মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২১২২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٢٧) حضرت عطائ (رض) معلم کے اجرت لینے پر کوئی حرج نہیں سمجھتے اگر اس نے اس کی شرط نہ لگائی ہو۔
(۲۱۲۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُیَسَّرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَأْخُذَ الْمُعَلِّمُ مَا أُعْطِیَ مِنْ غَیْرِ شَرْطِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٢٨) حضرت وضین بن عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں تیس معلمین بچوں کو تعلیم دینے پر مأمور تھے، حضرت عمر بن خطاب (رض) ان میں سے ہر ایک معلم کو ماہانہ پندرہ ( درہم یا دینار) وظیفہ دیا کرتے تھے۔
(۲۱۲۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ صَدَقَۃَ الدِّمَشْقِیِّ ، عَنِ الْوَضِینِ بْنِ عَطَائٍ ، قَالَ : کَانَ بِالْمَدِینَۃِ ثَلاَثَۃُ مُعَلِّمِینَ یُعَلِّمُونَ الصِّبْیَانَ ، فَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَرْزُقُ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ خَمْسَۃَ عَشَرَ کُلَّ شَہْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٢٩) حضرت ابراہیم (رض) اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ معلم تعلیم قرآن پر اجرت لینے کی شرط لگائے۔
(۲۱۲۲۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُشَارِطَ الْمُعَلِّمُ عَلَی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٣٠) حضرت ابو جعفر (رض) معلم کے لیے اجرت کی شرط لگانے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۲۱۲۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ مُوسَی ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ للْمُعَلِّمِ أَنْ یُشَارِطَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٣١) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ معلم اگر کتابت پر کچھ اجرت لے لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن شرط لگانے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۱۲۳۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَأْخُذَ عَلَی الْکِتَابَۃِ أَجْرًا ، وَکَرِہَ الشَّرْطَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٣٢) حضرت طاؤس (رض) معلم کے اجرت کی شرط لگانے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۱۲۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُعَلِّمَ بِشَرْطٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٣٣) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ کسی نے بھی معلم کے اجر لینے کو ناپسند کیا ہو۔
(۲۱۲۳۳) حَدَّثَنَا یزید بن ہارون، قَالَ: أَخْبَرَنَا شعبۃ، عن الحکم، قَالَ: ماعلمت أن أحدا کرہہ۔ یعنی: أجر المعلم۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٣٤) حضرت معاویہ بن قرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید قوی ہے کہ اللہ پاک اس کو ضرور اجر عطاء فرمائے گا، وہ بچوں کو تعلیم اور ادب سیکھائے۔
(۲۱۲۳۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ، قَالَ: إنِّی لاَرْجُو أَنْ یَأْجُرہُ اللَّہُ، یُؤَدِّبُہُمْ وَیُعَلِّمُہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٣٥) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ معلم شرط تو نہ لگائے، ہاں اگر اس کو کچھ ہدیہ دیا جائے تو اس کو قبول کرلینا چاہیئے۔
(۲۱۲۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عَائِذٍ الطَّائِیِّ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : الْمُعَلِّمُ لاَ یُشَارِطُ ، فَإِنْ أُہْدِیَ لَہُ شَیْئًا فَلْیَقْبَلْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ معلّم کے اجرت لینے کا بیان
(٢١٢٣٦) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک معلم تھے اس کے پاس اس بڑے آدمی ( سخی) کے بچے بھی پڑھتے تھے ۔ وہ نیروز اور مہرجان میں اس معلم کے حق کو سمجھتے تھے۔
(۲۱۲۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ بِالْمَدِینَۃِ مُعَلِّمٌ عِنْدَہُ مِنْ أَبْنَائِ أُولئک الضخَامِ ، قَالَ : فَکَانُوا یَعْرِفُونَ حَقَّہُ فِی النَّیْرُوزِ وَالْمِہْرَجَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات معلّم کے اجرت لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٢٣٧) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ مدرسہ صفہ کے کچھ طلبہ کو میں نے کتابت اور قرآن پاک کی تعلیم دی، ان میں سے ایک شخص نے مجھے کمان ہدیہ میں دی، پس میں نے یہ کہتے ہوئے قبول کرلیا کہ یہ مال نہیں ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرتے وقت دشمن پر تیر برساؤں گا۔ میں نے کہا کہ میں ضرور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق پوچھوں گا۔ پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! ایک شخص نے مجھے کمان ہدیہ میں دی ہے ، کیونکہ میں نے اس کو کتابت اور قرآن کریم کی تعلیم دی تھی اور مال نہیں ہے اس کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تو چاہتا ہے کہ کل قیامت کے دن یہ آگ کا طوق بنا کر تیرے گلے میں ڈالا جائے تو اس کو قبول کرلے۔
(۲۱۲۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ وَحُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ بْنِ زِیَادٍ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الصُّفَّۃِ الْکِتَابَۃَ وَالْقُرْآنَ ، فَأَہْدَی إلَیَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ : لَیْسَت بِمَالٍ ، وَأَرْمِی عَنْہَا فِی سَبِیلِ اللہِ ، لآتِیَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلأَسْأَلَنَّہُ، فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، رَجُلٌ أَہْدَی إلیَّ قَوْسًا مِمَّنْ کُنْتُ أُعَلِّمُہُ الْکِتَابَۃَ وَالْقُرْآنَ ، وَلَیْسَتْ بِمَالٍ ، وَأَرْمِی عَنْہَا فِی سَبِیلِ اللہِ ، فَقَالَ : إِنْ کُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ بِہَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا۔
(ابوداؤد ۳۴۰۹۔ احمد ۵/۳۱۵)
(ابوداؤد ۳۴۰۹۔ احمد ۵/۳۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات معلّم کے اجرت لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٢٣٨) حضرت عبداللہ بن شقیق (رض) فرماتے ہیں کہ معلم کے اجرت لینے کو ناپسند کیا گیا ہے، بیشک نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) اس کو ناپسند کرتے تھے اور اس کو سخت ( گناہ، وبال) سمجھتے تھے۔
(۲۱۲۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجُرَیرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ ، قَالَ : یُکْرَہُ أَرْشُ الْمُعَلِّمِ ، فَإِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانُوا یَکْرَہُونَہُ وَیَرَوْنَہُ شَدِیدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات معلّم کے اجرت لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٢٣٩) حضرت ابی بن کعب (رض) نے ایک نابینا شخص کو تعلیم دی، اس کے بعد جب بھی آپ (رض) کے پاس تشریف لاتے وہ آپ کو کھانا کھلاتا، حضرت ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق میرے دل میں کچھ شبہ سا پیدا ہوا، میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر وہ چیز تجھے تحفہ ( اجرت) میں دیتا ہے تو تیرے لیے اس میں کوئی خیر نہیں ہے، اور اگر اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے ہے تو پھر اس کے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۲۱۲۳۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُیَسَّرٍ أَبُو سَعْدٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیٍّ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ کَانَ یُعَلِّمُ رَجُلاً مَکْفُوفًا ، فَکَانَ إذَا أَتَاہُ غَدَّاہُ ، قَالَ : فَوَجَدْتُ فِی نَفْسِی مِنْ ذَلِکَ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنْ شَیْئاً یُتْحِفُکَ بِہِ فَلاَ خَیْرَ فِیہِ ، وَإِنْ کَانَ مِنْ طَعَامِہِ وَطَعَامِ أَہْلِہِ فَلاَ بَأْسَ بِہِ۔
(ابن ماجہ ۲۱۵۸۔ بیہقی ۱۲۶)
(ابن ماجہ ۲۱۵۸۔ بیہقی ۱۲۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات معلّم کے اجرت لینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٢٤٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام (رض) بچوں کو کتابت سکھا کر اجرت کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۱۲۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یَأْخُذُوا عَلَی الْغِلْمَانِ فِی الْکُتَّابِ أَجْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ بیع سلم میں جب ثمن سپرد کر دیا جائے تو اُس کو کسی اور کام میں خرچ کر دے
(٢١٢٤١) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب تو کھانے کی چیز میں بیع سلم کرلے تو ہرگز اس کی جگہ دوسرا کھانا نہ لے۔ اگر تو اس کی جگہ چارہ لینا چاہے تو چارہ لے لے۔
(۲۱۲۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إذَا أَسْلَمْت فِی طَعَامٍ فَلاَ تَأْخُذَنَّ مَکَانَہُ طَعَامًا غَیْرَہُ ، وَإِنْ أردْتَ أَنْ تَأْخُذَ مَکَانَہُ عَلَفًا فَخُذْ إِنْ شِئْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ بیع سلم میں جب ثمن سپرد کر دیا جائے تو اُس کو کسی اور کام میں خرچ کر دے
(٢١٢٤٢) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی چیز میں بیع سلم کی پھر اس چیز نہ کو نہ پایا تو حضرت ابن عباس (رض) سے دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا سامان لے لے، بکریاں لے لے۔
(۲۱۲۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، أَنَّ رَجُلاً أَسْلَمَ فِی شَیْئٍ فَلَمْ یَجِدْہُ فَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ : خُذْ عَرَضًا ، خُذْ غَنَمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ بیع سلم میں جب ثمن سپرد کر دیا جائے تو اُس کو کسی اور کام میں خرچ کر دے
(٢١٢٤٣) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ جب تو بیع سلم میں ثمن ادا کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ تو اپنے رأس المال سے سامان خرید لے۔
(۲۱۲۴۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: إذَا أَسْلَمْتَ سَلَمًا فَلاَ بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَ بِرَأْسِ مَالِکَ عَرَضًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ بیع سلم میں جب ثمن سپرد کر دیا جائے تو اُس کو کسی اور کام میں خرچ کر دے
(٢١٢٤٤) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب تو کسی چیز سلم کرے تو جب تک اس پر قبضہ نہ کرلے اس کو آگے فروخت نہ کر، اور نہ ہی اس کو کسی اور چیز میں خرچ کر۔
(۲۱۲۴۴) حدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إذَا أَسْلَمْتَ فِی شَیْئٍ فَلاَ تَبِعْہُ حَتَّی تَقْبِضَہُ ، وَلاَ تَصْرِفْہُ فِی غَیْرِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ بیع سلم میں جب ثمن سپرد کر دیا جائے تو اُس کو کسی اور کام میں خرچ کر دے
(٢١٢٤٥) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ بیع سلم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کو کسی غیر چیز میں خرچ نہ کرے اور جب تک قبضہ نہ کرلے فروخت نہ کر۔
(۲۱۲۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالسَّلَمِ ، وَلاَ تَصْرِفْہُ إلَی غَیْرِہِ، وَلاَ تَبِعْہُ حَتَّی تَقْبِضَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ بیع سلم میں جب ثمن سپرد کر دیا جائے تو اُس کو کسی اور کام میں خرچ کر دے
(٢١٢٤٦) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ جب تو کسی چیز میں بیع سلم کرے تو صرف وہی چیز لے جس میں تو نے بیع سلم کی ہے اور کسی ایسی چیز میں بیع سلم نہ کر کہ جس کو تو بعد میں دوسری چیز سے تبدیل کرے۔
(۲۱۲۴۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا أَسْلَمْت فِی شَیْئٍ فَلاَ تَأْخُذْ إلاَّ مَا أَسْلَمْتَ فِیہِ ، وَلاَ تُسْلِمَنَّ فِی شَیْئٍ ، ثُمَّ تُحَوِّلَہُ إلَی شَیْئٍ آخَرَ۔
তাহকীক: