মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২০৯৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب مکاتب نے بدل کتابت کا کچھ حصہ ادا کردیا تو وہ غلامی میں واپس نہیں جاسکتا
(٢٠٩٦٧) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جس قدر بدل کتابت وہ ادا کرتا جائے گا اسی قدر آزاد ہوتا جائے گا۔
(۲۰۹۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : یَعْتِقُ مِنَ الْمُکَاتَبِ بِقَدْرِ مَا أَدَّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ قرض کی ادائیگی واجب ہوتی ہے خواہ تھوڑی مدت بعد ہی کیوں نہ ہو
(٢٠٩٦٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ قرض کی ادائیگی واجب ہوتی ہے خواہ تھوڑی مدت بعد ہی کیوں نہ ہو۔
(۲۰۹۶۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ وَأَصْحَابِہِ ، وَعَنْ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : وَالْقَرْضُ حَالٌّ ، وَإِنْ کَانَ إلَی أَجَلٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو بیچے یا آزاد کرے اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩٦٩) حضرت ابراہیم سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو بیچے یا آزاد کرے اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردے تو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر حمل کی خلقت ظاہرہوچ کی ہوتواستثناء درست ہے اور اگر اس کی خلقت ظاہر نہیں ہوئی تو استثناء درست نہیں۔
(۲۰۹۶۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مَنْ بَاعَ حُبْلَی ، أَوْ أَعْتَقَہَا وَاسْتَثْنَی مَا فِی بَطْنِہَا ، قَالَ لَہُ : ثُنْیَاہُ فِیمَا قَدِ اسْتَبَانَ خَلْقُہُ ، وَإِنْ لَمْ یَسْتَبِنْ خَلْقُہُ فَلاَ شَیْئَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو بیچے یا آزاد کرے اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩٧٠) حضرت حسن بیع میں استثناء کو درست قرار دیتے تھے لیکن آزادی میں نہیں۔
(۲۰۹۷۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ کَانَ یُجِیزُ ثُنْیَاہُ فِی الْبَیْعِ ، وَلاَ یُجِیزُ فِی الْعِتْقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو بیچے یا آزاد کرے اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩٧١) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص باندی کو فروخت کرے اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردے تو درست ہے۔
(۲۰۹۷۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یُعْتِقُ الأَمَۃَ وَیَسْتَثْنِی مَا فِی بَطْنِہَا ، قَالَ لَہُ: ثُنْیَاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو بیچے یا آزاد کرے اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩٧٢) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ وہ دونوں آزادہوں گے۔
(۲۰۹۷۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : ہُمَا حُرَّانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو بیچے یا آزاد کرے اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩٧٣) حضرت عطائ، حضرت شعبی اور حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر باندی کو آزاد کیا اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردیا تو استثناء درست ہے۔
(۲۰۹۷۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، وَعَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، وَعَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالُوا : إذَا أَعْتَقَہَا وَاسْتَثْنَی مَا فِی بَطْنِہَا فَلَہُ ثُنْیَاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو بیچے یا آزاد کرے اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩٧٤) حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو بیچے یا آزاد کرے اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔
(۲۰۹۷۴) حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، وَحَمَّادًا فَقَالاَ : ذَلِکَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو بیچے یا آزاد کرے اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردے تو کیا حکم ہے ؟
(٢٠٩٧٥) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص باندی کو فروخت کرے اور اس کے حمل کو مستثنیٰ کردے تو درست ہے۔
(۲۰۹۷۵) حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضَّائِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَبِیعُ الأَمَۃَ وَیَسْتَثْنِی مَا فِی بَطْنِہَا ، قَالَ : لَہُ ثُنْیَاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کسی چیز کا دعویٰ کرے، پھر اس کے خلاف گواہی قائم ہوجائے تو اس سے قسم لی جائے گی کہ اس نے اسے نہیں بیچا
(٢٠٩٧٦) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی کے پاس موجود سواری کے بارے میں یہ دعویٰ کرے کہ یہ میری سواری ہے جو کہ مجھ سے کھو گئی تھی تو میں گواہوں سے یہ نہیں کہوں گا کہ وہ گواہی دیں کہ نہ اس نے بیچی ہے اور نہ ہبہ کی ہے، بلکہ جب گواہ اس بات پر گواہی دے دیں گے کہ یہ اس کی سواری ہے جو گم گئی تھی تو میں مدعی سے قسم لوں گا کہ اس نے نہ اسے بیچا ہے اور نہ ہبہ کیا ہے۔
(۲۰۹۷۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَدَّعِی الدَّابَّۃَ فِی یَدِ الرَّجُلِ فَیَقُولُ : ضَلَّتْ مِنِّی ، قَالَ : لاَ أَقُولُ لِلشُّہُودِ : إِنَّہُ لَمْ یَبِعْ وَلَمْ یَہَبْ ، وَلَکِنْ إذَا شَہِدَتِ الشُّہُودُ أَنَّہَا دَابَّتُہُ ، ضَلَّتْ مِنْہُ ، أُحَلِّفُہُ بِاللَّہِ : مَا بَاعَ ، وَلاَ وَہَبَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کسی چیز کا دعویٰ کرے، پھر اس کے خلاف گواہی قائم ہوجائے تو اس سے قسم لی جائے گی کہ اس نے اسے نہیں بیچا
(٢٠٩٧٧) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب گواہ گواہی دے دیں گے کہ یہ اس کی ہے تو میں اس سے قسم لوں گا کہ وہ قسم کھائے کہ نہ میں نے اسے ہلاک کیا ہے اور نہ میں نے ہلاک کرنے والے کو حکم دیا ہے۔
(۲۰۹۷۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : إذَا شَہِدَت الشُّہُودُ أَنَّہَا دَابَّتُہُ أُحَلِّفُہُ بِاللَّہِ : مَا أَہْلَکْتُ ، وَلاَ أَمَرْتُ مُہْلِکًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کسی چیز کا دعویٰ کرے، پھر اس کے خلاف گواہی قائم ہوجائے تو اس سے قسم لی جائے گی کہ اس نے اسے نہیں بیچا
(٢٠٩٧٨) حضرت حسان بن ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) نے اپنے ایک اونٹ کو پہچان لیا اور مسلمانوں کے قاضی کے پاس مقدمہ دائر کیا، فیصلے میں حضرت حذیفہ پر قسم لازم ہوئی تو انھوں نے اللہ کی قسم کھائی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ نہ انھوں نے اسے بیچا ہے اور نہ ہبہ کیا ہے۔
(۲۰۹۷۸) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ ثُمَامَۃَ ، أَنَّ حُذَیْفَۃَ عَرَفَ جَمَلا لہُ فَخَاصَمَ فِیہِ إلَی قَاضٍ مِنْ قُضَاۃِ الْمُسْلِمِینَ فَصَارَتْ عَلَی حُذَیْفَۃَ یَمِینٌ فِی الْقَضَائِ فَحَلَفَ بِاللَّہِ الَّذِی لاَ إلَہَ إلاَّ ہُوَ : مَا بَاعَ ، وَلاَ وَہَبَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا گندم کے بدلے دگنی جو لی جاسکتی ہے ؟
(٢٠٩٧٩) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حجاج لوگوں میں غلہ تقسیم کرنے کو کہتا تھا کہ جو چار جرب جو کے بدلے د و جرب گندم لینا چاہے توا سے دے دو ، میں نے اس بارے میں حضرت ابراہیم اور حضرت شعبی سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۰۹۷۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : کَانَ الْحَجَّاجُ یُعْطِی النَّاسَ الرِّزْقَ فَیَقُولُ أَصْحَابُ دار الرِّزْقِ : مَنْ شَائَ أَخَذَ أَرْبَعَۃَ أَجْرِبَۃِ شَعِیرٍ بِجَرِیبَیْنِ حِنْطَۃٍ الَّذِی لَہُ ، فَسَأَلْنا إبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیَّ فَقَالاَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا گندم کے بدلے دگنی جو لی جاسکتی ہے ؟
(٢٠٩٨٠) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب دو نوعوں میں اختلاف ہوجائے تو ایک ہی وقت میں زیادتی کے ساتھ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۰۹۸۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : إذَا اخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَلاَ بَأْسَ بِالْفَضْلِ یَدًا بِیَدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا گندم کے بدلے دگنی جو لی جاسکتی ہے ؟
(٢٠٩٨١) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ جب دو چیزوں کا رنگ مختلف ہو تو ایک ہی وقت میں ایک کے بدلے دو کالین دین کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۰۹۸۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا فِیمَا یُکَالُ یَدًا بِیَدٍ وَاحِدًا بِاثْنَیْنِ إذَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا گندم کے بدلے دگنی جو لی جاسکتی ہے ؟
(٢٠٩٨٢) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ جب انواع مختلف ہوجائیں تو جی سے چاہو بیچ سکتے ہو۔
(۲۰۹۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : إذَا اخْتَلَفَ النَّوْعَانِ بِعْ کَیْفَ شِئْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا گندم کے بدلے دگنی جو لی جاسکتی ہے ؟
(٢٠٩٨٣) حضرت زہری اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ گندم کو فی الفور ادائیگی کے ساتھ جو کے بدلے بیچا جائے کہ دونوں چیزوں میں سے ایک کم ہو اور ایک زیادہ۔
(۲۰۹۸۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِبَیْعِ الْبُرِّ بِالشَّعِیرِ یَدًا بِیَدٍ أَحَدُہُمَا أَکْثَرُ مِنَ الآخَرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا گندم کے بدلے دگنی جو لی جاسکتی ہے ؟
(٢٠٩٨٤) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ فوری ادائیگی کے ساتھ گندم کو جو کے بدلے دینا جبکہ جو زیادہ ہو درست ہے، البتہ ادھار کے ساتھ درست نہیں ہے۔
(۲۰۹۸۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ ، أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِبَیْعِ الْحِنْطَۃِ بِالشَّعِیرِ وَالشَّعِیرُ أَکْثَرُ مِنْہُ یَدًا بِیَدٍ ، وَلاَ یَصْلُحُ نَسِیئَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا گندم کے بدلے دگنی جو لی جاسکتی ہے ؟
(٢٠٩٨٥) حضرت انیس بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے گندم کے بدلے جو کی بیع کے بارے میں سوال کیا کہ ایک کے بدلے دو دیئے جاسکتے ہیں یا نہیں ؟ جبکہ فوری ادائیگی کے ساتھ ہوں، انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۰۹۸۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ أُنَیْسِ بْنِ خَالِدٍ التَّمِیمِیِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَائً عَنِ الشَّعِیرِ بِالْحِنْطَۃِ اثْنَیْنِ بِوَاحِدٍ یَدًا بِیَدٍ ، فقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا گندم کے بدلے دگنی جو لی جاسکتی ہے ؟
(٢٠٩٨٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ گندم کو گندم کے بدلے دینا، جو کو جو کے بدلے فوری ادائیگی کے ساتھ، ایک جیسے ماپ کے ساتھ اور ایک جیسے وزن کے ساتھ دینے میں کوئی حرج نہیں، اگر کسی نے زیادتی کی تو اس نے سود دیا، البتہ جن چیزوں کے رنگ مختلف ہوجائیں تو ان کی کمی زیادتی میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۰۹۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْحِنْطَۃُ بِالْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ یَدًا بِیَدٍ کَیْلاً بِکَیْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ لاَ بأس فَمَنْ زَادَ أو اسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبَی إلاَّ مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُہُ۔ (مسلم ۸۴۔ احمد ۲/۲۶۲)
তাহকীক: