মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২২৬০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کپڑوں کے بدلے چیک دستاویز خرید لے
(٢٢٦٠٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کا افلاس ظاہر ہوجائے تو اس کے لیے غلام آزاد کرنا جائز نہیں ہے جب کہ اس پر دین ہو، اور اگر اس کا افلاس ظاہر نہ ہو تو اس کے لیے غلام آزاد کرنا جائز ہے۔
(۲۲۶۰۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا تَبَیَّنَ إفْلاَسُ الرَّجُلِ فَلاَ یَجُوزُ عَتَاقُہُ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ ، وَإِنْ لَمْ یَتَبَیَّنْ إفْلاَسُہُ فَعَتَاقُہُ جَائِزٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تنگ دست کو مہلت دینا اور اُس کے ساتھ نرمی کرنا
(٢٢٦٠٨) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جو شخص تنگ دست کو مہلت دے دے یا اس کو معاف کر دے اللہ تعالیٰ اُ س کو اپنے عرش کا سایہ عطاء فرمائے گا۔
(۲۲۶۰۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو الْیَسَرِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَہُ : أَظَلَّہُ اللَّہُ فِی ظِلِّ عَرْشِہِ۔
(مسلم ۷۴۔ حاکم ۲۸)
(مسلم ۷۴۔ حاکم ۲۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تنگ دست کو مہلت دینا اور اُس کے ساتھ نرمی کرنا
(٢٢٦٠٩) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح مروی ہے۔
(۲۲۶۰۹) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی الْیَسَرِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِہِ۔ (طبرانی ۳۷۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تنگ دست کو مہلت دینا اور اُس کے ساتھ نرمی کرنا
(٢٢٦١٠) حضرت عبید بن عمیر (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا جو لوگوں کو قرضہ دیتا اور ان کے ساتھ بیع کرتا تھا، اس کا ایک کاتب اور ایک قرضہ وصول کرنے والا تھا، اس کے پاس جب کوئی تنگ دست آتا تو اپنے کاتب سے کہتا کہ تول کر دے دو اور کچھ مہلت بھی دے دو ۔ آج کے دن درگذر کرو۔ اس کے بدلہ میں اللہ ہم سے درگذر کرے گا۔ وہ شخص اللہ سے اس حالت میں ملا کہ اس عمل کے علاوہ اس نے کوئی بھی اچھا عمل نہیں کیا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کردی۔
(۲۲۶۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ ، قَالَ : کَانَ رَجُلٌ یُدَایِنُ النَّاسَ وَیُبَایِعُہُمْ ، وَکَانَ لَہُ کَاتِبٌ وَمُتْجَازی ، فَیَأْتِیہِ الْمُعْسِرُ وَالْمُسْتَنْظِرُ فَیَقُولُ : کِلْ وَأَنْظِرْ وَتَجَاوَزَ الْیَوْمَ ، یُتَجَاوَزَ عَنَّا ، قَالَ : فَلَقِیَ اللَّہَ وَلَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا غَیْرَہُ فَغَفَرَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تنگ دست کو مہلت دینا اور اُس کے ساتھ نرمی کرنا
(٢٢٦١١) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ تم سے پہلے ایک شخص کا حساب لیا گیا اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ تھی سوائے اس کے کہ وہ مال دار شخص تھا اور لوگوں سے معاملات کرتا تھا، اس نے اپنے نوکروں سے کہا ہوا تھا تنگ دست کو مہلت دے دیا کرو، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا، میں اس سے زیادہ اس بات کا مستحق ہوں، تم اس سے تجاوز کرو ( معاف کرو ، مہلت دو ) ۔
(۲۲۶۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَلَمْ یُوجَدْ لَہُ مِنَ الْخَیْرِ شَیْئٌ إلأَأَنَّہُ کَانَ رَجُلاً مُوسِرًا یُخَالِطُ النَّاسَ فَیَقُولُ لِغِلْمَانِہِ : تَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ ، فَقَالَ : اللَّہُ لِمَلاَئِکَتِہِ : فَنَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِکَ مِنْہُ ، فَتَجَاوَزُوا عَنْہُ۔
(مسلم ۳۰۔ ترمذی ۱۳۰۷)
(مسلم ۳۰۔ ترمذی ۱۳۰۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تنگ دست کو مہلت دینا اور اُس کے ساتھ نرمی کرنا
(٢٢٦١٢) حضرت ابو مسعود (رض) سے اسی طرح مروی ہے۔
(۲۲۶۱۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ بِنَحْوٍ مِنْہُ وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تنگ دست کو مہلت دینا اور اُس کے ساتھ نرمی کرنا
(٢٢٦١٣) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مقروض کو آسودہ حال کرے یا اس کو معاف کر دے، وہ قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سایہ میں ہوگا۔
(۲۲۶۱۳) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْخَطْمِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ ، عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ : صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ نَفَّسَ عَنْ غَرِیمہ أَوْ مَحَا عَنْہُ ، کَانَ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (احمد ۵/۳۰۰۔ عبد بن حمید ۱۹۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تنگ دست کو مہلت دینا اور اُس کے ساتھ نرمی کرنا
(٢٢٦١٤) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم سے پہلے ایک شخص تھا، فرشتہ اس کی روح قبض کرنے آیا ، اور اس سے پوچھا کہ کیا تیرا کوئی نیک عمل ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نہیں جانتا، اس نے کہا غور کر، اُ س شخص نے کہا اس کے علاوہ مجھے نہیں معلوم کہ میں بیع میں لوگوں کو مہلت دیتا تھا، پس میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور امیر سے تجاوز کرتا، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل فرما دیا۔
(۲۲۶۱۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، قَالَ : قَالَ عُقْبَۃُ بْنُ عَمْرٍو لِحُذَیْفَۃَ : حَدِّثْنِی بِشَیْئٍ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : کَانَ رَجُلٌ فِیمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ أَتَاہُ الْمَلَکُ لِیَقْبِضَ رُوحَہُ فَقَالَ : ہَلْ عَمِلْت خَیْرًا ؟ قَالَ : مَا أَعْلَمُہُ ، قَالَ : اُنْظُرْ ، قَالَ : مَا أَعْلَمُہُ إلاَّ أَنِّی کُنْت رَجُلاً أُجَازِفُ النَّاسَ وَأُخَالِطُہُمْ ، فَکُنْت أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُوسِرِ ، فَأَدْخَلَہُ اللَّہُ الْجَنَّۃَ ، قَالَ عُقْبَۃُ : وَأَنَا سَمِعْتہ یَقُولُ ذَلِکَ۔ (مسلم ۱۱۹۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تنگ دست کو مہلت دینا اور اُس کے ساتھ نرمی کرنا
(٢٢٦١٥) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو اللہ کی راہ میں مجاہد کی مدد کرے، مقروض کو تنگ دستی میں مہلت دے اور مکاتب کی مدد کرے اللہ پاک اس کو اس دن ( اپنے عرش کا سایہ نصیب کرے گا ) جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔
(۲۲۶۱۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ، أَنَّ سَہْلاً حَدَّثَہُ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَعَانَ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِ اللہِ ، أَوْ غَارِمًا فِی عُسْرَتِہِ ، أَوْ مُکَاتَبًا فِی رَقَبَتِہِ أَظَلَّہُ اللَّہُ یَوْمَ لاَ ظِلَّ إلاَّ ظِلُّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع میں قیمت مقرر کرنا
(٢٢٦١٦) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک اعرابی کے قریب سے گذرے وہ کوئی شئی فروخت کررہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پر پہلی قیمت لازم ہے، بیشک نفع سہولت اور مہلت دینے کے ساتھ ہے۔
(۲۲۶۱۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَعْرَابِیٍّ یَبِیعُ شَیْئًا فَقَالَ : عَلَیْک بِأَوَّلِ السَّوْمَۃِ ، أَوْ بِأَوَّلِ السَّوْمِ فَإِنَّ الرِّبَاحَ مَعَ السَّمَاحِ۔ (ابوداؤد ۱۶۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع میں قیمت مقرر کرنا
(٢٢٦١٧) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سامان کا مالک قیمت لگانے کا زیادہ حق دار ہے۔
(۲۲۶۱۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنِ ابن أَبِی حُسَیْنٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : سَیِّدُ السِّلْعَۃِ أَحَقُّ بِالسَّوْمِ۔ (ابوداؤد ۱۶۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع میں قیمت مقرر کرنا
(٢٢٦١٨) حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : جانور (گھوڑا وغیرہ) کی ناک پر قیمت چسپاں کردیا کرو۔
(۲۲۶۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْعُمَرِیِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَرْثِم أنْفَہ بِالسَّوْمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦١٩) حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا مرض الوفات قریب آیا ، آپ نے فرمایا : میرے مال میں دیکھو خلافت میں آ نے کے بعد اس میں کتنا اضافہ ہوا ہے، اور وہ میرے بعد والے خلیفہ کو بھیج دو ، بیشک میں اس کو حلال سمجھتا تھا، جتنا مال میں نے تجارت میں کمایا ہے تقریباً اتنی ہی مالیت کے جانور بھی میرے پاس موجود ہیں۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب ہم نے دیکھا تو ایک نوبی غلام (یعنی جس کی آنکھیں درست نہ ہوں اور وہ ٹھیک سے دیکھ بھی نہ سکتا ہو) تھا۔ جس نے اپنے بچے اٹھائے ہوئے تھے اور ایک اونٹنی تھی جس پر پانی لایا کرتے تھے۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم نے یہ سب عمر (رض) کی طرف بھیج دیا۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ مجھے میرے دادا نے بتایا کہ عمر (رض) رو پڑے اور فرمایا کہ ابوبکر پر اللہ رحم فرمائے انھوں نے اپنے بعد میں آنے والوں کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔
(۲۲۶۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ أَبُو بَکْرٍ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ : اُنْظُرُوا مَا زَادَ فِی مَالِی مُنْذُ دَخَلْت فِی الْخِلاَفَۃِ فَابْعَثُوا بِہِ إلَی الْخَلِیفَۃِ مِنْ بَعْدِی ، فَإِنِّی قَدْ کُنْت أَسْتَحِلُّہُ ، وَقَدْ کُنْت أَصَبْت مِنَ الْوَدَکِ نَحْوًا مِمَّا کُنْت أَصَبْت مِنَ التِّجَارَۃِ ، قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَلَمَّا مَاتَ نَظَرْنَا ، فَإِذَا عَبْدٌ نُوبِیٌّ یَحْمِلُ صِبْیَانَہُ وَنَاضِحٌ کَانَ یَسْقِی عَلَیْہِ ، قَالَتْ : فَبَعَثْنَا بِہِمَا إلَی عُمَرَ ، قَالَتْ : فَأَخْبَرَنِی جَدِّی ، أَنَّ عُمَرَ بَکَی وَقَالَ : رَحْمَۃُ اللہِ عَلَی أَبِی بَکْرٍ ، لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَہُ تَعَبًا شَدِیدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٢٠) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر یہ خریدو فروخت نہ ہوتی تو تم لوگوں پر بوجھ بن جاتے۔
(۲۲۶۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِی رَاشِدٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لَوْلاَ ہَذِہِ الْبُیُوعُ صِرْتُمْ عَالَۃً عَلَی النَّاسِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٢١) حضرت عائشہ (رض) ارشاد فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) قریش میں سب سے بڑے تاجر تھے۔
(۲۲۶۲۱) حَدَّثَنَا وکیع ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَرِیکٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : قالَتْ عَائِشَۃُ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ أَتْجَرَ قُرَیْشٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٢٢) حضرت ابو الدردائ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے تجارت کیا کرتا تھا، جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوگئی تو میں نے تجارت اور عبادت کو جمع کرنے کا ارادہ کیا، تو وہ میرے لیے نہ ہوسکا، تو میں نے تجارت چھوڑ دی اور عبادت پر لگ گیا۔
(۲۲۶۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ خَیْثَمَۃَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : کُنْت تَاجِرًا قَبْلَ أَنْ یُبْعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَدْت أَنْ أَجْمَعَ بَیْنَ التِّجَارَۃِ وَالْعِبَادَۃِ فَلَمْ یَسْتَقِمْ لِی ، فَتَرَکْت التِّجَارَۃَ وَأَقْبَلْت عَلَی الْعِبَادَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٢٣) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی خبر دی گئی کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) قریش کے بڑے تاجر تھے۔
(۲۲۶۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : نُبِّئْتُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ أَتْجَرَ قُرَیْشٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٢٤) حضرت ابو وائل (رض) فرماتے ہیں کہ تجارت سے حاصل کیا گیا ایک درہم مجھے تحفے میں ملے ہوئے دس درہموں سے زیادہ پسند ہے۔
(۲۲۶۲۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : لَدِرْہَمٌ مِنْ تِجَارَۃٍ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ عَشَرَۃٍ مِنْ عَطَائِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٢٥) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص حلال دنیا جمع کرے۔ سوال سے بچنے کے لیے، اپنے گھر والوں کی کفایت کرنے کے لیے اور اپنے پڑوسی پر مہربانی اور نرمی کرنے کے لیے۔ ایسا شخص اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہوگا اور جو شخص کثرت مال اور ریاکاری کی نیت سے حلال مال جمع کرے گا تو ایسا شخص اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا۔
(۲۲۶۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَۃَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ طَلَبَ الدُّنْیَا حَلاَلاً اسْتِعْفَافًا عَنِ الْمَسْأَلَۃِ وَسَعْیًا عَلَی أَہْلِہِ وَتَعَطُّفًا عَلَی جَارِہِ لَقِیَ اللَّہَ وَوَجْہُہُ کَالْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ، وَمَنْ طَلَبَ الدُّنْیَا حَلاَلاً مُکَاثِرًا مُرَائِیًا لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔ (عبد بن حمید ۱۴۳۳۔ بیہقی ۹۸۹۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٢٦) حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارے لیے تین سفر لکھ دئیے گئے ہیں، حج اور عمرہ کے لیے ، اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے، اور آدمی کا تجارت کرنا اِ س طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ پر، اپنے مال سے اللہ کے فضل سے تلاش کرنا مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں اپنے بستر پر مروں، اور اگر میں کہتا کہ یہ شہادت ہے تو البتہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ شہادت ہے۔
(۲۲۶۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عِیسَی أَبُو نَعَامَۃَ سَمِعَہُ أوْ قَالَ : حَدَّثَنَا حریث بْنُ الرَّبِیعِ الْعَدَوِیُّ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ : کُتِبَتْ عَلَیْکُمْ ثَلاَثَۃُ أَسْفَارٍ : الْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ وَالْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللہِ، وَالرَّجُلُ یَسْعَی بِمَالِہِ فِی وَجْہٍ مِنْ ہَذِہِ الْوُجُوہِ ، أَبْتَغِی بِمَالِی مِنْ فَضْلِ اللہِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَمُوتَ عَلَی فِرَاشِی ، وَلَوْ قُلْتُ : إنَّہَا شَہَادَۃٌ ، لَرَأَیْت أَنَّہَا شَہَادَۃٌ۔
তাহকীক: