মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২১৪০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص صدقہ کرے اور وہی چیز وراثت میں دوبارہ اُس کو مل جائے
(٢١٤٠٧) حضرت شعبی (رض) اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو صدقہ کرے پھر وہی چیز اس کو میراث میں مل جائے تو میراث میں اس کا حصہ اس میں حلّت کے علاوہ کسی چیز کا اضافہ نہیں کرے گا۔
(۲۱۴۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی الرَّجُلِ یَتَصَدَّقُ بِالصَّدَقَۃِ ، ثُمَّ یَرِثُہَا ، قَالَ : إنَّ السِّہَامَ لَمْ تَزِدْہَا إلاَّ حَلاَلاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص صدقہ کرے اور وہی چیز وراثت میں دوبارہ اُس کو مل جائے
(٢١٤٠٨) حضرت عطاء (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص صدقہ کرے پھر وہی چیز وراثت میں اس کو واپس مل رہی ہو تو اس کو کسی دوسرے وارث کے حصہ میں ڈال دے۔
(۲۱۴۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَتَصَدَّقُ بِالصَّدَقَۃِ ، ثُمَّ تَرْجِعُ إلَیْہِ فِی الْمِیرَاثِ ، قَالَ : یَجْعَلُہَا مِنْ حِصَّۃِ غَیْرِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص صدقہ کرے اور وہی چیز وراثت میں دوبارہ اُس کو مل جائے
(٢١٤٠٩) حضرت مُزرّع (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی (رض) سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا اگر تو اپنے حصہ میں لے لے تو کوئی حرج نہیں، اور اگر چھوڑ دے تو یہ افضل ہے۔
(۲۱۴۰۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُزَرِّعٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ الشَّعْبِیَّ عَنْہَا فَقَالَ : إِنْ أَخَذَہَا فَلاَ بَأْسَ ، وَإِنْ أَمْضَاہَا أَفْضَلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص صدقہ کرے اور وہی چیز وراثت میں دوبارہ اُس کو مل جائے
(٢١٤١٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اسی کے مثل میں اس کو رکھے گا ( دوبارہ صدقہ کر دے گا) ۔
(۲۱۴۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یَجْعَلُہَا فِی مِثْلِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص صدقہ کرے اور وہی چیز وراثت میں دوبارہ اُس کو مل جائے
(٢١٤١١) حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ منت والی اونٹنی اور صدقہ اسی دن کے لیے ہیں۔ ( قیامت کے دن کے لیے ) ۔
(۲۱۴۱۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ ، قَالَ عُمَرُ : السَّائِبَۃُ وَالصَّدَقَۃُ لِیَوْمِہِمَا۔
(عبدالرزاق ۱۶۲۲۹)
(عبدالرزاق ۱۶۲۲۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی دوسرے کو قرض دے
(٢١٤١٢) حضرت ابن عمر (رض) اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص کسی کو دراہم قرضہ میں دے اور بدلہ میں اس سے کھانا (گندم) وصول کرے۔
أخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ یُونُسَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أبوعَبْدِ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، قَالَ :
(۲۱۴۱۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ فِی الرَّجُلِ یُقْرِضُ الرَّجُلَ الدَّرَاہِم ثُمَّ یَأْخُذْ بِقِیمَتِہَا طَعَامًا : أَنَّہُ کَرِہَہُ۔
(۲۱۴۱۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ فِی الرَّجُلِ یُقْرِضُ الرَّجُلَ الدَّرَاہِم ثُمَّ یَأْخُذْ بِقِیمَتِہَا طَعَامًا : أَنَّہُ کَرِہَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی دوسرے کو قرض دے
(٢١٤١٣) حضرت سعید بن جبیر (رض) ، حضرت حماد اور حضرت عکرمہ (رض) اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۲۱۴۱۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَحَمَّادٍ وعِکْرِمَۃَ ، قَالوا : کَانُوا لاَ یَرَوْنَ بِذَلِکَ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی دوسرے کو قرض دے
(٢١٤١٤) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ جب اصل حق دین ہو ( یعنی مدت متعین ہو ) تو جو چیز دی ہے وہی وصول کر، اور اگر قرض ہو ( مدت متعین نہ ہو ) تو جو قرض دیا ہے اس کے غیر جنس لینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۱۴۱۴) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : إذَا کَانَ أَصْلُ الْحَقِّ دَیْنًا فَلاَ تَأْخُذْ مِنْہُ إلاَّ مَا بِعْتہ بِہِ ، فَإِذَا کَانَ قَرْضًا فَلاَ یَضُرُّک أَنْ تَأْخُذَ غَیْرَ مَا أَقْرَضْتَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی دوسرے کو قرض دے
(٢١٤١٥) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ آدمی کے کسی شخص پر کچھ دراہم قرض ہوں، اور وہ اس کے پاس آ کر قرض کا مطالبہ کرے اور مقروض کہے کہ اس کے بدلے جو، گندم، کھجور یا سونے کے علاوہ کوئی چیز رکھ لے تو کوئی حرج نہیں، جب اس کے درہم دوسرے پر قرض ہوں تو وہ اس کے بدلے اس سے جو چاہے وصول کرسکتا ہے۔
(۲۱۴۱۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ إذَا کَانَ لِلرَّجُلِ عَلَی الرَّجُلِ الدَّرَاہِمَ فَأَتَاہُ فَتَقَاضَاہُ فَقَالَ : خُذْ بِحَقِّکَ شَعِیرًا ، أَوْ حِنْطَۃً ، أَوْ تَمْرًا ، أَوْ شَیْئًا غَیْرَ الذَّہَبِ ، قَالَ : إذَا کَانَتْ دَرَاہِمُہُ قَرْضًا فَإِنَّہُ یَأْخُذُ بِہَا مَا شَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی دوسرے کو قرض دے
(٢١٤١٦) حضرت ابن حرملۃ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اونٹنی اس بات پر فروخت کی کہ کٹائی کے دن مجھے درہم بدلے میں چاہئیں۔ جب سپردگی کا وقت آیا تو میرے لیے گندم، جو اور گیہوں کا فیصلہ کیا تو میں نے حضرت سعید بن المسیب (رض) سے دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ یہ درست نہیں ہے، دراہم کے علاوہ کوئی چیز وصول نہ کرنا۔
(۲۱۴۱۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدِ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَۃَ ، قَالَ : بِعْت جُزُورًا بِدَرَاہِمَ إلَی الْحَصَادِ ، فَلَمَّا حَلَّ قَضَوْنِی الْحِنْطَۃَ وَالشَّعِیرَ وَالسُّلْتَ فَسَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ : لاَ یَصْلُحُ ، لاَ تَأْخُذْ إلاَّ دَرَاہِمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی دوسرے کو قرض دے
(٢١٤١٧) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ آدمی کا دوسرے پر دین ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اس سے ( اس کے بدلہ میں ) سستا غلام لے لے۔
(۲۱۴۱۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُیَسَّر ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : إذَا کَانَ لِلرَّجُلِ عَلَی الرَّجُلِ الدَّیْنُ فَلاَ بَأْسَ أَنْ یَشْتَرِیَ مِنْہُ عَبْدًا رَخِیصًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی آدمی کو ایک شہر میں پیسے دے اور دوسرے شہر میں پہنچ کر اُس سے وصول کر لے
(٢١٤١٨) حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ مدینہ منورہ میں پیسے دئیے جائیں اور افریقہ جا کر وصول کرلیے جائیں۔
(۲۱۴۱۸) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْہَبٍ، عَنْ حَفْص أَبِی الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ عَلِیًّا ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُعْطِیَ الْمَالَ بِالْمَدِینَۃِ وَیَأْخُذَ بِإِفْرِیقِیَّۃَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی آدمی کو ایک شہر میں پیسے دے اور دوسرے شہر میں پہنچ کر اُس سے وصول کر لے
(٢١٤١٩) حضرت علی (رض) سے اسی طرح منقول ہے۔
(۲۱۴۱۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَوْہَبٍ، عَنْ حَفْص أبی الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَلِیٍّ بِنَحْوِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی آدمی کو ایک شہر میں پیسے دے اور دوسرے شہر میں پہنچ کر اُس سے وصول کر لے
(٢١٤٢٠) حضرت ابن عباس (رض) اور ابن زبیر (رض) اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ حجاز پہنچ کر مال وصول کرلیا جائے جبکہ وہ عراق میں دئیے ہوں اور عراق میں وصول کرلیے جائیں جبکہ وہ حجاز میں دئیے ہوں۔
(۲۱۴۲۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یَرَیَانِ بَأْسًا أَنْ یُؤْخَذَ الْمَالُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ وَیُعْطَی بِأَرْضِ الْعِرَاقِ ، وَیُؤْخَذَ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ وَیُعْطَی بِأَرْضِ الْحِجَازِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی آدمی کو ایک شہر میں پیسے دے اور دوسرے شہر میں پہنچ کر اُس سے وصول کر لے
(٢١٤٢١) حضرت ابراہیم (رض) ایسا کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
(۲۱۴۲۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ لَمْ یَرَی بِہِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی آدمی کو ایک شہر میں پیسے دے اور دوسرے شہر میں پہنچ کر اُس سے وصول کر لے
(٢١٤٢٢) حضرت علی (رض) حجاز میں وہ مال وصول کرلیتے تھے جو وہ عراق میں دیتے تھے یا عراق میں وہ مال وصول کرلیتے تھے جو وہ حجاز میں ( قرض) دیا کرتے تھے۔
(۲۱۴۲۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی مِسْکِینٍ وَخَارِجَۃَ ، عَمَّنْ حَدَّثَہُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ، أَنَّہُ کَانَ یَأْخُذُ الْمَالَ بِالْحِجَازِ وَیُعْطِیہِ بِالْعِرَاقِ ، أَوْ بِالْعِرَاقِ وَیُعْطِیہِ بِالْحِجَازِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی آدمی کو ایک شہر میں پیسے دے اور دوسرے شہر میں پہنچ کر اُس سے وصول کر لے
(٢١٤٢٣) حضرت عبد الرحمن بن الاسود (رض) دراہم حجاز میں وصول کرلیتے ( جبکہ ) دیتے عراق میں تھے۔
(۲۱۴۲۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: کَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ یَأْخُذُ الدَّرَاہِمَ بِالْحِجَازِ وَیُعْطِیہِ بِالْعِرَاقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی آدمی کو ایک شہر میں پیسے دے اور دوسرے شہر میں پہنچ کر اُس سے وصول کر لے
(٢١٤٢٤) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ بصرہ میں دراہم دے کر کوفہ میں وصول کرلیے جائیں۔
(۲۱۴۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَدْفَعَ الدَّرَاہِمَ بِالْبَصْرَۃِ وَیَأْخُذَہَا بِالْکُوفَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی آدمی کو ایک شہر میں پیسے دے اور دوسرے شہر میں پہنچ کر اُس سے وصول کر لے
(٢١٤٢٥) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ رسید لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۱۴۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالسَّفْتَجَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی آدمی کو ایک شہر میں پیسے دے اور دوسرے شہر میں پہنچ کر اُس سے وصول کر لے
(٢١٤٢٦) حضرت زینب الثقفیہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جذاذ کو پچاس وسق کھجور اور بیس وسق جُوْ عطا فرمائی، حضرت عاصم بن عدی (رض) نے ان سے کہا : اگر آپ چاہیں تو ہم تجھے یہ مدینہ منورہ میں دے دیں اور تو ہمیں خیبر میں دے دے، انھوں نے عرض کیا : ( ٹھہر جاؤ) یہاں تک کہ میں امیر المؤمنین حضرت عمر (رض) سے دریافت کرلوں ، پس انھوں نے آپ (رض) سے دریافت کیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا کہ ضمان کون دے گا ؟
(۲۱۴۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی العُمَیْسِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ جُعْدُبَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ زَیْنَبَ الثَّقَفِیَّۃِ امْرَأَۃِ عَبْدِ اللہِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَعْطَاہَا جُذَاذَ خَمْسِینَ وَسْقًا تَمْرًا وَعِشْرِینَ وَسْقًا شَعِیرًا ، فَقَالَ لَہَا عَاصِمُ بْنُ عَدِیٍّ : إِنْ شِئْتَ وَفَّیْتُکِیہَا ہُنَا بِالْمَدِینَۃِ وَتُوفِینہَا بِخَیْبَرَ ، فَقَالَتْ : حَتَّی أَسْأَلَ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ ، فَسَأَلَتْہُ فَقَالَ : وَکَیْفَ بِالضَّمَانِ ؟۔ (عبدالرزاق ۱۴۶۴۳)
তাহকীক: