মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২৩২৪৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
(٢٣٢٤٧) حضرت شباک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم (رض) سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے سو درہم رہن رکھوایا دو سو درہم کے بدلے، پھر سو درہم ہلاک ہوگئے۔ فرمایا : اگر زیادتی واپس لوٹائے تو بہتر ہے۔
(۲۳۲۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ شِبَاکٍ ، قَالَ : قُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ : رَجُلٌ رَہَنَ مِئَۃ دِرْہَمٍ بمائتی درہم ، فَہَلَکَتِ الْمِئَۃُ ؟ فَقَالَ : إنَّ أَحْسَنَ أنْ یَتَرَادَّا فِی الْفَضْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৪৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
(٢٣٢٤٨) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں مرہونہ چیز اس مال کے بدلہ میں ہوجائے گی جس ک ی وجہ سے رہن رکھی گئی ہے۔
(۲۳۲۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسماعیل ، عن عامر قَالَ : الرہن بما فیہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৪৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
(٢٣٢٤٩) حضرت شریح سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے پوچھا کہ اگر کم یا زیادہ ہو تو برابر ہے ؟ فرمایا : ہاں !۔
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے پوچھا کہ اگر کم یا زیادہ ہو تو برابر ہے ؟ فرمایا : ہاں !۔
(۲۳۲۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : الرَّہْنُ بِمَا فِیہِ۔قَالَ شُعْبَۃُ : قُلْتُ لِلْحَکَمِ فِی قَوْلِہِ : إذَا کَانَ أَقَلَّ ، أَوْ أَکْثَرَ سَوَائٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৪৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
(٢٣٢٥٠) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مرہونہ شے کو روک کر نہیں رکھاجا سکتا۔ یہ اسی کا حق ہے جس نے اس کو رہن رکھوایا ہے۔ مرہونہ شے کی غنیمت (یعنی بڑھوتی اور نمو) بھی ا سی کا ہے اور اس کا تاوان بھی اسی پر ہے۔
(۲۳۲۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یُغْلَقُ الرَّہْنُ ، ہُوَ لِمَنْ رَہَنَہُ ، لَہُ غُنْمُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہُ۔
(عبدالرزاق ۱۵۰۳۳۔ ابن حبان ۵۹۳۴)
(عبدالرزاق ۱۵۰۳۳۔ ابن حبان ۵۹۳۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৫০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
(٢٣٢٥١) حضرت معاویہ بن عبداللہ بن جعفر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک مدت مقررہ کے لیے گھر رہن رکھوایا، جب وقت پورا ہوگیا تو مرتہن نے کہا یہ میرا گھر ہے۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : رہن کو روک کر نہیں رکھا جاسکتا۔
(۲۳۲۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ الْجُمَحِیِّ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنَّ رَجُلاً رَہَنَ دَارًا إلَی أَجَلٍ ، فَلَمَّا حَلَّ الأَجَل ، قَالَ الْمُرْتَہِنُ : دَارِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یُغْلَقُ الرَّہْنُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৫১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
(٢٣٢٥٢) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ہم نے ہمیشہ یہی سنا کہ رہن اور جو کچھ اس میں تھا وہ ضائع ہوجائیں گے۔
(۲۳۲۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : مَا زِلْنَا نَسْمَعُ ، أَنَّ الرَّہْنَ بِمَا فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৫২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
(٢٣٢٥٣) حضرت عطاء سے مرہونہ چیز اس مال کے بدلہ میں ہوجائے گی جس ک ی وجہ سے رہن رکھی گئی ہے۔
(۲۳۲۵۳) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ: مَا زِلْنَا نَسْمَعُ ، أَنَّ الرَّہْنَ بِمَا فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৫৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
(٢٣٢٥٤) حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں اگر مرہونہ چیز کی قیمت اسی شے سے زیادہ ہے جس کے بدلہ م یں اس کو رہن رکھا گیا ہے تو اس زیادتی میں وہ شخص (جس کے پاس رہن رکھی ہے) رہن سمجھا جائے گا اور اگر مرہونہ شے کی قیمت کم ہے تو باقی قیمت راہن اس شخص کو ادا کرے گا۔
(۲۳۲۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: إذَا کَانَ الرَّہْنُ أَکْثَرَ مِمَّا رُہِنَ بِہِ ، فَہُوَ أَمِینٌ فِی الْفَضْلِ ، وَإِذَا کَانَ أَقَلَّ رُدَّ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৫৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
(٢٣٢٥٥) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ رہن کی قیمت بقدر قرضہ کم کردیا جائے گا۔
(۲۳۲۵۵) حَدَّثَنَا عبد الوہاب بن عطاء ، عن ابن عون ، عن محمد بن سیرین ، قَالَ : الرہن بما فیہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৫৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص رہن رکھوائے اور وہ ہلاک ہو جائے
(٢٣٢٥٦) حضرت جابان فرماتے ہیں کہ میں سونے کی انگوٹھی کے متعلق جھگڑتے ہوئے حضرت شریح کے پاس آیا تو مرہونہ شے اس چیز کے بدلہ میں ہوجائے گی جس میں وہ رہن کے طور پر رکھی گئی۔
(۲۳۲۵۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ جَابَانَ ، قَالَ خَاصَمْتُ إلَی شُرَیْحٍ فِی خَاتَمِ ذَہَبٍ فَقَالَ : الرَّہْنُ بِمَا فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৫৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٥٧) حضرت عبداللہ بن الحسین اپنی والدہ فاطمہ بنت حسین سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت زید بن حارثہ أیلہ سے واپس تشریف لائے تو انھیں کچھ سامان کی ضرورت پیش آئی تو انھوں نے بچوں میں سے ایک کو فروخت کردیا جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو آپ نے ان میں سے ایک خاتون کو روتے ہوئے دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا اس کو کیا ہوا ہے ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا گیا کہ حضرت زید نے اس کے بیٹے کو فروخت کردیا ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو واپس کرو۔ یا فرمایا کہ اس کو خرید لو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ یُونُسَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ ، قَالَ :
(۲۳۲۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّہِ فَاطِمَۃَ ابْنَۃِ حُسَیْنٍ ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ قَدِمَ یَعْنِی مِنْ أَیْلَۃَ ، فَاحْتَاجَ إلَی ظَہْرٍ فَبَاعَ بَعْضَہُمْ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی امْرَأَۃً مِنْہُمْ تَبْکِی ، قَالَ : مَا شَأْنُ ہَذِہِ ؟ فَأُخْبِرَ أَنَّ زَیْدًا بَاعَ وَلَدَہَا ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُرْدُدْہُ أَوِ اشْتَرِہِ۔
(۲۳۲۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّہِ فَاطِمَۃَ ابْنَۃِ حُسَیْنٍ ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ قَدِمَ یَعْنِی مِنْ أَیْلَۃَ ، فَاحْتَاجَ إلَی ظَہْرٍ فَبَاعَ بَعْضَہُمْ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی امْرَأَۃً مِنْہُمْ تَبْکِی ، قَالَ : مَا شَأْنُ ہَذِہِ ؟ فَأُخْبِرَ أَنَّ زَیْدًا بَاعَ وَلَدَہَا ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُرْدُدْہُ أَوِ اشْتَرِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৫৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٥٨) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ دو قیدی بچوں کو بھیجا ، تاکہ میں ان کو فروخت کر آؤں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا اکٹھے فروخت کیا ہے یا پھر الگ ؟ میں نے عرض کیا کہ الگ، آپ نے فرمایا کہ ان کو پکڑو (یعنی واپس لے کر آؤ) ۔
(۲۳۲۵۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : بَعَثَ مَعِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِغُلاَمَیْنِ سَبِیَّیْنِ مَمْلُوکَیْنِ أَبِیعُہُمَا ، فَلَمَّا أَتَیْتُہُ ، قَالَ : جَمَعْتَ أَوْ فَرَّقْتَ ؟ قُلْتُ : فَرَّقْتُ ، قَالَ : فَأَدْرِکْ أَدْرِکْ۔ (ترمذی ۱۲۸۴۔ ابوداؤد ۲۶۸۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৫৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٥٩) حضرت عمر (رض) نے تحریر فرمایا : دو بھائیوں کے درمیان علیحدگی مت کرو، اکٹھے فروخت کرو، یا ایک ساتھ اپنے پاس رکھو۔
(۲۳۲۵۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ، عَنْ فَرُّوخَ، قَالَ: کَتَبَ عُمَرُ: أنْ لاَ تُفَرِّقُوا بَیْنَ الأَخَوَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৫৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٦٠) حضرت عمر (رض) نے عاملوں کو تحریر فرمایا : باندی اور اس کی اولاد کے درمیان تفریق مت کرو۔
(۲۳۲۶۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فَرُّوخَ - وَرُبَّمَا قَالَ : عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : لاَ تُفَرِّقُوا بَیْنَ الأُمِّ وَوَلَدِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৬০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٦١) حضرت عثمان بن عفان (رض) نے عقال کو لکھا کہ ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے سو غلام خرید کر مدینہ کی طرف ان کو لے جاؤ، لیکن ان میں کوئی ایسا غلام مت خریدو جس میں اس کے اور اس کے والدین کے درمیان تفریق لازم آئے۔
(۲۳۲۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، قَالَ : قَالَ عِقَالُ - أَوْ حَکِیمُ بْنُ عِقَال - قَالَ : کَتَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إلَی عِقَال : أَنْ یَشْتَرِیَ مِئَۃ أَہْلِ بَیْتٍ یَرْفَعُہُمْ إلَی الْمَدِینَۃِ ، وَلاَ تَشْتَرِی لِی شَیْئًا تُفَرِّقُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ وَالِدِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৬১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٦٢) حضرت حبیب بن شھاب سے مروی ہے کہ وہ حضرت ابو موسیٰ (رض) کے ساتھ جہاد میں شریک تھے، جب مقام تستر فتح ہوا، تو فروخت کرتے وقت عورتوں اور ان کے بچوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے تھے۔
(۲۳۲۶۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شِہَابٍ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ غَزَا مَعَ أبِی مُوسَی ، فَلَمَّا فَتَحُوا تُسْتَرَ کَانَ لاَ یُفَرِّقُ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَوَلَدِہَا فِی الْبَیْعِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৬২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٦٣) حضرت ابن جبلۃ القرشی سے مروی ہے کہ وہ لوگ قیدیوں کے درمیان تفریق کرتے تھے، حضرت ابو ایوب (رض) تشریف لائے اور ان سب غلاموں کو جمع فرما دیا۔
(۲۳۲۶۳) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حَبَّابٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی جَبَلَۃَ الْقُرَشِیَّ یَقُولُ : کَانُوا یُفَرِّقُونَ بَیْنَ السَّبَایَا ، فَیَجِیئُ أَبُو أَیُّوبَ فَیَجْمَعُ بَیْنَہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৬৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٦٤) حضرت ابراہیم، بیٹے اور والد کے درمیان جدائی نہ ہوجائے یا بھائیوں کے مابین جدائی نہ ہوجائے۔ اس ڈر کی وجہ سے غلاموں کی بیع ہی نہ کرتے تھے، (ناپسند کرتے تھے)
(۲۳۲۶۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إنَّمَا کَرِہُوا بَیْعَ الرَّقِیقِ مَخَافَۃَ أَنْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ الْوَلَدِ وَوَالِدِہِ وَبَیْنَ الإِخْوَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৬৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٦٥) حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی بچہ لایا جاتا تو آپ تمام اہل بیت کو وہ بچہ دے دییت تاکہ ان کے مابین تفریق نہ ہو۔
(۲۳۲۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا أُتِیَ بِالسَّبْیِ أَعْطَی أہل البیت جَمِیعًا کَرَاہِیَۃَ أَنْ یُفَرِّقَ بَیْنَہُمْ۔ (ابن ماجہ ۲۲۴۸۔ احمد ۳۸۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২৬৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٦٦) حضرت عثمان بن عفان (رض) نے عقال کو لکھا کہ ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے سو غلام خرید کر مدینہ کی طرف ان کو لے جاؤ، لیکن ان میں کوئی ایسا غلام مت خریدو جس میں اس کے اور اس کے والدین کے درمیان تفریق لازم آئے۔
(۲۳۲۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ عِقَال ، قَالَ : کَتَبَ عُثْمَانُ إلَی أَبِی أَنِ اشْتَرِ لِی مِئَۃ أَہْلِ بَیْتٍ وَلاَ تُفَرِّقْ بَیْنَ وَالِدٍ وَوَلَدِہِ۔
তাহকীক: