মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১১০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی گواہی کس چیز میں قابل قبول ہے ؟
(٢١١٠٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ بعض گواہیاں ایسی ہیں جن میں صرف عورت کی گواہی جائز ہوسکتی ہے۔
(۲۱۱۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : مِنَ الشَّہَادَۃِ شَہَادَۃٌ لاَ تَجُوزُ فِیہَا إلاَّ شَہَادَۃُ امْرَأَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو گواہوں کا اختلاف ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٠٨) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر دو گواہوں کا اختلاف ہوجائے، ایک دس کی گواہی دے اور دوسرا بیس کی تو دس کا فیصلہ کیا جائے گا۔
(۲۱۱۰۸) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ شُرَیْحٍ فِی الشّاہِدینِ یَخْتَلِفَانِ فَشَہِدَ أَحَدُہُمَا عَلَی عِشْرِینَ وَالآخَرُ عَلَی عَشْرَۃٍ ، قَالَ : یُؤْخَذُ بِالْعَشَرَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو گواہوں کا اختلاف ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٠٩) حضرت ابراہیم سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۲۱۱۰۹) حَدَّثَنَا شریک ، عن جابر ، عن عامر ، وعن مغیرۃ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : مثلہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو گواہوں کا اختلاف ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١١٠) حضرت عمر بن عبداللہ بن واثلہ فرماتے ہیں کہ حضرت شریح کے پاس دو گواہوں نے گواہی دی، ایک نے زیادہ کی اور دوسرے نے کم کی گواہی دی، حضرت شریح نے کم والی گواہی کو قبول کیا۔
(۲۱۱۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ وَاثِلَۃَ ، قَالَ : شَہِدَ شَاہِدَانِ عِنْدَ شُرَیْحٍ أَحَدُہُمَا بِأَکْثَرَ وَالآخَرُ بِأَقَلَّ ، فَأَجَازَ شَہَادَتَہُمَا عَلَی الأَقَلِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو گواہوں کا اختلاف ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١١١) حضرت عمر بن عبداللہ بن واثلہ فرماتے ہیں کہ دو گواہوں نے حضرت شریح کے پاس گواہی دی، ایک نے ہزار پر اور دوسرے نے پانچ سو پر، حضرت شریح نے پانچ سو پر دی گئی گواہی کو قبول فرمایا۔
(۲۱۱۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَلِیحٍ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ وَاثِلَۃَ ، قَالَ : شَہِدَ عِنْدَ شُرَیْحٍ شَاہِدَانِ أَحَدُہُمَا عَلَی أَلْفٍ وَالآخَرُ عَلَی خَمْسِ مِئَۃٍ ، فَأَجَازَ شُرَیْحٌ شَہَادَتَہُمَا عَلَی الخَمْسِ مِئَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو گواہوں کا اختلاف ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١١٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ کم عدد پر دی گئی گواہی کو قبول کیا جائے گا۔
(۲۱۱۱۲) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لَہُ أَوْکَسُہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا حوالہ میں رجوع کی جاسکتی ہے ؟
(٢١١١٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہر حوالہ میں رجوع کی جاسکتی ہے، البتہ اگر ایک آدمی دوسرے سے یہ کہے کہ میں تجھ سے اس چیز پر بیع کرتا ہوں جو فلاں اور فلاں کے پاس ہے اور اتنے اور اتنے میں بیع کرتا ہوں، اگر وہ بیع کرلے تو رجوع نہیں کرسکتا۔
(۲۱۱۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کُلُّ حَوَالَۃٍ تَرْجِعُ إلاَّ أَنْ یَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : أَبِیعُکَ مَا عَلَی فُلاَنٍ وفلان بِکَذَا وَکَذَا ، فَإِذَا بَاعَہُ فَلاَ یَرْجِعُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا حوالہ میں رجوع کی جاسکتی ہے ؟
(٢١١١٤) حضرت حکم بن عتیبہ فرماتے ہیں کہ حوالہ میں صاحب حوالہ کی طرف رجوع نہیں کیا جاسکتا یہاں تک کہ وہ نادار ہوجائے یا مرجائے اور معاہدہ پورا کرنے کے لیے کوئی سبب نہ چھوڑے، اس لیے کہ آدمی کبھی مالدار اور کبھی نادار ہوجاتا ہے۔
(۲۱۱۱۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ ابن أَبِی غَنِیَّۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ ، قَالَ : لاَ یَرْجِعُ فِی الْحَوَالَۃِ إلَی صَاحِبِہِ حَتَّی یُفْلِسَ ، أَوْ یَمُوتَ ، وَلاَ یَدَعُ وفاء ، فَإِنَّ الرَّجُلَ یُوسِرُ مَرَّۃً وَیُعْسِرُ مَرَّۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا حوالہ میں رجوع کی جاسکتی ہے ؟
(٢١١١٥) حضرت عثمان (رض) حوالہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حوالہ میں رجوع کیا جاسکتا ہے، مسلمان کے مال کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔
(۲۱۱۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ خُلَیْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِی إیَاسٍ ، عَنْ عُثْمَانَ فِی الْحَوَالَۃِ : یَرْجِعُ ، لَیْسَ عَلَی مال مُسْلِمٍ تَوًی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا حوالہ میں رجوع کی جاسکتی ہے ؟
(٢١١١٦) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص نے مالداری کی حالت میں حوالہ کیا اور بعد میں غریب ہوگیا تو وہ مال اس کے لیے جائز ہے۔
(۲۱۱۱۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا احْتَالَ عَلَی مَلِیئٍ ، ثُمَّ أَفْلَسَ بَعْدُ ، فَہُوَ جَائِزٌ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا حوالہ میں رجوع کی جاسکتی ہے ؟
(٢١١١٧) حضرت خطاب عصفری کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک آدمی نے کسی یہودی کے پاس رکھوائے موجود مال کا حوالہ کیا اور اس یہودی نے مجھے مال دینے سے انکار کیا اور ٹال مٹول سے کام لیا تو میں نے اس بارے میں حضرت شعبی سے سوال کیا، انھوں نے فرمایا کہ پہلے سے رجوع کرو۔
(۲۱۱۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ خَطَّابٍ الْعُصْفُرِیِّ ، قَالَ : أَحَالَنِی رَجُلٌ عَلَی یَہُودِیٍّ فَلَوَّانِی ، فَسَأَلْتُ الشَّعْبِیَّ فَقَالَ: ارْجِعْ إلَی الأَوَّلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا حوالہ میں رجوع کی جاسکتی ہے ؟
(٢١١١٨) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی دوسرے کے پاس مال رکھوائے تو دوسرا اس مال کو ہلاک کردے تو پہلے سے رجوع کیا جائے گا۔
(۲۱۱۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ شُرَیْحٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یُحِیلُ الرَّجُلَ فَیَتْوَی ، قَالَ : یَرْجِعُ عَلَی الأَوَّلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا حوالہ میں رجوع کی جاسکتی ہے ؟
(٢١١١٩) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۲۱۱۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ بِنَحْوِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا حوالہ میں رجوع کی جاسکتی ہے ؟
(٢١١٢٠) حضرت شعبی نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ آدمی یہ کہے کہ میں یہ چیز تجھ سے اس چیز کے عوض خریدتا ہوں جو فلاں کے پاس ہے، حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ یہ غرر (غیر موجود چیز میں کیا جانے والا معاملہ) ہے۔
(۲۱۱۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَقُولَ : أَشْتَرِی مِنْک مَا عَلَی فُلاَنٍ ، وَقَالَ : ہُوَ غَرَرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا حوالہ میں رجوع کی جاسکتی ہے ؟
(٢١١٢١) حضرت حسن حوالہ کو برأت نہیں سمجھتے تھے، ہاں البتہ جب صاحب حق واقعی بری کردے تو بری ہوجائے گا۔
(۲۱۱۲۱) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بن معاذ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی الْحَوَالَۃَ بَرَاء ۃً إلاَّ أَنْ یُبْرِئَہُ ، فَإِذَا أَبْرَأَہُ ، فَقَدْ بَرِئَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دے تو واپس لے سکتی ہے یا نہیں ؟
(٢١١٢٢) حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے حکام کے نام ایک خط میں لکھا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو اپنی مرضی سے کوئی چیز دینا چاہیں تو دے سکتی ہیں، اگر کوئی عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دینے کے بعد واپس لینا چاہے تو وہ اس کی زیادہ حقدار ہے۔
(۲۱۱۲۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِاللہِ الثَّقَفِیِّ، قَالَ: کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، إِنَّ النِّسَائَ یُعْطِینَ أَزْوَاجَہُنَّ رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً ، فَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ أَعْطَتْ زَوْجَہَا شَیْئًا فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتَصِرَہُ فَہِیَ أَحَقُّ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دے تو واپس لے سکتی ہے یا نہیں ؟
(٢١١٢٣) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ عورت اپنے ہبہ میں رجوع نہیں کرسکتی اور آدمی بھی اپنی ہبہ کردہ چیز میں رجوع نہیں کرسکتا۔
(۲۱۱۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : لاَ تَرْجِعُ الْمَرْأَۃُ فِی ہِبَتِہَا ، وَلاَ یَرْجِعُ الرَّجُلُ فِی ہِبَتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دے تو واپس لے سکتی ہے یا نہیں ؟
(٢١١٢٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ میاں بیوی میں سے کوئی اپنی ہبہ کردہ چیز میں رجوع نہیں کرسکتا۔
(۲۱۱۲۴) حَدَّثَنَا وکیع، عن سفیان ، عن منصور ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، فی الرجل والمرأۃ لیس لواحد منہما أن یرجع فیما وہب لصاحبہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دے تو واپس لے سکتی ہے یا نہیں ؟
(٢١١٢٥) حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ میاں بیوی میں سے کوئی اپنی ہبہ کردہ چیز میں رجوع نہیں کرسکتا۔
(۲۱۱۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ الْجَزَرِیِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی الزَّوْجِ وَالْمَرْأَۃِ لَیْسَ لِوَاحِدٍ مِنْہُمَا أَنْ یَرْجِعَ فِیمَا وَہَبَ لِصَاحِبِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دے تو واپس لے سکتی ہے یا نہیں ؟
(٢١١٢٦) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک عورت اپنے خاوند کا جھگڑا لے کر حضرت شریح کے پاس آئی، اس نے اپنے خاوند کو کوئی چیز دی تھی اب واپس لینا چاہتی تھی، آدمی نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے ہیں (ترجمہ) اگر عورتیں تمہیں اپنے دل کی خوشی سے کوئی چیز دے دیں تو اسے سہولت سے کھالو۔ حضرت شریح نے فرمایا کہ اگر وہ خوشی سے دیتی تو تجھ سے جھگڑا نہ کرتی۔
(۲۱۱۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : جَائَتِ امْرَأَۃٌ تُخَاصِمُ زَوْجَہَا إلَی شُرَیْحٍ فِی شَیْئٍ أَعْطَتْہُ إیَّاہُ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَلَیْسَ قَدْ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی : (فَإِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْئٍ مِنْہُ نَفْسًا فَکُلُوہُ ہَنِیئًا مَرِیئًا) فَقَالَ شُرَیْحٌ : لَوْ طَابَتْ بِہِ نَفْسُہَا لَمْ تُخَاصِمْک۔
tahqiq

তাহকীক: