মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি

হাদীস নং: ২১৫৮৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پردے کر ان سے نفع حاصل کر ے
(٢١٥٨٧) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ نفع جو اٹھایا ہے وہ مشتری کے لیے ہوگا مگر ضمان کے ساتھ۔
(۲۱۵۸۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : الْغَلَّۃُ لَہُ بِالضَّمَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৮৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پردے کر ان سے نفع حاصل کر ے
(٢١٥٨٨) حضرت حارث عکلی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے مکان خریدا اور پھر اس کو کرایہ پردے کر نفع اٹھایا، پھر ایک شخص اس کا مستحق نکل آیا، آپ نے فرمایا میں اس کے لیے اس سے نفع اٹھانے پر کوئی ضمان لازم نہ کروں گا۔
(۲۱۵۸۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُکْلِیِّ : فِی رَجُلٍ اشْتَرَی دَارًا فَاسْتَغَلَّہَا ، ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ فَاسْتَحَقَّہَا ، قَالَ : لاَ أجْعَلُ لَہُ مِنَ الْغَلَّۃِ شَیْئاً ، یَعْنِی الْمُسْتَحِقَّ۔

وَفِی أشباہ ہَذَا فِیمَنَ اسْتَنقذَ مَنْ فِی یَدَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৮৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پردے کر ان سے نفع حاصل کر ے
(٢١٥٨٩) حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ خراج ضمان کے ساتھ ہے۔
(۲۱۵۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وَابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ۔ (ابوداؤد ۳۵۰۲۔ ترمذی ۱۲۸۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৮৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پردے کر ان سے نفع حاصل کر ے
(٢١٥٩٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ نفع اٹھانا ضمان کے ساتھ ہے۔
(۲۱۵۹۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ لَہُ : الْغَلَّۃُ بِالضَّمَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৯০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پردے کر ان سے نفع حاصل کر ے
(٢١٥٩١) حضرت زید بن ابو حبیب سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے بیٹے کا مکان فروخت کیا، اس کا باپ کم عقل تھا ، بیٹا حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس آیا تو آپ نے بیع کو باطل کردیا اور بیٹے کے لیے گھر کا فیصلہ فرمایا ۔ بیٹے نے سوال کیا کہ اس کے کرائے کا کیا ہوگا ؟ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ اس کانفع ضمان کے ساتھ ہوگا۔
(۲۱۵۹۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ : فِی رَجُلٍ بَاعَ دَارًا لابنہ ، وَکَانَ الأَبُ یَرْہَق ، فَجَائَ الابْنُ إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَأَبْطَلَ بَیْعَہُ ، وَقَضَی لَہُ بِالدَّارِ ، فَقَالَ : غَلَّتُہَا ؟ فَقَالَ : غَلَّتُہَا بِضَمَانِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৯১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پردے کر ان سے نفع حاصل کر ے
(٢١٥٩٢) حضرت شریح (رض) اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے غلام غصب کیا اور پھر اس سے نفع اٹھایا، آپ نے فرمایا : کرایہ پردے کر جو نفع حاصل کیا ہے وہ واپس کرے گا۔
(۲۱۵۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ حَجَّاجٌ ، عَنْ شُرَیْحٍ : فِی رَجُلٍ غَصَبَ عَبْدًا فَاسْتَغَلَّہُ ، قَالَ : یَرُدُّ الْغَلَّۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৯২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کھجور کا درخت خریدے پھر پھل کاٹنے سے قبل آگے فروخت کردے
(٢١٥٩٣) حضرت زید بن ثابت (رض) اور حضرت زبیر بن عوام (رض) اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ آدمی درخت پر جو پھل ہے اس کو خرید لے پھر اس کو کاٹنے سے قبل آگے فروخت کر دے۔
(۲۱۵۹۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَالزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ لَمْ یَرَیَا بَأْسًا أَنْ یَشْتَرِیَ الرَّجُلُ مَا فِی رُؤُوسِ النَّخْلِ إذَا أَدْرَکَ ، ثُمَّ یَبِیعُہُ فِی رُؤُوسِ النَّخْلِ قَبْلَ أَنْ یَصْرِمَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৯৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کھجور کا درخت خریدے پھر پھل کاٹنے سے قبل آگے فروخت کردے
(٢١٥٩٤) حضرت ابن عباس (رض) اس کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۱۵۹۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ کَرِہَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৯৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کھجور کا درخت خریدے پھر پھل کاٹنے سے قبل آگے فروخت کردے
(٢١٥٩٥) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص درخت پر لگا پھل خریدے تو جب تک اس پر قبضہ نہ کرلے اس کو آگے فروخت نہ کرے۔
(۲۱۵۹۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّہُ قَالَ : إذَا اشْتَرَی الرَّجُلُ التَّمْرَ عَلَی رُؤُوسِ النَّخْلِ ، فَلاَ یَبِیعُہَا حَتَّی یَقْبِضہا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৯৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کھجور کا درخت خریدے پھر پھل کاٹنے سے قبل آگے فروخت کردے
(٢١٥٩٦) حضرت عکرمہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ آدمی درخت پر لگا پھل خرید لے پھر اس کو کاٹنے سے قبل فروخت کر دے۔
(۲۱۵۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عکرمۃ ، أنہ کان یکرہ إذا اشتری الثمرۃ علی رؤوس النخل أن یبیعہا حتی یصرمہا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৯৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کھجور کا درخت خریدے پھر پھل کاٹنے سے قبل آگے فروخت کردے
(٢١٥٩٧) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی درخت پر لگا پھل خرید لے تو اس کو کاٹنے سے قبل آگے فروخت کرے تو کوئی حرج نہیں۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ ہمارے زمانے میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر جب لوگوں نے ان سے بہت زیادہ اس بارے میں پوچھنا شروع کیا تو آپ نے فرمایا : اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈال دے اس کے بدلے میں جو تمہیں شک میں نہ ڈالے۔
(۲۱۵۹۷) حَدَّثَنَا یزید بن ہارون ، عن ہشام ، عن الحسن : فی الرَّجُلُ یشتری التَّمْرَ عَلَی رُؤُوسِ النَّخْلِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَبِیعَہُ قَبْلَ أَنْ یَصْرِمَہُ۔ قَالَ: وَکَانَ مُحَمَّدٌ لاَ یَرَی بِہِ زَمَانًا بَأْسًا ، فَلَمَّا أَکْثَرُوا عَلَیْہِ فِیہِ ، قَالَ : دَعُوا مَا یَرِیبُکُمْ إلَی مَا لاَ یَرِیبُکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৯৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کھجور کا درخت خریدے پھر پھل کاٹنے سے قبل آگے فروخت کردے
(٢١٥٩٨) حضرت ثعلبہ بن فرات انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ایک قوم کے لوگوں کو کپڑا فروخت کیا اور ایک خاص مدت کے لیے پیسے رہن رکھوا دئیے، جب مقررہ مدت مکمل ہوگئی تو ان پیسوں کے بدلے میں ان سے کھجور کے درخت خرید لئے، اور ان پر قبضہ کرلیا اور اس کے پھل کو درخت پر ہی سکھایا، وہ خوشے بن کر پھل دار بن گئے تو میں نے ان کو اتار لیا، پھر جن لوگوں نے مجھے فروخت کیا تھا وہ میرے پاس آئے اور اس پھل کی طرف رغبت کرنے لگے، میں نے وہ پھل ان کو ایک مقررہ مدت کے لیے فروخت کردیا، اس بارے میں لوگوں نے بہت سی باتیں کیں تو میں نے حضرت سالم (رض) سے اس کے متعلق دریافت کیا اور ان کو یہ سارا قصہ سنایا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تمہارے دل میں تھا کہ میں دوبارہ انہی کو فروخت کروں گا ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں خدا کی قسم میرے دل میں یہ خیال بھی نہ گذرا تھا، آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں، پھر میں نے حضرت قاسم (رض) سے دریافت کیا ؟ آپ نے بھی دریافت کیا کہ کیا تمہارے دل میں یہ خیال تھا کہ دوبارہ انہی کو فروخت کروں گا ؟ میں نے عرض کیا نہیں خدا کی قسم میرے دل میں یہ خیال بھی نہ آیا، آپ (رض) نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں۔
(۲۱۵۹۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ الْفُرَاتِ الأَنْصَارِیِّ ، قَالَ : بِعْت قَوْمًا ثَوْبًا وَارْتَہَنْت مِنْہُمْ رَہْنًا إلَی أَجَلٍ ، فَلَمَّا حَلَّ الأَجَلُ اشْتَرَیْت مِنْہُمْ نَخْلاً بِمَا لِی عَلَیْہِمْ ، فَقَبَضْتہ وَیَبَّسْتہ فِی رُؤُوسِ النَّخْلِ ، فَوَقَعَ مِنْہُ عِذْقٌ ، فَأَخَذْتہ ، ثُمَّ جَائَوونِی الَّذِینَ بَاعُونِیہِ ، فَرَغِبُوا إلَیَّ فِی الثَّمَرِ فَبِعْتہ مِنْہُمْ إلَی أَجَلٍ ، فَأَکْثَرَ النَّاسُ فِی ذَلِکَ ، فَسَأَلْت سَالِمًا وَقَصَصْت عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ ، فَقَالَ : کَانَ فِی نَفْسِکَ أَنْ تَبِیعَہُ مِنْہُمْ ؟ قُلْتُ : لاَ وَاللَّہِ ، وَلاَ خَطَرَ عَلَی قَلْبِی ، فَقَالَ : لاَ بَأْسَ۔ قَالَ : وَسَأَلْت الْقَاسِمَ فَقَالَ : کَانَ فِی نَفْسِکَ أَنْ تَبِیعَہُ مِنْہُمْ ؟ قُلْتُ : لاَ وَاللَّہِ ، وَلاَ خَطَرَ عَلَی قَلْبِی ، قَالَ : لاَ بَأْسَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৯৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کھجور کا درخت خریدے پھر پھل کاٹنے سے قبل آگے فروخت کردے
(٢١٥٩٩) حضرت عکرمہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص اگر کھجور کا درخت خریدے، آپ نے فرمایا کہ جب تک پھل نہ کاٹ لے آگے فروخت نہ کرے۔
(۲۱۵۹۹) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ مُوسَی النَّحْوِیِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی الزُّبَیْرُ بْنُ خِرِّیتٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَشْتَرِی ثَمَرَۃ النَّخْلِ ، قَالَ : لاَ یَبِعْہُ حَتَّی یَصْرِمَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৯৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص بیع کرے اور اس میں بعض مجہول حصہ مستثنیٰ کر لے
(٢١٦٠٠) حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ بیع کر کے اس میں کچھ حصہ (مجہول) الگ کرلیا جائے۔
(۲۱۶۰۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنِ الثُّنْیَا۔

(مسلم ۱۱۷۵۔ احمد ۳۱۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬০০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص بیع کرے اور اس میں بعض مجہول حصہ مستثنیٰ کر لے
(٢١٦٠١) حضرت عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب (رض) سے دریافت کیا کہ : میں اپنی زمین کے پھل فروخت کر کے اس میں سے کچھ حصہ الگ کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا مستثنیٰ نہ کرو، اگر کرنا ہے تو ایک معین درخت الگ کرلو، لیکن اس کو بھی صدقہ سے بری نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن سیرین (رض) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اس رائے کو پسند فرمایا۔
(۲۱۶۰۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَبِیعُ تَمْرَ أَرْضِی وَأَسْتَثْنِی ؟ قَالَ : لاَ تَسْتَثْنِی إلاَّ شَجَرًا مَعْلُومًا ، وَلاَ تَبْرَأْنَّ مِنَ الصَّدَقَۃِ۔ قَالَ : فَذَکَرْتہ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ فَکَأَنَّہُ أَعْجَبَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬০১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص بیع کرے اور اس میں بعض مجہول حصہ مستثنیٰ کر لے
(٢١٦٠٢) حضرت قاسم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر حضرت ابن عمر (رض) بعض مجہول حصہ الگ کرنے کو ناپسند نہ کرتے اور ہماری اپنی مرضی ہوتی تو ہم لوگ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے۔ ابن علیۃ راوی اضافہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے تھے میں اس (معین) درخت کو فروخت نہیں کروں اس درخت ( معین) کو فروخت نہیں کروں گا۔
(۲۱۶۰۲) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عُلَیَّۃَ ، وَابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : لَوْلا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَرِہَ الثُّنْیَا وَکَانَ عِنْدَنَا مَرَضِیًّا مَا رَأَیْنَا بِذَلِکَ بَأْسًا۔ زَادَ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ : فَتَحَدَّثَنَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : لاَ أَبِیعُ ہَذِہِ النَّخْلَۃَ ، وَلاَ أَبِیعُ ہَذِہِ النَّخْلَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬০২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص بیع کرے اور اس میں بعض مجہول حصہ مستثنیٰ کر لے
(٢١٦٠٣) حضرت سعید بن المسیب (رض) اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کھجور کے درختوں میں سے کچھ ماپ کر خریدے جائیں۔
(۲۱۶۰۳) حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَشْتَرِی شَیْئًا ِمَن النَّخْل بِکَیْلٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬০৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص بیع کرے اور اس میں بعض مجہول حصہ مستثنیٰ کر لے
(٢١٦٠٤) حضرت ابو حمزہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے عرض کیا کہ میں ایک آدمی کو بکری فروخت کر کے اس کا بعض حصہ مستثنیٰ کیا ہے، ایسا کرنا کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ٹھیک نہیں ۔ بلکہ آپ اس کو یوں کہو کہ میں نصف بکری آپ کو فروخت کرتا ہوں۔
(۲۱۶۰۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ : أَبیعُ الرَّجُلُ الشَّاۃَ وَیَسْتَثْنِی بَعْضَہَا ، قَالَ: لاَ ، وَلَکِنْ قُلْ : أَبِیعُک نِصْفَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬০৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص بیع کرے اور اس میں بعض مجہول حصہ مستثنیٰ کر لے
(٢١٦٠٥) حضرت جابر (رض) سے دریافت کیا گیا کہ آدمی کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور اس میں سے کچھ مستثنیٰ کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ ٹھیک نہیں ہے۔
(۲۱۶۰۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ أَبِی الْجَارُودِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ زَیْدٍ عَنِ الرَّجُلِ یَبِیعُ الْبَیْعَ وَیَسْتَثْنِی بَعْضَہُ، قَالَ : لاَ یَصْلُحُ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬০৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص بیع کرے اور اس میں بعض مجہول حصہ مستثنیٰ کر لے
(٢١٦٠٦) حضرت حسن (رض) سے دریافت کیا گیا کہ آدمی اپنی زمین سے کھجور کی بیع کرے اور ایک ( یا کچھ) کُرّ مستثنیٰ کرلے، آپ نے فرمایا تعجب ہے کہ وہ کھجور کے درخت کو جانتا ہے ( کہ وہ کتنی کھجور دے گا) ۔
(۲۱۶۰۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَبِیعُ ، تَمْرَ أَرْضِہِ وَیَسْتَثْنِی الْکُرَّ ، قَالَ : کَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یُعْلِمَ نَخْلاً۔
tahqiq

তাহকীক: