মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২২৬৪৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ غلام کے پاس اگر کوئی پیشہ نہ ہو اور پھر اُس کو مکاتب بنایا جائے
(٢٢٦٤٧) حضرت ابن عباس (رض) نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا اور اس پر شرط لگا دی کہ لوگوں سے سوال نہ کرے گا۔
(۲۲۶۴۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی حُمَیْدٌ ، عَمنْ حَدَّثہ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَاتَبَ عَبْدًا لَہُ وَاشْتَرَطَ عَلَیْہِ أَلاَّ یَسْتَکِدَّ النَّاسَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৪৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب تم قرض وغیرہ دو تو جو دیا ہے اسی کے مثل لو
(٢٢٦٤٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب تم گن کردو تو گن کرلو، اور اگر وزن کر کے دو تو پھر وزن کر کے لو۔
(۲۲۶۴۸) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ، عَنْ سِمَاکٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: إذَا فَرَضْت عَدَدًا فَخُذْ عَدَدًا، وَإِذَا فَرَضْت وَزْنًا فَخُذْ وَزْنًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৪৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب تم قرض وغیرہ دو تو جو دیا ہے اسی کے مثل لو
(٢٢٦٤٩) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِ س بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کسی کو قرض عدداً دے اور اس سے وزناً وصول کرے۔
(۲۲۶۴۹) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُسَلِّفَ عَدَدًا وَیَأْخُذَ وَزْنًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৪৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب تم قرض وغیرہ دو تو جو دیا ہے اسی کے مثل لو
(٢٢٦٥٠) حضرت باذام فرماتے ہیں کہ میں نے ایاس بن معاویہ کو جو سکر بثق کے ولی تھے ان کو دیکھا، سونے کی ٹکیا وغیرہ وزناً قرض لیتے تھے اور وزناً واپس کرتے تھے۔
(۲۲۶۵۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ باذام ، قَالَ : رَأَیْتُ إیَاسَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ وَلِی سَکْرَ بَثْق ، فَکَانَ یَسْتَقْرِضُ الْقَصَبَ وَزْنًا وَیَرُدُّہُ وَزْنًا۔ (بخاری ۱۹۸۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৫০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب تم قرض وغیرہ دو تو جو دیا ہے اسی کے مثل لو
(٢٢٦٥١) حضرت حسن اور حضرت محمد سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے دوسرے سے زمین کے بدلے گن کر دراہم قرض لیے، کیا وہ قرض کی ادائیگی وزن کے ساتھ کرسکتا ہے ؟ آپ دونوں حضرات نے اِ س کو ناپسند فرمایا اور فرمایا کہ وہ اسی کے مثل کے ساتھ قرض ادا کرے۔
(۲۲۶۵۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ ، أَنَّہُمَا قَالاَ فِی رَجُلٍ اقْتَرَضَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاہِمَ عَدَدًا بِأَرْضٍ فَجَازَتْ بِوَزْنِہَا أَیَقْضِیہِ وَزْنًا فَکَرِہَا ذَلِکَ وَقَالا : لاَ یَقْضِیہِ إلاَّ مِثْلَ دَرَاہِمِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৫১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب تم قرض وغیرہ دو تو جو دیا ہے اسی کے مثل لو
(٢٢٦٥٢) حضرت سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ ایک شخص کی دوسرے پر ہزار بڑی اینٹیں قرض تھیں، بڑی اینٹ ایک درہم کے بدلہ میں دو سو ملتی ہیں جب کہ چھوٹی اینٹ ایک درہم کے بدلہ میں اڑھائی سو ملتی ہیں۔ پس وہ چاہے تو اس کو مباح کرسکتا ہے۔
(۲۲۶۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ حُکَیمِ بْنِ رُزَیْقٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : فِی رَجُلٍ کَانَ لَہُ عَلَی رَجُلٍ أَلْفُ لَبِنَۃٍ مِنْ لَبِنِ کِبَارٍ ، وَالْکِبَارُ تُبَاعُ مِئَتَیْنِ بِدِرْہم ، وَالصِّغَارُ خَمْسِینَ وَمِئَتَیْنِ ، قَالَ : نَقَصَہُ مِنْ حَقِّہِ ، فَہُوَ یُحَلِّلُہُ إِنْ شَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৫২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب تم قرض وغیرہ دو تو جو دیا ہے اسی کے مثل لو
(٢٢٦٥٣) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وزن کی ( ادائیگی اور واپسی ) وزن کے ساتھ اور عدد کی عدد کے ساتھ۔
(۲۲۶۵۳) حَدَّثَنَا رُوحُ بْنُ عُبَادَۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : الْوَزْنُ بِالْوَزْنِ وَالْعَدَدُ بِالْعَدَدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৫৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص سیاہ دراہم قرض دے کر سفید وصول کرے
(٢٢٦٥٤) حضرت سعید بن المسیب اور حضرت حسن اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ سیاہ دراہم کے بدلے سفید دراہم وصول کئے جائیں، جب کہ اس کی شرط نہ لگائی ہو۔
(۲۲۶۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَالْحَسَنِ : أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یَرَیَانِ بَأْسًا بِقَضَائِ الدَّرَاہِمِ الْبِیضِ مِنَ الدَّرَاہِمِ السُّودِ مَا لَمْ یَکُنْ شَرْطًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৫৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص سیاہ دراہم قرض دے کر سفید وصول کرے
(٢٢٦٥٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر اس کی شرط لگائی ہو اور اس کی نیت بھی نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔
(۲۲۶۵۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَرَی بِذَلِکَ بَأْسًا مَا لَمْ یَکُنْ شَرْطًا، أَوْ نِیَّۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৫৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص باندی خریدے اور وہ اُس کے پاس سے بھاگ جائے
(٢٢٦٥٦) حضرت شعبی (رض) اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو باندی خریدے اور وہ اس کے پاس سے بھاگ جائے ، اگر اس کو فروخت کرتے وقت عیب چھپایا جائے یا اس کو دھوکا دیا جائے تو اس کو ثمن واپس کرے گا اور اپنی باندی طلب کرے گا، اور حضرت شریح فرماتے تھے اس باندی کو ہی واپس کرے گا۔
(۲۲۶۵۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ : فِی الرَّجُلِ یَشْتَرِی الْجَارِیَۃَ فَتَأْبِقُ مِنْہُ ، فَإِنْ دَلَّسْت لَہُ أَوْ غَدَرْت رُدَّ عَلَیْہِ الثَّمَنَ وَاطْلُبْ جَارِیَتَکَ ، قَالَ : وَکَانَ شُرَیْحٌ یَقُولُ : رُدَّہَا بِذَاتِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৫৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو سامان فروخت کرے ایک مقررہ وقت کے لیے اور شرط لگا دے کہ اگر اُس مدت سے قبل فروخت کیا تو وہ اُس کا زیادہ حق دار ہے
(٢٢٦٥٧) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے دو ماہ کے لیے سامان فروخت کردیا اور مشتری پر شرط لگا دی کہ اگر اس کو دو ماہ سے قبل ہی بیچنا پڑے تو مجھ کو ہی واپس بیچ دے گا، آپ نے فرمایا کہ میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
(۲۲۶۵۷) حَدَّثَنَا مُعْتَمِر بن سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَلَمِ بْنِ أَبِی الذَّیالِ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَۃً إلَی شَہْرَیْنِ شَرَطَ عَلَی الْمُشْتَرِی إِنْ بَاعَہَا قَبْلَ الشَّہْرَیْنِ أَنْ یَنْقُدَہُ ؟ قَالَ : لاَ أَعْلَمُ بِہِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৫৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو سامان فروخت کرے ایک مقررہ وقت کے لیے اور شرط لگا دے کہ اگر اُس مدت سے قبل فروخت کیا تو وہ اُس کا زیادہ حق دار ہے
(٢٢٦٥٨) حضرت عبد العزیز بن رفیع فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو باندی فروخت کی ، اور اس پر شرط لگا دی کہ اس کو مجھے فروخت کرے گا، پھر اس نے اس کو مجھے فروخت کردیا، میں اس جھگڑے کو حضرت شریح کے پاس لے گیا، آپ نے فرمایا : تو نے بیع کے ساتھ اقرار کیا ہے، پس تجھے شرط پر گواہ لانے پڑیں گے۔
(۲۲۶۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ عَبْدِالْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ، قَالَ: بِعْت مِنْ رَجُلٍ جَارِیَۃً وَشَرَطْت عَلَیْہِ: إِنْ تَبِعتْہَا نَفْسِی، قَالَ: فَتَبِعَتہَا نَفْسِی، فَخَاصَمْتہ إلَی شُرَیْحٍ فَقَالَ: قَدْ أَقْرَرْت بِالْبَیْعِ فَبَیِّنَتُک عَلَی الشَّرْطِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৫৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو سامان فروخت کرے ایک مقررہ وقت کے لیے اور شرط لگا دے کہ اگر اُس مدت سے قبل فروخت کیا تو وہ اُس کا زیادہ حق دار ہے
(٢٢٦٥٩) حضرت شریح (رض) نے چند دنوں کے لیے شرط کو جائز ( نافذ) قرار دیا۔
(۲۲۶۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَبْدِالْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ شریح : أَنَّہُ أَجَازَ الشَّرْطَ لِبِضْعَۃِ عَشَرَ یَوْمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৫৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اپنے آقا کو یوں کہے : تو بدل کتابت کم کر دے میں جلدی ادا کردو ں گا
(٢٢٦٦٠) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مکاتب اپنے آقا کو یوں کہے کہ کچھ بدل کتابت کم کر میں جلدی ادا کروں گا تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(۲۲۶۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ طَاوُوسٍ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَقُولَ الْمُکَاتَبُ لِمَوْلاَہُ : حطَّ عَنِّی وَأُعَجِّلُ لَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৬০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اپنے آقا کو یوں کہے : تو بدل کتابت کم کر دے میں جلدی ادا کردو ں گا
(٢٢٦٦١) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آقا اپنے مکاتب سے یوں کہے کہ : جلدی ادا کر میں بدل کتابت کم کر دوں گا۔
(۲۲۶۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَقُولَ لِمُکَاتَبِہِ : عَجِّلْ لِی وَأَضَعُ عَنْک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৬১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اپنے آقا کو یوں کہے : تو بدل کتابت کم کر دے میں جلدی ادا کردو ں گا
(٢٢٦٦٢) حضرت شعبی (رض) سے مروی ہے کہ آدمی کا اپنے مکاتب کو یوں کہنا : میں کچھ کمی کر دوں گا تو جلدی ادا کر، آپ نے اس کو ناپسند فرمایا۔
(۲۲۶۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ : فِی رَجُلٍ قَالَ لِمُکَاتَبِہِ : أَضَعُ عَنْک وَعَجِّلْ لِی ، فَکَرِہَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৬২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اپنے آقا کو یوں کہے : تو بدل کتابت کم کر دے میں جلدی ادا کردو ں گا
(٢٢٦٦٣) حضرت زہری (رض) فرماتے ہیں کہ اگر آدمی اپنے غلام کو مقررہ مدت کے لیے کچھ دراہم پر مکاتب بنائے، پھر وقت مقررہ سے پہلے اس کو کہے کہ جلدی ادا کر میں بدل کتابت میں کمی کر دوں گا، تو اس میں کوئی حرج نہیں، فرماتے ہیں کہ میں نے سوائے حضرت ابن عمر (رض) کے اور کسی کو نہیں دیکھا جو اس کو ناپسند کرتا ہو، بیشک اس کو ناپسند کرتے تھے البتہ سامان کے بدلہ میں جائز سمجھتے تھے۔
(۲۲۶۶۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّہُ قَالَ فِی الرَّجُلِ کَانَ یُکَاتِبُ غُلاَمَہُ عَلَی دِرْہَمٍ إلَی أَجَلٍ مُسَمًّی ، فَیَقُولُ لَہُ قَبْلَ مَحِلِّ الأَجَلِ : عَجِّلْ لِی وَأَضَعُ عَنْک لَمْ یَرَ بَأْسًا ، قَالَ : وَلَمْ أَرَ أَحَدًا کَرِہَہُ إلاَّ ابْنُ عُمَرَ فَإِنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ ذَلِکَ إلاَّ بِعَرْضٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৬৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اپنے آقا کو یوں کہے : تو بدل کتابت کم کر دے میں جلدی ادا کردو ں گا
(٢٢٦٦٤) حضرت حسن اور ابن سیرین (رض) اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ مکاتب سے یہ کہا جائے کہ وقت مقررہ سے جلدی ادا کر میں کچھ کمی کر دوں گا۔
(۲۲۶۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِیرِینَ : أنہمَا کَرِہَا فِی الْمُکَاتِبِ أَنْ یَقُولَ : عَجِّلْ لِی وَأَضَعُ عَنْک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৬৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب اپنے آقا کو یوں کہے : تو بدل کتابت کم کر دے میں جلدی ادا کردو ں گا
(٢٢٦٦٥) حضرت ابن عباس (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنے مکاتب سے یوں کہتا ہے کہ جلدی ادا کر میں کچھ کم کر دوں گا، آپ نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔
حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ حضرت سفیان دین اور مکاتب میں اس کو ناپسند کرتے تھے۔
حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ حضرت سفیان دین اور مکاتب میں اس کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۲۶۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : فِی الرَّجُلِ یَقُولُ لِمُکَاتَبِہِ : عَجِّلْ لِی وَأَضَعُ عَنْک ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔
قَالَ وَکِیعٌ : وَکَانَ سُفْیَانُ یَکْرَہُہُ فِی الْمُکَاتَبِ وَالدَّیْنِ۔
قَالَ وَکِیعٌ : وَکَانَ سُفْیَانُ یَکْرَہُہُ فِی الْمُکَاتَبِ وَالدَّیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৬৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ مکاتب سے سامان لینے میں کوئی حرج نہیں
(٢٢٦٦٦) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ مکاتب سے سامان وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۲۶۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَیْمَانَ ، عَنْ بَکْرٍ الْمُزَنِیِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَأْخُذَ الرَّجُلُ مِنْ مُکَاتَبِہِ عُرُوضًا۔
তাহকীক: