মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২১৫৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٦٧) حضرت ابو موسیٰ (رض) سے اسی طرح مروی ہے۔
(۲۱۵۶۷) حَدَّثَنَا عفان ، قَالَ : حَدَّثَنَا ہمام ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِیثِ عَبْدَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٦٨) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ دو آدمی ایک جانور کے متعلق جھگڑتے ہوئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے، دونوں کے پاس گواہ نہ تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا کہ دونوں قسم کے بارے میں قرعہ اندازی کرلیں۔
(۲۱۵۶۸) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ خِلاَسٍ ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَجُلَیْنِ اخْتَصَمَا إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی دَابَّۃٍ وَلَیْسَ لہُمَا بَیِّنَۃٌ ، فَأَمَرَہُمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَسْتَہِمَا عَلَی الْیَمِینِ۔ (ابوداؤد ۳۶۶۱۔ احمد ۴۸۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی امانت دوسرے کے پاس ہو اور وہ اُس کو دے دے
(٢١٥٦٩) حضرت عطائ (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کے دوسرے کے پاس کچھ دراہم تھے، جب واپسی کا وقت آیا تو اس نے اس سے کہا کہ اس کو بطور مضاربت اپنے پاس رکھ لے، اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کے لیے ٹھیک نہیں ہے جب تک وہ اس سے لے کر قبضہ نہ کرلے پھر اگر چاہے تو اس کو دوبارہ دے دے۔
(۲۱۵۶۹) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ فِی رَجُلٍ کَانَتْ لَہُ عَلَی رَجُلٍ دَرَاہِمُ ، فَلَمَّا حَلَّتْ ، قَالَ : أَمْسِکْہَا مُضَارَبَۃً ، قَالَ : لاَ یصْلُحُ حَتَّی یَقْبِضَہَا مِنْہُ ، ثُمَّ یَدْفَعَہَا إلَیْہِ إِنْ شَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی امانت دوسرے کے پاس ہو اور وہ اُس کو دے دے
(٢١٥٧٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ امانت بھی قرض کی طرح ہے، قبضہ کرنے سے پہلے اس کو بطور مضاربت مت دو ۔
(۲۱۵۷۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: الْوَدِیعَۃُ مِثْلُ الْقَرْضِ، لاَ تُدْفَعُ مُضَارَبَۃً حَتَّی تُقْبَضَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی امانت دوسرے کے پاس ہو اور وہ اُس کو دے دے
(٢١٥٧١) حضرت حارث سے مروی ہے کہ ایک شخص کے ذمہ دوسرے کے کچھ دراہم بطور امانت تھے، اس شخص نے اس سے کہا کہ ان سے میرے لیے کچھ خرید لے، آپ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، ہاں اگر وہ چیز ہلاک ہوگئی اس کو گواہ پیش کرنے پڑیں گے کہ وہ اس کے لیے خریدا گیا تھا، وگرنہ اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی کہ وہ اس کے لیے خریدا گیا تھا، اور اگر وہ بطور مضا ربت ہو تو وہ اس سے اس کے لیے کچھ نہ خریدے جب تک کہ وہ اس پر قبضہ نہ کرلے یا اس کو اس پر کوئی ولی نہ دے دے۔
(۲۱۵۷۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ فِی رَجُلٍ کَانَ لَہُ عَلَی رَجُلٍ دَرَاہِمُ فَقَالَ لَہُ : اشْتَرِ لِی بِہَا شَیْئًا فَقَالَ : لاَ بَأْسَ ، وَإِنْ ہَلَکَ الَّذِی اشْتَرَی لَہُ فَبَیِّنَتُہُ أَنَّہُ لہُ اشْتَرَاہُ ، وَإِلاَّ لَمْ یُصَدَّقْ أَنَّہُ اشْتَرَاہُ لَہُ ، وَإِنْ کَانَتْ مُضَارَبَۃً فَلاَ یَشْتَرِی لَہُ بِہَا شَیْئًا حَتَّی یَقْبِضَہَا ، أَوْ یُعْطِیَہَا وَلِیًّا لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی امانت دوسرے کے پاس ہو اور وہ اُس کو دے دے
(٢١٥٧٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی کا کسی پر قرضہ ہو تو وہ قرضہ کی رقم قبضہ کیے بغیر بیع سلم میں اس کے حوالے نہ کرے۔
(۲۱۵۷۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یُکْرَہُ إذَا کَانَ لَہُ عَلَی الرَّجُلِ دَیْنٌ أَنْ یُسْلِمَہُ إلَیْہِ فِی شَیْئٍ حَتَّی یَقْبِضَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی امانت دوسرے کے پاس ہو اور وہ اُس کو دے دے
(٢١٥٧٣) حضرت شعبی (رض) سے دریافت کیا گیا کہ کسی شخص پر کسی کا دین ہو تو وہ اس سے بیع سلم کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں جب تک کہ وہ اس پر خود قبضہ نہ کرلے۔
(۲۱۵۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ : فِی رَجُلٍ کَانَ لَہُ عَلَی رَجُلٍ دَیْنٌ فَأَسْلَمَہُ إلَیْہِ ، قَالَ : لاَ حَتَّی یَقْبِضَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی امانت دوسرے کے پاس ہو اور وہ اُس کو دے دے
(٢١٥٧٤) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ مضاربت کو قرض کی طرف پھیرا جاسکتا ہے مگر قرض کو مضاربت کی طرف نہیں پھیرا جاسکتا۔
(۲۱۵۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ أَبِی شِہَابٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : تُصْرَفُ الْمُضَارَبَۃُ فِی الدَّیْنِ ، وَلاَ یُصْرَفُ الدَّیْنُ فِی الْمُضَارَبَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی امانت دوسرے کے پاس ہو اور وہ اُس کو دے دے
(٢١٥٧٥) حضرت ابن عمر (رض) سے دریافت کیا گیا کہ کسی شخص کے ذمہ کسی کا قرض تھا، پھر اس شخص نے ارادہ کیا کہ اس کی طرف سے طعام میں ادا کر دے، آپ نے اس کو ناپسند فرمایا اور فرمایا کہ نہیں، جب تک کہ وہ قبضہ نہ کرے ایسا نہ کرے۔
(۲۱۵۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانَ ، عَنْ کلیب بنِ وَائِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ کَانَ لَہُ عَلَی رَجُلٍ دَیْنٌ ، فَأَرَادَ أَنْ یُسْلِمَہ إلَیْہِ فِی طَعَامٍ فَکَرِہَہُ ، وَقَالَ : لاَ حَتَّی یَقْبِضَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی سے کپڑا خریدے اور اُس کو کاٹ بھی لے پھر اُس کپڑے میں عیب پائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٧٦) حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ ایک شخص نے کپڑا خریدا اس کپڑے میں عیب تھا، حضرت عثمان (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ اس کو واپس کر دے، خواہ اس نے اس کو پہنا ہو۔
(۲۱۵۷۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عُثْمَانَ أَنَّہُ قَضَی فِی الثَّوْبِ یَشْتَرِیہِ الرَّجُلُ وَبِہِ عَوَارٌ أَنَّہُ یَرُدُّہُ إذَا کَانَ قَدْ لَبِسَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی سے کپڑا خریدے اور اُس کو کاٹ بھی لے پھر اُس کپڑے میں عیب پائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٧٧) حضرت حسن (رض) سے دریافت کیا گیا کہ ایک آدمی نے کپڑا خریدا پھر اس میں عیب پایا، آپ نے فرمایا عیب کی بقدر ثمن میں پیسے واپس کئے جائیں گے۔
(۲۱۵۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ اشْتَری ثَوْبًا ثُمَّ رَأَی فِیہِ عَوَارًا ، قَالَ : یُحَطُّ عَنْہُ مِنْ ثَمَنِہِ مَا یَضَعُ ذَلِکَ الْعَوَارَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی سے کپڑا خریدے اور اُس کو کاٹ بھی لے پھر اُس کپڑے میں عیب پائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٧٨) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کپڑا خریدے، پھر اس میں عیب پائے تو اگر وہ کپڑا اپنی حالت سے بدل گیا ہے تو میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ بیع کو نافذ کیا جائے اور عیب کی بقدر ثمن کم کیا جائے۔
(۲۱۵۷۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُ ؛ فِی الرَّجُلِ یَشْتَرِی الثَّوْبَ فَیَرَی فِیہِ الْعَوَارَ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُ : إذَا تَغَیَّرَ عَنْ حَالِہِ أَحَبُّ إلَیَّ أَنْ یُجَوِّزَہُ وَیَحُطَّ عَنْہُ قَدْرَ الْعَوَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی سے کپڑا خریدے اور اُس کو کاٹ بھی لے پھر اُس کپڑے میں عیب پائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٧٩) حضرت شریح (رض) کے پاس دو شخص جھگڑا لے کر آئے، ایک نے دوسرے سے کپڑا خریدا تھا اور پھر اس کو کاٹ دیا تھا، کاٹنے کے بعد اس میں عیب پایا، آپ نے فرمایا کہ : کاٹنے کی وجہ سے جو عیب تو نے اس میں پیدا کردیا وہ اس عیب سے زیادہ سخت ہے جو اس میں تھا۔
(۲۱۵۷۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن شُرَیْحٍ : أَنَّہُ اخْتَصَمَ إلَیْہِ رَجُلاَنِ اشْتَرَی أَحَدُہُمَا مِنَ الآخَرِ رَاوِیَّۃً ، فَقَطَعَہَا ، ثُمَّ وَجَدَ بِہَا عَیْبًا فَقَالَ : الَّذِی أَحْدَثْت فِیہَا أَشَدُّ مِنَ الَّذِی کَانَ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی سے کپڑا خریدے اور اُس کو کاٹ بھی لے پھر اُس کپڑے میں عیب پائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٨٠) حضرت شعبۃ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے کپڑا خرید کر اس کو کاٹ لیا پھر اس میں عیب نکل آیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ کپڑا واپس کر دے گا، میں نے پھر حضرت حماد سے یہی دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ کپڑا واپس کر دے گا اور کاٹنے کا تاوان بھی واپس کرے گا۔ ( کپڑے کو کاٹنے کی وجہ سے جو خرابی آئی ہے اس کا جرمانہ بھی واپس کرے گا) شعبہ راوی فرماتے ہیں کہ مجھے ہیثم نے خبر دی ہے کہ حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اس سے عیب کا تاوان لے گا۔
(۲۱۵۸۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، عْن رَجُلٍ اشْتَرَی ثَوْبًا فَقَطَّعَہُ فَوَجَدَ بِہِ عَوَارًا ، قَالَ : یَرُدُّہُ۔ وَسَأَلْت حَمَّادًا فَقَالَ : یَرُدُّہُ ، وَیَرُدُّ أَرْشَ التَّقْطِیعِ۔ قَالَ شُعْبَۃُ : وَأَخْبَرَنِی الْہَیْثَمُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، أَنَّہُ قَالَ: یُوضَعُ عَنْہُ أَرْشُ الْعَوَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی سے کپڑا خریدے اور اُس کو کاٹ بھی لے پھر اُس کپڑے میں عیب پائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٨١) حضرت جبلۃ بن سحیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو دیکھا آپ (رض) نے ایک قمیض خریدی اور اس کو پہن لیا، اس میں آپ کی داڑھی سے زردی لگ گئی، آپ نے وہ قمیض واپس کرنے کا ارادہ کیا پھر اس زردی کی وجہ سے واپسی کا ارادہ ترک فرما دیا۔
(۲۱۵۸۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ اشْتَرَی قَمِیصًا فَلَبِسَہُ ، فَأَصَابَتْہُ صُفْرَۃٌ مِنْ لِحْیَتِہِ ، فَأَرَادَ أَنْ یَرُدَّہُ فَلَمْ یَرُدَّہُ مِنْ أَجْلِ الصُّفْرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی سے کپڑا خریدے اور اُس کو کاٹ بھی لے پھر اُس کپڑے میں عیب پائے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٥٨٢) حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ جو شخص ایسی قمیض خریدے جس میں عیب ہو تو اس کو اختیار ہے۔ ( چاہے تو رکھ لے چاہے تو واپس کر دے)
(۲۱۵۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : مَنِ اشْتَرَی ثَوْبًا فَوَجَدَ بِہِ عَیْبًا ، فَہُوَ بِالْخِیَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پردے کر ان سے نفع حاصل کر ے
(٢١٥٨٣) حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ نفع حاصل کرنا ضمان کے ساتھ ہے۔
(۲۱۵۸۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَکْرٍ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : النَّمَائُ مَعَ الضَّمَانِ ، یَعْنِی الرِّبْحَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پردے کر ان سے نفع حاصل کر ے
(٢١٥٨٤) حضرت شریح (رض) سے دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے غلام واپس کر دے ؟ آپ نے فرمایا کہ واپس کر دے اس کا نفع اٹھانا اس کے لیے ہی ہوگا۔ ( ضمان وغیرہ نہیں ہے) ۔
(۲۱۵۸۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَرُدُّ الْعَبْدَ بِالدَّائِ ، قَالَ : یَرُدُّہُ وَلَہُ الْغَلَّۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پردے کر ان سے نفع حاصل کر ے
(٢١٥٨٥) حضرت ابن عون سے مروی ہے کہ ایک شخص نے غلام خریدا پھر اس کو کرایہ پردے کر نفع حاصل کیا، پھر ایک شخص نے اس غلام پر دعویٰ کردیا، وہ دونوں جھگڑتے ہوئے حضرت ایاس بن معاویہ کے پاس آئے، وہ اس غلام کا مستحق نکل آیا آپ نے اس کے لیے غلام اور اس کے منافع کا فیصلہ فرما دیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس فیصلہ کا ذکر حضرت محمد بن سیرین سے کیا، آپ نے فرمایا وہ سمجھ دار ہیں، جو صحیح سمجھا اس کا فیصلہ کیا۔
(۲۱۵۸۵) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، أَنَّ رَجُلاً اشْتَرَی عَبْدًا فَاسْتَغَلَّہُ ، ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ فَادَّعَاہُ فَخَاصَمَہُ إلَی إیَاسِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ فَاسْتَحَقَّہُ ، فَقَضَی لَہُ بِالْعَبْدِ وَبِغَلَّتِہِ ، وَقَضَی لِلرَّجُلِ عَلَی صَاحِبِہِ الَّذِی اشْتَرَاہُ مِنْہُ بِمِثْلِ الْعَبْدِ وَبِمِثْلِ غَلَّتِہِ۔ قَالَ : فَذَکَرْت ذَلِکَ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ : ہُوَ فَہِمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پردے کر ان سے نفع حاصل کر ے
(٢١٥٨٦) حضرت حسن اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو غلام خریدے پھر وہ عیب پر مطلع ہو ، اور وہ اس غلام کو کرایہ پردے کر نفع بھی اٹھا چکا ہو، آپ نے فرمایا کہ نفع مشتری کے لیے ہوگا۔
(۲۱۵۸۶) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ اشْتَرَی عَبْدًا فَاطَّلَعَ عَلَی عَیْبٍ وَقَدِ اسْتَغَلَّہُ، قَالَ : الْغَلَّۃُ لِلْمُشْتَرِی۔
তাহকীক: