মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২২৬২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٢٧) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمرو (رض) سے فرمایا : اے عمرو ! اپنے کپڑے پہن کر اور اپنا اسلحہ باندھ کر میرے پاس آؤ، حضرت عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کپڑے پہنے اور اسلحہ باندھا، پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو وضو کرتا ہوا پایا، حضور نے اوپر سے نیچے تک میرا مکمل جائزہ لیا، پھر نگاہ کو جھکا لیا، پھر فرمایا کہ میں تم کو ایسی جگہ بھیجنا چاہتا ہوں جہاں تم کو اللہ تعالیٰ سلامتی اور مال غنیمت بھی عطا کرے گا۔ میں تم کو اس میں سے کچھ مال بھی دوں گا۔ حضرت عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! میں نے مال کی رغبت کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیا، میں نے تو جہاد اور آپ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اسلام قبول کیا، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عمرو (رض) ! پاکیزہ مال نیک شخص کے لیے بہت اچھا ہے۔
(۲۲۶۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُلَیٍّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا عَمْرُو ، اُشْدُدْ عَلَیْک سِلاَحَک وَثِیَابَک وَائْتِنِی ، قَالَ : فَشَدَدْت عَلَیَّ سِلاَحِی وَثِیَابِی ، ثُمَّ أَتَیْتہ فَوَجَدْتہ یَتَوَضَّأُ ، فَصَعَّدَ فِیَّ الْبَصَرَ وَصَوَّبَہُ فَقَالَ : یَا عَمْرُو ، إنِّی أُرِیدُ أَنْ أَبْعَثَک وَجْہًا یُسَلِّمَک اللَّہُ وَیُغَنِّمُکَ ، وَأزْعَبْ لَکَ مِنَ الْمَالِ زَعْبَۃً صَالِحَۃً ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنِّی لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَۃً فِی الْمَالِ ، إنَّمَا أَسْلَمْت رَغْبَۃً فِی الْجِہَادِ وَالْکَیْنُونَۃِ مَعَک ، قَالَ : یَا عَمْرُو ، نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ۔ (بخاری ۲۹۹۔ احمد ۴/۲۰۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٢٨) حضرت محمد بن واسع الازدی (رض) فرماتے ہیں کہ یہ مال صرف چار صورتوں میں ہی حلال ہے، مسلمانوں کے غنیمت میں سے حصہ ہو ، اور حلال مال کی تجارت سے ہو، یا کوئی مسلمان بھائی اپنی خوشی سے عطیہ دے، یا اللہ کے مقررہ کردہ میراث کے حصہ میں سے ہو۔
(۲۲۶۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِہْزَمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ الأَزْدِیِّ ، قَالَ : لاَ یَطِیبُ ہَذَا الْمَالُ إلاَّ مِنْ أَرْبَعِ خِلاَلٍ : سَہْم فَیء الْمُسْلِمِینَ ، أَوْ تِجَارَۃٌ مِنْ حَلاَلٍ ، أَوْ عَطَائٌ مِنْ أَخٍ مُسْلِمٍ عَنْ ظَہْرِ یَدٍ ، أَوْ مِیرَاثٌ فِی کِتَابِ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٢٩) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ مدینہ میں خچروں کا ایک قافلہ آیا جس پر سامان تجارت تھا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں خریدا اور کچھ چاندی زائد بچ گئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بنی عبد المطلب کے مساکین میں تقسیم فرما دیا اور فرمایا : میں ایسی چیز نہیں خریدنا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔
(۲۲۶۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَتْ عِیرٌ إلَی الْمَدِینَۃِ ، فَاشْتَرَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْہَا فَرَبِحَ أَوَاقِیَ ، فَقَسَمَہَا فِی أَرَامِلِ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَقَالَ : لاَ أَشْتَرِی شَیْئًا لَیْسَ عِنْدِی ثَمَنُہُ۔ (ابوداؤد ۳۳۳۷۔ احمد ۱/۲۳۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٣٠) حضرت ابو قلابہ (رض) پیشہ اختیار کرنے پر ابھارتے تھے، اور فرماتے مال داری عافیت میں سے ہے۔
(۲۲۶۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ : کَانَ أَبُو قلاَبَۃَ یَحُثُّنِی عَلَی الاحْتِرافِ وَالطَّلَبِ ، وَقَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ : الْغِنَی مِنَ الْعَافِیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تجارت اور اُس کی فضیلت میں
(٢٢٦٣١) حضرت مجاہد قرآن پاک کی آیت { أَنْفِقُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد تجارت ہے۔
(۲۲۶۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ : { أَنْفِقُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ} ، قَالَ : التِّجَارَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بلاوجہ قسم اٹھانے کے ممانعت
(٢٢٦٣٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک جھوٹی قسم ساز و سامان کے زوال کا اور کمائی میں بےبرکتی کا سبب ہے۔
(۲۲۶۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً ، قَالَ : إنَّ الْیَمِینَ الْفَاجِرَۃَ مَنْفَقَۃٌ لِلسِّلْعَۃِ مَمْحَقَۃٌ لِلْکَسْبِ۔ (بخاری ۲۰۸۷۔ مسلم ۱۳۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بلاوجہ قسم اٹھانے کے ممانعت
(٢٢٦٣٣) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : زیادہ قسم اٹھانے سے بچو، بیشک اس کی وجہ سے شروع میں مال کچھ بڑھتا ہے پھر کم ہوجاتا ہے۔
(۲۲۶۳۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الْحَلِفِ فَإِنَّہُ یُنْفِقُ ، ثُمَّ یَمْحَقُ۔

(احمد ۵/۲۹۷۔ ابن ماجہ ۲۲۰۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بلاوجہ قسم اٹھانے کے ممانعت
(٢٢٦٣٤) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیع میں زیادہ قسمیں اٹھانے سے بچو، بیشک اس کی وجہ سے پہلے مال بظاہر بڑھتا ہے پھر کم ہوجاتا ہے۔
(۲۲۶۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الْحَلِفِ فِی الْبَیْعِ فَإِنَّہُ یُنْفِقُ ، ثُمَّ یَمْحَقُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بلاوجہ قسم اٹھانے کے ممانعت
(٢٢٦٣٥) حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) بازار آتے تو سلام کرتے اور فرماتے، اے تاجرو ! بیع میں زیادہ قسمیں اٹھانے سے بچو، بیشک اس کی وجہ سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت ختم ہوجاتی ہے۔
(۲۲۶۳۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَۃَ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ یَأْتِی السُّوقَ فَیُسَلِّمُ ، ثُمَّ یَقُولُ : یَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ، إیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الْحَلِفِ فِی الْبَیْعِ فَإِنَّہُ یُنْفِقُ السِّلْعَۃَ وَیَمْحَقُ الْبَرَکَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بلاوجہ قسم اٹھانے کے ممانعت
(٢٢٦٣٦) حضرت ابن مسعود (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ قسم اٹھانا بیوع کو بڑھانے اور کسب کو ختم کرنے کا سبب ہے۔
(۲۲۶۳۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ زِیَادِ بْنِ أخی سَالِم بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : الأَیْمَانُ لِقَاح الْبُیُوعَ وَتَمْحَقُ الْکَسْبَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بلاوجہ قسم اٹھانے کے ممانعت
(٢٢٦٣٧) حضرت قیس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ مدینہ میں تجارت کرتے تھے، اور ہم اپنے آپ کو سماسر ۔ کے نام سے پکارتے تھے، پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں اس سے اچھے نام سے پکارا جس سے ہم اپنے آپ کو پکارتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے تاجرو ! اس کاروبار میں لغو کام اور قسم اٹھائی جاتی ہے، پس اس کی تلافی صدقہ کے ساتھ کرو۔
(۲۲۶۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی غَرْزَۃَ ، قَالَ : کُنَّا نَبْتَاعُ الأوسَاق بِالْمَدِینَۃِ وَکُنَّا نُسَمِّی أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَۃَ ، فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ ہُوَ أَحْسَنُ مِمَّا کُنَّا نُسَمِّی بِہِ أَنْفُسَنَا ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ، إنَّ ہَذَا الْبَیْعَ یَحْضُرُہُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوہُ بِالصَّدَقَۃِ۔

(ترمذی ۱۲۰۸۔ ابوداؤد ۳۳۱۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بلاوجہ قسم اٹھانے کے ممانعت
(٢٢٦٣٨) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح مروی ہے۔
(۲۲۶۳۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ حَدِیثِ قَیْسِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ۔ (بیہقی ۴۸۴۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بلاوجہ قسم اٹھانے کے ممانعت
(٢٢٦٣٩) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے قسم اٹھانا حانث ہونے یا نادم ہونے کا سبب ہے۔ ( ان دو میں سے ایک کام ضرور ہوگا) ۔
(۲۲۶۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ کِدَامٍ السُّلَمِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْحَلِفُ حِنْثٌ ، أَوْ نَدَمٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بلاوجہ قسم اٹھانے کے ممانعت
(٢٢٦٤٠) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں فرمائے گا، اور نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کو دردناک عذاب دے گا، احسان جتلانے والا، شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا اور جھوٹی قسم اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا۔
(۲۲۶۴۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُدْرِکٍ ، عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ ، عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلاَثًا لاَ یُکَلِّمُہُمُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَلاَ یُزَکِّیہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ : الْمَنَّانُ وَالْمُسْبِلُ ، وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَہُ بِالْحَلِفِ الْکَاذِبِ۔ (مسلم ۱۷۱۔ ابوداؤد ۴۰۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بلاوجہ قسم اٹھانے کے ممانعت
(٢٢٦٤١) حضرت ابو ہریرہ (رض) ارشاد فرماتے ہیں : جھوٹ بیع کو خوشنما اور تیز کرتا ہے، سامان کو بکوا دیتا ہے لیکن کسب کو ختم کردیتا ہے۔
(۲۲۶۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُجَمِّعٍ الأَنْصَارِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ سَعْدٍ مَوْلَی أَبِی مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : الْکَذِبُ مِلْحُ الْبَیْعِ : یُنْفِقُ السِّلْعَۃَ وَیَمْحَقُ الْکَسْبَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ غلام کے پاس اگر کوئی پیشہ نہ ہو اور پھر اُس کو مکاتب بنایا جائے
(٢٢٦٤٢) حضرت عمر (رض) نے عمیر بن سعد کو لکھا اما بعد : اپنے پاس مسلمانوں کو منع کرو کہ وہ اپنے غلاموں کو لوگوں کے سوال پر مکاتب بنائیں۔
(۲۲۶۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ یُونُسَ بْنِ سَیْفٍ ، عَنْ حِرَامِ بْنِ حَکِیمٍ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إلَی عُمَیْرِ بْنِ سَعْدٍ : أَمَّا بَعْدُ : فَانْہَ مَنْ قِبَلَک مِنَ الْمُسْلِمِینَ أَنْ یُکَاتِبُوا أَرِقَّائَہُمْ عَلَی مَسْأَلَۃِ النَّاسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ غلام کے پاس اگر کوئی پیشہ نہ ہو اور پھر اُس کو مکاتب بنایا جائے
(٢٢٦٤٣) حضرت ابن عمر (رض) اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ غلام کو بغیر پیشہ کے مکاتب بنالیا جائے۔
(۲۲۶۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُکَاتِبَ الرَّجُلُ عَبْدَہُ إذَا لَمْ یَکُنْ لَہُ حِرْفَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ غلام کے پاس اگر کوئی پیشہ نہ ہو اور پھر اُس کو مکاتب بنایا جائے
(٢٢٦٤٤) حضرت ابن عمر (رض) نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا تو وہ آپ کے پاس بدل کتابت کی قسط لے کر حاضر ہوا جب آپ تشریف لائے، آپ نے دریافت کیا کہ کہاں سے لے کر آیا ہے ؟ غلام نے کہا کہ میں نے لوگوں سے سوال کیا اور کچھ کام کیا، حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کیا تو مجھے لوگوں کے مال کی میل کھلانا چاہتا ہے ؟ جا تو آزاد ہے ، اپنی قسط بھی لے جا۔
(۲۲۶۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، قَالَ : کَاتَبَ ابْنُ عُمَرَ غُلاَمًا لَہُ ، فَجَائَہ بِنَجْمِہِ حِینَ حَلَّ ، فَقَالَ : مِنْ أَیْنَ لَکَ ہَذَا ؟ قَالَ : کُنْتُ أَسْأَلُ وَأَعْمَلُ ، قَالَ : تُرِیدُ أَنْ تُطْعِمَنِی أَوْسَاخَ النَّاسِ ؟ أَنْتَ حُرٌّ وَلَک نَجْمُک ہَذَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ غلام کے پاس اگر کوئی پیشہ نہ ہو اور پھر اُس کو مکاتب بنایا جائے
(٢٢٦٤٥) حضرت سلمان نے اپنے غلام کو مکاتب بنانے کا ارادہ کیا، پھر اس سے پوچھا مال کہاں سے لائے گا ؟ اس نے کہا کہ لوگوں سے مانگ کر، آپ نے فرمایا : کیا تو مجھے لوگوں کی میل کھلانا چاہتا ہے ؟ پھر اس کو مکاتب بنانے سے انکار کردیا۔
(۲۲۶۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْفَرَّائِ ، عَنْ أَبِی لَیْلَی الْکِنْدِیِّ ، أَنَّ سَلْمَانَ أَرَادَ أَنْ یُکَاتِبَ غُلاَمًا لَہُ فَقَالَ: مِنْ أَیْنَ؟ قَالَ: أَسْأَلُ النَّاسَ، قَالَ: تُرِیدُ أَنْ تُطْعِمَنِی أَوْسَاخَ النَّاسِ ؟ فَأَبَی أَنْ یُکَاتِبَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ غلام کے پاس اگر کوئی پیشہ نہ ہو اور پھر اُس کو مکاتب بنایا جائے
(٢٢٦٤٦) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو مکاتب بنا لو اور اگر چاہو تو نہ بناؤ۔
(۲۲۶۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: إِنْ شَائَ کَاتَبَ عَبْدَہُ، وَإِنْ شَائَ لَمْ یُکَاتِبْہُ۔
tahqiq

তাহকীক: