মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২১২৪৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ بیع سلم میں جب ثمن سپرد کر دیا جائے تو اُس کو کسی اور کام میں خرچ کر دے
(٢١٢٤٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ مسلمانوں نے بیع سلم کی۔ لہٰذا اب جو کو یء بھی گندم میں بیع سلم کرے گا وہ جو نہیں لے سکتا اور جو کوئی جو میں بیع سلم کرے گا وہ گندم نہیں لے سکتا جس کا وزن اور مدت معلوم ہونی چاہیے۔
(۲۱۲۴۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی الْمُخَارِقِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : أَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ ، فَمِنْ أَسْلَمَ فِی حِنْطَۃٍ فَلاَ یَأْخُذْ شَعِیرًا ، وَمَنْ أَسْلَمَ فِی شَعِیرٍ فَلاَ یَأْخُذْ حِنْطَۃٍ کَیْلٌ مَعْلُومٌ إلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ بیع سلم میں جب ثمن سپرد کر دیا جائے تو اُس کو کسی اور کام میں خرچ کر دے
(٢١٢٤٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ قبضہ کرنے سے قبل اپنے سلم میں تصرف نہ کرنا۔
(۲۱۲۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ یُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: لاَ تَصْرِفْ سَلَمَک فِی شَیْئٍ حَتَّی تَقْبِضَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر خرید و فروخت کرنے والوں کا اختلاف ہو جائے
(٢١٢٤٩) حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر بائع اور مشتری کا اختلاف ہوجائے تو بائع کی بات معتبر ہے اور مشتری کو اختیار ہے اگر چاہے تو بیع کرے اور اگر چاہے تو ترک کر دے۔
(۲۱۲۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا اخْتَلَفَ الْبَیِّعَانِ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ ، وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِیَارِ۔
(ترمذی ۳۳۷۰۔ ابوداؤد ۳۵۰۵)
(ترمذی ۳۳۷۰۔ ابوداؤد ۳۵۰۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر خرید و فروخت کرنے والوں کا اختلاف ہو جائے
(٢١٢٥٠) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر بائع اور مشتری کا اختلاف ہوجائے اور ان دونوں کے پاس گواہ نہ ہوں، اور مبیع بھی اپنی حالت پر قائم ہو تو بائع کا قول معتبر ہوگا، اور بیع ختم کردی جائے گی، اور اگر مبیع ہلاک ہوجائے تو مشتری کی بات مانیں گے اور بائع کے ذمہ گواہ قائم کرنا ہوگا۔
(۲۱۲۵۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إذَا اخْتَلَفَ الْبَیِّعَانِ وَلَیْسَ بَیْنَہُمَا بَیِّنَۃٌ ، وَالْمَبِیع قَائِمٌ بِعَیْنِہِ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ ، أَوْ یَتَرَادَّانِ الْبَیْعَ ، وَإِنْ کَانَ الْمَبِیع قَدِ اسْتُہْلِکَ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمُشْتَرِی ، وَالْبَیِّنَۃُ عَلَی الْبَائِعِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر خرید و فروخت کرنے والوں کا اختلاف ہو جائے
(٢١٢٥١) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ اگر بائع اور مشتری کا اختلاف ہوجائے اور مبیع بھی بعینہ موجود ہو تو دونوں سے گواہ طلب کریں گے، اگر ان میں سے کسی ایک نے گواہ پیش کر دئیے تو اس کے گواہوں کی وجہ سے اس کو دے دیا جائے گا، اور اگر ان دونوں کے پاس گواہ نہ ہوں تو دونوں سے قسم اٹھوائی جائے گی، اور اگر دونوں قسم اٹھا لیں تو بیع ختم کردی جائے گی، اور اگر دونوں قسم اٹھانے سے انکار کردیں تو بھی بیع ختم کردیں گے، اور اگر ایک قسم اٹھا لے جبکہ دوسرا انکار کر دے تو جس نے قسم اٹھائی ہے اس کو دے دیا جائے گا، اور اگر مبیع بعینہ موجود نہ ہو یا وہ ہلاک ہوگیا ہو تو بائع کو گواہ کا مکلف بنائیں گے اور مشتری پر قسم اٹھانے کو لازم کریں گے۔
(۲۱۲۵۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الْبَیِّعَیْنِ إذَا اخْتَلَفَا وَالْمَبِیع قَائِمٌ بِعَیْنِہِ یَسْأَلَہُمَا الْبَیِّنَۃَ ، فَإِنْ أَقَامَ أَحَدُہُمَا الْبَیِّنَۃَ أُعْطِیَ بِبَیِّنَتِہِ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُمَا بَیِّنَۃٌ اسْتَحْلَفَہُمَا ، فَإِنْ جَائَا بِہَا جَمِیعًا رَدَّ الْبَیْعَ ، وَإِنْ لَمْ یَحْلِفَا رَدَّ الْبَیْعَ ، وَإِنْ حَلَفَ أَحَدُہُمَا وَنَکَلَ الآخَرُ أَعْطَی الَّذِی حَلَفَ ۔ وَإِنْ لَمْ یَکُنِ الْبَیْعُ قَائِمًا بِعَیْنِہِ ، أَوْ قَالَ : قدِ اسْتُہْلِکَ یُکَلَّفُ الْبَائِعُ الْبَیِّنَۃَ ، وَالْیَمِینُ عَلَی الْمُشْتَرِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر خرید و فروخت کرنے والوں کا اختلاف ہو جائے
(٢١٢٥٢) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ (رض) سے عرض کیا کہ اگر بائع اور مشتری کا بیع میں اختلاف ہوجائے، تو آپ (رض) نے فرمایا کہ اگر وہ سیدھے نہ ہوں اور ان کے پاس گواہ موجود نہ ہو تو بیع کو ختم کردیا جائے گا۔
(۲۱۲۵۲) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : رَجُلاَنِ یَخْتَلِفَانِ فِی بَیْعٍ لَیْسَ بَیْنَہُمَا بَیِّنَۃٌ ، قَالَ : یُرَدُّ الْبَیْعُ إذَا لَمْ یَسْتَقِیمَا وإنْ لَمْ تَکُنْ لَہُمَا بَیِّنَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٥٣) حضرت حسن (رض) سے منہ دکھائی کے وقت کچھ دینے کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
(۲۱۲۵۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ، عَنْ یُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ النُّحْلِ عِنْدَ الْجَلْوَۃِ، فَقَالَ: لَیْسَ بِشَیْئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٥٤) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورت کو منہ دکھائی کے وقت کچھ دینے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۱۲۵۴) حَدَّثَنَا أَزْہَرُ السَمَّان ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدٌ یَکْرَہُ أَنْ یُنْحَلَ الشَّیْئَ الْمَرْأَۃَ لاَ یَفِی بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٥٥) حضرت ابو الخلیل نے وصیت فرمائی کہ میری بیوی کو تحفہ دیا جائے۔ انھوں نے وہ تحفہ اس کو حرج سمجھتے ہوئے (تنگ آ کر) دیا تھا۔
(۲۱۲۵۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، أَنَّ أَبَا الْخَلِیلِ أَوْصَی أَنْ یُدْفَعَ إلَی امْرَأَتِہِ نُحْل کَانَ نَحَلَہَا إیَّاہُ تَحَرُّجًا مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٥٦) حضرت مکحول (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ مہر یا کسی وعدہ پر نکاح کرے تو اگر وہ وعدہ اور حق مہر نکاح سے قبل طے ہوگیا تھا تو وہ عورت کا حق ہے۔ اور اگر نکاح کے بعد مرد عورت کے گھر کے افراد کو کوئی چیز عطیہ کرتا ہے تو وہ ان کے لیے ہے اور آدمی کا جس چیز سے بھی اکرام کیا جائے اس کا سب سے زیادہ حق دار اس کی بیٹی اور بہن ہے۔
(۲۱۲۵۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً عَلَی صَدَاقٍ ، أَوْ عِدَۃٍ ، فَہُوَ لَہَا إذَا کَانَ قَبْلَ عُقْدَۃِ النِّکَاحِ ، فَإِنْ حَبَا أَہْلَہَا حِبَائً بَعْدَ عُقْدَۃِ النِّکَاحِ ، فَہُوَ لَہُمْ ، وَأَحَقُّ مَا أُکْرِمَ بِہِ الرَّجُلُ ابْنَتُہُ وَأُخْتُہُ۔ (ابوداؤد ۲۱۳۔ احمد ۱۲۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٥٧) حضرت عبید اللہ بن معمر (رض) اس کا حکم دیا کرتے تھے اور ایاس (رض) اس کا حکم نہیں دیا کرتے تھے۔
(۲۱۲۵۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ خِلاَسٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ مَعْمَرٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَقْضِی بِہَا ، وَأَنَّ إیَاسًا کَانَ یَقْضِی بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٥٨) حضرت شریح (رض) اور حضرت ابن اذنیہ (رض) منہ دکھائی کی رقم کو ناجائز سمجھتے تھے۔
(۲۱۲۵۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ، أَنَّ شُرَیْحًا، وَابْنَ أُذَیْنَۃَ کَانَا لاَ یُجِیزَانِ الْجَلْوَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٥٩) حضرت اوزاعی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قتادہ (رض) سے منہ دکھائی کی رقم کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ یہ سنی سنائی بات ہے اور جائز نہیں ہے۔
(۲۱۲۵۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِی ، قَالَ : سَأَلْتُ قَتَادَۃَ ، عَنْ عَطِیَّۃِ الْجَلْوَۃِ ، قَالَ : تِلْکَ سُمْعَۃٌ ، لاَ تَجُوزُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٦٠) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ ایسا شخص کہ جس کے لیے بیوی کو تیار کیا جائے اور لوگ اس شخص سے کہیں کہ ہم تجھ کو بیوی اس وقت تک نہیں دکھائیں گے جب تک کہ تو کوئی چیز عطیہ نہ کر دے۔ حسن (رض) اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عطیہ اس پر واجب ہے جو اس سے لیا جائے گا۔
(۲۱۲۶۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الرَّجُلِ تُجلی عَلَیہ امْرَأَتِہِ فَیَقُولُونَ : لاَ نُریک حَتَّی تَنْحَلَہَا شَیْئًا ، قَالَ : ہِیَ وَاجِبَۃٌ عَلَیْہِ ، یُؤْخَذُ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৬০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٦١) حضرت ابن سیرین (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عمرو أبو مسعود (رض) اپنے گھر تشریف لے گئے وہاں پر ہدیہ موجود تھا، آپ (رض) نے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ جس کی سفارش کی تھی اس کی طرف سے ہدیہ ہے، آپ (رض) نے فرمایا اس کو گھر سے باہر نکال دو ، کیا میری سفارش کا اجر مجھے دنیا میں جلدی دینا چاہتے ہیں ؟
(۲۱۲۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ، قَالَ: جَائَ عُقْبَۃُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَسْعُودٍ إلَی أَہْلِہِ فَإِذَا ہَدِیَّۃٌ ، فَقَالَ : مَا ہَذَا ؟ فَقَالُوا : الَّذِی شَفَعْتَ لَہُ ، فَقَالَ : أَخْرِجُوہَا ، أَتَعَجَّلُ أَجْرَ شَفَاعَتِی فِی الدُّنْیَا؟۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৬১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٦٢) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ (رض) سے رشوت کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے کوئی ضرورت طلب کرے اور اس کے لیے فیصلہ کروا دے اور وہ اس کو کوئی ہدیہ دے تو اس کو چاہیے کہ ہدیہ قبول کرے۔
(۲۱۲۶۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللہِ ، عَنِ السُّحْتِ فَقَالَ : الرَّجُلُ یَطْلُبُ الْحَاجَۃَ فَتقضی لہ فَیُہْدَی إلَیْہِ فَیَقْبَلُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৬২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٦٣) حضرت کلیب بن وائل (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے عرض کیا کہ میرے پاس ایک دیہاتی آدمی آیا جس کا بہت سارا خراج بنتا تھا۔ اس نے مجھ سے درخواست کی کہ آپ عامل سے میری سفارش کردیجیے۔ میں اس کی سفارش اس لیے نہیں کرتا کہ مجھ کو اس سے کچھ ہدیہ وغیرہ مل جائے۔ صرف اس لیے تاکہ عامل کو اس دیہاتی پر اعتماد ہوجائے اور عامل اس کی ضروریات کو پورا کردیا کرے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر ہی گذری تھی کہ وہ میرے پاس میرا صحیفہ لے کر آیا اور کہا جزاک اللہ خیراً اور مجھے سواری پر بٹھایا اور مجھے اور درہم دئیے اور کپڑے پہنائے، حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : آپ کا کیا خیال ہے اگر تو اس کی سفارش نہ کرتا تو وہ تجھے یہ عطاء کرتا ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، آپ (رض) نے فرمایا کہ یہ تیرے لیے ٹھیک اور درست نہیں ہے۔
(۲۱۲۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ کُلَیْبِ بْنِ وَائِلٍ ، قَالَ : قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ : أَتَانِی دِہْقَانٌ عَظِیمُ الْخَرَاجِ فَقَالَ : تقبَّلنی مِنَ الْعَامِلِ لاَ أَتَقَبَّلُہُ لِاُعْطٰی عَنْہُ شَیْئًا إلاَّ لِیُؤْمِنَہُ عَامِلُہُ وَیَضْطَرِبَ فِی حَوَائِجِہِ ، فَلَمْ أَلْبَثْ إلاَّ قَلِیلاً حَتَّی أَتَانِی بِصَحِیفَتِی ، فَقُال : جَزَاکَ اللَّہُ خَیْرًا ، وَحَمَلَنِی عَلَی دَابَّۃٍ وَأعطانی دَرَاہم ، وَکَسَانِی ، فَقَالَ : أَرَأَیْتَ إن لَوْ لَمْ تَتَقَبَّلْہُ کَانَ یُعْطِیکَ ؟ قُلْتُ : لاَ قَالَ : لاَ یَصلح لَکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৬৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ منہ دکھائی کے وقت بیوی کو کوئی تحفہ پیش کرنا
(٢١٢٦٤) حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ کوفہ کے گاؤں کے چودھریوں میں سے ایک چودھری حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ حضرت عبداللہ بن جعفر سے علی (رض) کے خلاف مدد مانگ (کوئی سفارش) مانگ رہا تھا، آپ (رض) نے حضرت علی (رض) سے اس کی سفارش کی تو حضرت علی (رض) نے اس کی ضرورت پوری فرما دی، چودھری نے آپ کو چالیس ہزار درہم ہدیہ میں بھیجے اور اس کے ساتھ کچھ اور چیزیں، مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھا، جب وہ سب کچھ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے سامنے رکھے گئے تو آپ (رض) نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ (رض) نے جس چودھری کی حضرت علی (رض) سے سفارش فرمائی تھی اس نے آپ (رض) کے لیے بھیجا ہے، آپ (رض) نے فرمایا : واپس اس کو بھیج دو ، ہم اہل بیت نیکی فروخت نہیں کیا کرتے۔
(۲۱۲۶۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: أَتَی دِہْقَانٌ مِنْ دَہَاقِینِ سَوَادِ الْکُوفَۃِ عَبْدَ اللہِ بْنَ جَعْفَرٍ یَسْتَعِینُ بِہِ فِی شَیْئٍ عَلَی عَلِیٍّ، قَالَ: فَکَلَّمَ لَہُ عَلِیًّا، فَقَضَی لَہُ حَاجَتَہُ، قَالَ: فَبَعَثَ إلَیْہِ الدِّہْقَانُ بِأَرْبَعِینَ أَلْفًا وَبِشَیْئٍ مَعَہَا لاَ أَدْرِی مَا ہُوَ ؟ فَلَمَّا وُضِعَتْ بَیْنَ یَدَیْ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : مَا ہَذَا ؟ قِیلَ لَہُ : بَعَثَ بِہَا الدِّہْقَانُ الَّذِی کَلَّمْتَ لَہُ فِی حَاجَتِہِ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : رُدُّوہَا عَلَیْہِ ، فَإِنَّا أَہْلَ بَیْتٍ لاَ نَبِیعُ الْمَعْرُوفَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৬৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کے بارے میں جو ایک جماعت کے ساتھ لکھت پڑت کرے (یعنی کسی معاملہ، تجارت وغیرہ میں ایک سے زیادہ آدمیوں سے تحریری معاہدہ کرے)
(٢١٢٦٥) حضرت طارق بن عبد الرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت شریح (رض) کے پاس حاضر تھا کہ ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ میں نے اس آدمی اور نیز اس علاوہ دو آدمی اور تھے جن کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا تھا۔ کیا میں ان میں سے جس سے چاہوں اپنا حق وصول کرسکتا ہوں ؟ اس آدمی نے کہا کہ میرے دونوں ساتھی بازار میں ہیں، آپ (رض) نے فرمایا جس مرضی سے تو چاہے اپنا حق وصول کرلے۔
(۲۱۲۶۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : شَہِدْتُہُ وَجَائَہُ رَجُلٌ فَقَالَ : إنِّی اکْتَتَبْتُ عَلَی ہَذَا وَعَلَی رَجُلَیْنِ مَعَہُ : أَیُّہُمْ شِئْتُ أَخَذْتُ بِحَقِّی ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إنَّ صَاحِبَیَّ فِی السُّوقِ ، قَالَ : خُذْ أَیَّہُمْ شِئْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৬৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کے بارے میں جو ایک جماعت کے ساتھ لکھت پڑت کرے (یعنی کسی معاملہ، تجارت وغیرہ میں ایک سے زیادہ آدمیوں سے تحریری معاہدہ کرے)
(٢١٢٦٦) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ (رض) سے عرض کیا کہ ، تجارت میں دو آدمیوں پر نام درج کروایا ہے۔
(۲۱۲۶۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : أکْتَتَبْت عَلَی رَجُلَیْنِ فِی بَیْعٍ ، أَنَّ حَیَّکُمَا عَلَی مَیِّتِکُمَا وَمَلِیِّکُمَا عَلَی مُعْدِمِکُمَا قَالَ : یَجُوزُ ، وَقَالَہُ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَسُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی۔
তাহকীক: