মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১১৮৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٨٧) حضرت ابن معقل فرماتیء ہیں کہ مضافاتی علاقوں میں اہل بانقیائ، اہل حیرہ اور اہل الیس کے علاوہ کوئی جگہ نہ خریدو۔
(۲۱۱۸۷) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : لاَ تَشْتَرِ مِنْ أَرْضِ السَّوَادِ شَیْئًا إلاَّ مِنْ أَہْلِ بَانِقْیَاء وَأَہْلِ الْحِیرَۃِ وَأَہْلِ أُلَّیْسٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৮৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٨٨) حضرت حسن اور حضرت محمد نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ سلطان سے جزیہ والی زمین خریدی جائے۔
(۲۱۱۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ أَنَّہُمَا کَرِہَا أَنْ یُشْتَرَی مِنَ السُّلْطَانِ مِنْ أَرْضِ الْجِزْیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৮৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٨٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ایک حکم نامے میں تحریر فرمایا کہ ذمیوں کی زمین اور ان کے علاقوں سے کچھ نہ خریدو۔
(۲۱۱۸۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَال : کَتَبَ عُمَرُ : لَیْسَ لَکُمْ أَنْ تَشْتَرُوا مِنْ عَقَارِ أَہْلِ الذِّمَّۃِ ، وَلاَ مِنْ بِلاَدِہِمْ شَیْئًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৮৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٩٠) حضرت نعیم بن سلامہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ایک آدمی کو زمین دی جس کا جزیہ دیا جاتا تھا۔
(۲۱۱۹۰) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ رَجَائِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی نُعَیْمُ بْنُ سَلاَمَۃَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ دَفَعَ إلَی رَجُلٍ أَرْضًا یُؤَدِّی عَنْہَا الْجِزْیَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৯০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٩١) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین کی کچھ زمین تھی جس کا وہ خراج ادا کرتے تھے۔
(۲۱۱۹۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حباب ، قَالَ : أَخْبَرَنِی رَجَاء ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَتْ لَہُمْ أَرْضٌ یُؤَدُّونَ عَنْہَا الْخَرَاجَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৯১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٩٢) حضرت ابان بن صمعہ کہتے ہیں کہ میں نے بکر بن عبداللہ مزنی سے سوال کیا کہ کیا خراجی زمین کو اس کے چشموں کے ساتھ خریدا جاسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا کہ تم اپنی گردنوں میں ذلت کا طوق ڈالو جبکہ اللہ تمہیں اس سے نجات دے چکا ہے۔
(۲۱۱۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَۃَ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمُزَنِیّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ، عَنْ شِرَائِ أَرْضِ الْخَرَاجِ بِمَائِہَا ، فَقَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تَجْعَلُوا فِی أَعْنَاقِکُمْ صَغَارًا بَعْدَ إذ أَنْقَذَکُمَ اللَّہُ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৯২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٩٣) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے خراجی زمین کو خریدنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ وہ ذلت کو اپنی گردن سے نکال کر تمہاری گردن میں ڈالنا چاہتا ہے ؟
(۲۱۱۹۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَہ عَنْ شِرَائِ أَرْضِ الْخَرَاجِ ، أَوْ شَیْئٍ ہَذَا مَعْنَاہُ ، فَقَالَ : تُخْرِجُ الصَّغَارَ مِنْ عُنُقِہِ فَتَجْعَلُہُ فِی عُنُقِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৯৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٩٤) حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے جزیہ والی زمین کے خریدنے کو مکروہ قرار دیا۔
(۲۱۱۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سَلاَّمِ بْنِ مِسْکِینٍ، قَالَ: حدَّثَنِی شَیْخٌ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ الزُّبَیْرِ یَکْرَہُ شِرَائَ أَرْضِ الْجِزْیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৯৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٩٥) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ذمیوں کے غلاموں کو نہ خریدو، کیونکہ وہ خراج والے ہیں اور ایک دوسرے کو بیچتے ہیں اور ان کی زمینیں بھی نہ خریدو۔
(۲۱۱۹۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ : عَنْ أَبِی عِیَاضٍ ، عَنْ سُفْیَانَ الْعُقَیْلِیِّ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : لاَ تَشْتَرُوا مِنْ رَقِیقِ أَہْلِ الذِّمَّۃِ شَیْئًا فَإِنَّہُمْ أَہْلُ خَرَاجٍ ، یَبِیعُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، وَلاَ مِنْ أَرْضِہِمْ۔ (عبدالرزاق ۱۹۲۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৯৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٩٦) حضرت علی (رض) خراجی زمینوں کے خریدنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان زمینوں پر مسلمانوں کا خراج لازم ہے۔
(۲۱۱۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُشْتَرَی مِنْ أَرْض الخراج شَیْء وَیَقُولُ : عَلَیْہَا خَرَاجُ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৯৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٩٧) حضرت ابن عباس (رض) نے ذمیوں سے کسی چیز کے خریدنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
(۲۱۱۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ شِرَائَ أَرْضِ السَّوَادِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৯৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٩٨) حضرت عبد الرحمن بن حازم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے خراجی زمینوں کو خریدنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ انھیں نہ بیچو اور نہ ہی خریدو۔
(۲۱۱۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُُہُ عَنْ شِرَائِ أَرْضِ الْخَرَاجِ فَقَالَ : لاَ تَبِعْہَا ، وَلاَ تَشْتَرِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৯৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خراجی زمین کو خریدنے کا بیان
(٢١١٩٩) حضرت مجاہد نے جزیہ والی زمین کے خریدنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
(۲۱۱۹۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ شِرَائَ أَرْضِ الْجِزْیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৯৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں عیب نظر آئے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٢٠٠) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت شریح اس بیماری پر قسم دلوایا کرتے تھے جو نظر نہیں آسکتی، اس کے علم پر اور ظاہرپر۔
(۲۱۲۰۰) حَدَّثَنَا أبو بکر بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَانَ شُرَیْحٌ یَسْتَحْلِفُ عَلَی الدَّائِ الَّذِی لاَ یُرَی عَلَی عِلْمِہِ ، وَعَلَی الظَّاہِرِ البتۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২০০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں عیب نظر آئے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٢٠١) حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے آٹھ سو درہم کا ایک غلام فروخت کیا، پھر مشتری کو اس میں عیب نظر آیا تو وہ یہ مقدمہ لے کر حضرت عثمان (رض) کے پاس حاضر ہوا ، حضرت عثمان (رض) نے اس بارے میں حضرت ابن عمر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ میں نے اسے برأت کے ساتھ بیچا تھا، حضرت عثمان (رض) نے حضرت ابن عمر (رض) سے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی قسم کھاتے ہو کہ تم نے اسے بیچا تھا تو اس وقت تمہیں اس میں کسی عیب کا علم نہیں تھا۔
(۲۱۲۰۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَاعَ غُلاَمًا بِثَمَانِ مِئَۃِ دِرْہَمٍ ، فَوَجَدَ بِہِ الْمُشْتَرِی عَیْبًا ، فَخَاصَمَہُ إلَی عُثْمَانَ ، قَالَ : فَسَأَلَہُ عُثْمَانُ فَقَالَ : بِعْتُہُ بِالْبَرَائَۃِ ، فَقَالَ : أَتَحْلِفُ لَہُ: لَقَدْ بِعْتُہُ وَمَا بِہِ عَیْبٌ تَعْلَمُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২০১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں عیب نظر آئے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٢٠٢) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کوئی سامان خریدے اور پھر اس میں عیب پائے تو خریدار کو اس بات پر گواہی کی ضرورت ہوگی کہ یہ عیب بائع کے پاس ہی تھا، اگر گواہی مل جائے تو ٹھیک وگرنہ بائع سے قسم لی جائے گی کہ اسے اس عیب کا علم نہ تھا، حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ علم کی قسم لی جائے گی۔
(۲۱۲۰۲) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَشْتَرِی الْمَتَاعَ ، أَوِ السِّلْعَۃَ فَیَجِدُ بِہِ الْعَیْبُ ، قَالَ : یَلْتَمِسُ الْمُبْتَاعُ الْبَیِّنَۃَ ، أَنَّہُ کَانَ عِنْدَ الْبَائِعِ ، فَإِنْ وَجَدَ وَإِلاَّ اسْتُحْلِفَ الْبَائِعُ عَلَی عِلْمِہِ ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ : یَحْلِفُ عَلَی عِلْمِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২০২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں عیب نظر آئے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٢٠٣) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے باندی خریدی اور پھر دیکھا کہ اس میں چیچک کی بیماری تھی اور خریدار کے پاس گواہ بھی نہیں تھے تو بائع سے قسم لی جائے گی کہ جب اس نے بیچا تو چیچک نہیں تھی۔
(۲۱۲۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ فِی رَجُلٍ اشْتَرَی جَارِیَۃً وَبِہَا بَرَصٌ وَلَیْسَ لَہ شُہُودٌ ، قَالَ: یَحْلِفُ الْبَائِعُ بِاللَّہِ : مَا بَاعَہَا وَبِہَا بَرَصٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২০৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں عیب نظر آئے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٢٠٤) حضرت عمر بن ذر فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن عبد الرحمن اس بات پر قسم لیا کرتے تھے کہ بائع نے جب اس چیز کو حوالے کیا تو اس کے عیب کا اسے علم نہیں تھا، حضرت شعبی یمین مرسلہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا گناہ اس پر ہے جو جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے۔
(۲۱۲۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، قَالَ : کَانَ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَسْتَحْلِفُ الرَّجُلَ مَا یَدْفَعُہُ عَنْ حَقٍّ یَعْلَمُہُ لَہُ ، وَقَالَ الشَّعْبِیُّ فِی الْیَمِینِ الْمُرْسَلَۃِ : إنَّمَا إِثْمُہُ وَبِرُّہُ عَلَی مَا تَعَمَّدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২০৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں عیب نظر آئے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٢٠٥) حضرت عطاء مدینی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کچھ سامان بیچا، پھر مشتری نے عیب کا دعویٰ کردیا، اور وہ یہ جھگڑا لے کر حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس حاضر ہوا، مشتری نے کہا کہ اللہ کی قسم کھاؤ کہ جب تم نے مجھے بیچا تھا تو اس میں کوئی عیب نہیں تھا، بائع نے کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں کہ جب میں نے تمہیں یہ چیز بیچی تھی تو مجھے اس میں کسی عیب کا علم نہیں تھا، حضرت عثمان (رض) نے فرمایا کہ اس آدمی نے تم سے انصاف کیا۔
(۲۱۲۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عطَائٍ الْمَدِینِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ رَجُلاً بَاعَ رَجُلاً سِلْعَۃً ، فَادَّعَی الْمُشْتَرِی عَیْبًا ، فَخَاصَمَہُ إلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَقَالَ الْمُشْتَرِی : احْلِفْ بِاللَّہِ : مَا بِعْتنِی عیبًا، فَقَالَ: الْبَائِعُ: أَحْلِفُ بِاللَّہِ: لَقَدْ بِعْتُکَ وَمَا أَعْلَمُ بِہَا عَیْبًا ، قَالَ : فَقَالَ : عُثْمَانُ : أَنْصَفَک الرَّجُلُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২০৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں عیب نظر آئے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٢٠٦) حضرت زبیر بن جنادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے سوال کیا کہ کیا میں خراج والی بنجر زمین کو کھیتی باڑی کے لیے خرید سکتا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ کیا اس کا خراج ادا کیا جائے گا ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ میں چھوٹوں کے لیے اقرار کرتا ہوں، انھوں نے کہا کہ یہ بات مردوں کے سروں میں ہوتی ہے۔
(۲۱۲۰۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی الزُّبَیْرُ بْنُ جُنَادَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَالِمًا عَنْ أَرْضٍ بَیْضَائَ اشْتَرَیْتُہَا مِمَّنْ یَمْلِکُ رَقَبَتِہَا لأَبْنِیَ فِیہَا ، قَالَ : لاَ بَأْسَ ، قَالَ : فَقُلْت : یُؤَدَّی عَنْہَا الْخَرَاجَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ ، قُلْتُ : أُقِرُّ بِالصَّغَارِ ، قَالَ : إنَّمَا ذَلِکَ فِی رُؤُوسِ الرِّجَالِ۔
tahqiq

তাহকীক: