মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১১৪৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٤٧) حضرت ابو سلمہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ آدمی دوسرے آدمی کو ایک مدت تک کے لیے ایک ریوڑ فروخت کرے، جب وہ مدت آئے تو وہ ریوڑ کو واپس لے کر بیع کو ختم کرنے کا ارادہ کرے۔
(۲۱۱۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُبَارَکٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ فِی رَجُلٍ بَاعَ مِنْ رَجُلٍ غَنَمًا إلَی أَجَلٍ ، فَلَمَّا حَلَّ الأَجَلُ أَرَادَ أَنْ یَأْخُذَ غَنَمًا وَیُقَاصَّہُ فَکَرِہَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৪৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٤٨) حضرت حارث اور حضرت حماد نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ آدمی غلے کا ایک کرّ چالیس میں ادھار پر خریدے اور پھر چالیس کے بغیر اس جیسا غلہ خرید لے۔
(۲۱۱۴۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ وَحَمَّادٍ أَنَّہُمَا کَانَا یَکْرَہَانِ أَنْ یَبِیعَ الرَّجُلُ طَعَامًا الْکُرُّ بِأَرْبَعِینَ نَسأً ، ثُمَّ یَشْتَرِیَ مِنْہُ طَعَامًا ، مِثْلَہُ بِدُونِ الأَرْبَعِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৪৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٤٩) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کوئی کیلی یا موزونی چیز جب ایک مدت تک کے لیے بیچو اور جب وہ مدت آجائے تو ان دونوں کو نہ لو بلکہ ایسی چیز لو جو ان کے مخالف ہو۔
(۲۱۱۴۹) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إذَا بِعْتَ بَیْعًا مِمَّا یُکَالُ وَیُوزَنُ إلَی أَجَلٍ فَحَلَّ أَجَلُکَ فَلاَ تَأْخُذْہما وُخذْ مَا خَالَفَاہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৪৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٥٠) حضرت سعید بن مسیب اور حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک مقررہ مدت تک کے لیے سونے کے بدلے غلہ خریدے تو مدت کے آنے پر کھجوریں نہ لے۔
(۲۱۱۵۰) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، قَالاَ : مَنْ بَاعَ طَعَامًا بِذَہَبٍ إلَی أَجَلٍ فَحَلَّ الأَجَلُ ، فَلاَ یَأْخُذْ بِہِ تَمْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৫০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٥١) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کیل کرکے نہ لو۔
(۲۱۱۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ تَأْخُذْ کَیْلاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৫১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٥٢) حضرت ابراہیم بن نافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاوس سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے دوسرے کو گندم ایک مدت تک کے لیے بیچی، جب مدت آئی تو کیا وہ دراہم کی جگہ گندم لے سکتا ہے، انھوں نے فرمایا نہیں۔
(۲۱۱۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ طَاوُوسًا ، عَنْ رَجُلٍ بَاعَ رَجُلاً بُرًّا إلَی أَجَلٍ ، فَلَمَّا حَلَّ الأَجَلُ أَیَأْخُذُ بُرًّا مَکَانَ دَرَاہِمِہِ ؟ قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৫২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٥٣) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ دراہم کی جگہ گندم لینے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۱۱۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عن سفیان عن جابر عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَأْخُذَ بُرًّا مَکَانَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৫৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٥٤) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو ایک مدت تک کے لیے گندم بیچی، جب وہ مدت آئی تو اس کے پاس دراہم نہیں تھے تو وہ جو چاہے لے لے۔
(۲۱۱۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَبِیعُ الطَّعَامَ إلَی أَجَلٍ فَیَحِلُّ فَلاَ یَجِدُ عِنْدَہُ دَرَاہِمَ ، قَالَ : خُذْ مَا شِئْتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৫৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٥٥) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ جو چاہو لے لو۔
(۲۱۱۵۵) حَدَّثَنَا وکیع ، عن سفیان ، عن حماد ، قَالَ : خذ ما شئت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৫৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٥٦) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ یہ غلہ غلے کے بدلے ہوگا۔
(۲۱۱۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : ذَلِکَ طَعَامٌ بِطَعَامٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৫৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٥٧) حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت محمد سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص سامان کو ایک مدت تک کے لیے بیچے اور جب وہ مدت آجائے تو کیا وہ سامان لے سکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ایک شخص اپنے مقروض کے پاس جاتا ہے اور اس سے یہ لے لیتا ہے۔ ان سے کہا گیا کہ کیا وہ غلہ بیچ رہا ہے اور غلہ ہی لے رہا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہتا۔
(۲۱۱۵۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ : سُئِلَ مُحَمَّدٌ عَنِ الرَّجُلِ یَبِیعُ الْمَتَاعَ إلَی أَجَلٍ فَیَحِلُّ الأَجَلُ ، أَیَأْخُذُ مَتَاعًا ؟ فَقَالَ : قَدْ کَانَ الرَّجُلُ یَأْتِی غَرِیمَہُ فَیَأْخُذُ مِنْہُ ، فَقِیلَ لَہُ : أَیَبِیعُ طَعَامًا وَیَأْخُذُ طَعَامًا ؟ قَالَ : فَإِنِّی لاَ أَقُولُ فِیہِ شَیْئًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৫৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نقد ادائیگی کے بعد ایک مقررہ مدت پر غلے کی بیع کرنا
(٢١١٥٨) حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس شخص کے بارے میں فیصلہ فرمایا جو فوت ہوجائے اور اس نے کسی کا غلہ دینا ہو تو غلہ نہیں لیا جائے گا۔
(۲۱۱۵۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِی ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، قَالَ : قضَی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی دَیْنِ الْمُتَوَفَّی مِنْ طَعَامٍ ، قَالَ : لاَ یَأْخُذُ الطَّعَامَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৫৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی گھر خریدے اور اس کی تعمیر کرے، پھر شفیع یا مستحق نکل آئیں تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٥٩) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی گھر خریدنے کے بعد اس کی تعمیر کرے پھر شفعہ کرنے والا آجائے تو وہ یا تو اس کی عمارت کے ساتھ لے گا یا اس کی قیمت ادا کرے گا۔ حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اس کی عمارت کو گرا کر وہ لے سکتا ہے۔
(۲۱۱۵۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی الرَّجُلِ یَشْتَرِی الدَّارَ فَیَبْنِیہَا ، ثُمَّ یَجِیئُ الشَّفِیعُ ، قَالَ: یَأْخُذُہا بِبُنْیَانِہَا ، أَوْ بقیمتہا ، وَقَالَ حَمَّادٌ : یَقْلَعُ بِنَائَہَا وَیَأْخُذُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৫৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی گھر خریدے اور اس کی تعمیر کرے، پھر شفیع یا مستحق نکل آئیں تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٦٠) حضرت خالد حذاء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے گھر خرید کر اسے تعمیر کیا، پھر ایک آدمی اس میں مستحق نکل آیا تو زمین اور عمارت کی قیمت لگوائی جائے گی، اگر وہ چاہے تو عمارت کی قیمت ادا کرکے لے لے، اور اگر انکار کرے تو زمین کو اس کی قیمت کے ساتھ گاہک کے حوالے کردے۔
(۲۱۱۶۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ ، أَنَّ رَجُلاً اشْتَرَی دَارًا فَبَنَاہَا ، ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ فَاسْتَحَقَّہَا ، فَکَتَبَ أَنْ تُقَوَّمَ الْعَرْصَۃُ وَیُقَوَّمَ الْبِنَائُ ، فَإِنْ شَائَ أَخَذَ الْبِنَائَ بِقِیمَتِہِ ، وَإِنْ أَبَی سَلَّمَ الْعَرْصَۃَ بِقِیمَتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৬০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی گھر خریدے اور اس کی تعمیر کرے، پھر شفیع یا مستحق نکل آئیں تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٦١) حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اس کی عمارت گرائی جائے گی۔
(۲۱۱۶۱) قَالَ وَکِیعٌ : قَالَ سُفْیَانُ : یَقْلَعُ بِنَائَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৬১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکان کو مہر بنا کرشادی کرنے کا حکم
(٢١١٦٢) حضرت حارث عکلی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے ایک مکان کے عوض شادی کرے پھر مکان کا شفیع مکان کو طلب کرے تو عورت کو اس کا مہر مثلی ملے گا، ابن شبرمہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ نہیں البتہ شفیع اس کی قیمت لے سکتا ہے۔
(۲۱۱۶۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ ، عَنِ ابن عِکْرِمَۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُکْلِیِّ فِی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً عَلَی دَارٍ ، فَطَلَبَ شَفِیعُ الدَّارِ الدَّارَ ، قَالَ : یَأْخُذُہَا بِصَدَاقِ مِثْلِ الْمَرْأَۃِ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَۃَ : لَسْتُ أَرَی ذَلِکَ وَلَکِنْ یَأْخُذُہَا الشَّفِیعُ بِالْقِیمَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৬২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکان کو مہر بنا کرشادی کرنے کا حکم
(٢١١٦٣) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ مہر میں شفعہ نہیں ہوسکتا۔
(۲۱۱۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لَیْسَ فِی صَدَاقٍ شُفْعَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৬৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکان کو مہر بنا کرشادی کرنے کا حکم
(٢١١٦٤) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مہر میں شفعہ نہیں ہوسکتا۔
(۲۱۱۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حدِّثْتُ عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَیْسَ فِی صَدَاقٍ شُفْعَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৬৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکان کو مہر بنا کرشادی کرنے کا حکم
(٢١١٦٥) حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے کسی مکان کے عوض عورت سے نکاح کیا تو شفیع مکان کی قیمت لے سکتا ہے۔
(۲۱۱۶۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ؛ فِی الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ عَلَی الدَّارِ ، قَالَ : یَأْخُذُہَا الشَّفِیعُ بِقِیمَۃِ الدَّارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৬৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے کسی کا قرضہ دینا ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کہا ں ہے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١١٦٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر تم پر کسی آدمی کا قرضہ ہو اور تمہیں معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے یا اس کے ورثاء کہاں ہیں تو اس کی طرف سے صدقہ کردو، اس کے بعد اگر وہ آجائے تو اسے اختیار دے دو ۔
(۲۱۱۶۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذا کَانَ عَلَیْکَ دَیْنٌ لِرَجُلٍ فَلَمْ تَدْرِ أَیْنَ ہُوَ وَأَیْنَ وَارِثُہُ ؟ فَتَصَدَّقْ بِہِ عَنْہُ ، فَإِنْ جَائَ فَخَیِّرْہُ۔
tahqiq

তাহকীক: