মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২৩১৮৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اعرابی کے لیے حق شفعہ
(٢٣١٨٧) حضرت حکم اور حضرت وکیع سے بھی یہی مروی ہے۔
(۲۳۱۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : لِلأَعْرَابِیِّ شُفْعَۃٌ ، قَالَ وَکِیعٌ : قَالَ لَہُ شُفْعَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৮৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اعرابی کے لیے حق شفعہ
(٢٣١٨٨) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اعرابی کو حق شفعہ حاصل نہیں ہے۔
(۲۳۱۸۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لاَ شُفْعَۃَ لِلأَعْرَابِیِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৮৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اعرابی کے لیے حق شفعہ
(٢٣١٨٩) حضرت سعید بن اشوع سے بھی یہی مروی ہے۔
(۲۳۱۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَشْوَعَ ، قَالَ : لَیْسَ لِلأَعْرَابِیِّ شُفْعَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৮৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب راستے اور حدود الگ اور جدا ہو جائیں تو پھر حق شفعہ نہیں ہے
(٢٣١٩٠) حضرت ابو سلمہ سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر اس شخص کے لیے شفعہ کا فیصلہ فرمایا جس کا حصہ تقسیم نہ ہوا ہو، اور (جب) اگر حدود الگ الگ ہوجائیں تو شفعہ کا حق حاصل نہیں۔
(۲۳۱۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَأَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : قَضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَۃِ فی کل مَا لَمْ یُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلاَ شُفْعَۃَ۔

(ابن ماجہ ۲۴۹۷۔ مالک ۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৯০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب راستے اور حدود الگ اور جدا ہو جائیں تو پھر حق شفعہ نہیں ہے
(٢٣١٩١) حضرت عثمان ارشاد فرماتے ہیں کہ کنویں اور چکی میں حق شفعہ حاصل نہیں، اور حد بندی ہر شفعہ کے حق کو ختم کردیتی ہے۔
(۲۳۱۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَۃَ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ : لاَ شُفْعَۃَ فِی بِئْرٍ ، وَلاَ فَحْلٍ ، وَالأرف تَقْطَعُ کُلَّ شُفْعَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৯১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب راستے اور حدود الگ اور جدا ہو جائیں تو پھر حق شفعہ نہیں ہے
(٢٣١٩٢) حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ جب حدود جدا جدا ہوجائیں اور لوگوں کو حدود معلوم بھی ہوجائیں تو پھر ان میں آپس میں شفعہ نہیں ہے۔
(۲۳۱۹۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِاللہِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَعَرَفَ النَّاسُ حُدُودَہُمْ فَلاَ شُفْعَۃَ بَیْنَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৯২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب راستے اور حدود الگ اور جدا ہو جائیں تو پھر حق شفعہ نہیں ہے
(٢٣١٩٣) حضرت ایاس بن معاویہ پڑوسیوں کے لیے شفعہ کا فیصلہ فرماتے تھے، یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ان کے پاس خط پہنچا۔ اس میں تحریر تھا کہ پڑوسی کے حق میں فیصلہ نہ کیا کرو۔ ہاں البتہ اگر دونوں باہم شریک ہوں یا پھر گھر دونوں کا ایسا ہو کہ ایک ہی دروازہ دونوں کو سکتا ہو تو تب پڑوسی کے حق میں فیصلہ دے سکتے ہو۔
(۲۳۱۹۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ إیَاسِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ: أَنَّہُ کَانَ یَقْضِی بِالْجِوَارِ حَتَّی جَائَہُ کِتَابُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَلاَ یَقْضِی بِہِ إلاَّ مَا کَانَ مِنْ شَرِیکَیْنِ مُخْتَلِطَیْنِ ، أَوْ دَارًا یُغْلَقُ عَلَیْہَا بَابٌ وَاحِدٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৯৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب راستے اور حدود الگ اور جدا ہو جائیں تو پھر حق شفعہ نہیں ہے
(٢٣١٩٤) حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) نے فرمایا : جب زمین تقسیم ہوجائے اور حد بندی ہوجائے اور راستے الگ الگ ہوجائیں تو حق شفعہ حاصل نہیں ہے۔
(۲۳۱۹۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی الزُّبَیْرُ بْنُ مُوسَی ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : إذَا قُسِّمَتِ الأَرْضُ وَحُدَّتْ وَصُرِفَتْ طُرُقُہَا فَلاَ شُفْعَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৯৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جب راستے اور حدود الگ اور جدا ہو جائیں تو پھر حق شفعہ نہیں ہے
(٢٣١٩٥) حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جب حدود الگ ہوجائیں اور لوگ اپنے اپنے حق کو پہچان لیں تو ان میں سے کسی کو شفعہ کا حق حاصل نہیں۔
(۲۳۱۹۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَعَرَفَ النَّاسُ حُقُوقَہُمْ فَلاَ شُفْعَۃَ بَیْنَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৯৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو گھروں کا ایک ہی راستہ ہو تو اس میں بھی شفعہ نہیں ہے
(٢٣١٩٦) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر دو گھروں کے درمیان ایک ہی راستہ ہو تو ان میں شفعہ نہیں ہے۔
(۲۳۱۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: إذَا کَانَ بَیْنَ الدَّارَیْنِ طَرِیقٌ فَلاَ شُفْعَۃَ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৯৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو گھروں کا ایک ہی راستہ ہو تو اس میں بھی شفعہ نہیں ہے
(٢٣١٩٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر دونوں گھروں کے درمیان جدا راستہ ہو تو پھر حق شفعہ نہیں ہے۔
(۲۳۱۹۷) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ عُبَیْدَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ إبْرَاہِیمَ یَقُولُ: إذَا کَانَ بَیْنَہُمَا طَرِیقٌ فَاصِلٌ فَلاَ شُفْعَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৯৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو گھروں کا ایک ہی راستہ ہو تو اس میں بھی شفعہ نہیں ہے
(٢٣١٩٨) حضرت حکم اور حضرت حماد سے شفعہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ فرمایا : اگر دو گھروں کے درمیان راستہ نہ ہو تو ان میں حق شفعہ حاصل ہے۔
(۲۳۱۹۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ وَحَمَّادًا عَنِ الشُّفْعَۃِ ؟ فَقَالَ : إذَا کَانَتِ الدَّارُ إلَی جَنْبِ الدَّارِ لَیْسَ بَیْنَہُمَا طَرِیقٌ فَفِیہَا شُفْعَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৯৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف زمین میں شفعہ ہے
(٢٣١٩٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ صرف زمین میں شفعہ ہے۔
(۲۳۱۹۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ شُفْعَۃَ إلاَّ فِی تُرْبَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩১৯৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف زمین میں شفعہ ہے
(٢٣٢٠٠) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جریب (زمین کی خاص مقدار) اور زمین میں شفعہ ہے۔
(۲۳۲۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : لاَ شُفْعَۃَ إلاَّ فِی جَرِیبٍ أَوْ عَقَارٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২০০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف زمین میں شفعہ ہے
(٢٣٢٠١) حضرت ابراہیم بھی اسی طرح فرماتے ہیں۔
(۲۳۲۰۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২০১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف زمین میں شفعہ ہے
(٢٣٢٠٢) حضرت ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر چیز کے لیے شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے، جن میں زمین، گھر ، باندی اور غلام بھی شامل ہیں۔ حضرت عطاء نے فرمایا : زمین اور گھر میں شفعہ ہے۔ حضرت ابن ابی ملیکہ نے فرمایا : تم مجھے سن رہے کہ میں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں فرمایا پھر بھی تم یہ بات کہہ رہے ہو۔
(۲۳۲۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : قضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَۃِ فِی کُلِّ شَیْئٍ : الأَرْضِ ، وَالدَّارِ ، وَالْجَارِیَۃِ ، وَالْخَادِمِ۔

قَالَ: فَقَالَ : عَطَائٌ : إنَّمَا الشُّفْعَۃُ فِی الأَرْضِ وَالدَّارِ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ : تَسْمَعُنِی لاَ أُمَّ لَکَ! أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ تَقُولُ مِثْلَ ہَذَا ؟۔ (ترمذی ۱۳۷۱۔ بیہقی ۱۰۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২০২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی گھر فروخت ہو اور اُس کے دو پڑوسی ہوں
(٢٣٢٠٣) حضرت شعبی گھر کے دو پڑوسیوں کے متعلق فرماتے ہیں۔ اگر دونوں پڑوسی برابر ہوں، تو جو ان میں سے پہل کرے گا (یعنی جو مطالبہ کرنے اور مقدمہ لے جانے میں سبقت کرلے گا) اس کو حق شفعہ حاصل ہے۔
(۲۳۲۰۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ: فِی جَارَیِ الدَّارِ إذَا کَانَا فِی الْجِوَارِ سَوَائً فَأَیُّہُمَا سَبَقَ، فَہُوَ أَحَقُّ بِالشُّفْعَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২০৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی گھر فروخت ہو اور اُس کے دو پڑوسی ہوں
(٢٣٢٠٤) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ جس شخص کے سامنے اس کی شفعہ والی زمین بیچی جائے اور وہ کوئی اعتراض نہ کرے تو اب اس کو حق شفعہ حاصل نہیں ہوگا۔
(۲۳۲۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُولُ : مَنْ بِیعَتْ شُفْعَتُہُ وَہُوَ شَاہِدٌ لاَ یُنْکِرُ فَلاَ شُفْعَۃَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২০৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی گھر فروخت ہو اور اُس کے دو پڑوسی ہوں
(٢٣٢٠٥) حضرت عامر اور حضرت قاسم اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کا گھر فروخت ہو اور وہ خاموش رہے نکیر نہ کرے ، فرماتے ہیں اس پر لازم ہوجائے گا اور وہ اس پر جائز ہوگا۔
(۲۳۲۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ وَالْقَاسِمِ : فِی رَجُلٍ بِیعَتْ دَارُہُ وَہُوَ سَاکِتٌ لاَ یُنْکِرُ ، قَالاَ : یَلْزَمُہُ وَہُوَ جَائِزٌ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২০৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی گھر فروخت ہو اور اُس کے دو پڑوسی ہوں
(٢٣٢٠٦) حضرت عامر اور حضرت قاسم بن عبد الرحمن خریدار سے فرماتے تھے کہ تو اس بات کا گواہ قائم کر کہ اس کو گھر کو فروخت کیا گیا یہ گواہ تھا (دیکھ رہا تھا) لیکن اس پر نکیر نہ کی۔
(۲۳۲۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ وَالْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُمَا کَانَا یَقُولاَنِ لِلْمُبْتَاعِ : أَقِمِ الْبَیِّنَۃَ أَنَّہَا بِیعَتْ وَہُوَ شَاہِدٌ لاَ یُنْکِرُ۔
tahqiq

তাহকীক: