মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২২৫০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات حیوان میں شفعہ کو درست نہیں سمجھتے
(٢٢٥٠٧) حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ کپڑے میں شفعہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔
(۲۲۵۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْبَجَلِیُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَائً: فِی الثَّوْبِ شُفْعَۃٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پر س ( بٹوا ) پر دو شخص دعویٰ کریں
(٢٢٥٠٨) حضرت ابن ابی لیلی، حضرت ابن شبرمہ اور حضرت ربیعۃ الرائی ایسے دو اشخاص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جن کے پاس ایک برس ہو ان میں ایک آدھے کا اور ددوسرا تمام بٹوے کا دعویٰ کررہا ہو۔ حضرت ابن شبرمہ نے فرمایا جس نے کل کا دعویٰ کیا ہے آدھا تو خالص اس کا ہے، اور باقی آدھا ان دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا، حضرت ابن ابی لیلی نے فرمایا : ایک کو ایک تہائی اور دوسرے کو دو تہائی ملے گا، اور حضرت ربیعہ نے فرمایا وہ پورا دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا۔
(۲۲۵۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی وَابْنِ شُبْرُمَۃَ وَرَبِیعَۃَ الرَّأْیِ ، قَالُوا فِی رَجُلَیْنِ یَکُونُ بَیْنَہُمَا الْکِیسُ ، فَیَقُولُ ہَذَا : لِی بَعْضُہ ، وَیَقُولُ ہَذَا : لِی کُلُّہُ۔
قَالَ ابْنُ شُبْرُمَۃُ : لِلَّذِی قَالَ : ہُوَ لِی کُلُّہُ ، نِصْفُہُ خَالِصًا ، وَیَکُونُ مَا بَقِیَ بَیْنَہُمَا۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی : الثلث والثلثان۔
وَقَالَ ربیعۃ : ہو بینہما نصفان۔
قَالَ ابْنُ شُبْرُمَۃُ : لِلَّذِی قَالَ : ہُوَ لِی کُلُّہُ ، نِصْفُہُ خَالِصًا ، وَیَکُونُ مَا بَقِیَ بَیْنَہُمَا۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی : الثلث والثلثان۔
وَقَالَ ربیعۃ : ہو بینہما نصفان۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پر س ( بٹوا ) پر دو شخص دعویٰ کریں
(٢٢٥٠٩) حضرت حارث سے مروی ہے کہ دو شخصوں کے درمیان مال مشترک تھا، ان میں سے ایک نے نصف مال کا دعویٰ کیا، اور دوسرے نے دو تہائی کا، فرمایا : دو تہائی والے کو نصف مال ملے گا، کیونکہ جس نے نصف کا دعویٰ کیا ہے وہ دوسرے نصف سے بری ہوگیا ہے، اور جس نے آدھے کا دعویٰ کیا تھا اس کو ثلث دیں گے، کیونکہ دو ثلث والا ایک ثلث سے بری ہے، اور باقی چھٹا حصہ رہ گیا ہے، لہٰذا یہ دونوں کے مابین مشترک ہوگا۔
(۲۲۵۰۹) حَدَّثَنَا جریر ، عن مغیرۃ ، عن الحارث: فی رجلین بینہما مال ، فادعی الواحد نصفہ ، وادعی الآخر الثلثین۔ قَالَ: یعطی صاحب الثُّلُثَیْنِ نِصْفُ الْمَالِ ، لأَنَّ صَاحِبَ النِّصْفِ قَدْ بَرِیئَ مِنَ النِّصْفِ ، وَیُعْطی الَّذِی یَدَّعِی النِّصْفَ الثُّلُثَ ، لأَنَّ صَاحِبَ الثُّلُثَیْنِ قَدْ بَرِیئَ مِنَ الثُّلُثِ ، وَبَقِیَ سُدُسٌ فَکِلاَہُمَا یَدَّعِیہِ ، فَہُوَ بَیْنَہُمَا نِصْفَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو یہ فرماتے ہیں کہ رہن کو بادشاہ کے پاس ہی فروخت کیا جائے گا
(٢٢٥١٠) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ رہن بادشاہ کے پاس ہی فروخت کیا جائے گا۔
(۲۲۵۱۰) حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُبَارَکٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ، قَالَ: لاَ یُبَاعُ الرَّہْنُ إلاَّ عِنْدَ سُلْطَانٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو یہ فرماتے ہیں کہ رہن کو بادشاہ کے پاس ہی فروخت کیا جائے گا
(٢٢٥١١) حضرت خالد فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین نے مجھے ایاس بن معاویہ کے پاس بھیجا جو کہ قاضی تھے، اور فرمایا ان سے کہو : میرے پاس رہن میں رکھوایا ہوا سوت ( اون وغیرہ) ہے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ ( رکھا رکھا) خراب ہوجائے گا۔ آپ نے مجھے حکم دیا کہ اس کو فروخت کر دوں۔
(۲۲۵۱۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : بَعَثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ إلَی إیَاسَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ وَہُوَ عَلَی الْقَضَائِ ، فَقَالَ : قُلْ لَہُ : إنَّ عِنْدِی غَزْلاً رَہْناً قَدْ خَشِیت أَنْ یَفْسُدَ ، فَأَمَرَنِی أَنْ أَبِیعَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس چیز کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت دیتے ہیں کہ جس عوام کا نقصان نہ ہو
(٢٢٥١٢) حضرت سعید بن المسیب زیتون کو جمع فرمایا کرتے تھے۔
(۲۲۵۱۲) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّہُ کَانَ یَحْتَکِرُ الزَّیْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس چیز کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت دیتے ہیں کہ جس عوام کا نقصان نہ ہو
(٢٢٥١٣) حضرت مسلم الخباط فرماتے ہیں کہ میں سعید بن المسیب کے لیے کھجور کی گٹھلی، چھوارے کی گٹھلی اور خشک پتے خرید لیا کرتا تھا اور وہ ان کو جمع کرلیا کرتے تھے۔
(۲۲۵۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْخَبَّاطِ ، قَالَ : کُنْتُ أَبْتَاعُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ النَّوَی ، وَالْعَجَمَ ، وَالْخَبَطَ فَیَحْتَکِرُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کر سکتی ہے
(٢٢٥١٤) حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ اگر عورت خاوند کے گھر سے صحیح طریقہ سے صدقہ کرے تو اس کا اجر اس کو ملے گا، اور خاوند کو کمائی کی مثل اور عورت کو خرچ کرنے کے مثل، اور خازن کو بھی اسی کے مثل اجر ملے گا، اور حضرت ابو معاویہ کی روایت میں اس کا اضافہ ہے کہ ان کے اجر میں کمی کیے بغیر۔
(۲۲۵۱۴) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَۃُ مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا غیر مفسدۃ کَانَ لَہَا أَجْرُہَا ، وَلَہُ مِثْلُہُ بِمَا اکْتَسَبَ ، وَلَہَا بِمَا أَنْفَقَتْ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِکَ۔
زَادَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ : مِنْ غَیْرِ أَنْ یُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئًا۔ (بخاری ۱۴۲۵۔ مسلم ۷۱۰)
زَادَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ : مِنْ غَیْرِ أَنْ یُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئًا۔ (بخاری ۱۴۲۵۔ مسلم ۷۱۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کر سکتی ہے
(٢٢٥١٥) حضرت ابن عباس (رض) سے ایک خاتون نے دریافت کیا کہ ! میرے پاس مسکین آتا ہے کیا میں شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے صدقہ کرسکتی ہوں ؟ آپ نے اس کو ناپسند فرمایا : اور اس کو کہا : کیا تو اپنے شوہر کو اجازت دے گی کہ وہ تیرا زیور تیری اجازت کے بغیر صدقہ کر دے ؟
(۲۲۵۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَأَلَتْہ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ : یَأْتِی الْمِسْکِینُ أَفَأَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ زَوْجِی بِغَیْرِ إذْنِہِ ؟ فَکَرِہَہُ ، وَقَالَ لَہَا : أَلَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِحُلِیِّکَ بِغَیْرِ إذْنِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کر سکتی ہے
(٢٢٥١٦) حضرت ابوہریرہ (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ خاتون اپنی غذا ( خوراک) کے علاوہ صدقہ نہ کرے، اور خاوند کے مال میں بغیر اجازت کے صدقہ کرنا حلال نہیں، اور (اگر کردیا تو ) ثواب دونوں کو ملے گا۔
(۲۲۵۱۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : لاَ تَصَّدَّقُ الْمَرْأَۃُ إلاَّ مِنْ قُوتِہَا ، فَأَمَّا مِنْ مَالِ زَوْجِہَا فَلاَ یَحِلُّ لَہَا إلاَّ بِإِذْنِہِ ، وَیَکُونُ الأَجْرُ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کر سکتی ہے
(٢٢٥١٧) حضرت ام صالح سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے حضرت عائشہ (رض) سے عرض کیا : کیا عورت خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ اٹھا سکتی ہے ؟ اس کو کوئی فرق نہیں ہے خواہ اس طرح کرلے یا اپنے پڑوسی کے گھر میں نقب لگا کر چوری کرلے۔ (یعنی خاوند کا بلا اجازت استعمال کرنا اور پڑوس کے گھر میں چوری کرنا ایک برابر ہے)
(۲۲۵۱۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَہْرَامَ ، عْن أُمِّ صَالِحٍ : أَنَّ امْرَأَۃً قَالَتْ لِعَائِشَۃَ : یَصْلُحُ لِلْمَرْأَۃِ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا الشَّیْئَ بِغَیْرِ إذْنِہِ ؟ فَقَالَتْ : مَا عَلَیْہَا إِنْ فَعَلَتْ ذَلِکَ أَمْ نَقَبَتْ بَیْتَ جَارَتِہَا فَسَرَقَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کر سکتی ہے
(٢٢٥١٨) حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ہند حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! ابو سفیان بخیل انسان ہے اور مجھے اتنا نہیں دیتا جو میرے اور بچوں کے لیے کافی ہو ، پھر میں اس کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ نکال لیتی ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تیرے اور بچوں کے لیے کافی ہو اتنا اچھے طریقے سے لے لیا کرو۔
(۲۲۵۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : جَائَتْ ہِنْدٌ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ شَحِیحٌ ، فَلاَ یُعْطِینِی مَا یَکْفِینِی وَوَلَدِی ، إلاَّ مَا أَخَذْت مِنْ مَالِہِ وَہُوَ لاَ یَعْلَمُ ، فَقَالَ : خُذِی مَا یَکْفِیک وَوَلَدَک بِالْمَعْرُوفِ۔ (بخاری ۲۲۱۱۔ احمد ۶/۳۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کر سکتی ہے
(٢٢٥١٩) حضرت حسن سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! میرا اور میری خاتون کا حکم ( معاملہ ) کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا تم دونوں کا کون سا معاملہ ؟ اس نے عرض کیا کہ وہ میرے گھر سے میری اجازت کے بغیر صدقہ کرتی ہے، آپ نے فرمایا ثواب دونوں کو ملے گا، اس نے عرض کیا کہ اگر میں اس کو اس سے روک لوں ؟ آپ نے فرمایا اس کو اس کا ثواب ملے گا جو اس نے ارادہ کیا اور تیرے لیے ( وبال ہے ) جو تو نے بخل سے کام لیا۔
(۲۲۵۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا إیَاسُ بْنُ دَغْفَلٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا أَمْرِی وَأَمْرُ صَاحِبَتِی ؟ قَالَ : وأَیُّ أَمْرِکُمَا ؟ قَالَ : تَصَّدَّقُ مِنْ بَیْتِی بِغَیْرِ إذْنِی ، قَالَ : الأَجْرُ بَیْنَکُمَا ، قَالَ : أَرَأَیْت إِنْ مَنَعْتہَا ؟ قَالَ لَہَا مَا اَحْتَسَبَتْ ، وَلَک مَا بَخِلْتَ بِہِ۔(عبدالرزاق ۱۶۶۱۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کر سکتی ہے
(٢٢٥٢٠) حضرت سعد سے مروی ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواتین سے بیعت لی تو ایک خاتون کھڑی ہوئی گویا کہ وہ مضر میں سے تھی، عرض کی اے اللہ کے رسول 5! سب کچھ ہمارے والدین، شوہروں اور بیٹوں کے لیے ہے، ان اموال میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر وہ تر چیز ( جس کو ذخیرہ نہیں کرسکتے ) اس کو کھاؤ بھی اور ہدیہ بھی کرو۔
(۲۲۵۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : لَمَّا بَایَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النِّسَائَ قَامَتْ إلَیْہِ امْرَأَۃٌ جَلِیلَۃٌ کَأَنَّہَا مِنْ نِسَائِ مُضَرَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّا کَلٌّ عَلَی آبَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَأَبْنَائِنَا ، فَمَا یَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِہِمْ ؟ قَالَ : الرَّطْبُ تَأْکُلِینَہُ وَتُہْدِینَہُ۔ (ابوداؤد ۱۶۸۳۔ حاکم ۱۳۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کر سکتی ہے
(٢٢٥٢١) حضرت ابو امامہ باہلی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حجۃ الوداع میں فرماتے ہوئے سنا : کوئی بھی خاتون اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے، پوچھا گیا اے اللہ کے رسول 5! کھانا بھی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ تو سب سے افضل مال ہے۔
(۲۲۵۲۱) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیَّ یَقُولُ : سَمِعْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ فِی حَجَّتِہِ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : لاَ تُنْفِقُ أمْرَأَۃٌ شَیْئًا مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا إلاَّ بِإِذْنِہِ ، قِیلَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَلاَ الطَّعَامُ ؟ قَالَ : ذَلِکَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شریک کا اپنی شرکت میں بیع کرنا جائز ہے
(٢٢٥٢٢) حضرت شعبی (رض) ، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ شریک کا بیع کرنا جائز ہے جب تک منع نہ کیا گیا ہو۔
(۲۲۵۲۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ وَمُحَمَّدٌ وَشُرَیْحٌ ، قَالَ : بَیْعُ الشَّرِیکِ جَائِزٌ مَا لَمْ یُنْہَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شریک کا اپنی شرکت میں بیع کرنا جائز ہے
(٢٢٥٢٣) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ ہر شریک کے لیے اپنی شرکت والی چیز کو فروخت کرنا جائز ہے ، سوائے میراث والی مشترکہ چیز کے۔
(۲۲۵۲۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ سَیَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کُلُّ شَرِیکٍ بَیْعُہُ فِی شِرْکَتِہِ جَائِزٌ إلاَّ شَرِکَۃً فِی مِیرَاثٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ وزن کرتے ہوئے کچھ زیادہ دینا
(٢٢٥٢٤) حضرت سوید بن قیس کہتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی مقام ہجر سے کپڑا لائے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور کپڑا خریدنا چاہا۔ ہمارے پاس ایک وزن کرنے والا تھا جو اجر کا وزن کرتا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا کہ وزن کرو اور زیادہ دو ۔
(۲۲۵۲۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ سُوَیْد بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : جَلَبْت أَنَا وَمَخْرَفَۃُ الْعَبْدِیُّ بَزًّا مِنْ ہَجَرَ ، فَجَائَنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَسَاوَمَنَا سَرَاوِیلَ ، وَعِنْدَنَا وَزَّانٌ یَزِنُ بِالأَجْرِ ، فَقَالَ لَہُ النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَاوَزَّانُ زِنْ وَأَرْجِحْ۔ (ترمذی ۱۳۰۵۔ ابوداؤد ۳۳۲۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ وزن کرتے ہوئے کچھ زیادہ دینا
(٢٢٥٢٥) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے اونٹ خریدا اور میرے لیے ثمن کو تولا اور کچھ زائد عطاء کیا۔
(۲۲۵۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : اشتری منی النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بعیرًا ، فوزن لی ثمنہ ، وأرجح لی۔ (بخاری ۳۰۸۹۔ احمد ۳/۳۰۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ وزن کرتے ہوئے کچھ زیادہ دینا
(٢٢٥٢٦) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ میرا کچھ قرض تھا، آپ نے وہ بھی اور کچھ زائد ادا فرمایا۔
(۲۲۵۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عن مسعر ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : کان لی علی النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دین ، فقضانی وزادنی۔ (بخاری ۴۴۳۔ احمد ۳/۳۱۹)
তাহকীক: