہ وہ غلام تجارت میں سود کی آمیزش کرتا تھا، آپ (رض) نے صرف چار ہزار واپس لیے اور باقی پیسے چھوڑ دئیے، نہیں لئے۔
(۲۲۴۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : دَفَعَ عَبْدُ اللہِ بْنُ یَزِیدَ الأَنْصَارِیُّ إلَی غُلاَمٍ لَہُ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ ، فَلَحِقَ بِأَصْبَہَانَ فَتَجَرَ حَتَّی صَارَتْ عِشْرِینَ أَلْفًا ، ثُمَّ ہَلَکَ ، فَقِیلَ لَہُ : إنَّہُ کَانَ یُقَارِف الرِّبَا ، فَأَخَذَ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ وَتَرَک مَا سِوَی ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سود کی حرمت کا بیان
(٢٢٤٤٤) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ سود کے ستر سے زیادہ دروازے ہیں اور شرک بھی اسی کے مثل ہے۔
(۲۲۴۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ عُمَارَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ الأَنْصَارِیُّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : الرِّبَا بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا ، وَالشِّرْکُ مِثْلُ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کی زمین چرا لے
(٢٢٤٤٥) حضرت یعلی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرلے تو اس کو قیامت کے دن اس زمین کی ساری مٹی اٹھانے پر مجبور کیا جائے گا۔
(۲۲۴۴۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبِی یَعْفُورَ ، عَنْ أَیْمَنَ ، قَالَ : سمِعْت یَعْلَی یَقُولُ : سَمِعْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَیْرِ حَقِّہَا کُلِّفَ أَنْ یَحْمِلَ تُرَابَہَا إلَی الْمَحْشَرِ۔

(احمد ۴/۱۷۲۔ ابن حبان ۵۱۶۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کی زمین چرا لے
(٢٢٤٤٦) حضرت سعید بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : کوئی شخص زمین کا ایک ٹکڑا ناحق لے لے، اس کو قیامت کے دن سات زمینوں کے برابر کر کے اس کے گلے میں طوق ڈالا جائے گا۔
(۲۲۴۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ بنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّہُ یُطَوَّقُہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ۔

(بخاری ۳۱۹۸۔ مسلم ۱۲۳۱)
tahqiq

তাহকীক: