মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২২৫২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ وزن کرتے ہوئے کچھ زیادہ دینا
(٢٢٥٢٧) حضرت خالد فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی کے ذمہ میرا قرض تھا، میں ان کے پاس وصول کرنے آیا وہ اس وقت حمام سے نکل رہے تھے، اور مہندی کے اثرات ان کے ناخونوں پر تھے، اور ان کی باندی بوتل سے ان کی مہندی کو صاف ( کھرچ ) کر رہی تھی۔ آپ نے برتن نما تھیلی منگوائی جس میں درہم تھے، اور مجھ سے فرمایا یہ لے لو، میں نے عرض کیا کہ یہ تو میرے حق سے زیادہ ہے، آپ نے فرمایا رکھ لو، میں نے وہ رکھ لیے اور اس میں میں نے اپنے حق سے ساٹھ یا ستر دراہم زائد پائے۔
(۲۲۵۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسماعیل بن أبی خالد ، عن أبیہ ، قَالَ : کَانَ لِی عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ دَیْنٌ، فَأَتَیْتہ أَتَقَاضَاہُ ، فَوَجَدْتہ قَدْ خَرَجَ مِنَ الْحَمَّامِ وَقَدْ أَثَّرَت الْحِنَّائُ بِأَظْفَارِہِ وَجَارِیۃٌ لہُ تَحُکُّ الْحِنَّائَ عَنْہُ بِقَارُورَۃٍ ، فَدَعَا بقَعْب فِیہِ دَرَاہِمُ فَقَالَ : خُذْ ہَذَا ، فَقُلْتُ : ہَذَا أَکْثَرُ مِنْ حَقِّی ، قَالَ : خُذْہُ ، فَأَخَذْتہ فَوَجَدْتہ یَزِیدُ عَلَی حَقِّی بِسِتِّینَ ، أَوْ سَبْعِینَ دِرْہَمًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ وزن کرتے ہوئے کچھ زیادہ دینا
(٢٢٥٢٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں وزن میں زیادہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۲۵۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ فِی الرُّجْحَانِ فِی الْوَزْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ رشوت دینے اور لینے والا
(٢٢٥٢٩) حضرت ثوبان (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشوت دینے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے، اور جو ان کے درمیان ذریعہ رشوت بنے۔
(۲۲۵۲۹) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَبِی الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ ، عَنْ أَبِی إدْرِیسَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّاشِیَ ، وَالْمُرْتَشِیَ ، وَالرَّائِشَ ، یَعْنِی الَّذِی یَمْشِی بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ رشوت دینے اور لینے والا
(٢٢٥٣٠) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشوت دینے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
(۲۲۵۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِہِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّاشِیَ وَالْمُرْتَشِیَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ رشوت دینے اور لینے والا
(٢٢٥٣١) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں رشوت دینے والا، رشوت لینے والا، اور قاضی کو رشوت دینے والے پر ( لعنت ہوئی ہے) ۔
(۲۲۵۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ، عَنْ شُرَیْحٍ، قَالَ: الرَّاشِی، وَالْمُرْتَشِی، وَالْمُفْتَری۔

قَالَ وَکِیعٌ : یَعْنِی الْمُفْتَری الَّذِی یَقُولُ : أَرْتَشَی الْقَاضِیَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ رشوت دینے اور لینے والا
(٢٢٥٣٢) حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں السُّحْتُ سے مراد رشوت ہے۔
(۲۲۵۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : السُّحْتُ الرِّشْوَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام کو رہن رکھوا کر پھر اُس کو آزاد کر دے
(٢٢٥٣٣) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر راہن غلام کو رہن رکھ کر پھر آزاد کر دے تو غلام آزاد ہوجائے گا اور مرتہن راہن کے پیچھے لگ جائے گا۔
(۲۲۵۳۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ أبْرَاہِیمَ : فِی رَجُلٍ رَہَنَ عَبْدًا فَأَعْتَقَہُ ، قَالَ : عِتْقُ الْعَبْدِ جَائِزٌ وَیَتْبَعُ الْمُرْتَہِنُ الرَّاہِنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام کو رہن رکھوا کر پھر اُس کو آزاد کر دے
(٢٢٥٣٤) یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن صالح اور حضرت شریک سے دریافت کیا کہ ایک شخص غلام رہن رکھوا کر پھر اس کو آزاد کر دے ؟ آپ نے فرمایا اس کا آزاد کرنا جائز ہے، اور حضرت شریک فرماتے ہیں غلام مرتہن کے قرض کے لیے کوشش کرے گا، اور حضرت حسن فرماتے ہیں کہ مرتہن کے لیے کوشش غلام کے ذمہ نہیں ہے۔
(۲۲۵۳۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ صَالِحٍ وَشَرِیکًا عَنِ الرَّجُلِ یَرْہَنُ عَبْدَہُ ، ثُمَّ یُعْتِقُہُ ؟ قَالاَ: عِتْقُہُ جَائِزٌ۔

وَقَالَ شَرِیکٌ : یَسْعَی الْعَبْدُ لِلْمُرْتَہِنِ۔

وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ : لَیْسَ عَلَیْہِ سِعَایَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام کو رہن رکھوا کر پھر اُس کو آزاد کر دے
(٢٢٥٣٥) حضرت عطاء (رض) سے مروی ہے کہ اگر ایک شخص نے دوسرے سے غلام خریدا ہے پھر اس سے قبضہ کرنے سے قبل اس کو آزاد کردیا، آپ نے فرمایا کہ قبضہ کرنے سے پہلے اس کو آزاد کرنا درست نہیں ہے۔
(۲۲۵۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ : فِی رَجُلٍ اشْتَرَی مِنْ رَجُلٍ عَبْدًا فَلَمْ یَقْبِضْہُ حَتَّی أَعْتَقَہُ ، قَالَ : لاَ یَجُوزُ عِتْقُہُ حَتَّی یَقْبِضَہُ ، أَوْ یَنْقُدَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام کو رہن رکھوا کر پھر اُس کو آزاد کر دے
(٢٢٥٣٦) حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غلام کو آزاد کر دے تو وہ رہن سے نکل جائے گا، اور اگر مدبر بنا دے تو بھی رہن سے نکل جائے گا ، اور اگر باندی ہو اور اس سے ہمبستری کرلے اور اس کا بچہ ہوجائے تو وہ بھی رہن سے نکل جائے گی، اور پھر اگر آقا مال دار ہو تو مرتہن آقا کو پکڑے گا اور اگر آقا غریب ہو تو یہ لوگ ( غلام اور باندی) قیمت اور رہن میں جس کی قیمت کم ہے اس کے لیے کوشش کریں گے، حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ پھر اس غلام سے جتنی سعی کی ہے اس کا اپنے آقا سے رجوع کرے گا (یعنی اس سے اتنے پیسے یا قیمت وصول کرے گا) لیکن ام ولد اور مدبر آقا سے رجوع نہیں کریں گے کیونکہ ان کی خدمت آقا کے لیے ہوتی ہے۔
(۲۲۵۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ سَمِعْت سُفْیَانَ یَقُولُ : إذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ عَبْدَہُ خَرَجَ مِنَ الرَّہْنِ ، وَإِذَا دَبَّرَہُ خَرَجَ مِنَ الرَّہْنِ ، وَإِذَا کَانَتْ أَمَۃً فَوَطِئَہَا فَجَائَتْ بِوَلَدٍ خَرَجَتْ مِنَ الرَّہْنِ ، وَإِنْ کَانَ السَّیِّدُ مُوسِرًا أَتْبَعَ الْمُرْتَہِنُ السَّیِّدَ بِالرَّہْنِ ، وَإِنْ کَانَ مُعْسِرًا سَعَی ہَؤُلاَئِ فِی الأَقَلِّ مِنْ قِیمَتِہِمْ وَالرَّہْنِ۔

وَقَالَ سُفْیَانُ : یَرْجِعُ بِمَا سَعَی فِیہِ عَلَی الْمَوْلَی إذَا أَیْسَرَ ، وَأُمُّ الْوَلَدِ وَالْمُدَبَّرُ لاَ یَرْجِعَانِ عَلَی مَوْلاَہُمَا بِشَیْئٍ لأَنَّ خِدْمَتَہُمَا لِلْمَوْلَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو شخص مشترک ہوں ( شرکت کر لیں) اور ان میں سے ایک دینار اور دوسرا دراہم لے آئے
(٢٢٥٣٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر دو آدمی شرکت کرنا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایک دینار اور دوسرا دراہم لے آئے، فرمایا : دینار سارے کا سارا عین ہے پھر جب الگ ہونے کا ارادہ کریں تو دینار والا دینار لے لے اور دراہم والا دراہم لے لے اور پھر جو نفع ہے اس کو تقسیم کرلیں۔

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پسند فرماتے تھے کہ دراہم دراہم کے ساتھ ہوں اور دینار دینار کے ساتھ۔
(۲۲۵۳۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہشام ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَرَی بَأْسًا بِالرَّجُلَیْنِ یَشْتَرِکَانِ فَیَجِیئُ ہَذَا بِدَنَانِیرَ وَالآخَرُ بِدَرَاہِمَ ، وَقَالَ : الدَّنَانِیرُ عَیْنٌ کُلُّہُ ، فَإِذَا أَرَادَا أَنْ یَفْتَرِقَا أَخَذَ صَاحِبُ الدَّنَانِیرِ دَنَانِیرَ ، وَأَخَذَ صَاحِبُ الدَّرَاہِمِ دَرَاہِمَ ، ثُمَّ اقْتَسَمَا الرِّبْحَ۔

قَالَ ہِشَامٌ : وَکَانَ مُحَمَّدٌ یُحِبُّ أَنْ یَکُونَ دَرَاہِمَ وَدَرَاہِمَ ، وَدَنَانِیرَ وَدَنَانِیرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی کے پاس قضاء پر کوئی بیٹھ سکتا ہے
(٢٢٥٣٨) حضرت اسماعیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شریح (رض) کو فیصلہ کرتے ہوئے دیکھا، اور ان کے پاس ابو عمرو الشیبانی اور ان جیسے دوسرے شیوخ تشریف فرما تھے۔
(۲۲۵۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ شُرَیْحًا یَقْضِی وَعِنْدَہُ أَبُو عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ وَأَشْیَاخٌ نَحْوُہُ یُجَالِسُونَہُ عَلَی الْقَضَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی کے پاس قضاء پر کوئی بیٹھ سکتا ہے
(٢٢٥٣٩) حضرت ادریس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محارب بن دثار، حضرت حماد اور حضرت حکم کو دیکھا، ایک آپ کے داہنی جانب اور دوسرے آپ کے بائیں جانب تھے ، وہ کبھی حضرت حکم اور کبھی حضرت حماد کی طرف دیکھتے اور جھگڑا کرنے والا آپ کے سامنے تھا۔
(۲۲۵۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : رَأَیْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ وَحَمَّادًا وَالْحَکَمَ وَأَحَدُہُمَا عَنْ یَمِینِہِ وَالآخَرُ عَنْ یَسَارِہِ ، یَنْظُرُ إلَی الْحَکَمِ مَرَّۃً ، وَإِلَی حَمَّادٍ مَرَّۃً ، وَالْخُصُومُ بَیْنَ یَدَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قاضی کے پاس قضاء پر کوئی بیٹھ سکتا ہے
(٢٢٥٤٠) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت قاسم نے فرمایا : میرے پاس بیٹھ، اور اس وقت وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ فرما رہے تھے۔
(۲۲۵۴۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَش ، قَالَ : قَالَ لِی الْقَاسِمُ : اجْلِسْ إلَیَّ وَہُوَ یَقْضِی بَیْنَ النَّاسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سامان کے بدلے میں اونٹ وغیرہ خریدنا
(٢٢٥٤١) حضرت عروہ (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اعرابی سے ایک وسق کھجوروں کے بدلے میں اونٹ خریدا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خولہ بنت حکیم کے پاس پیغام بھیجا تو انھوں نے ایک وسق مکمل بھر کر اور پورا پورا کر کے دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں بہترین وہ ہے جو پورا پورا دے اور اچھا دے۔
(۲۲۵۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اشْتَرَی مِنْ أَعْرَابِیٍّ جَزُورًا بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَأَرْسَلَ إلَی خَوْلَۃَ بِنْتِ حَکِیمٍ فَأَوْفَتْہُ ، وَقَالَ : خِیَارُکُمَ الْمُوفُونَ المطَیَبُونَ۔

(احمد ۶/۲۶۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سامان کے بدلے میں اونٹ وغیرہ خریدنا
(٢٢٥٤٢) حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اعرابی سے سو صاع کھجور کے بدلے ایک بچھڑا خریدا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے فرمایا : لوگوں سے جا کر کہہ دو کہ پیٹ بھر کر کھاؤ اور جب تک وزن پورا نہ ہوجائے کیل کرتے رہو (یعنی کوئی چیز دینی ہو تو مکمل وزن کر کے دیا کرو) وہ شخص اس حال میں نکلا کہ اس نے کہنیوں کو ملایا ہوا تھا۔
(۲۲۵۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : اشْتَرَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُہْرًا مِنْ أَعْرَابِیٍّ بِمِئَۃِ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ : انْطَلِقْ فَقُلْ لَہُمْ : تَأْکُلُون حَتَّی تَشْبَعُوا ، وَتَکْتَالُون حَتَّی تَسْتَوْفُوا۔ یَعْنِی : الْکَیْلَ ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ وَہُوَ یَحُکُ بِمِرْفَقَیْہِ۔ یَعْنِی : یَشْتَدُّ۔ (ابوداؤد ۱۶۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سامان کے بدلے میں اونٹ وغیرہ خریدنا
(٢٢٥٤٣) حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ امت پاک نہیں کی جاتی جس میں ضعیف کو اس کا حق بغیر ٹال مٹول کے نہ دیا جائے۔
(۲۲۵۴۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنی أَبِی ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لاَ قُدِّسَتْ أُمَّۃٌ لاَ یُعْطَی الضَّعِیفُ فِیہَا حَقَّہُ غَیْرَ مُتَعْتِعٍ۔(ابویعلی ۱۰۹۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کچھ لوگ کسی شخص کے لیے گواہی دیں
(٢٢٥٤٤) حضرت اسماعیل فرماتے ہیں کہ میں حضرت قاسم بن عبد الرحمن کی خدمت میں حاضر تھا، آپ کے پاس ایک شخص حجاج کے عمال سے جھگڑا کرتے ہوئے آیا کہ اس کا کھانا اس نے غصب کیا ہے، حضرت قاسم نے اس سے گواہ کا مطالبہ کیا، وہ گواہ لے آیا، اُنہوں نے گواہی دی کہ اس نے اس کے گھر سے کھانا اٹھایا ہے، حضرت قاسم نے فرمایا کہ کتنا کھانا تھا جو اس نے اٹھایا ہے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ وہ تو ہمیں نہیں معلوم ، آپ نے فرمایا کہ جب تک تم لوگ مجھے اس کے وزن کے بارے میں نہیں بتاؤ گے میں فیصلہ نہیں کروں گا۔
(۲۲۵۴۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : شَہِدْت الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَاصَمَ إلَیْہِ رَجُلٌ عَامِلاً مِنْ عُمَّالِ الْحَجَّاجِ غَصَبَہُ طَعَامًا کَانَ لَہُ ، فَسَأَلَہُ الْقَاسِمُ الْبَیِّنَۃَ ، فَجَائَ بِبَیِّنَۃ فَشَہِدُوا أَنَّہُ أَخَذَ طَعَامًا لَہُ مِنْ بُیُوتِہِ ، فَقَالَ لَہُم الْقَاسِمُ : کَم الطعام الذی أخذہ ؟ قالوا : لاَ ندری ما کیلہ ، قَالَ : فإنی لاَ أقضی لہ بشیء حتی تُخْبِرُونِی بِکَیْلِ مَا أَخَذَ مِنَ الطَّعَامِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی سے جانور خریدے
(٢٢٥٤٥) حضرت اسماعیل فرماتے ہیں کہ میں حضرت قاسم کے پاس حاضر تھا کہ آپ کے پاس دو شخص جھگڑا کرتے ہوئے آئے، ان میں سے ایک نے دوسرے سے جانور خریدا تھا، اس نے حضرت قاسم سے کہا کہ اس کو حکم دیں کہ مجھے کوئی ضامن دے کہ اگر اس گھوڑے کو معاملہ میں مجھ پر کوئی تاوان آگیا تو وہ کیل اس تاوان کو بھرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے بیع کرتے وقت اس کی شرط لگائی تھی ؟ اس نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا، پھر تمہارے لیے ایسا کرنا نہیں ہے۔
(۲۲۵۴۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : شَہِدْتہ وَاخْتَصَمَ إلَیْہِ رَجُلاَنِ اشْتَرَی أَحَدُہُمَا مِنَ الآخَرِ دَابَّۃً ، فَقَالَ لِلْقَاسِمِ : مُرْہُ فَلْیُعْطِنِی کَفِیلاً إن أَدْرَکَنِی فِی ہَذِہِ الدَّابَّۃِ دَرَکٌ ، فَقَالَ : ہَلْ کُنْت اشْتَرَطْت عَلَیْہِ ذَلِکَ عِنْدَ عُقْدَۃِ الْبَیْعِ ؟ قَالَ : لاَ قَالَ : لَیْسَ لَکَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص خریدنے کے لیے کوئی چیز چکھ کر دیکھے
(٢٢٥٤٦) حضرت جمیل بن بشیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبداللہ کو دیکھا کہ آپ ایک مچھلی والے کے پاس سے گزرے۔ آپ نے اس میں سے چکھا اور پھر پوچھا کس طرح فروخت کر رہے ہو ؟
(۲۲۵۴۶) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ جمیل بْنِ بِشْرٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ مَرَّ بِصَاحِبِ صِیرٍ ، یَعْنِی صَحْنَاۃً ، فَأَخَذَ مِنْہُ فَذَاقَہُ ، فَقَالَ : کَیْفَ تَبِیعُ ہَذَا ؟۔
tahqiq

তাহকীক: