মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১৩৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مضارب رب المال کی مخالفت کرے اور نفع کما لے
(٢١٣٦٧) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ نفع اس پر ہوگا جو انھوں نے اس پر شرط لگائی تھی۔
(۲۱۳۶۷) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : الرِّبْحُ عَلَی مَا اشْتَرَطَا عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مضارب رب المال کی مخالفت کرے اور نفع کما لے
(٢١٣٦٨) حضرت ایاس بن معاویہ (رض) فرماتے ہیں کہ مضارب ضامن ہوگا، اور نفع ان کے درمیان تقسیم ہوگا۔
(۲۱۳۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ إِیاسِ بنِ مُعَاویۃ ، قَالَ : ہُوَ ضَامِنٌ ، وَالرِّبْحُ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مضارب رب المال کی مخالفت کرے اور نفع کما لے
(٢١٣٦٩) حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ جو پیسوں کا ضامن ہے نفع اس کو ملے گا۔
(۲۱۳۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : مَنْ ضَمِنَ مَالاً ، فَلہُ رِبْحُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مضارب رب المال کی مخالفت کرے اور نفع کما لے
(٢١٣٧٠) حضرت شریح (رض) سے اسی طرح مروی ہے اور حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ وہ صدقہ کریں گے۔
(۲۱۳۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ شُرَیْحٍ، مِثْلَہُ، قَالَ: وَقَالَ الشَّعْبِیُّ: یَتَصَدَّقَانِ بِالْفَضْلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مضارب رب المال کی مخالفت کرے اور نفع کما لے
(٢١٣٧١) حضرت ریاح بن عبیدہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کے ساتھ سامان تجارت بھیجا جب وہ راستہ میں تھا تو اس نے دیکھا کہ کچھ فروخت ہو رہا ہے پھر اس کو یاد آیا کہ وہ سامان کا ضامن ہے، اس نے اس سامان سے وہ چیز خرید لی ، جب مدینہ آیا تو اس خریدی ہوئی چیز کو فروخت کر کے نفع کھایا، پھر حضرت ابن عمر (رض) سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا نفع رب المال کا ہے۔
(۲۱۳۷۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ ریَاحِ بْنِ عَبِیْدَۃَ ، أَنَّ رَجُلاً بَعَثَ مَعَہُ بِبِضَاعَۃٍ ، فَلَمَّا کَانَ بِبَعْضِ الطَّرِیقِ رَأَی شَیْئًا یُبَاعُ ، فَأَشْہَدَ أَنَّہُ ضَامِنٌ لِلْبِضَاعَۃِ ، ثُمَّ اشْتَرَی بِہَا ذَلِکَ الشَّیْئَ ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ بَاعَ الَّذِی اشْتَرَی فَرَبِحَ ، فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : الرِّبْحُ لِصَاحِبِ الْمَالِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٧٢) حضرت سلیمان (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ (رض) سے عرض کیا کہ حجام کی کمائی کو کیوں ناپسند کیا گیا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اس کو ناپسند نہیں کیا گیا۔
(۲۱۳۷۲) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعِکْرِمَۃَ : لِمَ کُرِہَ کَسْبُ الْحَجَّامِ ، قَالَ : لاَ یُکْرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٧٣) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ اگر حجام خون نہیں چوستا تو میں اس کمائی میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
(۲۱۳۷۳) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : لَوْلا أَنَّ الْحَجَّامَ یَمَصُّ الدَّمَ لَمْ أَرَ بِہِ بَأْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٧٤) حضرت زید بن اسامہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم (رض) اور حضرت قاسم (رض) سے حجام کی کمائی کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (رض) دونوں حضرات نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا اور قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی : { قُلْ لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إلَیَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ }
(۲۱۳۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَیْدٍ أَبِی أُسَامَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَالِمًا وَالْقَاسِمَ عْن کَسْبِ الْحَجَّامِ فَلَمْ یَرَیَا بِہِ بَأْسًا ، وَتَلَوَا : {قُلْ لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إلَیَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ} الآیَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٧٥) حضرت عثمان بن عفان (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے حجام اور حمّام کی اجرت اور کمائی پسند نہیں۔
(۲۱۳۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عِیسَی ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ : مَا تُعْجِبُنِی غَلَّۃُ الْحَجَّامِ وَالْحَمَّامِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٧٦) حضرت حارث (رض) کا ایک غلام تھا جو حجام تھا۔
(۲۱۳۷۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : کَانَ لِلْحَارِثِ غُلاَمٌ حَجَّامٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٧٧) حضرت قاسم (رض) سے حجامت کے کمائی کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ (رض) نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
(۲۱۳۷۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ کَسْبِ الْحَجَّامِ فَلَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٧٨) حضرت حرام بن سعد بن محیّصۃ (رض) کے والد نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجام کی کمائی کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا، وہ مسلسل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کلام کرتے رہے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اُن پیسوں سے اونٹ کو چارہ ڈال دو یا غلام کو کھلا دو ۔
(۲۱۳۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَیِّصَۃَ ، أَنَّ أَبَاہُ سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کَسْبِ الْحَجَّامِ ، فَنَہَاہُ عَنْہُ فَلَمْ یَزَلْ یُکَلِّمُہُ حَتَّی قَالَ : اعْلِفْہُ نَاضِحَک ، أَوْ أَطْعِمْہُ رَقِیقَک۔

(ابوداؤد ۳۴۱۵۔ احمد ۵/۴۳۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٧٩) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو طیبہ حجام سے پچھنے لگوائے اور اس کو دو صاع کھانا عطاء فرمایا اور اس کے گھر والوں سے بات فرمائی انھوں نے اس کے غلہ میں تخفیف کردی۔
(۲۱۳۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : احْتَجَمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَجَمَہُ أَبُو طَیْبَۃَ ، فَأَعْطَاہُ صَاعَیْنِ مِنْ طَعَامٍ وَکَلَّمَ أَہْلَہُ ، فَخَفَّفُوا عَنْہُ مِنْ غَلَّتِہِ۔ (بخاری ۶۵۹۶۔ مسلم ۶۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٨٠) حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ابو طیبہ نامی حجام سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچھنے لگوائے اور اس سے پوچھا تیری کتنی اجرت ہے ؟ اس نے عرض کیا تین صاع ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے ایک صاع کم کرو ا کر اس کو اس کا اجر ( دو صاع) عطا فرمایا۔
(۲۱۳۸۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَا طَیْبَۃَ حَجَمَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہُ : کَمْ خَرَاجُک ؟ قَالَ : ثَلاَثَۃُ آصُعٍ ، قَالَ : فَوَضَعَ عَنْہُ مِنْ خَرَاجِہِ صَاعًا وَأَعْطَاہُ أَجْرًا۔

(احمد ۳/۳۵۳۔ ابویعلی ۱۷۷۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٨١) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ حجام کی کمائی میں کوئی حرج نہیں ہے جو وہ قینچی کے ساتھ کمائے۔
(۲۱۳۸۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : کَانَ لاَ یَرَی بِکَسْبِ الْحَجَّامِ بالجَلَمین بَأْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٨٢) حضرت ابن عباس (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچھنے لگوائے اور حجام کو اجرت دی ، اگر حجام کی کمائی حرام ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو عطا نہ فرماتے۔
(۲۱۳۸۲) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : احْتَجَمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَآجَرَ الْحَجَّامَ ، وَلَوْ کَانَ حَرَامًا لَمْ یُعْطِہِ۔ (بخاری ۲۱۰۳۔ ابوداؤد ۳۴۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٨٣) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ایک غلام آپ (رض) ان کا غلام ان کی حجامت کررہا تھا۔ میں نے سوال کیا کہ آپ اس اجرت کا کیا کریں گے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں اس کو خود بھی کھاؤں گا اور اس کو بھی کھلاؤں گا۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے غلام کے منہ کی طرف اشارہ کیا۔
(۲۱۳۸۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُیَسَّرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَغُلاَمٌ لَہُ یَحْجُمُہُ قَالَ : فَقُلتُ : یَا أبَا عَبَّاسٍ ! مَا تَصْنَعُ بِخَرَاجِ ہَذَا ؟ قَالَ : آکُلُہُ وَأُوکِلُہُ ، وَأَشَارَ بِیَدِہِ إلَی فِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٨٤) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچھنے لگوائے پھر حجام سے دریافت کیا کہ تیری اجرت کتنی ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ دو صاع۔ حجام نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک صاع کم کردیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا اور میں نے اس کو ایک صاع دے دیا۔
(۲۱۳۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ أَبِی جَمِیلَۃَ الطُّہَوِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُولُ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِینَ فَرَغَ : کَمْ خَرَاجُک ؟ قَالَ : صَاعَانِ ، قَالَ : فَوَضَعَ عَنْہُ صَاعًا ، فَأَمَرَنِی فَأَعْطَیْتہ صَاعًا۔ (ابن ماجہ ۲۱۶۳۔ احمد ۱/۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٨٥) حضرت ابن عباس (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچھنے لگوائے اور اس کو اجرت دی اور اگر اس کمائی میں کوئی حرج ہوتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو عطا نہ فرماتے۔
(۲۱۳۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَآجَرَہُ ، وَلَوْ کَانَ بِہِ بَأْسٌ لَمْ یُعْطِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৩৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حجام کی کمائی کا بیان
(٢١٣٨٦) حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں ایک خاتون حاضر ہوئی اور عرض کیا میں عراق سے ہوں، میرا ایک غلام ہے جو حجامت کرتا ہے، عراق کے لوگوں کا خیال ہے کہ میں خون کی کمائی کھاتی ہوں، آپ (رض) نے فرمایا : وہ کچھ بھی گمان نہیں کرتے، تو اپنے غلام کی کمائی کھاتی ہے، خون کی کمائی نہیں کھاتی۔
(۲۱۳۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَتْہُ امْرَأَۃ، فَقَالَتْ : إنِّی امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ وَلِی غُلاَمٌ حَجَّامٌ ، وَیَزْعُمُ أَہْلُ الْعِرَاقِ أَنِّی آکُلُ ثَمَنَ الدَّمِ ، فَقَالَ : إنَّہُمْ لاَ یَزْعُمُونَ شَیْئًا ، إنَّمَا تَأْکُلِینَ خَرَاجَ غُلاَمِکَ ، وَلَسْت تَأْکُلِینَ ثَمَنَ الدَّمِ۔q
tahqiq

তাহকীক: