মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২২৭২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو مال مضاربت کے طور پردے
(٢٢٧٢٧) حضرت حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے دوسرے کو تین ہزار درہم بطور مضاربت دئیے، وہ کشتی میں سوار ہوا اور وہ ٹوٹ گئی تو اس کے دو ہزار ضائع ہوگئے اور ایک ہزار باقی بچ گیا، اس شخص نے ایک ہزار میں تجارت کی اور کچھ نفع کمایا تو اب وہ نفع کس طرح تقسیم کریں گے ؟ آپ نے فرمایا جب تک وہ تین ہزار نہ ہوجائیں وہ تقسیم نہیں کریں گے پھر اس کے بعد نفع تقسیم کریں گے۔
(۲۲۷۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ : فِی رَجُلٍ دَفَعَ إلَی رَجُلٍ ثَلاَثَۃَ آلاَفِ دِرْہَمٍ مُضَارَبَۃً ، فَرَکِبَ الْبَحْرَ فَکُسِرَ بِہِ ، فَہَلَکَتْ أَلْفَانِ وَبَقِیَتْ أَلْفٌ ، فَتَجَرَ فِی تِلْکَ الأَلْفِ فَأَصَابَ مَالاً ، کَیْفَ یَقْتسِمَانِ ؟ قَالَ : لاَ یَقْتسِمَانِ حَتَّی تَکُونَ ثَلاَثَۃ آلاف ، ثُمَّ یَقْتسِمَانِ الرِّبْحَ بَعْدُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو مال مضاربت کے طور پردے
(٢٢٧٢٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ مضاربت کا راس المال ایک ہزار درہم ہے، اور نفع کو اسی طرح تقسیم کریں گے جس طرح انھوں نے شرط لگائی ہے۔
(۲۲۷۲۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : رأس مال المضارب ألف درہم ، ویقتسمان الربح کما اشترطا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو مال مضاربت کے طور پردے
(٢٢٧٢٩) حضرت حکم بن عتیبہ سے کہا گیا ؟ فرمایا اگر وہ اپنے ساتھی کی طرف لوٹے اور اس کو معلوم ہو کہ اس کو مال میں نقصان ہوا ہے، فرمایا تو چلا جا اور جو باقی بچا ہے اس میں عمل کر، پس نفع جب پانچ ہزار ہوجائے تو تقسیم کرو، اگر ایسا نہ ہو تو اس کو کہو کہ آدمی کا راس المال دس ہزار ہے اور جو اس کے علاوہ زائد ہے وہ تقسیم کرلو۔
(۲۲۷۲۹) حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ جَرَّاحٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِی ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ : أَنَّہُ قَالَ لِلْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ ؟ فَقَالَ : إِنْ کَانَ رَجَعَ إلَی صَاحِبِہِ فَأَعْلِمْہُ أَنَّہُ نَقَصَ مِنْ مَالِکَ ، فَقَالَ : اذْہَبْ فَاعْمَلْ بِمَا بَقِیَ : فَالرِّبْحُ عَلَی خَمْسَۃِ آلاَفٍ یَقْتَسِمَانِہِ ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ ، قَالَ لَہُ فَرَأْسُ مَالِ الرَّجُلِ عَشْرَۃُ آلاَفٍ ویَقْتسِمَانِ مَا زَادَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو مال مضاربت کے طور پردے
(٢٢٧٣٠) حضرت ابراہیم مضارب کے متعلق فرماتے ہیں کہ نفع وہ ہے جس پر وہ صلح کرلیں اور نقصان مال پر ہوگا ، اور اگر وہ نفع کو تقسیم کرلیں تو نقصان راس المال پر ہوگا، اور اگر وہ تقسیم نہ کریں تو نفع کو راس المال پر لٹا دیں گے۔
(۲۲۷۳۰) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِی ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : أَنَّہُ قَالَ فِی الْمُضَارِبِ : الرِّبْحُ عَلَی مَا اصْطَلَحُوا عَلَیْہِ وَالْوَضِیعَۃُ عَلَی الْمَالِ ، فَإِنِ اقْتَسَمُوا الرِّبْحَ کَانَتِ الْوَضِیعَۃُ عَلَی الْمَالِ ، وَإِنْ لَمْ یَقْتَسِمُوا رُدَّ الرِّبْحُ عَلَی رَأْسِ الْمَالِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو مال مضاربت کے طور پردے
(٢٢٧٣١) حضرت ابن سیرین سے مضاربت کے متعلق دریافت کیا گیا کہ جب نفع ہو پھر نقصان ہو پھر نفع ہو پھر نقصان ہو ؟ فرمایا کہ پہلے راس المال پر حساب ہوگا، مگر یہ کہ اس سے پہلے ان دونوں نے مال پر قبضہ کرلیا ہو، یا پھر قبضہ کے ساتھ حساب ہوگا۔
(۲۲۷۳۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ :فِی الْمُضَارِبِ إذَا رَبِحَ ، ثُمَّ وَضِعَ ، ثُمَّ رَبِحَ ، ثُمَّ وَضِعَ ، قَالَ : الْحِسَابُ عَلَی رَأْسِ الْمَالِ الأَوَّلِ إلاَّ أَنْ یَکُونَ قَبْلَ ذَلِکَ قَبْضًا لِلْمَالِ ، أَوْ حِسَابٌ بِالْقَبْضِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو مال مضاربت کے طور پردے
(٢٢٧٣٢) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں اصل شرکت پر ہیں یہاں تک کہ وہ دونوں حساب کرلیں۔
(۲۲۷۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : ہُمَا عَلَی أَصْلِ شَرِکَتِہِمَا حَتَّی یَحْتَسِبَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو مال مضاربت کے طور پردے
(٢٢٧٣٣) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ مضارب کو مال مضاربت نصف پر دیا گیا پھر اس نے غیر کو نصف پردے دیا ؟ فرمایا دوسرے کو نصف ملے گا اور مال والے کے لیے بھی نصف ہی ہے، حضرت ابو ہاشم نے فرمایا دوسرے کے لیے نصف ہے اور جو باقی بچ جائے وہ مال والے اور درمیان والے کے لیے ہے۔
(۲۲۷۳۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَیُّوبَ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ قَتَادَۃَ : مُضَارِبٌ دُفِعَ إلَیْہِ مَالٌ مُضَارَبَۃً عَلَی النِّصْفِ فَدَفَعَہُ إلَی غَیْرِہِ عَلَی النِّصْفِ ، قَالَ : لِلآخَرِ النِّصْفُ وَلِصَاحِبِ الْمَالِ النِّصْفُ۔

وَقَالَ أَبُو ہَاشِمٍ : لِلآخَرِ النِّصْفُ ، وَمَا بَقِیَ فَبَیْنَ صَاحِبِ الْمَالِ وَالْوَسَطِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب تک دونوں شریک جمع نہ ہو جائیں حساب نہیں کریں گے
(٢٢٧٣٤) حضرت شعبی (رض) دو شریکوں کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب تک دونوں جمع نہ ہوں حساب نہیں کریں گے۔
(۲۲۷۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ۔ وَعَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ : فِی الشَّرِیکَیْنِ یَشْتَرِکَانِ ، قَالَ : لاَ یَحْتَسِبَانِ حَتَّی یَجْتَمِعَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بیع مرابحہ کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢٧٣٥) حضرت ابن عباس (رض) بیع مرابحہ کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۲۷۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَرِہَ بَیْعَ الْمُشَافَّۃِ یَعْنِی الْمُرَابَحَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب ہبہ ہلاک ہو جائے تو رجوع نہیں ہے
(٢٢٧٣٦) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ جب ہبہ ہلاک ہوجائے تو پھر رجوع نہیں ہے۔
(۲۲۷۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ۔ وَعَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ طَارق ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالاَ : إذَا اسْتُہْلِکَتِ الْہِبَۃُ فَلاَ رُجُوعَ فِیہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب ہبہ ہلاک ہو جائے تو رجوع نہیں ہے
(٢٢٧٣٧) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ وہ ہبہ کا زیادہ حق دار ہے جب تک بدلہ وصول نہ کرلے یا موہوبہ چیز ہلاک ہوجائے یا ان دونوں میں سے کوئی قوت ہوجائے۔
(۲۲۷۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عُمَرَ ، قَالَ : ہُوَ أَحَقُّ بِہَا مَا لَمْ یُثِبْہ مِنْہَا ، أَوْ یَسْتَہْلِکُہَا ، أَوْ یَمُتْ أَحَدُہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب ہبہ ہلاک ہو جائے تو رجوع نہیں ہے
(٢٢٧٣٨) حضرت عمر بن عبد العزیز نے تحریر فرمایا جب ہبہ ہلاک ہوجائے اور بدلہ وصول کرلیا جائے، یا ذی رحم محرم کو ہبہ کردیا جائے تو پھر رجوع کرنے کا حق نہیں ہے۔
(۲۲۷۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ أَبِی جَرِیرٍ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : إذَا اسْتُہْلِکَتِ الْہِبَۃُ ، أَوْ أُثیبَ مِنْہَا ، أَوْ وُہِبَتْ لِذِی رَحِمٍ فَلَیْسَ لَہُ أَنْ یَرْجِعَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ درزی اور کپڑا سلوانے والے میں اگر اختلاف ہو جائے
(٢٢٧٣٩) حضرت حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے درزی کو کپڑے دئیے، اور کہا کہ میں نے تجھے جبہ سینے کا کہا تھا، اور درزی کہنے لگا کہ تو نے مجھے قمیض سینے کو کہا تھا ؟ فرمایا درزی کی بات معتبر ہوگی۔
(۲۲۷۳۹) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ : فِی الرَّجُلِ یَدْفَعُ إلَی الْخَیَّاطِ الثَّوْبَ فَیَقُولُ : أَمَرْتُک بِقُرْطَق ، فَیَقُولُ الْخَیَّاطُ : أَمَرْتَنِی بِقَمِیصٍ ، قَالَ : ہُوَ قَوْلُ الْخَیَّاطِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ لوگ اونٹوں کے پاس سے گذریں
(٢٢٧٤٠) حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مویشیوں کا دودھ بغیر اجازت نکالنے سے منع فرمایا ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا، کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی اس کے کمرے میں آئے جس میں اس کا سامانِ خوراک موجود ہو اور اس کا دروازہ توڑے اور جو کچھ اس میں ہے اس کو لے جائے ؟ بیشک جو کچھ جانوروں کے تھنوں میں ہے وہ تمہارے کمروں کی طرح ہے، پس بغیر اجازت کے جو کچھ تھنوں میں ہے اس کا استعمال حلال نہیں ہے۔
(۲۲۷۴۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تُحْتَلَبَ الْمَوَاشِی إلاَّ بِإِذْنِ أَہْلِہَا ، وَقَالَ : أَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ تُؤْتَی مَشْرُبَتُہُ الَّتِی فِیہَا طَعَامُہُ فَیُکْسَرَ بَابُہَا فَیُنْتَثَلَ مَا فِیہَا ؟ فَإِنَّمَا مَا فِی ضُرُوعِ مَوَاشِیہِمْ مِثْلُ مَا فِی مَشَارِبِکُمْ ، أَلاَ فَلاَ یَحِلُّ مَا فِی ضُرُوعِہَا إلاَّ بِإِذْنِ أَہْلِہَا۔ (مسلم ۱۳۵۲۔ احمد ۲/۵۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ لوگ اونٹوں کے پاس سے گذریں
(٢٢٧٤١) حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم کسی کے اونٹوں کے پاس سے گذرو تو چرواہے کو تین بار اے چرواہے کہہ کر پکارو، اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے کر آجائے تو اس سے دودھ طلب کرو، اور اگر وہ پکار کا جواب نہ دے تو تم خود دودھ نکال کر استعمال کر کے اس کے تھنوں کو باندھ دو ۔
(۲۲۷۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إذَا مَرَرْتُمْ بِرَاعِی الإِبِلِ فَنَادُوا : یَا رَاعِی ثَلاَثًا ، فَإِنْ أَجَابَکُمْ فَاسْتَسْقُوہُ ، وَإِنْ لَمْ یُجِبْکُمْ فَاتُوہَا فَحُلُّوہَا وَاشْرَبُوا ، ثُمَّ صُرُّوہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ لوگ اونٹوں کے پاس سے گذریں
(٢٢٧٤٢) حضرت ابو سعید خدری (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کی اونٹنی کا دودھ بغیر اجازت استعمال کرے جس اونٹنی کے تھنوں کو باندھا گیا ہو، بیشک اس کے تھنوں کو باندھنا اس کی مہر ہے (یعنی اب اس میں سے استعمال نہیں کرسکتے) اور اگر لوگ (قوم) زاد راہ ختم کر کے مفلس ہوجائیں تو پھر چرواہے کو تین بار پکارو، اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے تو اس سے لے کر پی لو، وگرنہ دو شخص اس کو پکڑیں اور دودھ نکال کر پی لیں۔
(۲۲۷۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عِصْمَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ یَقُولُ: لاَ یَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ یَحْلُبَ نَاقَۃَ رَجُلٍ مَصْرُورَۃً إلاَّ بِإِذْنِ صَاحِبِہَا ، أَلاَ إنَّ خَاتَمَہَا صِرَارُہَا ، فَإِنْ أَرْمَلَ الْقَوْمُ فَلیُنَادی الرَّاعِی ثَلاَثًا ، فَإِنْ أَجَابَ شَرِبُوا ، وَإِلاَّ فَلْیُمْسِکْہُ رَجُلاَنِ وَلْیَشْرَبُوا۔ (احمد ۳/۴۶۔ بیہقی ۳۶۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ لوگ اونٹوں کے پاس سے گذریں
(٢٢٧٤٣) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں قریب البلوغ لڑکا تھا اور عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) میرے پاس تشریف لائے، وہ دونوں مشرکین مکہ سے بھاگ رہے تھے، اُن دونوں نے کہا، اے لڑکے ! تیرے پاس دودھ ہے جو ہمیں پلائے ؟ میں نے عرض کیا میں امانت دار ہوں تم کو نہیں پلاؤں گا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی ایسی اونٹنی ہے جس پر نر اونٹ کو نہ چھوڑا گیا ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ہے، میں اس اونٹنی کو لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی ٹانگ کو باندھ دیا اور اس کے تھنوں کو ہاتھ لگاکر دعا فرمائی۔ حضرت صدیق اکبر (رض) پتھر کا پیالہ (نما) لے کر حاضر ہوئے پھر اس میں دودھ نکالا اور خود پیا حضرت ابوبکر (رض) نے پیا اور میں نے پیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تھنوں کو مخاطب کر کے فرمایا : تو دوبارہ سکڑ جا ! وہ تھن دوبارہ سکڑ گئے۔
(۲۲۷۴۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنْتُ غُلاَمًا یَافِعًا أَرْعَی غَنَمًا لِعُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ ، فَجَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ ، وَقَدْ فَرَّا مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، فَقَالاَ : یَا غُلاَمُ ، ہَلْ عِنْدَکَ من لَبَنٍ تَسْقِینَا ، فَقُلْتُ : إنِّی مُؤْتَمَنٌ ، لَسْت سَاقِیَکُمَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ جَذَعَۃٍ لَمْ یَنْزُ عَلَیْہَا الْفَحْلُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَتالَ : فَأَتَیْتُہُمَا بِہَا ، فَاعْتَقَلَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَمَسَحَ الضَّرْعَ وَدَعَا ، ثُمَّ أَتَاہُ أَبُو بَکْر بِصَخْرَۃٍ مُنْقَعِرَۃٍ ، فَاحْتَلَبَ فِیہَا فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَکْرٍ وَشَرِبْت ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ : اقْلِصْ ، فَقَلَصَ۔

(ابویعلی ۴۹۶۴۔ ابن حبان ۷۰۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گندم اور کھجور میں بیع سلم کرنا
(٢٢٧٤٤) حضرت ابن عباس (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو لوگ کھجوروں میں ایک سال، دو اور تین سال کے لیے سلم کرتے تھے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص کھجور میں بیع سلم کرتے تو اس کو چاہیے کہ کیل اور وزن معلوم اور وقت مقررہ تک کے لیے بیع سلم کرے۔
(۲۲۷۴۴) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ وَالنَّاسُ یُسْلِمُونَ فِی التَّمْرِ الْعَامَ وَالْعَامَیْنِ وَالثَّلاَثَۃَ ، فَقَالَ: مَنْ سَلَّفَ فِی تَمْرٍ فَلْیُسْلِفْ فِی کَیْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ۔ (بخاری ۲۲۴۰۔ مسلم ۱۲۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گندم اور کھجور میں بیع سلم کرنا
(٢٢٧٤٥) حضرت ابن عباس (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ جب سلم میں مقدار اور وقت متعین کرلیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۲۷۴۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ، عَنْ عثمان، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إذَا سَمَّیْت فِی السَّلَمِ قَفِیزًا وأَجَلاً فَلاَ بَأْسَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گندم اور کھجور میں بیع سلم کرنا
(٢٢٧٤٦) حضرت الاسود (رض) سے اسی طرح مروی ہے۔
(۲۲۷۴۶) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ وَأَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক: