মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫৩ টি
হাদীস নং: ২১৬৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٦٦٧) حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا ہوا تھا، آپ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ہم جاگیر داروں سے زمین لیتے ہیں، اور اس میں اپنے دانہ اور بیل سے محنت کرتے ہیں اور ان سے اپنا حق وصول کرتے ہیں اور ان کو ان کا حق دے دیتے ہیں۔ آپ (رض) نے اس سے فرمایا صرف راس المال لیا کرو اس سے زیادہ نہ لیا کرو، اس نے تین مرتبہ آپ سے پوچھا آپ نے تینوں بار یہی جواب دیا۔
(۲۱۶۶۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إذْ أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : إنَّا نَأْخُذُ الأَرْضَ مِنَ الدَّہَاقِینِ ، فَأَعْتَمِلُہَا بِبَذْرِی وَبَقَرِی ، فَآخُذُ حَقِّی وَأُعْطِیہِ حَقَّہُ ، فَقَالَ لَہُ : خُذْ رَأْسَ مَالِکَ ، وَلاَ تَزدْ عَلَیْہِ شَیْئاً فَأَعَادَہَا عَلَیْہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، کُلُّ ذَلِکَ یَقُولُ لَہُ ہَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٦٦٨) حضرت عکرمہ مزارعۃ بالثلث اور ربع کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۲۱۶۶۸) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّہُ کَرِہَ الْمُزَارَعَۃَ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٦٦٩) حضرت ابراہیم (رض) مزارعۃ بالثلث اور ربع کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۲۱۶۶۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : أَنَّہُ کَرِہَ المُزَارَعَۃ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٦٧٠) حضرت ابراہیم مزارعۃ بالثلث اور ربع کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۲۱۶۷۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَش ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُعْطِیَ ألأَرْضَ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٦٧١) حضرت جابر (رض) زمین کرایہ پر دینے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۱۶۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ کِرَاء ألأَرْضَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٦٧٢) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ زمین اور بیج کرایہ پر مت دو ۔
(۲۱۶۷۲) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : لاَ تُکْری الأَرْضَ ، وَلاَ بذَرۃ ، أَوْ قَالَ : مَدَرۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٦٧٣) حضرت رافع بن خدیج (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابو رافع (رض) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت سے ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک کام سے منع فرمایا۔ وہ ہمارے ساتھ بہت نرمی کرتے تھے، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سب سے زیادہ نرمی والی بات ہے۔ آپ نے ہمیں فرمایا ہے ہم اپنی زمین مزارعت پر دیں۔ ہمیں حکم ہے کہ یا تو اپنی مملوکہ زمین میں کھیتی باڑی کریں یا ایسی زمین میں جو بلا معاوضہ کام کے لیے دی گئی ہو۔
(۲۱۶۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : جَائَنَا أَبُو رَافِعٍ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : نَہَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ کَانَ یَرْفُقُ بِنَا ، وَطَاعَۃُ اللہِ وَطَاعَۃُ رَسُولِہِ أَرْفَقُ بِنَا ، نَہَانَا أَنْ یَزْرَعَ أَحَدُنَا الأَرْضَ إلاَّ أَرْضًا یَمْلِکُ رَقَبَتَہَا ، أَوْ مَنِیحَۃً یَمْنَحُہَا رَجُلٌ۔ (احمد ۴۶۵۔ ابوداؤد ۳۳۹۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٦٧٤) حضرت ضحاک بن مزاحم فرماتے ہیں کہ زمین دو ہی خوبیوں کی صلاحیت رکھتی ہے، آدمی جس زمین کے رقبہ کا مالک ہے اس کو عارضی طور پردے دے یا زمین کو معین مدت کے لیے معین اجرت پردے دے۔
(۲۱۶۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ نُصَیْرِ بْنِ أَدْہَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الضَّحَّاکَ بْنَ مُزَاحِمٍ یَقُولُ : لاَ یَصْلُحُ مِنَ الأَرْضِ إلاَّ خَصْلَتَانِ : أَرْضٌ مَنَحَکہَا رَجُلٌ یَمْلِکُ رَقَبَتَہَا ، أَوْ أَرْضٌ اسْتَأْجَرْتہَا بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ إلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٦٧٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ کھیتی باڑی کا بہترین اصول یہ ہے کہ آدمی اپنی زمین معلوم اجرت کے بدلے کسی کو کرایے پردے دے۔
(۲۱۶۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إنَّ أَمْثَلَ أَبْوَابِ الزَّرْعِ أَنْ یَسْتَأْجِرَ الأَرْضَ الْبَیْضَائَ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٦٧٦) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ کھیتی باڑی درست نہیں ہے مگر اس زمین میں جس کے رقبہ کا تو مالک ہو، یہ وہ زمین جو کسی نے عارضی طور پر نفع حاصل کرنے کے لیے دی ہو۔
(۲۱۶۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لاَ یَصْلُحُ مِنَ الزَّرْعِ إلاَّ أَرْضٌ تَمْلِکُ رَقَبَتَہَا ، أَوْ أَرْضٌ یَمْنَحُکہَا رَجُلٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢١٦٧٧) حضرت رفاعۃ بن رافع ابن خدیج (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمین کی مزارعۃ اور اجارہ سے منع فرمایا ہے، مگر یہ کہ آدمی اس کو خرید لے یا معین مدت کے لیے کرایہ پر لے لے، پھر فرمایا کہ میرے والد محترم نے ایک شخص سے زمین عاریۃ لی اور اس میں کھیتی باڑی کی اور اس میں ایک عمارت بنا لی ، پھر وہ مالک زمین اس طرف آیا اور اس نے عمارت دیکھی اور پوچھا کس نے یہ عمارت بنائی ہے ؟ لوگوں نے کہا فلاں شخص نے جس کو آپ نے زمین عاریۃً دی تھی، اس نے کہا کہ کیا یہ عوض ہے اس کو جو میں نے اس کو دیا تھا ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا کہ میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا جب تک کہ تم لوگ اس کو گِرا نہ دو ۔
(۲۱۶۷۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَارَعَۃِ وَالإِجَارَۃِ : إلا أن یَشْتَرِیَ الرَّجُلُ أَرْضًا ، أَوْ یُعَارَ ، ثُمَّ قَالَ : أَعَارَ أبِی أَرْضًا مِنْ رَجُلٍ فَزَرَعَہَا وَبَنَی فِیہَا بُنْیَانًا ، فَخَرَجَ إلَیْہَا فَرَأَی الْبُنْیَانَ فَقَالَ : مَنْ بَنَی ہَذَا ؟ فَقَالُوا : فُلاَنُ الَّذِی أَعَرْتہ ، فَقَالَ : أَعِوَضٌ مِمَّا أَعْطَیْتہ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : لاَ أَبْرَحُ حَتَّی تَہْدِمُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زمین کو گندم کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢١٦٧٨) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ زمین کو گندم کے بدلے کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۱۶۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی مَکِینٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِکرَائِ الأَرْضِ بِالطَّعَامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زمین کو گندم کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢١٦٧٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ آدمی اپنی زمین گندم کے بدلے کرایہ پردے دے۔
(۲۱۶۷۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَسْتَأْجِرَ الرَّجُلُ الأَرْضَ الْبَیْضَائَ بِالْحِنْطَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زمین کو گندم کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢١٦٨٠) حضرت سعید بن جبیر (رض) سے دریافت کیا گیا کہ زمین دراہم یا گندم کے عوض کرایہ پر دینا کیسا ہے ؟ آپ نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
(۲۱۶۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ عَنْ کِرَئِ الأَرْضِ بِالدَّرَاہِمِ وَالطَّعَامِ ، فَلَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زمین کو گندم کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢١٦٨١) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں اگر ہم مقرر کرکے گندم وصول کریں۔
(۲۱۶۸۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ سَعِیدِ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: لاَ بَأْسَ أَنْ نَأْخُذَ بِطَعَامٍ مُسَمًّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زمین کو گندم کے بدلے کرایہ پر دینا
(٢١٦٨٢) حضرت رافع بن خدیج (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس کے پاس زمین ہے اس کو چاہیے کہ خود کھیتی باڑی کرے، یا پھر اپنے بھائی کے لیے چھوڑ دے، اس زمین کو ثلث یا ربع پر کرایہ پر مت دے اور نہ ہی مقررہ گندم پر دے۔
(۲۱۶۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ حَکِیمٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا ، أَوْ لِیُزْرِعْہَا أَخَاہُ ، وَلاَ یُکْرِہَا بِثُلُثٍ ، وَلاَ رُبعٍ ، وَلاَ بِطَعَامٍ مُسَمًّی۔ (مسلم ۱۱۳۔ نسائی ۴۶۲۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی چیز پر دعویٰ کریں پھر اُن میں سے ایک دو گواہ پیش کر دے اور دوسرا ایک گواہ پیش کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٦٨٣) حضرت شعبی (رض) سے مروی ہے کہ قبیلہ ازد کے لوگوں کے پاس ایک جانور تھا، اس پر ایک قوم نے دعویٰ کیا اور گواہ پیش کر دئیے کہ یہ ان کا جانور ہے، جو حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور میں گم ہوگیا تھا، اور جانور جن کے قبضہ میں تھا انھوں نے بھی گواہ پیش کر دئیے کہ وہ جانور ان کے ہاں پیدا ہوا ہے۔ معاملہ ان کے قاضی عبد الرحمن بن اذنیہ کے سامنے پیش ہوا، ان میں سے ایک فریق صبح آ کر گواہ پیش کرتا تو دوسرا فریق شام میں اس سے زیادہ گواہ پیش کردیتا، قاضی نے حضرت شریح (رض) کو صورت حال لکھ کر بھیجی، حضرت شریح (رض) نے لکھا کہ گواہوں کی کثرت کا اعتبار نہیں ہے، جنہوں نے گواہ پیش کئے ہیں کہ وہ ان کے ہاں پیدا ہوا ہے اور وہ جانور ان کے قبضے میں ہے وہ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔
(۲۱۶۸۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَانَتْ دَابَّۃٌ فِی أَیْدِی النَّاسِ مِنَ الأَزْدِ ، فَادَّعَاہَا قَوْمٌ ، فَأَقَامُوا الْبَیِّنَۃَ أَنَّہَا دَابَّتُہُمْ أَضَلُّوہَا فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَأَقَامَ الَّذِینَ ہِیَ فِی أَیْدِیہِمَ الْبَیِّنَۃَ أَنَّہُمْ نَتَجُوہَا ، فَرُفِعَ ذَلِکَ إلَی قَاضِیہِمْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَیْنَۃَ فَجَعَلَ ہَؤُلاَئِ یَغْدُونَ بِبَیِّنَۃٍ وَیَرُوحُ الآخَرُونَ بِأَکْثَرَ مِنْہُمْ ، فَکَتَبَ فی ذَلِکَ إلَی شُرَیْحٍ فَکَتَبَ إلَیْہِ : لَسْت مِنَ التَّہَاتُرِ وَالتَّکَاثُرِ فِی شَیْئٍ ، وَالَّذِینَ أَقَامُوا الْبَیِّنَۃَ أَنَّہُمْ نَتَجُوہَا وَہِیَ فِی أَیْدِیہِمْ أَحَقُّ ، وَأُولَئِکَ أَوْلَی بِالشُّبْہَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی چیز پر دعویٰ کریں پھر اُن میں سے ایک دو گواہ پیش کر دے اور دوسرا ایک گواہ پیش کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٦٨٤) حضرت ابراہیم سے مروی ہے کہ دو آدمیوں نے ایک جانور کے بارے میں دعویٰ کیا، اس جانور پر دونوں میں سے کسی کا قبضہ نہیں تھا، ان میں سے ایک نے دو گواہ پیش کئے تو دوسرے نے چار گواہ پیش کر دئیے، آپ نے فرمایا جانور دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا، کیونکہ دو گواہ حق کو واجب کردیتے ہیں۔
(۲۱۶۸۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی الرَّجُلَیْنِ یَدَّعِیَانِ الدَّابَّۃَ لَیْسَتْ فِی یَدِ وَاحِدٍ مِنْہُمَا ، فَیُقِیمُ أَحَدُہُمَا شَاہِدَیْنِ ، وَالآخَرُ أَرْبَعَۃً ، فَقَالَ : ہِیَ بَیْنَہُمَا نِصْفَیْنِ ، لأَنَّ الإِثْنَیْنِ یُوجِبَانِ الْحَقَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی چیز پر دعویٰ کریں پھر اُن میں سے ایک دو گواہ پیش کر دے اور دوسرا ایک گواہ پیش کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٦٨٥) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان گواہوں کے حصوں کی بقدر ہوگا۔
(۲۱۶۸۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : ہِیَ بَیْنَہُمْ عَلَی حِصَصِ الشُّہُودِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی کسی چیز پر دعویٰ کریں پھر اُن میں سے ایک دو گواہ پیش کر دے اور دوسرا ایک گواہ پیش کرے تو کیا حکم ہے ؟
(٢١٦٨٦) حضرت ہشام بن ھبیرۃ فریقین میں سے جس کے گواہ زیادہ ہوتے اس کے حق میں فیصلہ فرماتے۔
(۲۱۶۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ : أَنَّ ہِشَامَ بْنَ ہُبَیْرَۃَ کَانَ یَقْضِی لأَِکْثَرِ الْفَرِیقَیْنِ شُہُودًا۔
তাহকীক: