মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১২০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بکریوں کے تھنوں میں دودھ بھر کر انھیں فروخت کرنا درست نہیں
(٢١٢٠٧) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ بکریوں کے تھنوں میں دودھ بھر کر انھیں فروخت کرنے سے اجتناب کرو، کیونکہ یہ دھوکا ہے اور دھوکا کسی مسلمان کے لیے درست نہیں۔
(۲۱۲۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ خَیْثَمَۃَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَ لِی عَبْدُ اللہِ : إیَّاکُمْ وَبَیْعَ الْمُحَفَّلاَتِ فَإِنَّہَا خِلاَبَۃٌ ، وَلاَ تَحِلُّ الْخِلاَبَۃُ لِمُسْلِمٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بکریوں کے تھنوں میں دودھ بھر کر انھیں فروخت کرنا درست نہیں
(٢١٢٠٨) حضرت قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ بکریوں کے تھنوں کو بھر کر انھیں فروخت کرنا دھوکا ہے۔
(۲۱۲۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : کَانَ یُقَالُ : التَّصْرِیَۃُ خِلاَبَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بکریوں کے تھنوں میں دودھ بھر کر انھیں فروخت کرنا درست نہیں
(٢١٢٠٩) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ شہر کے باہر سے آنے والے تجارتی قافلے کو شہر کے باہر جا کر نہ ملو اور جانوروں کے تھنوں کو دودھ سے بھر کر فروخت نہ کرو۔
(۲۱۲۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَسْتَقْبِلُوا ، وَلاَ تُحَفِّلُوا۔ (ترمذی ۱۲۶۸۔ احمد ۱/۲۵۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بکریوں کے تھنوں میں دودھ بھر کر انھیں فروخت کرنا درست نہیں
(٢١٢١٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم اونٹنی یا بکری کو بیچو تو اس کے تھنوں میں دودھ روک کر مت بیچو۔
(۲۱۲۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُبَارَکٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا بَاعَ أَحَدُکُمُ اللِّقْحَۃَ ، أَوِ الشَّاۃَ فَلاَ یُحَفِّلْہَا۔

(احمد ۲/۴۸۱۔ ابن ماجہ ۲۲۴۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بکریوں کے تھنوں میں دودھ بھر کر انھیں فروخت کرنا درست نہیں
(٢١٢١١) حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ صادق ومصدوق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جانوروں کے تھنوں میں دودھ روک کرا سے فروخت کرنا دھوکا ہے اور دھوکا دینا مسلمان کے لیے حلال نہیں۔
(۲۱۲۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِیِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حدَّثَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ، قَالَ : بَیْعُ الْمُحَفَّلاَتِ خِلاَبَۃٌ ، وَلاَ تَحِلُّ الْخِلاَبَۃُ لِمُسْلِمٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بچے کی خرید وفروخت کا حکم
(٢١٢١٢) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ بچے کے لیے خریدو فروخت کرنا اور غلام کو آزاد کرنا درست نہیں۔
(۲۱۲۱۲) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لاَ یَجُوزُ عِتْقُ الصَّبِیِّ ، وَلاَ بَیْعُہُ ، وَلاَ شِرَاؤُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بچے کی خرید وفروخت کا حکم
(٢١٢١٣) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ بچہ ولی کی اجازت کے بغیر خریدو فروخت کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
(۲۱۲۱۳) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : لاَ یَجُوزُ شِرَاء الْغُلاَمِ ، وَلاَ بَیْعُہُ إلاَّ بِإِذْنِ وَلِیِّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بچے کی خرید وفروخت کا حکم
(٢١٢١٤) حضرت مطرف کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے کہا کہ کیا بچے کے لیے خریدو فروخت کرنا درست ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر اس کے خریدو فروخت کرنے کو درست سمجھتے ہو تو اس کے آزاد کرنے کو بھی درست سمجھو۔
(۲۱۲۱۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلشَّعْبِیِّ : یَجُوزُ بَیْعُہُ وَشِرَاؤُہُ ؟ قَالَ : إذَا جَازَ بَیْعُہُ وَشِرَاؤُہُ جَازَتْ عَتَاقَتُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بچے کی خرید وفروخت کا حکم
(٢١٢١٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ بچے کے لیے خریدو فروخت کرنا درست نہیں۔
(۲۱۲۱۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ یَجُوزُ بَیْعُ الصَّبِیِّ ، وَلاَ شِرَاؤُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو آدمیوں کا جھگڑا ہو، ایک دوسرے پر کسی چیز کے حق کا دعویٰ کرے تو قسم کس پر ہوگی ؟
(٢١٢١٦) حضرت طلحہ بن عبداللہ بن عوف فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان کرنے والے کو حکم دیا اور اس نے اعلان کیا کہ فریق مخالف اور گمان رکھنے والے کی گواہ درست نہیں، قسم مدعیٰ علیہ پر ہے۔
(۲۱۲۱۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُنَادِیًا فَنَادَی حَتَّی بَلَغَ الثَّنِیَّۃَ : لاَ تَجُوزُ شَہَادَۃُ خَصْمٍ ، وَلاَ ظَنِینٍ ، وَإِنَّ الْیَمِینَ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ۔ (ابوداؤد ۳۹۶۔ عبدالرزاق ۱۵۳۶۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو آدمیوں کا جھگڑا ہو، ایک دوسرے پر کسی چیز کے حق کا دعویٰ کرے تو قسم کس پر ہوگی ؟
(٢١٢١٧) حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو موسیٰ (رض) کے نام خط میں لکھا کہ قسم انکار کرنے والے پر ہے۔
(۲۱۲۱۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ الْبَصْرِیِّ ، عَنْ أَبِی الْعَوَّامِ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ إلَی أَبِی مُوسَی ، أَنَّ الْیَمِینَ عَلَی مَنْ أَنْکَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو آدمیوں کا جھگڑا ہو، ایک دوسرے پر کسی چیز کے حق کا دعویٰ کرے تو قسم کس پر ہوگی ؟
(٢١٢١٨) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ سنت یہ رہی ہے کہ قسم مدعی علیہ پر ہے۔
(۲۱۲۱۸) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ زَمْعَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : مَضَتِ السُّنَّۃُ ، أَنَّ الْیَمِینَ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو آدمیوں کا جھگڑا ہو، ایک دوسرے پر کسی چیز کے حق کا دعویٰ کرے تو قسم کس پر ہوگی ؟
(٢١٢١٩) حضرت شریح کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اس شخص نے مجھے ایک باندی بیچی ہے جس کی گردن میں مرض ہے، حضرت شریح نے اس سے فرمایا کہ تم پر گواہی لازم ہے کہ اس نے تمہاری باندی بیماری کی حالت میں بیچی تھی، بصورتِ دیگر وہ قسم کھائے گا کہ اس نے بیماری کے ساتھ تمہیں باندی نہیں بیچی۔
(۲۱۲۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ حَسَّانَ أَبِی الأَشْرَسِ ، عَنْ شُرَیْحٍ أَنَّہُ أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : إنَّ ہَذَا بَاعَنِی جَارِیَۃً مُلْتَوِیَۃَ الْعُنُقِ ، فَقَالَ شُرَیْحٌ : بَیِّنَتُکَ أَنَّہُ بَاعَکَ دائً ، وَإِلاَّ فَیَمِینُہُ بِاللَّہِ : مَا بَاعَکَ دائً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو آدمیوں کا جھگڑا ہو، ایک دوسرے پر کسی چیز کے حق کا دعویٰ کرے تو قسم کس پر ہوگی ؟
(٢١٢٢٠) حضرت شعبی نے ایک آدمی سے فرمایا کہ تم قسم کھاؤ کہ تم نے اسے بیماری کے ساتھ اپنی باندی نہیں بیچی۔
(۲۱۲۲۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، وابن شُبْرُمَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّہُ قَالَ لِرَجُلٍ : احْلِفْ أَنَّک لَمْ تَبِعْہُ دائً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو آدمیوں کا جھگڑا ہو، ایک دوسرے پر کسی چیز کے حق کا دعویٰ کرے تو قسم کس پر ہوگی ؟
(٢١٢٢١) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدعی علیہ پر قسم کو لازم قرار دیا۔
(۲۱۲۲۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَضَی بِالْیَمِینِ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ۔ (بخاری ۲۵۱۴۔ مسلم ۱۳۳۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو آدمیوں کا جھگڑا ہو، ایک دوسرے پر کسی چیز کے حق کا دعویٰ کرے تو قسم کس پر ہوگی ؟
(٢١٢٢٢) حضرت زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مطلوب پر قسم کو لازم قرار دیا۔
(۲۱۲۲۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَضَی بِالْیَمِینِ عَلَی الْمَطْلُوبِ۔ (بیہقی ۱۰۔ دارقطنی ۲۱۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر دو آدمیوں کا جھگڑا ہو، ایک دوسرے پر کسی چیز کے حق کا دعویٰ کرے تو قسم کس پر ہوگی ؟
(٢١٢٢٣) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جس شخص نے یمین پر قسم کھائی اور کسی مسلمان کا مال حاصل کرنے کے لیے اس میں جھوٹ بولا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوں گے، حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی {إنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً } میرے اور ایک یہودی کے درمیان زمین کا جھگڑا تھا، میں یہ مقدمہ لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے میں نے کہا نہیں، آپ نے یہودی سے کہا کہ قسم کھاؤ، میں نے کہا کہ اس طرح تو یہ میرا مال لے جائے گا ! اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
(۲۱۲۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ وَہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ لِیَقْطَعَ بِہَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ، لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ ، قَالَ الأَشْعَثُ : فِیَّ وَاللَّہِ نَزَلَتْ : کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَ رَجُلٍ مِنَ الْیَہُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِی ، فَقَدَّمْتُہُ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلَکَ بَیِّنَۃٌ ؟ فَقُلْتُ : لاَ ، فَقَالَ لِلْیَہُودِیِّ : احْلِفْ ، فَقُلْتُ : إذًا یَحْلِفُ فَیَذْہَبُ بِمَالِی ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {إنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً}۔ (بخاری ۲۴۱۶۔ مسلم ۲۲۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٢٤) حضرت خالد الحذائ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ (رض) سے دریافت کیا کہ کیا معلم تعلیم دے کر اس پر اجرت لے سکتا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ اگر وہ اجرت لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۱۲۲۴) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا قِلاَبَۃَ عَنِ الْمُعَلِّمِ یُعَلِّمُ وَیَأْخُذُ أَجْرًا ، فَلَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٢٥) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ معلم تعلیم دے اور ( اجرت) کی شرط نہ لگائے اگر اس کو کچھ دے دیا جائے تو اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۱۲۲۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُعَلِّمَ الْمُعَلِّمُ ، وَلاَ یُشَارِطَ ، فَإِنْ أُعْطِیَ شَیْئًا أَخَذَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১২২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٢٦) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ معلم شرط نہ لگائے اور اگر اس کو کچھ دیا جائے تو اس کو قبول کرلینا چاہیئے۔
(۲۱۲۲۶) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الفَزَارِیُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لاَ یَشْتَرِطُ الْمُعَلِّمُ ، وَإِنْ أُعْطِیَ شَیْئًا فَلْیَقْبَلْہُ۔
tahqiq

তাহকীক: