মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২৩২৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٦٧) حضرت حسن اور حضرت محمد باندی اور اس کی اولاد کے درمیان تفریق کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۳۲۶۷) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ: أَنَّہُمَا کَانَا یَکْرَہَانِ أَنْ یُفَرَّقَا بَیْنَ الأَمَۃِ وَوَلَدِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٦٨) حضرت حسن اس کو ناپسند کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ اگر وہ بلوغ کی حد کو پہنچ جائے تو پھر تفریق کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۳۲۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُہُ، وَیَقُولُ: لاَ بَأْسَ بِہِ إذَا أُوصِفَ، أَوْ أُوصِفَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٦٩) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیع کرتے وقت باندی اور اس کی اولاد میں تفریق کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(۲۳۲۶۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ طُلَیْقِ بْنِ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَ الأَمَۃِ وَوَلَدِہَا فِی الْبَیْعِ۔ (ابن ماجہ ۲۲۵۰۔ دارقطنی ۲۵۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٧٠) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع کو لکھا اور ان سے دریافت کیا کہ اگر ایک ہی گھر کے کچھ افراد کسی کے غلام ہوں تو کیا وہ فروخت کرتے وقت ان کے درمیان جدائی کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں اس کو حرام نہیں سمجھتا، لیکن ناپسندیدہ ہے۔
(۲۳۲۷۰) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَتَبْتُ إلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنْ أَہْلِ الْبَیْتِ یَکُونُونَ لِلرَّجُلِ أَیَصْلُحُ أَنْ یُفَرِّقَ بَیْنَہُمْ ؟ قَالَ : فَقَالَ : لاَ أَعْلَمُ ذَلِکَ حَرَامًا ، وَلَکِنْ یُکْرَہُ عِنْدَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٧١) حضرت عمر بن عبد العزیز نے حضرت ریاح بن عبیدہ کو لکھا کہ شاہی غلاموں کو بیچ دو ۔ لیکن ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے غلاموں کو اکٹھے بیچنا تاکہ ان میں تفریق نہ ہوجائے۔
(۲۳۲۷۱) حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی الْقَصَّافِ، عَنْ رِیَاحِ بْنِ عَبِیْدَۃَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیزِ کَتَبَ إلَیْہِ أَنْ یَبِیعَ رَقِیقًا مِنْ رَقِیقِ الإِمَارَۃِ وَأَنْ یَبِیعَ أَہْلَ الْبَیْتِ جَمِیعًا، وَلاَ یُفَرِّقَ بَیْنَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٧٢) حضرت عمر (رض) نے تحریر فرمایا کہ قیدیوں اور ان کی اولاد کے درمیان فروخت کرتے وقت جدائی مت کرو۔
(۲۳۲۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ : أَلاَ تُفَرِّقُوا بَیْنَ السَّبَایَا وَأَوْلاَدِہِنَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٧٣) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ ابن عمر کے ایک بیٹے نے ان سے یہ شکایت کی کہ آپ بچہ اور اس کی والدہ کے مابین تفریق کو ناپسند سمجھتے ہیں جبکہ آپ نے میرے اور میری والدہ ک ے درمیان جدائی کردی ہے۔
(۲۳۲۷۳) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : نُبِّئْتُ أَنَّ ابْنًا لاِبْنِ عُمَرَ ، قَالَ لَہُ : تَکْرَہُ أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَ الأَمَۃِ وَبَیْنَ ابْنِہَا وَقَدْ فَرَّقْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ أُمِّی؟!۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ والد اور بیٹے میں تفریق کرنا
(٢٣٢٧٤) حضرت ابو جعفر سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب قیدی بچے آتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک خاندان کو اسی کے خاندان سے غلام اور بچے عطا فرماتے تاکہ ان میں تفریق نہ ہو۔
(۲۳۲۷۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ رَفَعُہُ قَالَ : کَانَ ألنَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا قَدِمَ عَلَیْہِ السَّبْیُ أَعْطَی أَہْلَ الْبَیْتِ : أَہْلَ الْبَیْتِ ، کَرَاہِیَۃَ أَنْ یُفَرِّقَ بَیْنَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے اِس کی اجازت دی ہے
(٢٣٢٧٥) حضرت ابراہیم نے اپنی باندی کی بیٹی کو فروخت کردیا، حضرت منصور فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ کیا ماں اور بیٹی کے درمیان جدائیگی کو ناپسند نہیں کیا گیا ؟ حضرت ابراہیم نے فرمایا : لیکن اس کی ماں راضی تھی ان سے، اس کی جگہ ایک اور بھی جن دی ہے۔
(۲۳۲۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : أَنَّہُ بَاعَ بِنْتَ جَارِیَۃٍ لَہُ ، قَالَ مَنْصُورٌ : فَقُلْتُ لَہُ : أَلَیْسَ کَانُوا یَکْرَہُونَ التَّفْرِیقَ ؟ قَالَ : بَلَی ! وَلَکِنْ أُمُّہَا رَضِیَتْ وَقَدْ وَضَعْتُہَا مَوْضِعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے اِس کی اجازت دی ہے
(٢٣٢٧٦) حضرت عامر، حضرت عطاء اور حضرت محمد بن علی فرماتے ہیں کہ ماں اور اولاد کے درمیان فروخت کرتے وقت تفریق کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۳۲۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ وَعَطَائٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ ، قَالُوا : لاَ بَأْسَ أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَ الْمُوَلَّدَاتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے اِس کی اجازت دی ہے
(٢٣٢٧٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ بچے اگر حد بلوغ کو پہنچ گئے ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔

حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ قیدیوں کے درمیان جدائی نہیں کریں گے، اور اگر بچے ماؤں سے بےنیاز ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں ۔
(۲۳۲۷۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ إذَا أُوصِفَ ، أَوْ أُوصِفَتْ۔

وَقَالَ وَکِیعٌ : السَّبْیُ لاَ یُفَرَّقُ بَیْنَہُمْ ، فَأَمَّا الْمُوَلَّدَاتُ إذَا اسْتَغْنَیْنَ عَنْ أُمَّہَاتِہِنَّ فَلاَ بَأْسَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے اِس کی اجازت دی ہے
(٢٣٢٧٨) حضرت عامر اور حضرت ابو جعفر قیدیوں کے درمیان تفریق کرنے کو ناپسند کرتے تھے، البتہ نومولود بچوں کے ساتھ ایسا کرنے میں حرج نہ سمجھے تھے۔
(۲۳۲۷۸) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ وَأَبِی جَعْفَرٍ: أنَّہُمَا کَرِہَا التَّفْرِیقَ بَیْنَ السَّبَایَا، فَأَمَّا الْمُوَلَّدُونَ فَلاَ بَأْسَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بیع کرے پھر اُ س کو غلطی لگ جائے
(٢٣٢٧٩) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ اسلام میں غلطی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یعنی فروخت کرنے کے بعد یہ کہنا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔
(۲۳۲۷۹) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لاَ غَلَتَ فِی الإِسْلاَمِ یَعْنِی لاَ غَلَطَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بیع کرے پھر اُ س کو غلطی لگ جائے
(٢٣٢٨٠) حضرت ابن سیرین اس بیع کو نافذ نہ فرماتے تھے۔
(۲۳۲۸۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یُجِیزُ الْغَلَطَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بیع کرے پھر اُ س کو غلطی لگ جائے
(٢٣٢٨١) حضرت عامر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ گھڑا فروخت کیا پھر کہنے لگا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی، حضرت شعبی نے فرمایا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ بیع دھوکے کا نام ہے اور حضرت قاسم نے فرمایا : گھڑا اس کو واپس کرے گا۔
(۲۳۲۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ : فِی رَجُلٍ بَاعَ رَجُلاً ثَوْبًا فَقَالَ : غَلِطْتُ ، فَقَالَ : الشَّعْبِیُّ : لَیْسَ بِشَیْئٍ ، الْبَیْعُ خُدْعَۃٌ ، وَقَالَ الْقَاسِمُ : یَرُدُّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص بیع کرے پھر اُ س کو غلطی لگ جائے
(٢٣٢٨٢) حضرت عبد الرحمن سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص کچھ اونٹ لے کر آیا، اس کو ایک اونٹ کے ایک سو تیس، ایک سو بیس درہم دئیے گے تو اس نے فروخت کرنے سے انکار کردیا، اس کے پاس نخاسین میں سے ایک شخص آیا اور کہا کہ میں تجھ سے ہزار کے بدلے سارے اونٹ خریدتا ہوں۔ اس دیہاتی نے اس کو فروخت کردیا پھر بعد میں دیہاتی نے جب حساب لگایا تو بہت نادم ہوا اور اپنا جھگڑا حضرت شریح کے پاس لے گیا، آپ نے بیع کو نافذ فرمایا اور فرمایا بیع دھوکے کا نام ہے۔
(۲۳۲۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللہِ مَوْلَی عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ بِعَشَرَۃِ أَبْعِرَۃٍ فَجَعَلَ یُعْطَی بِالْبَعِیرِ مِئَۃ وَثَلاَثِینَ ، وَمِئَۃً وَعِشْرِینَ ، فَیَأْبَی ، فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنَ النَّخَّاسِینَ فَقَالَ : قَدْ أَخَذْتُہَا مِنْکَ بِأَلْفٍ أَقْرَعَ ، فَبَاعَہَا ، فَلَمَّا حَسَبَ حِسَابَہَا نَدِمَ ! فَخَاصَمَہُ إلَی شُرَیْحٍ ، فَأَجَازَ الْبَیْعَ وَقَالَ: الْبَیْعُ خُدْعَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کھانا خریدے اور وہ زیادہ نکل آئے تو زیادتی کس کی ہوگی ؟
(٢٣٢٨٣) حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھانے کی بیع سے منع فرمایا ہے جب تک کہ اس میں دو صاع جاری نہ ہوجائیں۔ پھر زیادتی اور کمی دونوں مشتری کی ہی ہوں گی۔
(۲۳۲۸۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَیْعِ الطَّعَامِ حَتَّی یَجْرِیَ فِیہِ الصَّاعَانِ ، فَتَکَُونُ لَہُ زِیَادَتُہُ وَعَلَیْہِ نُقْصَانہ۔ (ابن ماجہ ۲۲۲۸۔ دارقطنی ۲۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کھانا خریدے اور وہ زیادہ نکل آئے تو زیادتی کس کی ہوگی ؟
(٢٣٢٨٤) حضرت عبیدہ سے مروی ہے کہ اس کھانے کی بیع سے منع فرمایا ہے کہ جس میں دو صاع رائج نہ ہوجائیں۔ زیادتی مشتری کے لیے اور نقصان بائع پر ہوگا۔
(۲۳۲۸۴) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أشعث ، عن ابن سیرین ، عَنْ عَبِیْدَۃَ ، قَالَ : نُہِیَ عَنْ بَیْعِ الطَّعَامِ حَتَّی یَجْرِیَ فِیہِ الصَّاعَانِ ، فَتَکُونَ زِیَادَتُہُ لِمَنَ اشْتَرَی ، وَنُقْصَانُہُ عَلَی الْبَائِعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کھانا خریدے اور وہ زیادہ نکل آئے تو زیادتی کس کی ہوگی ؟
(٢٣٢٨٥) حضرت ابن سیرین اور حضرت حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے کھانا خریدا ہے تو کیا وہ کیل کرکے اس کو فروخت کرسکتا ہے ؟ فرمایا کہ نہیں، یہاں تک کہ اس میں دو صاع جاری ہوجائیں پھر زیادتی اور کمی دونوں مشتری کی ہی ہوں گی۔
(۲۳۲۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ وَالْحَسَنِ : أَنَّہُمَا سُئِلاَ عَنِ الرَّجُلِ یَشْتَرِی الطَّعَامَ أَیَبِیعُہُ بِکَیْلِہِ؟ فَقَالاَ : لاَ ، حَتَّی یَجْرِیَ فِیہِ الصَّاعَانِ ، فَتَکُونُ لَہُ الزِّیَادَۃُ وَعَلَیْہِ النُّقْصَانُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کھانا خریدے اور وہ زیادہ نکل آئے تو زیادتی کس کی ہوگی ؟
(٢٣٢٨٦) حضرت شعبی اور حضرت حکم سے مروی ہے کہ کوئی شخص کھانا خریدے پھر وہ زیادہ نکل آئے ، فرمایا : اگر غلطی ہوگئی تھی تو واپس کر دے ، اگر زیادہ ہو اس کو واپس کر دے۔
(۲۳۲۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ وَالْحَکَمِ : فِی الرَّجُلِ یَشْتَرِی الطَّعَامَ فَیَزِیدُ ، فَقَالاَ: إِنْ کَانَ غَلِطَ رَدَّہُ ، وَإِنْ کَانَ زِیَادَۃً رَدَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক: