মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২১৫৪৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو کوئی بچہ ملے اور وہ اُس کو پا لے اور اُس پر خرچ کرے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
(٢١٥٤٧) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی لقیط ( گرے پڑے بچہ ) پر خرچ کرے تو ( بعد میں ) اس بچہ پر کچھ لازم نہیں ہے۔
(۲۱۵۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یُنْفِقُ عَلَی اللَّقِیطِ ، قَالَ : لاَ شَیْئَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو کوئی بچہ ملے اور وہ اُس کو پا لے اور اُس پر خرچ کرے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
(٢١٥٤٨) حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ جو بچہ ملے وہ آزاد ہے، جس شخص نے اس بچہ کی پرورش کی ہے اگر وہ نفقہ کا مطالبہ کرے تو اگر بچہ ( بڑا ہو کر ) مالدار ہو تو اس کو واپس کرے گا اور اگر وہ بچہ مالدار نہ ہو تو اس شخص نے جو اس پر خرچ کیا ہے وہ صدقہ ہے۔
(۲۱۵۴۸) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : الْمَنْبُوذُ حُرٌّ ، وَإِنْ طَلَبَ الَّذِی رَبَّاہُ نَفَقَتَہُ وَکَانَ مُوسِرًا رَدَّ عَلَیْہِ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ مُوسِرًا کَانَ مَا أَنْفَقَ عَلَیْہِ صَدَقَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو کوئی بچہ ملے اور وہ اُس کو پا لے اور اُس پر خرچ کرے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
(٢١٥٤٩) حضرت خالد بن ابی صلت (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے ولد الزنا کے متعلق فیصلہ فرمایا تھا کہ وہ اپنے پالنے والے کا حساب چکائے جو اس نے اس کی خدمت کی ہے، اور جو باقی رہ جائے اس کے لیے کوشش کرے، اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جو اس نے خدمت کی ہے اس کا حساب چکائے اور جو باقی بچ جائے وہ بیت المال سے ادا کیا جائے۔
(۲۱۵۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ ، أَخْبَرَنِی خَالِدُ بْنُ أَبِی الصَّلْتِ ، قَالَ : قَالَ لِی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : إنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَی فِی وَلَدِ الزِّنَا أَنَّہُ یُقَاصُّ صَاحِبُہُ بِمَا خَدَمَہُ ، وَمَا بَقِیَ اسْتَسعی فِیہِ ، وَقَضَیْت أَنَا : یُقَاصُّہُ بِمَا خَدَمَہُ ، وَمَا بَقِیَ أَدَّیْتہ عَنْہُ مِنْ بَیْتِ الْمَالِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو گمشدہ اونٹ ملے اور وہ اُس پر خرچ کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٥٠) حضرت شعبی (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی کا اونٹ گم ہوگیا، اس نے اپنا اونٹ دوسرے شخص کے پاس پایا جو اس کو کھلا پلا رہا ہے، اس کو چارہ دے کر فربہ کردیا ہے، وہ دونوں اپنا جھگڑا حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) کے پاس لے کر گئے، آپ ان دنوں مدینہ منورہ کے گورنر تھے، آپ نے اونٹ کے مالک کے لیے اونٹ کا فیصلہ فرمایا اور اس پر اس کے خرچہ کی ادائیگی کو لازم فرمایا، حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں مجھے اس فیصلہ نے تعجب میں نہیں ڈالا، پھر آپ نے فرمایا کہ آدمی اپنا اونٹ پکڑ لے اس پر کوئی نفقہ وغیرہ بھی نہیں ہے۔
(۲۱۵۵۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : أَضَلَّ رَجُلٌ بَعِیرًا فَوَجَدَہُ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَنْفَقَ عَلَیْہِ ، أَعْلَفَہُ وَأَسْمَنَہُ ، فَاخْتَصَمَا إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیرٌ عَلَی الْمَدِینَۃِ ، فَقَضَی لِصَاحِبِ الْبَعِیرِ بِبَعِیرِہِ ، وَقَضَی عَلَیْہِ بِالنَّفَقَۃِ۔ قَالَ الشَّعْبِیُّ : فَلَمْ یُعْجِبْنِی ذَلِکَ ، فَقَالَ : یَأْخُذُ الرَّجُلُ بَعِیرَہُ ، وَلاَ نَفَقَۃَ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو گمشدہ اونٹ ملے اور وہ اُس پر خرچ کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٥١) حضرت سعید بن المسیب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت علی (رض) نے گمشدہ اونٹوں کے لیے باڑہ بنایا ہوا تھا، اس میں ان کو چارہ ڈالا جاتا، نہ ان کو بہت فربہ کیا جاتا نہ بہت لاغر، سارا خرچ بیت المال کے ذمہ ہوتا، وہ اونٹ گردنوں کو بلند کرکے جھانکا کرتے تھے، اگر کوئی شخص کسی اونٹ پر گواہ پیش کردیتا تو وہ لے لیتا وگرنہ وہ باڑہ میں اسی حال میں رہتے، اس کو فروخت نہ کیا جاتا۔ حضرت سعید بن مسیب فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے مسلمانوں کا امیر بنایا جاتا تو میں یہی کرتا۔
(۲۱۵۵۱) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ مُرَّۃَ یُحَدِّثُ سَعِید بْن الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَلِیًّا بَنَی لِلضَّوَالِّ مِرْبَدًا ، فَکَانَ یَعْلِفُہَا عَلَفًا لاَ یُسَمِّنُہَا ، وَلاَ یُہْزِلُہَا ، مِنْ بَیْتِ الْمَالِ ، فَکَانَتْ تُشْرِفُ بِأَعْنَاقِہَا ، فَمَنْ أَقَامَ بَیِّنَۃً عَلَی شَیْئٍ أَخَذَہُ وَإِلاَّ أَقَرَّہَا عَلَی حَالِہَا لاَ یَبِیعُہَا ، فَقَالَ : سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : لَوْ وُلِّیت أَمْرَ الْمُسْلِمِینَ صَنَعْت ہَکَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گاہک سے بیع مرابحہ کرنے یا اسے دھوکا دینے کے لیے کپڑے وغیرہ پر قیمت لکھ کر چٹ لگا دینا
(٢١٥٥٢) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک سب سے پسندیدہ بیع وہ ہے جس میں قیمت لکھ کر چٹ لگا دی جائے۔
(۲۱۵۵۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مِنْ أَحَبِّ بُیُوعِہِمْ إلَیَّ بَیْعُ الرَّقْمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گاہک سے بیع مرابحہ کرنے یا اسے دھوکا دینے کے لیے کپڑے وغیرہ پر قیمت لکھ کر چٹ لگا دینا
(٢١٥٥٣) حضرت طاؤس (رض) سامانِ فروخت پر قیمت کی چٹ لگانے کو ناپسند فرماتے تھے، فرماتے تھے کہ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ اپنے سامان کو جھوٹ کے ساتھ مزین کروں۔
(۲۱۵۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ بَیْعَ الرَّقْمِ ، وَقَالَ : إنِّی أَکْرَہُ أَنْ أُزَیِّنَ سِلْعَتِی بِالْکَذِبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گاہک سے بیع مرابحہ کرنے یا اسے دھوکا دینے کے لیے کپڑے وغیرہ پر قیمت لکھ کر چٹ لگا دینا
(٢١٥٥٤) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے سامان کی جو چاہے قیمت لکھتا ہے پھر وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ قیمت لکھی ہے تاکہ میں تمہارے ساتھ انصاف کروں پھر وہ اس چیز کو کم کرکے فروخت کرتا ہے، دس کو نو کے ساتھ۔
(۲۱۵۵۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : یَرْقُمُ الرَّجُلُ مَتَاعَہُ مَا شَائَ ، ثُمَّ یَقُولُ: إنَّمَا رَقَّمْتہ لأُِسَاوِمَکُمْ بِہِ ، ثُمَّ یَبِیعُہُ مُنَاقَصَۃً : الْعَشَرَۃُ بِتِسْعَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گاہک سے بیع مرابحہ کرنے یا اسے دھوکا دینے کے لیے کپڑے وغیرہ پر قیمت لکھ کر چٹ لگا دینا
(٢١٥٥٥) حضرت عبد الملک بن ابی قاسم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع اور حضرت ربیع سے دریافت کیا کہ : ہم لوگ کپڑا خریدتے ہیں پھر اس پر کچھ ثمن کا اضافہ کرتے ہیں اور پھر اس پر قیمت کی چٹ لگا دیتے ہیں اور اس کو بیع مرابحہ کرتے ہوئے فروخت کردیتے ہیں، لیکن جو ثمن زیادہ کیا ہے اس کو بیان نہیں کرتے، ایسا کرنا کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ تو دھوکا اور جھوٹ ہے۔
(۲۱۵۵۵) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی الْقَاسِمِ ، قَالَ : سَأَلْتُ نَافِعًا وَرَبِیعَۃَ ، فَقُلْتُ : نَشْتَرِی الْبَزَّ ، ثُمَّ نَزِیدُ عَلَیْہِ فَوْقَ ثَمَنِہِ ، ثُمَّ نَرْقُمُہُ عَلَیْہِ ، ثُمَّ نَبِیعُہُ مُرَابَحَۃً ، وَلاَ نُبَیِّنُ الزِّیَادَۃَ ، فَقَالَ : لاَ ، ہَذِہِ الْمُخَالَبَۃُ وَالْمُکَاذَبَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گاہک سے بیع مرابحہ کرنے یا اسے دھوکا دینے کے لیے کپڑے وغیرہ پر قیمت لکھ کر چٹ لگا دینا
(٢١٥٥٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ آپ کپڑوں پر قیمت لکھ دو پھر یہ کہتے ہوئے فروخت کرو کہ : میں آپ کو اس قیمت پر بیع مرابحہ کے ساتھ فروخت کرتا ہوں۔
(۲۱۵۵۶) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَرْشُمَ الثِّیَابَ ، ثُمَّ یَقُولَ أَبِیعُکُمْ عَلَی رَشْمِی ہَذَا مُرَابَحَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گاہک سے بیع مرابحہ کرنے یا اسے دھوکا دینے کے لیے کپڑے وغیرہ پر قیمت لکھ کر چٹ لگا دینا
(٢١٥٥٧) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ یہ بیع مساومہ کے مثل ہے۔
(۲۱۵۵۷) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ ابنِ أَبِی غَنیَّۃ ، عَنِ الْحَکَمِ ، أَنَّہُ قَالَ ذَلِکَ ، وَقَالَ : إنَّمَا ہُوَ شِبْہُ الْمُسَاوَمَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٥٨) حضرت شعبی (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کے قبضہ میں موجود خچر پر دعویٰ کیا اور گواہ پیش کر دئیے ۔ پھر وہ جس کے قبضے میں تھا اس نے اس بات پر گواہ پیش کردیے کہ یہ خچر اس کے پاس پیدا ہوا ہے۔ حضرت شریح (رض) نے اس کا فیصلہ اس کے لیے کردیا جس کے قبضے میں وہ تھا۔
(۲۱۵۵۸) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : ادَّعَی رَجُلٌ بَغْلاً فِی یَدِ رَجُلٍ ، وَأَقَامَ الْبَیِّنَۃَ أَنَّہُ لَہُ ، وَأَقَامَ الَّذِی ہُوَ فِی یَدِہِ الْبَیِّنَۃَ أَنَّہُ أَنْتَجَہُ ، فَقَضَی بِہِ شُرَیْحٌ لِلَّذِی ہُوَ فِی یَدِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٥٩) حضرت ابو حصین (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عتبہ کے پاس تھا کہ آپ کے پاس موتیوں کا جھگڑا لایا گیا، ان میں سے ہر ایک نے گواہ پیش کئے کہ یہ اس کا ہے، میں نے حضرت عبداللہ بن عتبہ کو دیکھا کہ وہ اُ س کو اپنے ہاتھ سے حرکت دے رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ یہ اس کا ہے جس کے قبضہ میں ہے۔
(۲۱۵۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، قَالَ : اُخْتُصِمَ إلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ فِی لَوَالِی وَأَنَا عِنْدَہُ ، فَأَقَامَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا الْبَیِّنَۃَ أَنَّہَا لَہُ ، قَالَ : فَرَأَیْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُتْبَۃَ یُحَرِّکُہُنَّ بِیَدِہِ وَیَقُولُ : ہِیَ لِلْمُتْلد ، ہی للَّذِی فِی یَدِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٦٠) حضرت حکم سے مروی ہے کہ ایک خچر کے بارے میں دو گروہوں کا جھگڑا ہوگیا، ہر گروہ نے گواہ قائم کئے یہ خچر ان کا ہے، حضرت عبداللہ بن عتبہ (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ جن کا قبضہ ہے یہ ان کا ہے۔
(۲۱۵۶۰) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : وُجِدَ بَغْلٌ فِی النَّہْرَیْنِ ، فَأَقَامَ کُلُّ فِرْقَۃٍ الْبَیِّنَۃَ أَنَّہُ لَہُمْ ، فَقَضَی بِہِ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُتْبَۃَ : لِلَّذِی ہُوَفِی أَیْدِیہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৬০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٦١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب دونوں فریق گواہ پیش کردیں تو چیز اس کے لیے ہوگی جس کا قبضہ ہوگا۔
(۲۱۵۶۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا اسْتَوَتِ الْبَیِّنَتَانِ ، فَہُوَ لِلَّذِی فِی أَیْدِیہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৬১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٦٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب دو گواہ اس بات پر گواہی دیں کہ یہ جانور فلاں شخص کا ہے اور اس کے پاس پیدا ہوا ہے، اور دوسرے دو گواہ گواہی دیں کہ یہ فلاں کا ہے اور اس کے پاس پیدا ہوا ہے تو جس کے قبضہ میں ہوگا اس کے لیے فیصلہ کیا جائے گا۔
(۲۱۵۶۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا شَہِدَ شَاہِدَانِ ، أَنَّ ہَذِہِ الدَّابَّۃَ لِفُلاَنٍ وَنُتِجَ عِنْدَہُ ، وَشَہِدَ شَاہِدَانِ أَنَّہَا لِفُلاَنٍ وَنُتِجَ عِنْدَہُ ، فَہُو لِلَّذِی فِی یَدِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৬২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٦٣) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس کپڑا تھا ایک شخص نے گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا کپڑا ہے، اور جس کے پاس تھا اس نے بھی گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا ہے، تو آپ نے فرمایا کہ جس کے قبضہ میں ہے اس کا ہے، اور جانور میں ایک شخص نے گواہ پیش کئے کہ یہ اس کا جانور ہے، اور جس کا قبضہ تھا اس نے گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا جانور ہے ، آپ نے فرمایا جس کے قبضہ میں ہے اس کا ہے۔
(۲۱۵۶۳) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَکُونُ فِی یَدِہِ الثَّوْبُ فَیُقِیمُ الرَّجُلُ الْبَیِّنَۃَ أَنَّہُ ثَوْبُہُ ، وَیُقِیمُ الَّذِی ہو فِی یَدِہِ الْبَیِّنَۃَ أَنَّہُ ثَوْبُہُ ، فَقَالَ : ہُوَ لِلَّذِی ہُوَ فِی یَدِہِ ، وَقَالَ فِی الدَّابَّۃِ : یُقِیمُ ہَذَا الْبَیِّنَۃَ أنہا دابتہ ، وَیُقِیمُ الَّذِی ہی فِی یَدِہِ الْبَیِّنَۃَ أَنَّہَا دَابَّتُہُ ، قَالَ : ہِیَ لِلَّذِی ہِیَ فِی یَدِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৬৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٦٤) حضرت تمیم بن طرفۃ (رض) سے مروی ہے کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کے متعلق دعویٰ کیا اور ہر ایک نے گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ یہ ان دونوں کا ہے۔
(۲۱۵۶۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ تَمِیمِ بْنِ طَرَفَۃَ ، أَنَّ رَجُلَیْنِ ادَّعَیَا بَعِیرًا ، فَأَقَامَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا الْبَیِّنَۃَ أَنَّہُ لَہُ ، فَقَضَی بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ بَیْنَہُمَا۔ (ابوداؤد ۳۳۹۔ عبدالرزاق ۱۵۲۰۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৬৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٦٥) حضرت ابن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ دو آدمی ایک جانور کے متعلق جھگڑتے ہوئے حضرت ابو الدردائ (رض) کے پاس آئے، اور ان میں سے ایک نے گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا ہے، آپ (رض) نے اس کا فیصلہ دونوں کے لیے فرما دیا اور فرمایا کہ : تم دونوں میں سے زیادہ محتاج بنی اسرائیل کی زنجیر کی طرح نہیں تھا۔
(۲۱۵۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ، أَنَّ رَجُلَیْنِ اخْتَصَمَا إلَیْہِ فِی دَابَّۃٍ ، فَأَقَامَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا الْبَیِّنَۃَ أَنَّہَا لَہُ ، فَقَضَی بِہِ بَیْنَہُمَا وَقَالَ : مَا کَانَ أَحْوَجَکُمَا إلَی مِثْلِ سِلْسِلَۃِ بَنِی إسْرَائِیلَ۔ (عبدالرزاق ۱۵۲۰۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৬৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٦٦) حضرت ابو موسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کا ایک جانور کے بارے میں جھگڑا ہوگیا اور ہر ایک نے گواہ پیش کر دئیے کہ وہ اس کا ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا دونوں کے لیے فیصلہ فرما دیا۔
(۲۱۵۶۶) حَدَّثَنَا عبدۃ ، عن سعید ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، أن رجلین اختصما فی دابۃ ، فأقام کل واحد منہما البینۃ أنہا لہ ، فقضی النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بہا بینہما۔
(ابوداؤد ۳۶۰۸۔ حاکم ۹۴)
(ابوداؤد ۳۶۰۸۔ حاکم ۹۴)
তাহকীক: