মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২২৯২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جس کا کیل یا وزن نہ کیا جاتا ہو اُس کی قبضہ سے قبل بیع کرنا
(٢٢٩٢٧) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے دریافت کیا کہ کسی شخص مبیع خریدے جو ابھی موجود نہیں ہے تو کیا وہ اس کے آنے سے پہلے (قبضہ سے پہلے) اس کی آگے بیع کرسکتا ہے ؟ حضرت قاسم نے فرمایا ہم کہتے تھے کہ جب تک مبیع حاضر نہ ہوجائے آگے نہ بیچے۔
(۲۲۹۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : الرَّجُلُ یَشْتَرِی الْمَتَاعَ وَہُوَ غَائِبٌ ، أَیَبِیعُہُ قَبْلَ أَنْ یَقْدَمَ ؟ قَالَ الْقَاسِمُ : کُنَّا نَقُولُ : حَتَّی یَقْدَمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٢٨) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سونے کی بیع سونے کے بدلے میں برابر نہ ہو تو سود ہے، اور چاندی کی چاندی کے بدلے برابر نہ ہو تو سود ہے، اور جو کی جو کے بدلے میں برابر نہ ہو تو سود ہے اور کھجور کی کھجور کے بدلے برابر نہ ہو تو سود ہے۔
(۲۲۹۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، سَمِعَ مَالِکَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ یَقُولُ : سَمِعْت عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الذَّہَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إلاَّ ہَائَ وَہَائَ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ رِبًا إلاَّ ہَائَ وَہَائَ ، وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ رِبًا إلاَّ ہَائَ وَہَائَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إلاَّ ہَائَ وَہَائَ۔ (بخاری ۲۱۳۴۔ مسلم ۱۲۱۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٢٩) حضرت ابو الاشعث فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جہاد میں تھے جس میں حضرت معاویہ بھی ہمارے ساتھ تھے، ہمیں مال غنیمت میں سونا اور چاندی ملے، حضرت معاویہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے ساتھ بیع کرے اس سونا چاندی میں جو ان کو ملا ہے، لوگوں نے اس میں بہت جلدی کی، حضرت عبادہ (رض) کھڑے ہوئے اور لوگوں کو اِ س سے منع فرما دیا، انھوں وہ واپس کردیا، وہ شخص حضرت معاویہ کے پاس شکایت لے کر آیا، حضرت معاویہ (رض) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جو کہ جھوٹی ہوتی ہیں جن کو ہم نے نہیں سنا ہوتا ؟ حضرت عبادہ (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : خدا کی قسم ہم ضرور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے احادیث بیان کریں گے اگرچہ معاویہ کو وہ بُری لگیں، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے ، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، نمک کو نمک کے بدلے نہ فروخت کرو، مگر برابر سرابر، ہاتھ در ہاتھ اور نقد۔
(۲۲۹۲۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی الأَشْعَث ، قَالَ : کُنَّا فِی غَزَاۃٍ وَعَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ ، فَأَصَبْنَا ذَہَبًا وَفِضَّۃً ، فَأَمَرَ مُعَاوِیَۃُ رَجُلاً یَبِیعُہَا النَّاسَ فِی أُعْطِیَّاتِہِمْ ، فَسَارَعَ النَّاسُ فِیہَا ، فَقَامَ عُبَادَۃُ فَنَہَاہُمْ فَرَدُّوہَا ، فَأَتَی الرَّجُلُ مُعَاوِیَۃَ فَشَکَا إلَیْہِ ، فَقَامَ مُعَاوِیَۃُ خَطِیبًا فَقَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ یُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَادِیثَ یَکْذِبُونَ فِیہَا ، لَمْ نَسْمَعْہَا ؟ فَقَامَ عُبَادَۃُ ، فَقَالَ : وَاللَّہِ لَنُحَدِّثَنَّ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِنْ کَرِہَ مُعَاوِیَۃُ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَبِیعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ ، وَلاَ الْفِضَّۃَ بِالْفِضَّۃِ ، وَلاَ الشَّعِیرَ بِالشَّعِیرِ ، وَلاَ التَّمْرَ بِالتَّمْرِ ، وَلاَ الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَائً بِسَوَائٍ عَیْنًا بِعَیْنٍ۔ (مسلم ۱۲۱۰۔ ابوداؤد ۳۳۴۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٣٠) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے درمیان مختلف قسم کی کھجوریں تقسیم فرمائیں جن میں سے بعض بعض سے اعلیٰ تھیں، ہم آپس میں ایک دوسرے کو کم زیادہ دینے لگے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ برابر سرابر بیچو۔
(۲۲۹۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عبْدِ اللہِ بْنِ قُسَیْطٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَسَمَ فِینَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَعَامًا مِنَ التَّمْرِ مُخْتَلِفًا بَعْضُہُ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ ، فَذَہَبْنَا نَتَزَایَدُ فِیہِ بَیْنَنَا ، فَنَہَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلاَّ کَیْلاً بِکَیْلٍ۔

(بخاری ۲۰۸۰۔ مسلم ۱۲۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٣١) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ دینار کو دینار کے بدلے، اور دراہم کو دراہم کے بدلے فروخت کرتے وقت ان میں کمی بیشی نہ ہو، اور نہ ہی ان میں سے نقد کو ادھار کے بدلے فروخت کرو۔
(۲۲۹۳۱) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ : أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ لَیْسَ بَیْنَہا فَضْلٌ ، وَلاَ یُبَاعُ عَاجِلٌ بِآجِلٍ۔ (بخاری ۲۱۷۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٣٢) حضرت ابو سعید سے اسی طرح مروی ہے۔
(۲۲۹۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِہِ۔ (نسائی ۶۱۶۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٣٣) حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک درہم کی بیع دو کے ساتھ اور ایک صاع کی بیع دو صاع کے ساتھ درست نہیں، دینار کو دینار کے بدلے اور دہم کو درہم کے ساتھ (برابر) بیع کرو۔
(۲۲۹۳۳) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَصْلُحُ دِرْہَمٌ بِدِرْہَمَیْنِ ، وَلاَ صَاعٌ بِصَاعَیْنِ ، الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ۔ (بخاری ۲۰۸۰۔ مسلم ۱۲۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٣٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چاندی کو چاندی کے بدلے، برابر سرابر اور سونے کو سونے کے بدلے برابر سر ابر بیع کرو، اور جو زیادتی ہوگی وہ سود ہے ، اور بدو صلاح سے قبل پھلوں کی بیع مت کرو۔
(۲۲۹۳۴) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَزْنٌ بِوَزْنٍ مِثْلٌ بِمِثْلٍ ، وَالذَّہَبُ بِالذَّہَبِ وَزْنٌ بِوَزْنٍ مِثْلٌ بِمِثْلٍ ، فَمَا زَادَ ، فَہُوَ رِبًا ، وَلاَ تُبَاعُ ثَمَرَۃٌ حَتَّی یَبْدُوَ صَلاَحُہَا۔ (احمد ۲/۲۶۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٣٥) حضرت ابو دھقانہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ (رض) نے ارشاد فرمایا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک مہمان آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال (رض) سے فرمایا : ہمارے لیے کھانا لاؤ، حضرت بلال (رض) دو صاع کھجور لے کر گئے اور ان کے بدلے ایک صاع اعلیٰ کھجور لے آئے، جبکہ ان کی کھجور اس سے ادنیٰ تھی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھجور پسند آئی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : یہ کھجوریں کہاں سے آئیں ؟ انھوں نے بتایا کہ دو صاع دے کر ایک صاع لایا ہوں، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمیں ہماری کھجوریں واپس لا کردو۔
(۲۲۹۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو دِہْقَانَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ : أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَیْفٌ فَقَالَ لِبِلاَلٍ : ائْتِنَا بِطَعَامٍ ، فَذَہَبَ بِلاَلٌ إلَی صَاعَیْنِ مِنْ تَمْرٍ فَاشْتَرَی بِہَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ جَیِّدٍ ، وَکَانَ تَمْرُہُمْ دُونًا ، فَأَعْجَبَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التَّمْرُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَیْنَ ہَذَا التَّمْرُ ؟ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ بَدَّلَ صَاعَیْنِ بِصَاعٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رُدَّ عَلَیْنَا تَمْرَنَا۔ (احمد ۲/۲۱۔ ابویعلی ۵۷۱۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٣٦) حضرت ابن عمر سے یونہی منقول ہے۔
(۲۲۹۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی دِہْقَانَۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٣٧) حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، جو کو جو کے بدلے، نمک کو نمک کے بدلے، برابر سرابر اور ہاتھ در ہاتھ فروخت کرو، اور اگر یہ چیزیں (جنس) مختلف ہوں تو پھر نقد جس طرح چاہو فروخت کرو۔
(۲۲۹۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ، عَنْ أَبِی الأَشْعَث، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، مِثْلاً بِمِثْلٍ ، یَدًا بِیَدٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ ہَذِہِ الأَصْنَافُ فَبِیعُوا کَیْفَ شِئْتُمْ إذَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٣٨) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : سونے کو سونے کے عوض اور چاندی کو چاندی کے عوض دیتے وقت پلڑے کو پلڑے سے برابر کر کے دو (یعنی ہم وزن ہونے چاہئیں) حضرت عبادہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ میں اس سر زمین میں نہیں ہوں کہ جس میں معاویہ ہیں۔
(۲۲۹۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ الْکِفَّۃُ بِالْکِفَّۃِ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ الْکِفَّۃُ بِالْکِفَّۃِ ، حَتَّی خَصَّ الْمِلْحَ ، فَقَالَ عُبَادَۃُ : إنِّی وَاللَّہِ مَا أُبَالِی أَنْ لاَ أَکُونَ بِأَرْضٍ بِہَا مُعَاوِیَۃُ۔

(نسائی ۶۱۵۹۔ احمد ۵/۳۱۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٣٩) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گندم کو گندم کے بدے، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے نقد اور برابر سرابر فروخت کرو، پس جو زیادہ دے یا زیادہ طلب کرے اس نے سودی معاملہ کیا، اور اس میں دینے اور لینے والا دونوں برابر ہیں۔
(۲۲۹۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِی ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، یَدًا بِیَدٍ ، مِثْلاً بِمِثْلٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَی ، الآخِذُ وَالْمُعْطِی فِیہِ سَوَائٌ۔ (مسلم ۱۲۱۱۔ احمد ۳/۴۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٤٠) حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! ایک دینار کو دو کے بدلے، اور ایک درہم کو دو کے بدلے نہ بیچو، بیشک مجھے تم پر الرّماء کا خوف ہے : پوچھا گیا : الرّماء کیا ہے ؟ رماء وہی ہے کہ جس کو تم لوگ سود کا نام دیتے ہو۔
(۲۲۹۴۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عن عمر ، قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، لاَ تَشْتَرُوا دِینَارًا بِدِینَارَیْنِ ، وَلاَ دِرْہَمًا بِدِرْہَمَیْنِ ، فَإِنِّی أَخَافُ عَلَیْکُمُ الرَّمَاء ، قِیلَ : وَمَا الرَّمَاء ؟ قَالَ : ہُوَ الَّذِی تَدْعُونَہُ الرِّبَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٤١) حضرت علی سے ایک درہم کی دو درہم کے ساتھ بیع کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ فرمایا یہ ربا العجلان ہے۔ (ربا القرض)
(۲۲۹۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْعَامِرِیِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَیرٍ السَّعْدِیِّ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِیٌّ عَنِ الدِّرْہَمِ بِالدِّرْہَمَیْنِ ؟ فَقَالَ : الرِّبَا الْعَجْلاَنُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٤١) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چودہ صحابہ کرام (رض) فرماتے تھے، سونے کو سونے کے ساتھ اور چاندی کو چاندی کے ساتھ برابر بیچو اور کمی زیادتی سے بچو، اُن صحابہ میں حضرت ابو بکر، عمر، عثمان، علی ، سعد ، طلحہ اور حضرت زبیر (رض) بھی تھے۔
(۲۲۹۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ أَرْبَعَۃَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أنہم قَالُوا : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ ، واتقوا الْفَضْلَ۔مِنْہُمْ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِیٌّ وَسَعْدٌ وَطَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٤٣) حضرت ابن عمر (رض) سے ایک شخص نے سونے کو چاندی کے بدلے فروخت کرنے کے متعلق دریافت کیا ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے ، برابر سرابر فروخت کرو۔
(۲۲۹۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ زَیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَزْنٌ بِوَزْنٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٤٤) حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : ایک درہم کو دو کے بدلے مت فروخت کرو، یہ ربا العجلان ہے۔ (ربا القرض ہے۔ )
(۲۲۹۴۴) حَدَّثَنَا وکیع ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لاَ تَبِیعُوا الدِّرْہَمَ بِالدِّرْہَمَیْنِ فَإِنَّ ذَلِکَ ہُوَ الرِّبَا الْعَجْلاَنُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٤٥) حضرت ابوبکرہ (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں، سونے کو سونے کے ساتھ اور چاندی کو چاندی کے برابر سرابر کے علاوہ بیع کرنے سے منع فرمایا تھا، اور ہمیں حکم دیا تھا کہ سونے کو چاندی کے بدلے اور چاندی کو سونے کے بدلے جس طرح چاہو فروخت کرو۔
(۲۲۹۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ وُہَیْبٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : نَہَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِیعَ الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃَ بِالْفِضَّۃِ إلاَّ سَوَائً بِسَوَائٍ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِیعَ الذَّہَبَ بِالْفِضَّۃِ وَالْفِضَّۃَ بِالذَّہَبِ کَیْفَ شِئْنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٤٦) حضرت ابوبکر (رض) ارشاد فرماتے ہیں سونے کو ساتھ کے ساتھ، برابر سرابر اور چاندی کو چاندی کے بدلے برابر سرابر فروخت کرو، زیادہ دینے والا اور زیادہ طلب کرنے والا دونوں جہنمی ہیں۔
(۲۲۹۴۶) حَدَّثَنَا یَعْلَی ، عَنِ الْکَلْبِیِّ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ السائب ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ وَزْنٌ بِوَزْنٍ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَزْنٌ بِوَزْنٍ ، الزَّائِدُ وَالْمُسْتَزِیدُ فِی النَّارِ۔ (بزار ۴۵)
tahqiq

তাহকীক: