মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২২৮৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کچھ عرصہ کے لیے مکان کرایہ پر لے
(٢٢٨٦٧) حضرت شریح سے اسی طرح مروی ہے۔
(۲۲۸۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، بِنَحْوٍ مِنْ حَدِیثِ عَبَّادٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کچھ عرصہ کے لیے مکان کرایہ پر لے
(٢٢٨٦٨) حضرت شریح فرماتے ہیں جتنا وہ اس میں رہا ہے اس پر اس کا کرایہ لازم ہے۔
(۲۲۸۶۸) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : عَلَیْہِ أَجْرُ مَا سَکَنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کچھ مدت کے لیے کسی کو سامان فروخت کرے
(٢٢٨٦٩) حضرت سلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن سیرین سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے دو مہینے کے لیے ایک شخص کو سامان فروخت کیا، اور مشتری پر یہ شرط لگا دی کہ اگر اس کو دو ماہ سے قبل فروخت کیا تو ثمن نقد دینا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا میں تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
(۲۲۸۶۹) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَلْمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِیرِینَ عَنْ رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَۃً إلَی شَہْرَیْنِ وَشَرَطَ عَلَی الْمُشْتَرِی : إِنْ بَاعَہَا قَبْلَ الشَّہْرَیْنِ أَنْ یَنْقُدَہُ ؟ قَالَ : لاَ أَعْلَمُ بِہِ بَأْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کچھ مدت کے لیے کسی کو سامان فروخت کرے
(٢٢٨٧٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ آدمی گھر خریدے پھر مشتری بائع سے یوں کہے کہ جب بھی میں اس کے پیسے لے کر تیرے پاس آیا تو وہ تجھ پر رَد ہوگا ، تو یہ شرط باطل ہوگی اور بیع لازم ہوجائے گی۔
(۲۲۸۷۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی الرَّجُلِ یَشْتَرِی الدَّارَ فَیَقُولُ الْمُشْتَرِی لِلْبَائِعِ : مَتَی ما جِئْت بِثَمَنِہَا فَہِیَ رَدٌّ عَلَیْک ، قَالَ : یَبْطُلُ شَرْطُہُ وَیَجُوزُ عَلَیْہِ الْبَیْعُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کچھ مدت کے لیے کسی کو سامان فروخت کرے
(٢٢٨٧١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ بیع میں جو بھی خلاف بیع شرط لگائی جائے تو بیع اس شرط کو منہدم کردیتی ہے۔
(۲۲۸۷۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کُلُّ شَرْطٍ فِی بَیْعٍ فَالْبَیْعُ یَہْدِمُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٧٢) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک زمین کی کاشت صرف دو طرح سے ہے، ایک وہ شخص جس کو زمین دی جائے تو وہ اس میں کاشت کرے، دوسرا وہ شخص جس کی اپنی زمین ہے اور اس کو کاشت کرتا ہے اور تیسرا وہ شخص جو زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر لے۔
(۲۲۸۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّمَا یَزْرَعُ ثَلاَثَۃٌ : رَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَہُوَ یَزْرَعُ مَا مُنِحَ ، وَرَجُلٌ لہُ أَرْضٌ فَہُوَ یَزْرَعُہا ، وَرَجُلٌ اسْتَکْرَی أَرْضًا بِذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ۔ (ابوداؤد ۳۳۹۳۔ ابن ماجہ ۲۴۴۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٧٣) حضرت حنظلہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج (رض) سے دریافت کیا کہ کو ری زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینا کیسا ہے ؟ فرمایا : حلال ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۲۸۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ عَنْ کِرَاء الأَرْضِ الْبَیْضَائِ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ؟ فَقَالَ : حَلاَلٌ لاَ بَأْسَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٧٤) حضرت سعد سے کو ری زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ فرمایا : کوئی حرج نہیں ، یہ زمین کا قرضہ ہے۔
(۲۲۸۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعْدًا عَنْ کِرَاء الأَرْضِ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ؟ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ ، ذَلِکَ قَرْضُ الأَرْضِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٧٥) حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ کو ری زمین کو سونے اور چاندی کے بدلہ کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۲۸۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِکِرَاء الأَرْضِ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٧٦) حضرت سعید بن جبیر (رض) سے بھی یہی مروی ہے۔
(۲۲۸۷۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : لاَ بَأْس بِکِرَائِ الأَرْضِ الْبَیْضَائِ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٧٧) حضرت سالم، حضرت سعید بن المسیب، حضرت عروہ اور حضرت زہری (رض) کو ری زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
(۲۲۸۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَانَ سَالِمٌ وَسَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَعُرْوَۃُ وَالزُّہْرِیُّ لاَ یَرَوْنَ بِکِرَائِ الأَرْضِ الْبَیْضَائِ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ بَأْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٧٨) حضرت ابن عباس (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ بیشک تمہارے پیشوں میں سے بہتر پیشہ یہ ہے کہ تم زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دیتے ہو۔
(۲۲۸۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إنَّ أَمْثَلَ مَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ أَنْ تَسْتَأْجِرُوا الأَرْضَ الْبَیْضَائَ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٧٩) حضرت سالم فرماتے ہیں کہ بیشک کو ری زمین اس کو ہم سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دیں گے۔
(۲۲۸۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی الْفَضْلِ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : أَمَّا الأَرْضُ الْبَیْضَائُ فَإِنَّا نَکْرِیہَا بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٨٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو شخص زمین کرایہ پر دینے کا ارادہ کرے تو وہ کو ری زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پردے سکتا ہے۔
(۲۲۸۸۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَسْتَأْجِرَ الرَّجُل الأَرْضُ الْبَیْضَائُ بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ ، وَمَا أَرَادَ أنْ یسْتَأْجِرَہَا بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٨١) حضرت ابو جعفر (رض) سے پوچھا گیا کہ کو ری زمین جس پر درخت اور کھیت نہیں ہے اس کو ہم دراہم اور دینار کے بدلے کرایہ پر دیتے ہیں ؟ فرمایا : یہ اچھا ہے، ہم بھی مدینہ منورہ میں اسی طرح کرتے تھے۔
(۲۲۸۸۱) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِینَارٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عَنِ الأَرْضِ الْبَیْضَائِ لَیْسَ فِیہَا شَجَرٌ وَلاَ زَرْعٌ نَسْتَأْجِرُہَا بِالدَّرَاہِمِ وَالدَّنَانِیرِ ؟ قَالَ : ہُوَ حَسَنٌ ، کَذَلِکَ نَفْعَلُ بِالْمَدِینَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٨٢) حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں زمین کو پانی لگانے والوں کو کرایہ پر دیتے تھے ، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور فرمایا ہم سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دیا کریں۔
(۲۲۸۸۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِکْرِمَۃَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَبِیبَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : کُنَّا نُکْرِی الأَرْضَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَی السَّواقِیِّ مِنَ الزَّرْعِ ، وَمَا سَعِدَ بِالْمَائِ مِنْہَا ، فَنَہَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نُکْرِیہا بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ۔ (ابوداؤد ۳۳۸۴۔ احمد ۱/۱۷۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٨٣) حضرت یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا کہ میرے پاس ایک یتیم ہے جس کی زمین بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر تو کرایہ پر زمین دینا چاہتا ہے تو اس کو دراہم اور دینار کے بدلے دے دے۔
(۲۲۸۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنْ یَتِیمٍ لِی لَہُ أَرْضٌ ؟ فَقَالَ : إِنْ کُنْت مُکْرِیہَا فَاکْرِہَا بِذَہَبٍ وَ فِضَّۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوری زمین سونے کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢٢٨٨٤) حضرت سعید بن جبیر (رض) سے کرایہ پر زمین دینے کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۲۸۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ عَنْ إجَارَۃِ الأَرْضِ ؟ فَقَالَ: لاَ بَأْسَ بِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص دوسرے کی زمین پر بغیر اُس سے پوچھے کاشت کرے
(٢٢٨٨٥) حضرت رافع بن خدیج (رض) سے مرفوعاً مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی غیر کی زمین کو اس کی اجازت کے بغیر کاشت کرے تو کاشت میں سے اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس کو اس کا نفقہ (خرچہ) واپس کردیا جائے گا۔
(۲۲۸۸۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ ، رَفَعَہُ ، قَالَ : مَنْ زَرَعَ فِی أَرْضِ قَوْمٍ بِغَیْرِ إذْنِہِمْ فَلَیْسَ لَہُ مِنَ الزَّرْعِ شَیْئٌ ، وَتُرَدُّ عَلَیْہِ نَفَقَتُہُ۔ (ابوداؤد ۳۳۹۶۔ ترمذی ۱۳۶۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص دوسرے کی زمین پر بغیر اُس سے پوچھے کاشت کرے
(٢٢٨٨٦) حضرت حسن بن محمد فرماتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مرتبہ ایک سرسبز زمین کے پاس سے گذرے آپ نے اس زمین کے متعلق دریافت کیا، لوگوں نے عرض کیا کہ ایک شخص نے دوسرے کی زمین پر بغیر اجازت کاشت کیا ہے، آپ نے اس کو واپس کرنے کا حکم دیا اور حکم دیا کہ نفقہ (خرچہ) واپس لے لے۔
(۲۲۸۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی زَرْعٍ یَہْتَزُّ ، فَسَأَلَ عَنْہ ، فَقَالُوا : رَجُلٌ زَرَعَ أَرْضًا بِغَیْرِ أذْنِ صَاحِبِہَا ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَرُدَّہَا وَیَأْخُذَ نَفَقَتَہُ۔ (ابوداؤد ۳۳۹۲۔ طبرانی ۴۲۶۷)
tahqiq

তাহকীক: