মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২৩২০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شفیع اگر خود مشتری کو خریدنے کی اجازت دے
(٢٣٢٠٧) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ شفیع اگر خود مشتری کو خریدنے کی اجازت دے اور مشتری خرید لے تو پھر شفیع کو اس پر قبضہ کرنے کا حق حاصل نہیں۔
(۲۳۲۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : إذَا أَذِنَ الشَّفِیعُ لِلْمُشْتَرِی فِی الشِّرَاء فَاشْتَرَی فَلاَ شُفْعَۃَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شفیع اگر خود مشتری کو خریدنے کی اجازت دے
(٢٣٢٠٨) حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اس کو شفعہ کرنے کا حق حاصل ہوگا، کیونکہ اس کا حق تو بیع ہونے کے بعد واقع ہوا ہے۔ (ثابت ہوا ہے)
(۲۳۲۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : قَالَ سُفْیَانُ : لَہُ الشُّفْعَۃُ لأَنَّ حَقَّہُ وَقَعَ بَعْدَ الْبَیْعِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢٠٩) حضرت ابو عثمان اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص دراہم کسی کو قرض دے کر اس سے بہتر وصول کرے۔
(۲۳۲۰۹) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ : أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ کَانَ یَکْرَہُ إذَا أَقْرَضَ الدَّرَاہِمَ أَنْ یَأْخُذَ خَیْرًا مِنْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢١٠) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) دراہم قرض لیتے تھے۔ پھر جب ان کا وظیفہ (تنخواہ) نکلتی تو اس سے اچھے درہم بدلہ میں ادا کرتے۔
(۲۳۲۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ حجاج ، عن عطاء ، قَالَ : کان ابن عمر یستقرض ، فإذا خرج عطاؤہ أعطاہ خیرًا منہا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢١١) حضرت أشعث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے دریافت کیا کہ اے ابو سعید ! میری کچھ پڑوسیاں ہیں۔ ان کے کچھ وظائف مقرر ہیں۔ وہ مجھ سے قرض لیتی ہیں اور دیتے وقت میری نیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے درہم بوقت واپسی میری ان دراہم سے اچھے ہوں ؟ انھوں نے جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۳۲۱۱) حَدَّثَنَا قَطَریّ بْنُ عَبْدِ اللہِ أَبُو مُرَیٍّ ، عَنْ أَشْعَثَ الْحُدَّانِیِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ فَقُلْتُ : یَا أَبَا سَعِیدٍ ، تَجِیئُ الْکِبَارُ وَلِی جَارَاتٌ وَلَہُنَّ عَطَائٌ ، فَیَقْتَرِضْنَ مِنِّی ، وَنِیَّتِی فَضْلُ دِرْہَمِ الْعَطَائِ عَلَی دِرْہَمِی ؟ قَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢١٢) حضرت زکریا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے فرمایا : کوئی شخص مجھ سے قرض لیتا ہے اور جب اس کو ہدیہ ملتا ہے تو وہ اس سے بہتر مجھے عطاء کرتا ہے، آپ نے فرمایا : اگر تو نے اس شرط کے ساتھ اس کو نہ دینے ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۳۲۱۲) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، قَالَ : قُلْتُ لِعَامِرٍ : الرَّجُلُ یَسْتَقْرِضُ ، فَإِذَا خَرَجَ عَطَاؤہُ أَعْطَانِی خَیْرًا مِنْہَا ، قَالَ : لاَ بَأْسَ مَا لَمْ تَشْتَرِطْ أَوْ تُعْطِہِ ، الْتِمَاسَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢١٣) حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ جب تم کچھ قرض لو تو اس سے بہتر ادا کرو، اور اگر قرض کے وقت اس کی شرط نہ لگائی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۳۲۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : إذَا أَقْترَضْتَ شَیْئًا فَقَضَیْتَ أَفْضَلَ مِنْہُ فَلاَ بَأْسَ إِنْ لَمْ یَکُنْ شَرْطٌ عِنْدَ الْقَرْضِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢١٤) حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص کسی کو قرض دیتا ہے پھر جو دئیے ہیں ان سے اچھے وصول کرتا ہے ؟ فرمایا اگر اس کی شرط نہ لگائی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔
(۲۳۲۱۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ وَحَمَّادٍ ، قَالَ : سَأَلْتُُہُمَا عَنِ الرَّجُلِ یُقْرِضُ الرَّجُلَ الدَّرَاہِمَ فَیَأْخُذُ خَیْرًا مِنَ الَّذِی أَعْطَی ، فَقَالاَ : إِنْ لَمْ یَکُنْ نَوَی فَلاَ بَأْسَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢١٥) حضرت الاوزاعی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو دس درہم قرض دیا وہ شخص قرض واپس کرتے وقت دس درہم اور دو دانق (درہم کا چھٹا حصّہ) لے آیا، فرمایا : اس کو قبول مت کرو، میں نے عرض کیا وہ خوش دلی سے دے رہا ہے، فرمایا کیا سود خوش دلی سے نہ ہوتا تھا ؟ !۔
(۲۳۲۱۵) حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ جَرَّاحٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ : فِی رَجُلٍ أَقْرَضَ رَجُلاً عَشَرَۃَ دَرَاہِمَ فَأَتَی بِعَشَرَۃٍ وَدَانِقَیْنِ ، قَالَ : لاَ تَقْبَلْ ، قُلْتُ لَہُ : إِنَّہُ قَدْ طَابَتْ نَفْسُہُ ، قَالَ : وَہَلْ یَکُونُ الرِّبَا إلأَعَنْ طِیبِ نَفْسٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢١٦) حضرت عامر اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو قرض دے اور قرض دیتے وقت یہ نیت ہو کہ اس سے بہتر مجھے ادا کیا جائے گا ۔ فرمایا یہ بُری نیت ہے۔
(۲۳۲۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنْ عَامِرٍ : فِی الرَّجُلِ یُقْرِضُ الرَّجُلَ الْقَرْضَ وَیَنْوِی أَنْ یُقْضَی أَجْوَدَ مِنْہُ ، قَالَ : ذَلِکَ أَخْبَثُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢١٧) حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) سے ایک شخص نے قرض مانگا تو آپ نے عطاء فرما دیا، اس شخص نے عرض کیا : میں نے آپ کے لیے اپنی بخشش میں سے عمدہ اور بہتر دراہم بڑھائے ہیں، حضرت ابن مسعود (رض) نے اس کو ناپسند فرمایا اور فرمایا میرے درہم کے مثل واپس کرو۔
(۲۳۲۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : اسْتَقْرَضَ رَجُلٌ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ دَرَاہِم فَقَضَاہُ، فَقَالَ لَہُ: الرَّجُلُ: إنِّی تَجَاوَزْتُ لَکَ مِنْ جَیِّدِ عَطَائِی، فَکَرِہَ ذَلِکَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَقَالَ: مِثْلَ دَرَاہِمِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢١٨) حضرت عطاء بن یعقوب فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عمر (رض) نے ایک ہزار درہم قرض لیا، پھر مجھے میرے دراہم بہتر واپس کئے، اور فرمایا : اس میں جو زائد ہیں وہ میری طرف سے آپ کے لیے عطیہ ہیں، کیا آپ قبول کریں گے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں !
(۲۳۲۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِی بَزَّۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَعْقُوبَ ، قَالَ : اسْتَسلَفَ مِنِّی ابْنُ عُمَرَ أَلْفَ دِرْہَمٍ فَقَضَانِی دَرَاہِمَ أَجْوَدَ مِنْ دَرَاہِمِی ، فَقَالَ : مَا کَانَ فِیہَا مِنْ فَضْلٍ ، فَہُوَ نَائِلٌ مِنِّی إلَیْک ، أَتَقْبَلُہُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢١٩) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا کہ ایک شخص دوسرے کو قرض میں دراہم دیتا ہے، وہ اس کو اس سے بہتر اور عمدہ واپس کرتا ہے ؟ فرمایا اگر اس کی نیت نہ ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۳۲۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ وَحَمَّادًا عَنِ الرَّجُلِ یُقْرِضُ الرَّجُلَ الدَّرَاہِمَ فَیُعْطَی أَجْوَدَ مِنْہَا؟ قَالاَ : لاَ بَأْسَ مَا لَمْ تَکُنْ نِیَّتُہُ عَلَی ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢٢٠) حضرت عامر بھی یہی فرماتے ہیں کہ اگر اس کی نیت نہ ہو اور اس نے شرط نہ لگائی ہو تو کوئی حرج نہیں ۔
(۲۳۲۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُُہُ عن الرَّجُلُ یُقْرِضُ الرَّجُلَ الدَّرَاہِمَ فَیُعْطَی أَجْوَدَ مِنْہَا ؟ قَالَ : لاَ بَأْسَ مَا لَمْ یَتَعَمَّدْ ، أَوْ یَشْتَرِطْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
(٢٣٢٢١) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے دریافت کیا کہ میں نے اپنے پڑوسی کو قرض دیا ہے اس نے میرے درہم سے عمدہ درہم کے ساتھ قرض کی ادائیگی کی ؟ آپ نے فرمایا : اگر اس کی شرط نہ لگائی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۳۲۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَیْخًا یُقَالَ لَہُ : الْمُغِیرَۃُ ، قَالَ : قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ : إنِّی أُسَلِّفُ جِیرَانِی إلَی الْعَطَائِ فَیَقْضُونِی دَرَاہِمَ أَجْوَدَ مِنْ دَرَاہِمِی ، قَالَ : لاَ بَأْسَ مَا لَمْ تَشْتَرِطْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص دوسرے سے سامان خریدے
(٢٣٢٢٢) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جو شخص شرط کے ساتھ کپڑا خریدے پھر اس کا حق دار (مالک) نکلنے سے قبل ہی اس کو مرابحۃً آگے فروخت کر دے تو جتنا نفع ہے وہ کپڑے والے کو ملے گا۔
(۲۳۲۲۲) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : مَنِ اشْتَرَی ثَوْبًا بِشَرْطٍ فَبَاعَہُ مُرَابَحَۃً قَبْلَ أَنْ یَسْتَوْجِبَہُ ، فَإِنَّ الرِّبْحَ لِصَاحِبِ الثَّوْبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص دوسرے سے سامان خریدے
(٢٣٢٢٣) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ جو شخص شرط کے ساتھ مبیع خریدے پھر اس کا حق دار نکلنے سے قبل ہی اس کو فروخت کر دے تو اس میں جو بھی نفع ہوا ہے وہ پہلے کے لیے ہوگا۔
(۲۳۲۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : مَنِ اشْتَرَی بَیْعًا بِشَرْطٍ فَبَاعَہُ قَبْلَ أَنْ یَسْتَوْجِبَہُ فَمَا کَانَ فِیہِ مِنْ فَضْلٍ ، فَہُوَ لِلأَوَّلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص دوسرے سے سامان خریدے
(٢٣٢٢٤) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ جب خیار کے ساتھ بیع کی، پھر اس کا صاحب (مالک) آنے سے پہلے ہی اس کو آگے فروخت کردیا، تو اس کی بیع درست ہے اور یہ نفع اس کے لیے حلال ہے۔
(۲۳۲۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ زَمْعَۃَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : إذَا اشْتَرَی بَیْعًا عَلَی أَنَّہُ فِیہِ بِالْخِیَارِ فَبَاعَہُ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَ صَاحِبُہُ ، فَقَدْ جَازَ بَیْعُہُ وَہُوَ لَہُ حِلٌّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص دوسرے سے سامان خریدے
(٢٣٢٢٥) حضرت عتبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شریح (رض) سے فرمایا کہ : میں بازار جا کر کپڑا خریدوں گا اور اس میں خیار شرط لگاؤں گا، پھر واپس آ کر اس کو فروخت کروں ، اگر نفع ہو تو ٹھیک وگرنہ واپس کر دوں تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ فرمایا ایسا مت کرو۔
(۲۳۲۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ وَکَانَ صَدِیقًا لِشُرَیْحٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِشُرَیْحٍ : آتِی السُّوقَ فَأَشْتَرِی الثَّوْبَ وَأَشْتَرِطُ أَنِّی فِیہِ بِالْخِیَارِ ، ثُمَّ أَنْطَلِقُ ، فَإِنْ بِعْتُہُ أَخَذْتُ الرِّبْحَ ، وَإِلاَّ رَدَدْتُہُ ، قَالَ : فَلاَ تَفْعَلْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ایسی چیز کو فروخت کرے جس کا وہ مالک نہیں ہے
(٢٣٢٢٦) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس کا سامان گم یا چوری ہوجائے، پھر وہ اپنا سامان کسی شخص کے قبضہ میں دیکھے تو مالک اس کا زیادہ حق دار ہے، اور مشتر ی اپنے نقصان کے لیے بائع سے رجوع کرے گا۔
(۲۳۲۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ سَمُرَۃَََ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ ضَاعَ لَہُ مَتَاعٌ ، أَوْ سُرِقَ لَہُ مَتَاعٌ فَوَجَدَہُ فِی یَدِ رَجُلٍ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ ، وَیَرْجِعُ الْمُشْتَرِی عَلَی الْبَائِعِ۔ (احمد ۵/۱۸۔ دارقطنی ۲۹)
তাহকীক: