মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১০৮৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کچی کھجور کو پکی کھجور کے بدلے خریدنا
(٢١٠٨٧) حضرت زید بن ابی عیاش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد سے سوال کیا کہ بغیر چھلکے والے سفید جو کو مکئی کے بدلے لیا جاسکتا ہے ؟ انھوں نے اسے مکروہ قرار دیا اور فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کیا تازہ کھجور کو پکی کھجور کے بدلے بیچا جاسکتا ہے ؟ آپ نے سوال کیا کہ کیا تازہ کھجور خشک ہوجانے کے بعد کم ہوجائے گی ؟ لوگوں نے ہاں میں جواب دیا تو آپ نے اس درست قرار نہ دیا۔
(۲۱۰۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ زَیْدٍ أَبِی عَیَّاشٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعْدًا عَنِ السُّلْتِ بِالذُّرَۃِ فَکَرِہَہُ ، وقَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ فَقَالَ : أَیَنْقُصُ إذَا جَفَّ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَکَرِہَہُ۔ (ترمذی ۱۲۲۵۔ ابن ماجہ ۲۲۶۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৮৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کچی کھجور کو پکی کھجور کے بدلے خریدنا
(٢١٠٨٨) حضرت حکم نے تازہ کھجور کو خشک کھجور کے بدلے برابر سرابر دینے کو مکروہ قرار دیا۔
(۲۱۰۸۸) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، أَنَّہُ کَرِہَ التَّمْرَ الرُّطَب بالْیَابِسِ مِثْلاً بِمِثْلٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৮৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی اپنے غلام کے کچھ حصے کو آزاد کرسکتا ہے ؟
(٢١٠٨٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنے غلام کے کچھ حصے کو آزاد کیا، اس کا کچھ حصہ تھا یا سارا تھا، وہ غلام سارے کا سارا آزاد ہوجائے گا۔
(۲۱۰۸۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنِ الْحَارِثِ عن إبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَہُ فِی مَمْلُوکٍ لَہُ ، وَکَانَ لَہُ کُلُّہُ ، أَوْ بَعْضُہُ ، فَہُوَ عَتِیقٌ کُلُّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৮৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی اپنے غلام کے کچھ حصے کو آزاد کرسکتا ہے ؟
(٢١٠٩٠) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی باندی سے کہا کہ تیری شرمگاہ آزاد ہے، تو وہ آزاد ہوجائے گی، اسی طرح اگر اس کے جسم کے کسی ایک حصے کو آزاد کیا تو وہ ساری کی ساری آزاد ہوجائے گی۔
(۲۱۰۹۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی رَجُلٍ ، قَالَ لِجَارِیَتِہِ : فَرْجُکِ حُرٌّ ، قَالَ : ہِیَ حُرَّۃٌ ، وَإِذَا عَتَقَ مِنْہَا شَیْئٌ فَہِیَ حُرَّۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৯০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی اپنے غلام کے کچھ حصے کو آزاد کرسکتا ہے ؟
(٢١٠٩١) حضرت خالد بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر (رض) کے پاس آیا، حضرت عمر (رض) عرفہ میں تھے، اس آدمی نے کہا کہ میں نے اپنے غلام کا ایک تہائی حصہ آزاد کردیا ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ وہ سارے کا سارا آزاد ہوگیا، اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔
(۲۱۰۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی عُمَرَ وَہُوَ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ : إنِّی أَعْتَقْتُ ثُلُثَ عَبْدِی ، فَقَالَ عُمَرُ : ہُوَ حُرٌّ کُلُّہُ ، لَیْسَ للہِ شَرِیکٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৯১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی اپنے غلام کے کچھ حصے کو آزاد کرسکتا ہے ؟
(٢١٠٩٢) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جب کسی نے اپنے غلام کا کچھ حصہ آزاد کیا تو وہ سارے کا سارا آزاد ہوجائے گا۔
(۲۱۰۹۲) حَدَّثَنَا وکیع ، عن سفیان ، عن جابر ، عن عامر ، قَالَ : إذا أعتق بعضہ ، فہو حر کلہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৯২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی اپنے غلام کے کچھ حصے کو آزاد کرسکتا ہے ؟
(٢١٠٩٣) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنے غلام کا ایک تہائی آزاد کیا تو وہ دو ثلث کی آزادی کی کوشش کرے، ایک ثلث کا ضامن نہ ہوگا۔
(۲۱۰۹۳) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ فِی رَجُلٍ أَعْتَقَ ثُلُثَ عَبْدِہِ ، قَالَ : یَسْعَی لَہُ فِی الثُّلُثَیْنِ ، وَلاَ یَضْمَنُ لِبَقِیَّتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৯৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی اپنے غلام کے کچھ حصے کو آزاد کرسکتا ہے ؟
(٢١٠٩٤) حضرت ابو ملیح فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کا ایک تہائی حصہ آزاد کردیا، یہ معاملہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ وہ سارے کا سارا آزاد ہے، اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔
(۲۱۰۹۴) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ ، أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ ثُلُثَ غُلاَمٍ لَہُ ، فَرُفِعَ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : ہُوَ حُرٌّ ، لَیْسَ للہ شَرِیکٌ۔ (ابوداؤد ۳۹۲۹۔ احمد ۵/۷۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৯৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی اپنے غلام کے کچھ حصے کو آزاد کرسکتا ہے ؟
(٢١٠٩٥) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام سے کہے کہ تیرا آدھا حصہ آزاد ہے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اسلاف فرمایا کرتے تھے کہ ضمان حق ہے وہ آزاد ہوجائے گا۔ حضرت حکم کی رائے یہ تھی کہ اسے آزاد کر دے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس کے نصف کو آزاد کر دے اور باقی کے لیے وہ کوشش کرے گا۔
(۲۱۰۹۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ لِغُلاَمِہِ : نِصْفُکَ حُرٌّ ، قَالَ : إِنْ کَانَ کَمَا یَقُولُونَ : الضَّمَانُ حَقٌّ ، فَہُوَ عَتِیقٌ ، وَکَانَ مِنْ رَأْیِ الْحَکَمِ أَنْ یُعْتِقَہُ ، قَالَ : وَسَأَلْتُ حَمَّادًا فَقَالَ : یَعْتِقُ نِصْفَہُ وَیَسْعَی فِی النِّصْفِ الْبَاقِی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৯৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی اپنے غلام کے کچھ حصے کو آزاد کرسکتا ہے ؟
(٢١٠٩٦) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے غلام کے جتنے حصے کو چاہے آزاد کرسکتا ہے۔
(۲۱۰۹۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : یُعْتِقُ الرَّجُلُ مَا شَائَ مِنْ غُلاَمِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৯৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی اپنے غلام کے کچھ حصے کو آزاد کرسکتا ہے ؟
(٢١٠٩٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے اپنے غلام کو تھوڑا یا زیادہ آزاد کیا تو وہ سارے کا سارا آزاد ہوجائے گا، اور جب اس نے اپنی بیوی کو ایک انگلی یا اس سے زیادہ طلاق دی تو اسے طلاق ہوجائے گی۔
(۲۱۰۹۷) حَدَّثَنَا عبدۃ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا أَعْتَقَ من عَبْدِہِ قَلِیلاً ، أَوْ کَثِیرًا ، فَہُوَ عَتِیقٌ ، وَإِذَا طَلَّقَ مِنِ امْرَأَتِہِ إصْبَعًا ، أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَہِیَ طَالِقٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৯৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی گواہی کس چیز میں قابل قبول ہے ؟
(٢١٠٩٨) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جن چیزوں پر مرد مطلع نہیں ہوسکتے ان میں عورتوں کی گواہی درست ہے، جیسے عورتوں کے یہاں بچے کی پیدائش اور عورتوں کے عیوب وغیرہ، نومولود بچے کے سانس لینے کے بارے میں صرف دائی اور اس کے ساتھ دو عورتوں کی گواہی درست ہوگی۔
(۲۱۰۹۸) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِی ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : مَضَتِ السُّنَّۃُ أَنْ تَجُوزَ شَہَادَۃُ النِّسَائِ فِیمَا لاَ یَطَّلِعُ عَلَیْہِ غَیْرُہُنَّ مِنْ وِلاَدَاتِ النِّسَائِ وَعُیُوبِہِنَّ ، وَتَجُوزُ شَہَادَۃُ الْقَابِلَۃِ وَحْدَہَا فِی الإِسْتِہْلاَلِ ، وَامْرَأَتَانِ فِیمَا سِوَی ذَلِکَ۔ (عبدالرزاق ۱۵۴۲۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৯৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی گواہی کس چیز میں قابل قبول ہے ؟
(٢١٠٩٩) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جن چیزوں میں مردوں کی گواہی درست نہیں ان میں دو عورتوں کی گواہی کافی ہے۔
(۲۱۰۹۹) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ فِیمَا لاَ تَجُوزُ فِیہِ شَہَادَاتُ الرِّجَالِ : أَرْبَع نسوۃ ، وَقَالَ الْحَکَمُ : امْرَأَتَانِ تُجْزیَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৯৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی گواہی کس چیز میں قابل قبول ہے ؟
(٢١١٠٠) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نومولود بچے کے سانس لینے کے بارے میں عورتوں کی گواہی درست ہے۔
(۲۱۱۰۰) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : تَجُوزُ شَہَادَۃُ النِّسَائِ عَلَی الاسْتِہْلاَلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১০০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی گواہی کس چیز میں قابل قبول ہے ؟
(٢١١٠١) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ بعض گواہیاں ایسی ہیں جن میں صرف عورتوں کی گواہی جاری ہوسکتی ہے۔
(۲۱۱۰۱) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : مِنَ الشَّہَادَاتِ شَہَادَات لاَ یَجُوزُ فِیہَا إلاَّ شَہَادَاتُ النِّسَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১০১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی گواہی کس چیز میں قابل قبول ہے ؟
(٢١١٠٢) حضرت ابراہیم، حضرت حسن اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جن باتوں پر مرد مطلع نہیں ہوسکتے ان میں صرف ایک عورت کی گواہی بھی کافی ہے۔
(۲۱۱۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، وَعَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالُوا : تَجُوزُ شَہَادَۃُ امْرَأَۃٍ وَاحِدَۃٍ فِیمَا لاَ یَطَّلِعُ عَلَیْہِ الرِّجَالُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১০২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی گواہی کس چیز میں قابل قبول ہے ؟
(٢١١٠٣) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جن چیزوں میں مردوں کی گواہی درست نہیں ان میں چار عورتوں سے کم کی گواہی درست نہیں۔
(۲۱۱۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ تَجُوزُ أَقَلُّ مِنْ شَہَادَۃِ أَرْبَعِ نِسْوَۃٍ فِیمَا لاَ تَجُوزُ فِیہِ شَہَادَۃُ الرِّجَالِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১০৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی گواہی کس چیز میں قابل قبول ہے ؟
(٢١١٠٤) حضرت شریح نے دائی کی گواہی کو جائز قرار دیا۔
(۲۱۱۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ شُرَیْحٍ ، أَنَّہُ أَجَازَ شَہَادَۃَ قَابِلَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১০৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی گواہی کس چیز میں قابل قبول ہے ؟
(٢١١٠٥) حضرت علی (رض) نے دائی کی گواہی کو جائز قرار دیا۔
(۲۱۱۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُجَیٍّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، أَنَّہُ أَجَازَ شَہَادَۃَ قَابِلَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১০৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی گواہی کس چیز میں قابل قبول ہے ؟
(٢١١٠٦) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ایک دائی کی گواہی کافی ہے اور ان میں سے ایک فرماتے ہیں کہ خواہ وہ یہودیہ ہی کیوں نہ ہو۔
(۲۱۱۰۶) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، وَأَبِی حَنِیفَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : تَجُوزُ شَہَادَۃُ قَابِلَۃٍ وَاحِدَۃٍ ، وَقَالَ أَحَدُہُمَا : وَإِنْ کَانَتْ یَہُودِیَّۃً۔
tahqiq

তাহকীক: