মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২১১২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دے تو واپس لے سکتی ہے یا نہیں ؟
(٢١١٢٧) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اس صورت میں دو عادل آدمی گواہی دیں کہ عورت نے مرد پر اپنے حق کو بغیر کسی زبردستی اور مجبوری کے چھوڑا ہے۔
(۲۱۱۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ شُرَیْحٍ : شَاہِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّہَا تَرَکَتْہُ مِنْ غَیْرِ کُرْہٍ ، وَلاَ ہَوَانٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دے تو واپس لے سکتی ہے یا نہیں ؟
(٢١١٢٨) حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر عورت خاوند کو کوئی چیز ہبہ کرکے اس میں رجوع کرنا چاہے تو وہ چیز اسے واپس کی جائے گی۔
(۲۱۱۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ زَمْعَۃَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ طَاوُوس ، قَالَ : إذَا وَہَبَتِ الْمَرْأَۃُ لِزَوْجِہَا ، ثُمَّ رَجَعَتْ فِیہِ یُرَدُّ إلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دے تو واپس لے سکتی ہے یا نہیں ؟
(٢١١٢٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب عورت نے اپنے خاوند کو دل کی خوشی سے کوئی چیز دی تو یہ درست ہے، حضرت منصور فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے تو اچھی نہیں لگتی۔
(۲۱۱۲۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: إذا أَعْطَتِ الْمَرْأَۃُ زَوْجَہَا وَہِیَ طَیِّبَۃُ النَّفْسِ، فَہُوَ جَائِزٌ ، وَقَالَ مَنْصُورٌ : لاَ یُعْجِبُنِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے خاوند کو کوئی چیز دے تو واپس لے سکتی ہے یا نہیں ؟
(٢١١٣٠) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ خاوند جو چیز بیوی کو دے وہ اس کے لیے جائز ہے اور بیوی جو چیز خاوند کو دے وہ اس کے لیے درست نہیں۔
(۲۱۱۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ وَوَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : یَجُوزُ لَہَا مَا أَعْطَاہَا زَوْجُہَا ، وَلاَ یَجُوزُ لَہُ مَا أَعْطَتْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی دوسرے کے پاس زمین رہن رکھوا سکتا ہے ؟
(٢١١٣١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے دوسرے کے پاس کوئی چیز بطور رہن کے رکھوائی تو وہ اس میں کام کاج نہیں کرسکتا، اگر وہ اس میں کوئی کام کرتا ہے تو زمین والے کو اس زمین کا پورا پورا کرایہ ادا کرنا ہوگا۔
(۲۱۱۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا ارْتَہَنَ الرَّجُلُ الأَرْضَ فَلَیْسَ لَہُ أَنْ یَعْمَلَ فِیہَا شَیْئًا ، فَإِنْ عَمِلَ فیہا شیئا حُسِبَ لِصَاحِبِ الأَرْضِ مِنْ رَہْنِہِ مثلُ أَجْرَ مِثْلِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی دوسرے کے پاس زمین رہن رکھوا سکتا ہے ؟
(٢١١٣٢) حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے مہر کے بدلے اپنی بیوی کے پاس اپنی زمین بطور رہن کے رکھوائی اور عورت نے اس کا غلہ کھایا تو یہ اس کے مہر میں سے شمار نہیں کیا جائے گا۔
(۲۱۱۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ فِی رَجُلٍ رَہَنَ امْرَأَتَہُ أَرْضًا بِصَدَاقِہَا فَأَکَلَتْ مِنَ الْغَلَّۃِ ، قَالَ : لاَ تُحْسَبُ عَلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی دوسرے کے پاس زمین رہن رکھوا سکتا ہے ؟
(٢١١٣٣) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی باندی رہن رکھوائی، اس کا ایک بیٹا تھا جسے اس نے دودھ پلایا، تو اس کے دودھ پلانے کا اجر شمار کیا جائے گا۔
(۲۱۱۳۳) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ ؛ فِی رَجُلٍ ارْتَہَنَ مَمْلُوکَۃً لَہَا ابْنٌ فأَرْضَعَتْ لَہُ ، قَالَ : یُحْسَبُ لَہُ أَجْرُ مِثْلِہَا بِمَا أَرْضَعَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی دوسرے کے پاس زمین رہن رکھوا سکتا ہے ؟
(٢١١٣٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی نے رہن شدہ چیز سے استفادہ کیا تو اس کا حساب لگایا جائے گا۔
(۲۱۱۳۴) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا انْتَفَعَ مِنَ الرَّہْنِ بِشَیْئٍ قَاصَّہُ بِقَدْرِ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی دوسرے کے پاس زمین رہن رکھوا سکتا ہے ؟
(٢١١٣٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کے پاس گھر رہن کے طور پر رکھوایا یا غلام رکھوایا اور اس نے اسے استعمال کیا تو وہ فائدہ رہن میں سے شمار ہوگا۔
(۲۱۱۳۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی رَجُلٍ ارْتَہَنَ دَارًا ، أَوْ غُلاَمًا فَاسْتَغَلَّہُ ، قَالَ : الْغَلَّۃُ مِنَ الرَّہْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وارث یا غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٣٦) حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے وارث کے لیے قرض کا اقرار کیا تو جائز ہے۔
(۲۱۱۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : إذَا أَقَرَّ لِوَارِثٍ بِدَیْنٍ جَازَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وارث یا غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٣٧) حضرت حسن سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں اسے اس پر لازم کرتا ہوں اس سے دور نہیں کرتا۔
(۲۱۱۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، قَالَ : سُئِلَ الْحَسَنُ عَنْہُ فَقَالَ : أُحَمِّلُہَا إیَّاہُ ، وَلاَ أَتَحَمَّلُہَا عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وارث یا غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٣٨) حضرت حکم، حضرت ابراہیم، حضرت شعبی اور حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر مرض الوفات میں کوئی شخص کسی وارث کے لیے قرض کا اقرار کرے تو گواہی کے بغیر جائز نہیں اور اگر غیر وارث کے لیے کیا تو جائز ہے۔
(۲۱۱۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، وَعَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، وَعَنْ سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالوا : إذَا أَقَرَّ فِی مَرَضٍ لِوَارِثٍ بِدَیْنٍ لَمْ یَجُزْ إلاَّ بِبَیِّنَۃٍ ، وَإِذَا أَقَرَّ لِغَیْرِ وَارِثٍ جَازَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وارث یا غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٣٩) حضرت ابن اذینہ فرماتے ہیں کہ وارث کے لیے قرضہ کا اقرار جائز نہیں۔
(۲۱۱۳۹) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ ابْنِ أُذَیْنَۃَ ؛ فِی الرَّجُلِ یُقِرُّ لِوَارِثٍ بِدَیْنٍ ، قَالَ : لاَ یَجُوزُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وارث یا غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٤٠) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مریض کا اقرار جائز نہیں۔
(۲۱۱۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ یَجُوزُ إقْرَارُ الْمَرِیضِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وارث یا غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٤١) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وارث کے لیے قرض کا اقرار جائز ہے۔
(۲۱۱۴۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی رَجُلٍ أَقَرَّ لِوَارِثٍ بِدَیْنٍ ، قَالَ : جَائِزٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وارث یا غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٤٢) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ موت کے وقت غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار جائز ہے لیکن وارث کے لیے بغیر گواہی کے جائز نہیں۔
(۲۱۱۴۲) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، أَنَّہُ کَانَ یُجِیزُ اعْتِرَافَ الرَّجُلِ عِنْدَ مَوْتِہِ بِالدَّیْنِ لِغَیْرِ وَارِثٍ ، وَلاَ یُجِیزُہُ لِوَارِثٍ إلاَّ بِبَیِّنَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وارث یا غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٤٣) حضرت میمون فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مرض میں قرض کا اقرار کرے تو جائز ہے، کیونکہ اگر حالت صحت میں کرتا تو بھی جائز ہوتا اور جب حالت مرض میں کررہا ہے تو بطریقِ اولیٰ جائز ہونا چاہیے۔
(۲۱۱۴۳) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَیُّوبَ الْمَوْصِلِیُّ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَیْمُونٍ ، قَالَ : إذَا أَقَرَّ الرَّجُلُ بِدَیْنٍ فِی مَرَضِہِ فَأَرَی أَنْ یَجُوزَ عَلَیْہِ لأَِنَّہُ لَوْ أَقَرَّ بِہِ وَہُوَ صَحِیحٌ جَازَ وَأَصْدَقُ مَا یَکُونُ عِنْدَ مَوْتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٤٤) حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی ایک مقررہ مدت تک غلے کی بیع کرے تو وہ مدت پوری ہوجانے کے بعد خودبخود غلے کو اٹھا نہیں سکتا، حضرت جابر بن زید ابو شعثاء فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے دینار خرچ کردو تو جو چاہو لے سکتے ہو۔
(۲۱۱۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : إذَا بِعْتَ طَعَامًا إلَی أَجَلٍ فَحَلَّ الأَجَلُ فَلاَ تَأْخُذْ طَعَامًا ، قَالَ : وَقَالَ جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ أَبُو الشَّعْثَائِ : إذَا حَلَّ دِیْنَارکَ فَخُذْ بِہِ مَا شِئْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٤٥) حضرت محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے فرمایا کہ میں نے ایک آدمی کو کھجوریں بیچیں، کیا میں کھجوروں کی قیمت سے کھجوریں خرید سکتا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا کہ نہیں، ایسا غلہ نہ لو جسے کیل یا وزن کیا جاتا ہے۔
(۲۱۱۴۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ: بِعْتُ مِنْ رَجُلٍ تَمْرًا آخُذُ مِنْ ثَمَنِ تَمْرِی تَمْرًا ؟ قَالَ : لاَ تَأْخُذَنَّ طَعَامًا مَا یُکَالُ وَیُوزَنُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٤٦) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جب تم نے غلے کو ایک مدت تک کے لیے فروخت کیا، اور تم نے اپنا مال ادا کردیا تو تم اپنے سامان میں سے جو چاہو لے لو، البتہ اگر غلہ لو تو صرف اپنا غلہ ہی لو۔
(۲۱۱۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : إذَا بِعْت طَعَامًا إلَی أَجَلٍ فَحَلَّ مَالُکَ فَخُذْ بِہِ مِنَ الْعُرُوضِ مَا شِئْتَ ، لاَ تَأْخُذْ طَعَامًا إلا طعامک بِعَیْنِہِ۔
তাহকীক: