মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২২৯৪৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٤٧) حضرت براء بن عاذب اور حضرت زید بن ارقم سے صرف کے متعلق دریافت کیا ؟ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کی سونے کے ساتھ ادھار بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(۲۲۹۴۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْہَالِ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ وَزَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ ؟ فَکِلاَہُمَا یَقُولُ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَیْعِ الْوَرِقِ بِالذَّہَبِ دَیْنًا۔ (بخاری ۲۱۸۰۔ مسلم ۸۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৪৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٤٨) حضرت ملکہ فرماتی ہیں کہ میں عائشہ (رض) کے پاس آیا اور میرے اوپر چاندی کے دو کنگن تھے۔ میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین ! کیا میں ان کو دراہم کے بدلے فروخت کرسکتی ہوں ؟ انھوں نے عرض کیا : نہیں چاندی کو چاندی کے بدلے برابر سرابر بیچو۔
(۲۲۹۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَہْضَمِیُّ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ رَبَاحٍ الْحُدَّانِیِّ ، عَنْ مَلَکَۃَ ابْنَۃَ ہَانِیئٍ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَیَّ عَائِشَۃَ وَعَلَیَّ سِوَارَانِ مِنْ فِضَّۃٍ ، فَقُلْتُ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ ، أَبِیعُہَا بِدَرَاہِمَ ؟ فَقَالَتْ : لاَ ، الْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَزْناً بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৪৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر سرابر فروخت کی جائے گی
(٢٢٩٤٩) حضرت عبد العزیز بن حکیم فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے پاس بصرہ کا ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا میں ایسے لوگوں کے پاس سے آیا ہوں جو چھوٹے دراہم دے کر اس کی جگہ بڑے دراہم لیتے ہیں ! آپ (رض) نے پوچھا : کیا وہ زیادہ لیتے ہیں ؟ اس شخص نے عرض کیا ہاں ! آپ نے فرمایا : نہیں کرسکتے مگر برابر سرابر۔
(۲۲۹۴۹) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِیزِ بْنَ حَکِیمٍ یَقُولُ : شَہِدْت ابْنَ عُمَرَ وَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ فَقَالَ : إنِّی جِئْت مِنْ عِنْدِ قَوْمٍ یَصْرِفُونَ ألدَّرَاہِمَ الصِّغَارَ فَیَأْخُذُونَ بِہَا کِبَارًا ، قَالَ : أَیَزْدَادُونَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : لاَ إلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৪৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیع کرو تو جب تک آپ کے اور اُس کے درمیان اشتباہ ہو اُس سے جدا نہ ہو
(٢٢٩٥٠) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں سونے کی چاندی کے ساتھ اور چاندی کی سونے کے ساتھ بیع کرتا تھا، میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے ساتھی کے ساتھ بیع کرو تو جب تک تمہارے درمیان کوئی اشتباہ موجود ہو اس سے الگ نہ ہو۔
(۲۲۹۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کُنْتُ أَبِیعُ الذَّہَبَ بِالْفِضَّۃِ ، وَالْفِضَّۃَ بِالذَّہَبِ ، فَأَتَیْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُہُ ؟ فَقَالَ : إذَا بَایَعْت صَاحِبَک فَلاَ تُفَارِقْہُ وَبَیْنَکَ وَبَیْنَہُ لُبْسٌ۔ (ترمذی ۱۲۴۲۔ ابوداؤد ۳۳۴۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیع کرو تو جب تک آپ کے اور اُس کے درمیان اشتباہ ہو اُس سے جدا نہ ہو
(٢٢٩٥١) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم دینار کے ساتھ بیع کرو تو جب تک ثمن وصول نہ کرلو وہاں سے مت اٹھو۔
(۲۲۹۵۱) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ حَکِیمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ : إذَا صَرَفْت دِینَارًا فَلاَ تَقُمْ حَتَّی تَأْخُذَ ثَمَنَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیع کرو تو جب تک آپ کے اور اُس کے درمیان اشتباہ ہو اُس سے جدا نہ ہو
(٢٢٩٥٢) حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر تم سے اونٹنی کا دودھ نکالنے کی مہلت بھی مانگے (بیع صرف میں) تو مہلت مت دو ۔
(۲۲۹۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ : قَالَ عُمَرُ : اسْتَنْظَرَک حَلْبَ نَاقَۃٍ فَلاَ تُنْظِرْہُ یَعْنِی فِی الصَّرْفِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیع کرو تو جب تک آپ کے اور اُس کے درمیان اشتباہ ہو اُس سے جدا نہ ہو
(٢٢٩٥٣) حضرت طلحہ نے چاندی کے بدلہ میں دینار وصول کیے تو حضرت عمر (رض) نے ان کو منع فرما دیا کہ جب تک پورا ثمن وصول نہ کرلو اس سے جدا مت ہو۔
(۲۲۹۵۳) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ : أَنَّ طَلْحَۃَ اصْطَرَفَ دَنَانِیرَ بِوَرِقٍ فَنَہَاہُ عُمَرُ أَنْ یُفَارِقَہُ حَتَّی یَسْتَوْفِیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیع کرو تو جب تک آپ کے اور اُس کے درمیان اشتباہ ہو اُس سے جدا نہ ہو
(٢٢٩٥٤) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سود ادھار میں ہے۔
(۲۲۹۵۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسَائِ۔ (بخاری ۲۱۷۹۔ مسلم ۱۵۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیع کرو تو جب تک آپ کے اور اُس کے درمیان اشتباہ ہو اُس سے جدا نہ ہو
(٢٢٩٥٥) حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ جب سونے کی چاندی کے ساتھ بیع کرو تو جب تک تمہارے درمیان شرط ہو جدا مت ہو مگر یہ کہ نقد ہو۔
(۲۲۹۵۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِیرِینَ ، قَالاَ : إذَا بِعْت ذَہَبًا بِفِضَّۃٍ فَلاَ تُفَارِقْہُ وَبَیْنَکَ وَبَیْنَہُ شَرْطٌ إلاَّ ہَائَ وَہَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیع کرو تو جب تک آپ کے اور اُس کے درمیان اشتباہ ہو اُس سے جدا نہ ہو
(٢٢٩٥٦) حضرت ابن عمر (رض) سے دریافت کیا گیا کہ سونے کو ادھار فروخت کرنا کیسا ہے ؟ فرمایا میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس منبر پر سنا تھا ان سے سوال کیا گیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : جتنی گھڑی کا بھی اس نے ادھار کیا ہے وہ سب سود ہے۔
(۲۲۹۵۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عُقْبَۃَ أَبِی الأَخْضَرِ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الذَّہَبِ یُبَاعُ بِنَسِیئَۃٍ، فَقَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَی ہَذَا الْمِنْبَرِ وَسُئِلَ عَنْہُ فَقَالَ: کُلُّ سَاعَۃٍ اسْتَنْسَأَہُ ، فَہُوَ رِبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیع کرو تو جب تک آپ کے اور اُس کے درمیان اشتباہ ہو اُس سے جدا نہ ہو
(٢٢٩٥٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ مشتری اور بائع جدا نہیں ہوں گے جب تک کہ جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو کاٹ نہ دیں (پورا نہ کردیں) ۔
(۲۲۹۵۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ یَفْتَرِقَا إلاَّ وَقَدْ تَصَرَّمَ مَا بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب آپ بیع کرو تو جب تک آپ کے اور اُس کے درمیان اشتباہ ہو اُس سے جدا نہ ہو
(٢٢٩٥٨) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ بیع صرف میں میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ وہ الگ ہوں اور ان کے درمیان کوئی اشتباہ نہ ہو۔
(۲۲۹۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ شِبَاکٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن شُرَیْحٍ ، قَالَ : أَحَبُّ إلَیَّ فِی الصَّرْفِ أَنْ یَتَصَادَرَا وَلَیْسَ بَیْنَہُمَا لُبْسٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بیع صرف کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢٩٥٩) بدیل العقیلی حضرت ابن سیرین کے پاس آئے اور ان کے ساتھ ایک شخص تھا، اور عرض کی کہ یہ شخص بیع صرف کے بارے میں پوچھ رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا : آپ 5، حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) نے اس سے منع فرمایا ہے۔
(۲۲۹۵۹) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ، عَن حَبِیبِ بْنِ شَہِیدٍ ، قَالَ : جَائَ بُدَیل الْعُقَیْلِیُّ إلَی ابْنِ سِیرِینَ وَمَعَہُ رَجُلٌ فَقَالَ : إنَّ ہَذَا یَسْأَلُک عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَ : نَہَی عَنْہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بیع صرف کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢٩٦٠) حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت عثمان (رض) نے بیع صرف سے منع فرمایا ہے۔
(۲۲۹۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عَلِیًّا وَعُثْمَانَ نَہَیَا عَنِ الصَّرْفِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৬০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بیع صرف کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢٩٦١) حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ صرف بھی سود ہی ہے۔
(۲۲۹۶۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ سَلِیمِ بْنِ حَیَّانَ ، عَنْ أَبِی غَالِبٍ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : الصَّرْفُ رِبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৬১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بیع صرف کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢٩٦٢) حضرت علی سے صرف کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ فرمایا یہ ربا القرض ہے۔
(۲۲۹۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ ، عَنْ یَحْیَی الطَّوِیلِ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِیٌّ ، عَنِ الصَّرْفِ ؟ فَقَالَ : ذَلِکَ الرِّبَا الْعَجْلاَنُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৬২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بیع صرف کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٢٩٦٣) حضرت ابوالعالیہ فرماتے ہیں کہ اگر میں بیع صرف کرنے والے کے گھر کے پاس سے گذروں اور مجھے پیاس لگی ہو تو پھر میں اس سے پانی طلب نہ کروں گا۔
(۲۲۹۶۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو خَلْدَۃَ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، قَالَ : لَوْ مَرَرْت بِدَارِ صَیْرَفِیٍّ وَأَنَا عَطْشَانُ مَا أَسْتَسْقَیتُہ مَائً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৬৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال ہو یا پھر پھل دار درخت ہوں
(٢٢٩٦٤) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص کھجور کا درخت اس کے درست ہونے کے بعد فروخت کرے (پھل لگنے کے بعد) تو اگر خریدنے والا شرط نہ لگائے تو پھل بائع کے ہوں گے، اور جو شخص ایسا غلام فروخت کرے جس کے پاس مال ہو ، تو اگر خریدنے والے نے شرط نہ لگائی تو وہ مال بائع کا ہوگا۔
(۲۲۹۶۴) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ بَاعَ نَخْلاً بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ ، فَثَمَرَتُہُ لِلْبَائِعِ إلاَّ أَنْ یَشْتَرِطَہُ الْمُبْتَاعُ ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَہُ مَالٌ ، فَمَالُہُ لِلْبَائِعِ إلاَّ أَنْ یَشْتَرِطَہُ الْمُبْتَاعُ۔ (مسلم ۸۰۔ ابوداؤد ۳۴۲۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৬৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال ہو یا پھر پھل دار درخت ہوں
(٢٢٩٦٥) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال ہو تو خریدنے والے نے اگر اس مال کی شرط نہ لگائی تو وہ مال بائع کا ہوگا۔
(۲۲۹۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عن سلمۃ بْنِ کہیل ، عَمَّنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللہِ یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَہُ مَالٌ فَمَالُہُ لِلْبَائِعِ إلاَّ أَنْ یَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ۔
(ابوداؤد ۳۴۲۷۔ بیہقی ۳۲۶)
(ابوداؤد ۳۴۲۷۔ بیہقی ۳۲۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৬৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال ہو یا پھر پھل دار درخت ہوں
(٢٢٩٦٦) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال بھی ہو تو وہ مال بائع کا ہوگا، مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی بھی شرط لگا دے ان الفاظ کے ساتھ کہ میں اس کو اور اس کے مال کو آپ سے خریدتا ہوں، اور جو شخص ایسا درخت خریدے، جس کے پھل پک چکے ہوں تو اس کے پھل بائع کے ہوں گے، مگر یہ کہ خریدنے والا پھلوں کی بھی شرط لگا دے۔
(۲۲۹۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ عَطَائٍ وَابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالاَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَہُ مَالٌ فَمَالُہُ لِلْبَائِعِ إلاَّ أَنْ یَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، یَقُولُ : اشْتَرَیْتہ مِنْک وَمَالَہُ ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَ فَثَمَرَتُہُ لِلْبَائِعِ إلاَّ أَنْ یَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ۔ (نسائی ۴۹۸۴۔ عبدالرزاق ۱۴۶۲۴)
তাহকীক: